Muhammad Azam Khan

Muhammad Azam Khan, 273 J – II, Johar Town, Lahore (Pakistan) Contact: +92 300 4107328, E-mail: azamkhan273@gmail.com (طنزو مزاح) ٹنڈ تحریر: محمداعظم خاں میں آج تک یہ فیصلہ نہیں کر […]

Muhammad Azam Khan, 273 J – II, Johar Town, Lahore (Pakistan) Contact: +92 300 4107328, E-mail: azamkhan273@gmail.com

(طنزو مزاح)
ٹنڈ
تحریر: محمداعظم خاں

میں آج تک یہ فیصلہ نہیں کر پایا کہ ’’ ٹنڈ ‘‘ کروانا ’’کار ثواب ‘‘ہے یا’’ باعث عزاب‘‘۔ بچپن ہی سے ٹنڈ کروانے سے دور بھاگتا ہوں ، بلکہ یہ کہنا زیادہ موزوں ہوگا کہ میں ٹنڈ کروانے سے خوفزدہ ہوں،لڑکپن یا جوانی میں تو پھر بھی اس معاملے میں انسان مختلف دلائل سے اپنی بات منوا لیتا ہے لیکن بچپن میں انسان اس قدر کمزور اور بے بس ہوتا ہے کہ اسے وہی کرنا پڑتا ہے جو والدین کی خواہش یا پھر حکم ہو ۔ ایسی ہی خواہش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے بچپن میں مجھے بھی دو تین بار ٹنڈ کروانا پڑی مگر اس کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے توبہ کرلی۔
ٹنڈ سے خوفزدہ ہونے کی اصل وجہ میرے بچپن کا وہ واقعہ ہے جو میں نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا تھا، ہوایوں کہ۔۔۔۔ہمارے محلے میں چور چوری کرتے پکڑا گیا ، اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ایک چبوترے پر کھڑا کر دیا گیا، بس پھر کیا تھا ، لوگوں کا رش لگ گیا، جسے دیکھو چور کے پکڑے جانے کا سن کر اس کی ایک جھلک دیکھنے کو دوڑا چلا آرہا تھا ، مرد تو مرد، خواتین کا دل بھی اس کا دیدار کرنے کو مچل اٹھا تھا، ان کا اور تو بس نہ چلا ، وہ اپنے اپنے گھروں کی چھتوں پر جا چڑھیں تا کہ وہ بھی اس’’ کار خیر‘‘ میں کچھ حصہ ڈال سکیں۔
جب محلے کے چند’’ لیڈر نما‘‘ معززین چند منٹ کے لیے چور کو پوچھ گچھ کی غرض سے گھر کے اندر لے گئے تو لوگوں کی بے چینی بڑھ گیٌ، جن لوگوں نے اسے جی بھر کر دیکھ لیا تھا وہ قدرے پر سکون کھڑے تھے جبکہ وہ لوگ جو ابھی تک اسے دیکھ نہیں پا ئے تھے وہ اسے ایک نظر دیکھنے کے لیے بے قرار تھے۔ کچھ دیر بعد چور کے لیے مختلف سزائیں تجویز ہو نے لگیں ، وہ حضرات جن کا مشورہ ان کے اپنے گھر والے بھی نہیں مانتے تھے وہ بھی اپنا مشورہ دے رہے تھے،بہت سی تجاویز پر غور کرنے کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ چور کی ٹنڈ کروا دی جائے ، نائی کو وہیں بلا لیا گیا، دیکھتے ہی دیکھتے چور کا سر بالوں سے آزاد ہو گیا اور بالوں کی جگہ سر پر رن وے دکھائ دینے لگا۔پھر ٹنڈ کرنے کے بعد اسے گدھے پر بٹھا کر پورے محلے کا چکر لگوایا گیا۔۔۔۔۔۔تب سے مجھے ٹنڈ ایک سزا لگنے لگی۔
ضروری نہیں کہ سبھی یار لوگ میری طرح ٹنڈ کروانے سے بھاگتے ہوں، میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جو ہر سال گرمیوں کے موسم میں ایک دو بار ٹنڈ ضرور کروا لیتے ہیں لیکن یہ تو وہی جانتے ہیں کہ آیا وہ خود کو کسی گناہ کی سزا دیتے ہیں یا اپنے دماغ کو ہوا لگوانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔
ٹنڈ کروانے اور گنجے پن میں ایک قدر مشترک ہے کہ دونوں صورتوں میں سر تربوز کی سے شکل کا دکھائ دینے لگتا ہے اور اپنی شہادت کی انگلی کو تھوڑا سا ٹیڑھا کر کے اس پر’’ ٹھونگے ‘‘مارنے کہ جی چاہتا ہے تا کہ پتا چلایا جا سکے کہ تربوز پک کر تیار ہے یا ابھی پکنے میں کچھ دیر ہے۔ لیکن ٹنڈ کروانے اور گنجے پن میں فرق یہ ہے کہ ٹنڈ اپنی مرضی سے کروائ جاتی ہے اور گنجا ہونے میں انسان کی اپنی مرضی کا کوئ عمل دخل نہیں ہوتا۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ کوئ گنجا ہو جائے تو عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس دولت آ گئ ہے جبکہ ٹنڈ کروانے کے لیے جیب سے دولت خرچ کرنا پڑتی ہے۔
انگریزی فلموں کا معروف اداکار’’ کوجیک‘‘ اپنی ٹنڈ کی وجہ سے کافی مشہو ر تھا ، جس طرح بہت سے لوگ چہرے پر داڑھی اگنے نہیں دیتے اور اپنی ہر صبح کا آغاز شیو سے کرتے ہیں اسی طرح کوجیک بھی اپنے سر پر بال آنے نہیں دیتا تھا اور اپنی ہر فلم میں چمکدار ٹنڈ کے ساتھ جلوہ گر ہوتا تھا، اسی کی دیکھا دیکھی ہماری پنجابی فلموں کا ایک ولن نہ صرف ٹنڈ کروائے رکھتا تھابلکہ اس نے تو اپنے نام کے سا تھ بھی ٹنڈ کا اضافہ کر دیا تھا، بہت سے لوگوں کو معلوم ہو گا کہ وہ’’ مصطفٰے ٹنڈ‘‘ کے نام سے ہی جانا جاتا تھا۔ سٹیج کا معروف اداکار ببو برال بھی اپنا ہر کردار ادا کرنے سے پہلے سر پر استرا ضرور پھرواتا ہے، شائد اسے’’ ٹنڈ منڈ ‘‘رہنے میں زیادہ مزا آتا ہو۔
ان اداکاروں نے نہ جانے کیا سوچ کر ٹنڈ کروائے رکھی لیکن اس سے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ٹنڈ کروانا یا گنجا پن کوئ بڑائ والی بات ہے ، اگر ایسا ہوتااور اس میں خوبصورتی کا کوئ پہلو پوشیدہ ہوتا یا ٹنڈ کروانے سے خوبصورتی میں قدرے اضافہ ہو جاتا تو یقینی طور پر ہمارے اداکار تو ایک طرف، ہماری اداکارائیں ٹنڈ کروانے میں سب سے آگے آگے ہوتیں، ہمارے وہ فنکار جو اپنی ٹنڈ کو چھپانے کے لیے لاکھ جتن کرتے پھرتے ہیں اور بالوں کی پلانٹیشن کروانے کے لیے بھاری رقوم خرچ کرتے ہیں وہ ہمیشہ ٹنڈ میں ہی دکھائ دیتے، ہمیں تو اپنے فلمی اداکاروں کی ہر بات کی نقل کرنا ہوتی ہے، اگر وہ ٹنڈ میں نظر آتے تو ہم سب بھی کہاں پیچھے رہتے، ہر طرف’’ ٹنڈیں ہی ٹنڈیں‘‘ دکھائ دیتیں۔۔۔۔۔ایسا کرنے سے کسی اور کو فائدہ پہنچتا یا نقصان مگر نائیوں کا کاروبار خوب چمک اٹھتا، جہاں لوگ مہینے میں ایک دو بار ہی بال کٹوانے نائ کے پاس جاتے ہیں وہاں ہر دوسرے روز چہرے کی شیو کروانے کے ساتھ ساتھ سر کی’’ کلین شیو‘‘ کروانے کے لیے بھی نائ کے ہاں حاضری دینا پڑتی۔
یقینی طور پر ایسا نہیں ہے، میرے نزدیک سر پر بال ہونا بھی خوبصورتی ہے، اسی لیے تو وہ لوگ جو گنجے پن کا شکار ہو جاتے ہیں اور سر پر سوائے ایک’’ جھالر‘‘ کے کچھ باقی نہیں رہ جاتا وہ اسی جھالر کے بال بڑھا کر اپنے سر پر پھیلا دیتے ہیں اوراپنی ٹنڈ کو چھپانے کی ناکام کوشش میں مگن رہتے ہیں یا پھر سر پر وگ لگا کرخود کو تسلی دے لیتے ہیں کہ انہوں نے اپنا ’’عیب ‘‘دور کر لیا ہے۔
کیونکہ میں ٹنڈ کروانے یا گنجا ہونے کو اپنی سمجھ کے مطابق سزا ہی سمجھتا رہا ہوں اس لیے لگتا ہے کہ کچھ کچھ سزا مجھے بھی ملنی شروع ہونے والی ہے۔۔۔۔۔اللہ خیر ہی کرے!!!

Viewers: 7507
Share