Muhammad Nadeem Akhtar عرفات ظہور کی کتاب میری پہچان پاکستان پر تبصرہ

میری پہچان پاکستان تک کا سفر
تحریر:محمد ندیم اختر

یہ مضمون عرفات ظہور کی دوسری کتاب ’’میری پہچان پاکستان ‘‘کیلئے لکھا گیا اور اسے شعبہ بچوں کا ادب دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد میں کتاب کی تقریب رونمائی میں پڑھا گیا۔
بابا جی !ہمیشہ پریشان رہتے تھے کہ ان کا پوتا ان کی ایک نہیں مانتا ،بیٹا ہے تو اسے دفتر سے فرصت نہیں اور بہو رانی تو بیٹے کی کوئی شکایت سننے کو تیار نہیں ،کئی باربابا جی نے پوتے کو ڈانٹا کہ سکول سے واپسی پر ٹی وی پر انڈین فلمیں دیکھنے کی بجائے کوئی اور کام کر لیا کرو۔لیکن جب بھی اس بات پر پوتے کو ڈانٹا تو بہورانی نے ایک نیا تماشا کھڑ اکر دیا کہ ابا جان اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں ،گھر میں بیٹھے بیٹھے آپ کو اور کوئی کام نہیں ،بیٹا سکول سے واپس آکر کیا کرے ،وہ کھیلے گاہی یا پھر ٹی وی دیکھے گا۔ کئی بار بابا جی یہ کہتے کہتے رہ جاتے کہ بیٹا ہم پاکستانی ہیں ،میرا پوتا جب انڈیا کے گن گاتا ہے ،انڈیا کے ہیرو اس کے ہیرو ہیں ،نماز کی بجائے اکثر یہ بھجن الاپتاہے ،رام رام کرتا ہے تو میرا خون کھولتاہے ،کیوں کہ میں پاکستانی ہوں ،آپ پاکستانی ہو ،اس پاکستان میں بسنے والا ہر فرد پاکستانی ہے ،لیکن وہ کہہ نہ پائے کیونکہ بہورانی تو کچھ سننا ہی نہیں چاہتی تھی،بیٹے کے پاس تو باپ سے بات کرنے کا وقت نہیں تھا۔ ایک اتوار ہوتا تھا جو وہ اپنے بیوی بچوں کو آؤٹنگ کے لئے کہیں باہر لے جاتا تھا ۔ بابا جی جنہوں نے پاکستان بنتے دیکھا تھا ،قیام پاکستان کی بہت سی داستانیں اپنے اندر بسائے بیٹھے تھے ،وہ اپنے بیٹے کو تو بچپن میں سنا چکے تھے ،انہیں افسوس تھا کہ اب ان کا بیٹا اپنے بیٹے کو یہ لہو رنگ داستانیں کیوں نہیں سنا تا ،کہ پاکستان کتنی قربانیوں سے حاصل کیا ہے ۔ بابا جی افسردہ تھے ،
پھر کیا ہوا؟
پھر میں نے ایک دن دروازے کے باہر محلے کے بچوں کو دیکھا جو چندہ اکٹھا کر رہے تھے ،میرے پوچھنے پر بتایا کہ ہم اس چودہ اگست پر گلی کو جھنڈیوں سے سجانا چاہتے ہیں۔ آپ بھی اس چندہ مہم میں حصہ ڈالیں اور پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار کریں۔میں نے ایک لمحے میں گویا صدیوں کا سفر طے کیا اور جیب میں ہاتھ ڈال کر جو نوٹ نکلے بچوں کو دیے یہ بھی نہ سوچا کہ کتنے پیسے ہیں لیکن بچوں کے چہروں خوشی دیدنی تھی ،شاید یہ پیسے ان کی سوچ سے زیادہ تھے۔ مگر شاید میری وہ محبت جو پاکستا ن سے ہے میں اس کا خراج نہیں دے سکا ،پھر چودہ اگست آگئی جب صبح کے وقت واقعی بچوں نے کمال کر دکھایا ،گلی جھنڈیوں سے سجی ہوئی تھی ،میں جب میاں جی گھر کے سامنے پہنچاتو اسی وقت میاں صاحب بھی اپنی لاٹھی سنبھالے اپنے پوتے کے ساتھ باہر نکلے ،ان کی نظریں گلی کی ان جھنڈیوں کی جانب تھی ،ان کی خوشی دیدنی تھی ،میں نے ان کو سلام کیا ،انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا دیکھا بیٹا میرے بچوں کو جو اپنے پاکستان سے کتنا پیار کرتے ہیں ،آج میرے باپ دادا ،میرے قائد کی روح کتنی خوش ہوگی کہ میرے بچوں نے اس کشتی کو سہارا دے رکھا ہے جو بھنور میں ہے ۔میں نے ایک لمحے میں سوچا کہ یہ بچے تو ابھی بچے ہیں ،پھر ان کو کس نے بتایا کہ پاکستان سے محبت کیونکر کی جائے ،شاید ان کے والدین نے ،نہیں ان کو دفتر سے فرصت نہیں ،پھر ان کے باباجی نے ،لیکن بابا جی کی تو وہ سننا چاہتے ہی نہیں ،پھر کس نے بتایا کہ اس گہما گہمی کے دور میں جب زندگی گلوبل ویلج کے دور میں جی رہی ہے ،میڈیا چھا گیا ہے ،چینلز نے اتنی بھر مار کر ماری ہے کہ سٹار پلس گھر کے کسی فرد کو کچھ اور سوچنے ہی نہیں دیتا ،میں سوچ رہا تھا ،سوچتا رہا کہ آخر ان بچوں کو کس نے بتایا ہو گا کہ پاکستان کیسے وجو د میں آیا ،اس کے لیے ان کے بزرگوں نے کیا کیا قربانیاں دیں ،اس لیے اس دھرتی سے پیار کتنا ضروری ہے کیوں کہ اس کی بنیادوں میں ان کے بزرگوں کا لہو ہے ۔
پھر ایک دن میرے دوست عرفات ظہور نے میرا بہت بڑا معمہ حل کر دیا ،عرفات ظہور سے میری پہلی ملاقات 1998ء کے وسط میں ہوئی۔ ملاقاتیں تو پہلے بھی ہوئیں لیکن وہ ملاقاتیں ان کی تحریریں پڑھنے کی حد تک تھیں جب عرفات میری طرح صرف پھول اور کلیاں ملتان میں لکھتا تھا ۔اس کے بعد تو گویا ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ،1999ء میں ساتویں اسلامی تربیتی کیمپ ،پھر دسویں ،پھر گیارویں ،اور پھر 2009ء آخری مہینے میں بالمشافہ ملاقاتیں ہماری دوستی کو مثالی دوستی بناتی گئیں ،اتنا عرصہ اکٹھے گزارنے کے بعد میں نے جانا کہ اس کے اندر ابھی تک میری طرح ایک بچہ چھپا بیٹھا ہے جو محبت کا متلاشی ہے ،اسے دنیا کے ہنگاموں سے کوئی رغبت نہیں بس وہ تو اپنی دھن کا پکا ہے ۔ عرفات ظہور کا تعلق مظہر کلیم ایم اے کے خطے سے ہے ،اور وہ خطہ مدینہ الاولیاء کا خطہ ملتان ہے ۔جیسے ان اولیا کرام کی تجلیات کی گونج پورے برصغیر میں سنائی دیتی ہے ایسے ہی اب عرفات پھول اور کلیا ں سے نکل کر پورے پاکستان میں پہچان رکھتا ہے ۔ وہ دل سے لکھتاہے ،تب ہی تو اس کی تحریریں آنکھوں کی بجائے دل سے پڑھنے کو جی کرتاہے ۔ اس کے پاس لفظوں اور نت نئے خیالات کی کوئی کمی نہیں ،اس کی سوچ کا کینوس وسیع ہے ،کیونکہ اس کی کہانیاں سماج کے بودے پن کو ظاہر کر کے اس کی اصلاح اور خوبصورتی کا درس دیتی ہیں ،اپنے اندر کی خامیوں کو نمایاں کر کے انہیں دور کرنے کا حوصلہ دیتا ہے ،وہ رہنمائی کرتاہے ۔جبار مفتی کہتے ہیں کہ عرفات ظہور ایسی سرمایا کاری کر رہا ہے جس کا منافع اگلی نسلو ں کو ملے گا دراصل وہی نسل وطن عزیز کی صیحح نگہبان ہوگی ۔عرفات ظہور کی پہلی کتاب انوکھا رشتہ اور اب دوسری کتاب’’میری پہچان پاکستان ‘‘ جو ان کی کہانیوں کا مجموعہ ہے۔اس میں موجود کہانیاں ان بچوں کو پاکستان سے محبت کا درس دیتی ہیں جو درس ان کے ماں باپ کو دینا چاہیے تھا ۔ میر ا معمہ بھی حل ہو گیا جو اس کتاب کے آنے سے پہلے ایک معمہ تھا کہ چودہ اگست کو گلی میں جھنڈیاں لگانے والے بچوں کو کس نے بتایا کہ پاکستان ان کی پہچان ہے وہ اپنے پاکستان سے پیار کریں۔۔۔یقیناََ بابا جی اگر یہ کتاب دیکھیں گے تو بازار سے خرید کر اپنے پوتے کے سرہانے رکھ دیں گے اور ایک دن ان کا پوتا جب کھیل کود کر ،بڑے سے بستے میں پڑی کتابیں پڑھ کر،ہوم ورک کر کے تھک چکا ہوگا تو سرہانے کے نیچے سے یہ کتاب نکال کر پڑھے گا اور وہ بھی انہیں بچوں کے گروپ میں شامل ہو جائے تو جو چودہ اگست پر جھنڈیا ں لگانے کیلئے چندہ مہم کا اہتمام کرتے ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ عرفات ظہور کی ’’میری پہچان پاکستان ‘‘ملک کے بچوں ،نوجوانوں میں شعور کی روشنی دے گی اور نفرت بھرے جہاں میں محبت کا ہالہ بن کر نفرت کے اندھیاروں کا مٹا دے گی ۔
***

Viewers: 2374
Share