A. Hameed passed… ممتاز قلم کار اے حمید داغِ مفارقت دے گئے

urdu writer, columnist, fiction writer A. Hameed

ممتاز قلم کار اے حمید داغِ مفارقت دے گئے 

شہرت بخاری نے کھوئے ہوؤں کی جستجو میں لکھا تھا کہ “یہ موت مجھے کہیں مجسم حالت میں مل جائے تو اس کا منہ نوچ لوں، کلیجہ چبا لوں،  یہ ڈائن بار بار ہمارے پیاروں کو ہم سے جدا کردیتی ہے”
موت لے جائے گی مہ پاروں کو
ہائے یہ لوگ بھی مر جائیں گے
لیکن صاحبو! موت تو برحق ہے، اپنا وار کرتی رہے گی کہ علم تصوف میں بتایا جاتا ہے کہ اس دنیا میں ہر لحظہ حشر و نشر کا سلسلہ جاری ہے، ایک جانب سے نشر کیا جارہا ہے اور دوسری طرف سے حشر یعنی سمیٹنے کا سلسلہ جاری ہے! اور ازل تک محبت اور موت کی یہ نبرد آزمائی جاری رہے گی۔ ” یہی ہے ازل سے ترے رب کا طریقہ اور تو ابد تک اس میں کوئی تبدیلی نہ پائے گا”  (ترجمہ-القران)
فیض لدھیانوی (وفات: 6 جنوری 1995-لاہور) کا کیا خوب اور منفرد شعر ہے :
میں ہوں ناواقف مگر ہر سال آتی ہے ضرور
فیض جس کو کل کہیں گے میری تاریخ وفات

کہتے ہیں کہ اگلے وقتوں میں روح قبض کرنے پر مامور فرشتے کو لوگ آتا دیکھ کر دشنام طرازی کرتے تھے، طے ہوا کہ اس سے بچنے کے لیے موت کے ذرائع مقرر کردئے جائیں —- لہذا ہم نے دیکھا کہ اے حمید صاحب نمونیہ کے شدید حملے کا شکار ہوئے اور قریب دو مہینے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخل رہنے کے بعد کل رات دو بجے انتقال کرگئے۔ ان اللہ و انا الیہ راجعون!
وہ تمام عمر اس سکرات کے عذاب سے محفوظ رہے جس سے خاص کر ہمارے معاشرے کا کم و بیش ہر شاعر اور ادیب گزرتا ہے یعنی زندگی میں قدر نہ ہونے کا احساس۔ ان کو ان کے چاہنے والوں سے بہت محبت ملی!
آج علی الصبح 6 بجے یہ خبر آج نامی ٹی وی چینل سے ملی۔ 7 بجے حمید صاحب کے گھر فون کیا اور ان کی اہلیہ سے بات ہوئی۔ وہ اسپتال میں پچھلے دو ماہ سے مقیم تھیں جہاں ان کے لیے پنجاب حکومت نے ایک کمرہ مخصوص کردیا تھا۔ ان کو انتظامیہ نے رات دو بجے اطلاع دی، جب وہ کمرے میں پہنچیں تو حمید صاحب جاچکے تھے۔ کل رات اچانک ان کے جسم میں پانی بھرنا شروع ہوگیا تھا اور دو بجے ان کا انتقال ہوگیا۔ مجھ سے گفتگو کرتے وقت ان کی اہلیہ کا لہجہ پرسکون تھا، وہ کہہ رہی تھیں:
” حمید صاحب کے چہرے پر بڑا سکون تھا اور اس بات کے کئی گواہ ہیں کہ ان کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی

میں نے پوچھا کہ اس وقت ان کا جسد خاکی کہاں ہے تو ان کی اہلیہ نے بتایا کہ ابھی ابھی ان کو اسی کمرے میں لایا گیا ہے جہاں میں (راقم) ان سے 2008 میں ملاقات کی خاطر دیر گئے بیٹھا رہا تھا اور آج یعنی 29 اپریل بروز جمعے، بعد نماز ان کا جنازہ ہے!
چشم تصور سے میں نے وہ منظر دیکھا اور بوجھل دل سے روایتی تعزیتی جملے کا سہارا لیا:
” اللہ آپ کو وقت کے ساتھ صبر دے”
” بیٹا! وقت تو میرے لیے رُک گیا ہے، ختم ہوگیا ہے،  تو یہ صبر کیسے آئے گا “?
ان کے اس جواب سے میری آواز میرا ساتھ چھوڑ گئی!
اے حمید صاحب اپنی خودنوشت تحریر کر رہے تھے اور میں اکثر ان سے اس بارے میں فون پر دریافت کرلیا کرتا تھا۔ شاید کم لوگ یہ بات جانتے ہوں کہ انہوں نے اپنی خودنوشت کا عنوان ” چھوڑ آئے وہ گلیاں” مقرر کیا تھا!
فارغ بخاری کی خودنوشت “مسافتیں” کا آخری باب ان کے بیٹے قمر عباس (جو خود بھی ادیب تھے اور بعد میں قتل کردئے گئے تھے) تحریر کیا تھا ——
حمید صاحب! اللہ تعالی آپ کو عنایتوں کے سائے میں رکھے ——  لیکن آپ کی خودنوشت کا آخری باب کون تحریر کرے گا ?
رپورٹ : راشد اشرف ۔ کراچی

Viewers: 2004
Share