Razia Kazmi حاضرجوابی

حاضرجوابی
میرے زمانۂ طالب علمی کی بات ہے۔دیہات سے کچھ مہمان آئے ہوئے تھے۔ ان میں تقریباً ایک گیارہ بارہ سال کا بچّہ بھی شامل تھا۔ اس کا نام زاہد تھا۔اسےدیکھ کراچانک مجھے ایک شعر یاد آگیا۔مجھے شرارت جو سوجھی توچھیڑنےکی غرض سےاسےمخاطب کرتے ہوئے استفہامیہ اندازمیں کہا؎
زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر
یا وہ جگہ بتا کہ جہاں پر خد ا نہ ہو
اس نے جھٹ بیت الخلا کی طرف اشارہ کرتے ہوے جواب دیا۔
,یہ رہی وہ جگہ،
اس  کی حاضر جوابی پر میں دنگ رہ گئی لیکن اکثر شاعری میں خمریات کے متعلق؎
ذہن میں اپنے سوالات کئی اور بھی ہیں
الجھےالجھےسےخیالات کئی اوربھی ہیں
رضیہ کاظمی
نیو جرسی

Viewers: 3046
Share