5

Suhail Saqib | Sarfraz Hussain Zia | ناصر ملک کی دمام آمد

Viewers: 293
Share
0

قیس آفریدی کے ساتھ بزم ادراک کی اعزازی نشست

 

خان پور :۔( نیوز ڈیسک)قیس فرید ی نے تین نسلوں کی فکری اور ثقافتی آبیاری کی ہے ۔جسمانی کمزوری اور بیماری کے باوجود اُن کی سوچ توانا اور مثبت ہے ان خیالات کا اظہار معروف سرائیکی ادیب و دانشور شاعر قیس فریدی کے ساتھ بزم ادراک کی ایک خصوصی نشست میں کیا گیااس نشست کی نظامت کے فرائض مرزا حبیب الرحمٰن نے ادا کیے ۔مجاہد جتوئی نے قیس فرید ی کے فن اور شخصیت پر مقالہ پیش کیا جس میں ان کی50 سالہ ادبی ثقافتی خدمات کا جائزہ لیا گیا تھا ۔بزمِ ادراک کے صدر ملک منیر احمد نے کہا کہ قیس فرید ی کو ایک مثالی انسان اور مثالی ادیب قرار دیا جا سکتا ہے جس میں کسی بھی قسم کی ادبی دھڑے بندی سے الگ رہتے ہوئے اپنے فن کی بنیاد پر اپنی شناخت قائم کی اظہر عروج نے بتایا کہ قیس فرید ی کی شاگردی میں انہوں نے اپنا فنی سفر کس آسانی سے طے کیا ۔قیس فریدی کے ادبی مقام و مرتبہ کا کوئی ادیب اگر اس قدرمثبت رویے بھی رکھتا ہو تو اسکی عظمت کو سلام کر نا لازمی ہو جاتا ہے اس موقع پر مہمان خصوصی قیس فریدی نے بزم ادراک کی ادبی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا ذہنی غلامی انسانوں اور قوموں سے انکی شناخت چھین لیتی ہے جس کے بعد زوا ل کا عفریت ان قوموں کو نگل لیتا ہے ۔جو قومیں اپنے فکری دفا ع میں ناکام رہ گئیں ان کی تاریخ ، جغرافیہ اورثقافت دنیا سے مٹ گئی ۔حاضرین کی فرمائش پر قیس فرید ی نے اپنا کلام سنایا جسے بے حد پسند کیا گیا اس موقع پر قیس فریدی کے اعزاز میں ایک محفل مشاعرہ بھی منعقد کی گئی جس میں اظہر عروج ، عاشق سومرو اور سعید ثروت نے کلا م سنایا ۔حاضرین میں ایم یوسف وحید ، پروفیسر محبوب ستا ر ، پروفیسر یوسف سلیم ، پروفیسر کلید عمر ، رانا محمد ندیم ، پروفیسر جام محمد عرفان ، نذیر احمد بزمی ، مجاہد جتوئی ، مرزا حبیب الرحمٰن ، پروفیسر منیر ملک اور دیگر کئی ادیب شامل تھے ۔ بزم ادراک کے صدر منیر ملک نے قیس فرید ی کا شکریہ ادا کیا ۔
Viewers: 69
Share
0

معروف شاعر جبار واصف کے ساتھ ایک شام

رحیم یارخان(اردوسخن )ادبی تنظیم سوچ کے زیر اہتمام معروف شاعر اور رحیم یارخان ادبی فورم کے صدر جبار واصف کے اعزاز میں ایک شعری نششت علامہ اقبال آڈیٹوریم میں منعقدہوئی ۔ تقریب میں شہر کی نمائندہ ،علمی ادبی و صحافتی شخصیات نے شرکت کی ۔تقریب کی صدارت نامور صحافی، شاعر، ادیب اور کالم نگار محمود شام نے کی۔ مہمان خصوصی ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز پروفیسر مرزا تنویرالحسن تھے جبکہ مہمانان اعزاز میں پروفیسر ثاقب عمران پرنسپل سپرئیر کالج، رانا طاہر بشیر پرنسپل دی سٹی سکول اور ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر راشدہ کامل شامل تھیں۔ بین الااقوامی شہرت یافتہ نعت خواں غلام صابر یوسفی نے جبار واصف کا نعتیہ کلام پیش کیا جبکہ مقامی گلوکار سلامت علی نے صاحب شام کی غزلیات پیش کیں۔ پروفیسر عمر ان بشیر، پروفیسر عارف ایوب اور خالد محمود ذکی نے جبار واصف کی شاعری پر مقالہ جات پیش کیے۔ مہمان خصوصی پروفیسر مرزا تنویر الحسن نے جبار واصف کو شاعر حقیقت قرار دیا اور کہا کہ ان کی شاعری عصر حاضر میں عام آدمی کودرپیش مسائل کی بھر پور عکاسی کرتی ہے۔ دیگر مقررین ناصر محمود لالہ، پروفیسر ثاقب عمران،رانا طاہر بشیر اور راشدہ کامل نے جبار واصف کی شاعری کو بہترین الفاظ میں خراج تحسین پیش کیاصاحب صدر محمود شام نے کہا کہ جبار واصف کی شاعری میں انقلابی رنگ نمایاں ہے اور ان کی شاعری معاشرہ کو درپیش مسائل کا نوحہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ جبار واصف کامنفرد اسلوب انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتا ہے انہوں نے رحیم یارخان ادبی فورم کے قیام اور شہر کی ادبی تنظیموں کے اتحاد ویگانگت کو بھی سراہا۔ ادبی تنظیم سوچ کے صدر ناصر محمود لالہ نے محمود شام کارحیم یارخان آمد پر شکریہ ادا کیا ۔ اس موقع پر شہر کی علمی شخصیات ریجنل ڈائریکٹر علامہ اوپن یونیورسٹی وزیر احمد آغا، ڈائریکٹر نائس ڈگری کالج حفیظ الرحمن قاضی، عبدالقادر شہزاد، ڈاکٹر کامران خان، عزیزصدیقی کے علاوہ شہر کی دیگر معزز شخصیات موجودتھیں تقریب کے آخر میں ملکی سلامتی کے لئے دعا کی۔
Viewers: 95
Share
Page 1 of 1812345...10...Last »