Mirza Asi Akhtar طنز و مزاح۔۔۔ برسات کے بعد۔۔۔از: مرزا عاصی اختر

برسات کے بعد مرزا عاصی اختر بزرگوں سے سنتے آئے ہیں کہ ’’بارش خدا کی رحمت ہوتی ہے ‘‘ اس مقولے کی صداقت میں کوئی مبالغہ نہیں مگر بعض اوقات […]

برسات کے بعد
مرزا عاصی اختر

بزرگوں سے سنتے آئے ہیں کہ ’’بارش خدا کی رحمت ہوتی ہے ‘‘ اس مقولے کی صداقت میں کوئی مبالغہ نہیں مگر بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ رحمت ایزدی مذکورہ مقولے میں ایک نقطے کا اضافہ کردیتی ہے ۔
ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کر دیا
یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ بعض فصلوں کے لیے یہ بارش آکسیجن کا درجہ رکھتی ہے مگر یہ بھی مستند حقیقت ہے کہ حشرات الارض خاص طورپر مچھروں کے لیے بھی یہ اکسیر کا حکم رکھتی ہے گویا دونوں فصلوں کی پیداواراسی بارش کا فیضان ہے۔
بارشوں سے گلیا ں تو جل تھل ہو ہی جاتی ہیں ، سڑکیں بھی سیلابی نظر آتی ہیں۔ پیدل، (عقل سے نہیں) چلنے ولا بہ امر مجبوری سڑکوں پر چلے گا کیونکہ فٹ پاتھ تو پہلی ہی بارش میں مفقودالخبرہو جاتا ہے، اب ہوتا یہی ہے کہ ہر پیدل چلنے ولا آنے جانے والے ٹریفک کو بھی راستہ دیتا ہے اور خود بھی زبانی ہارن دے کر پاس کرتا ہے۔ اس موقعے پر شرفاء تو اپنی اپنی گاڑیاں آہستگی سے نکال لے جاتے ہیں مگر کچھ بے صبرے ڈرائیور اس تیزی سے چھینٹے اڑاتے ہوئے گذرتے ہیں کہ پیدل چلنے والے اپنامنہ اور کپڑے دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ اب جن حضرات کے کپڑے اس طوفان بدتمیزی سے گندے ہوجاتے ہیں وہ گھر کی ٹپکنے والی چھت کی مرمت کو بھول کر گاڑی خریدنے کی گہری سوچ بچار میں ڈوب جاتے ہیں تاکہ آئندہ بارشوں کے موسم میں ان خبیث چھینٹے اڑانے والوں سے انتقام لیا جاسکے۔
بارش کے مسئلے پر باپ اور بیٹے کی گفتگو ملاحظہ فرمائیں ۔ بیٹا بھیگتا ہوا گھر میں داخل ہوا، باپ نے سوال کیا ’’کیوں بیٹے باہر بارش تو نہیں ہو رہی؟ ‘‘بیٹا:۔’’ نہیں ڈیڈی بارش بالکل بند ہے‘‘۔ باپ :۔’’ پھر تمھارے کپڑے کیوں گیلے ہو رہے ہیں‘‘ ۔ بیٹا:۔ ’’ڈیڈی باہر بارش ہو رہی ہے نا‘‘ ۔
انسانی ذہن پر بارش کے اثرات آپ نے ملاحظہ فرمائے اور بیٹے کی سعادت مندی بھی قطع نظر اس کے ، اب دو پڑوسیوں کی بات چیت بھی ملاحظہ ہو،
زید :۔ ’’کیوں بھائی ، کیا چوراہے سے بھیگتے ہوئے آ رہے ہو؟‘‘
بکر:۔ ’’جی نہیں ، میں گھر سے ہی بھیگتا ہوا گیا تھا۔‘‘
زید:۔ ’’اس بارش کے موسم میں چھتری کے بغیر بازار جانا بھی حماقت سے کم نہیں۔‘‘
بکر:۔ ’’اس حماقت میں آپ بھی حصہ دار ہیں۔‘‘ زید :۔ ’’وہ کیسے ؟‘‘
بکر :۔ ’’میری چھتری آپ نے صبح ایک گھنٹے کے لیے منگوائی تھی ۔‘‘
زید:۔ ’’خیر خیر فالتو باتوں کا وقت نہیں ، یہ بتائیں دودھ فروش کی دکان کھلی ہوئی ہے۔‘‘
بکر:۔ ’’اس موسم میں تو اس کو پانی فروش کی دکان کہنا چاہئیے۔‘‘
زید:۔ ’’ ارے صاحب اب تو پانی بھی خالص دستیاب نہیں، اس میں بھی پوڈر کی ملاوٹ ہے ۔۔۔۔‘‘
بکر:۔ (بات کاٹتے ہوئے )’’اور جسے دودھ کے فرضی نام سے فروخت کیا جاتا ہے۔‘‘
زید:۔ (کچھ یادکرتے ہوئے)’’ ہاں میں آپ سے دودھ فروش کی دکان کے بارے میں معلوم کر رہا تھا۔‘‘
بکر:۔ (معذرت کے لہجے میں) ’’اوہ، بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی ، جی دکان کھلی ہوئی ہے۔‘‘
زید :۔ ’’دوپہر کے وقت تو بند تھی؟‘‘
بکر:۔ ’’درست فرمایا ، مگر اس وقت تک KMC کے بھیجے ہوئے پانی کے ٹینکر نہیں پہنچ سکے تھے۔‘‘
زید:۔ ’’شاید اس لیے کہ علاقے میں پینے کے پانی کی شدید قلت ہے۔‘‘
بکر:۔ ’’جی نہیں، اس دودھ فروش کے ہاں دودھ کی قلت ہے۔‘‘
زید:۔ ’’اف میرے خدا، اس گفتگو کا دامن قیامت سے بندھا ہوا لگتا ہے۔ ابھی چوراہے سے دودھ بھی آنا ہے۔‘‘
بکر:۔ ’’مگر جناب آپ تو بھیگ جائیں گے۔‘‘ زید:۔ وہ کیسے؟‘‘
بکر :۔ ’’صبح جو چھتری آپ نے مجھ سے منگوائی تھی اسے چھتری کے بجائے چھلنی کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ کیونکہ وہ قیس کے جگر کی طرح چھلنی چھلنی ہورہی ہے۔‘‘
زید:۔ ’’مگر میر اخیال ہے کہ میں ذرا سا بھی نہیں بھیگوں گا ۔‘‘ بکر:۔ (حیرت سے) ’’وہ کیسے؟‘‘
زید:۔ ’’میں بازار جا ہی کب رہا ہوں؟ دودھ لینے نوکر جائے گا۔‘‘
ذاتی مشاہدہ ہے کہ بارشیں منگنیوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں جب منگنی پر اس کے اثرات اتنے دوررس ہوں تو پھر شادی کا خدا ہی حافظ ہے۔ ہمارے جن دوست کا یہ واقعہ ہے ان ہی کی زبانی سنیے۔
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ بارشوں کے موسم میں بس اسٹاپ سے گھر تک پہنچنے کا واحد راستہ پانی میں سے ہو کر گزرتا ہے۔ ایک آدھ گھنٹے میں یہ پانی اس قدر مرتا ہے (آنکھوں کا نہیں) کہ کنارے پر ایک پتلی سی راہداری بن جاتی ہے۔انسان فطری طور پر سہل پسند واقع ہوا ہے۔ لہٰذا یہ راہداری استعمال کرنا ہی پڑتی ہے۔ ہم چونکہ ذاتی طور پر شریف واقع ہوئے ہیں ۔
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا
اس کے ساتھ ساتھ ہماری ہمیشہ کوشش یہ رہتی ہے کہ اپنے بزرگوں کا کہنا مانیں اور نظر نیچی رکھیں۔
کوئی ان سے نہیں کہتا نہ نکلیں یوں عیاں ہو کر
مگر بارش کے موسم میں شرافت اور کیچڑ دونوں پر نظر رکھنا پڑتی ہے، مبادا پھسل جائیں قص�ۂ مختصر یہ کہ بس اسٹاپ پر ہوٹل کے عین سامنے بارش کا پانی پھیلا ہوا تھا۔ مگر کنارے پر مذکورہ بالا راہداری بن گئی تھی ۔
وہ موصوفہ ہمارے آگے آگے تھیں ، تھیں تو ہمارے پیچھے مگر ہم نے (Ladies First) والے کلیے کے پیش نظر ان کو آگے جانے دیا ۔ بس یہی عمل بلکہ حسن عمل ہماری نیکی اور منگنی کو لے ڈوبا۔ کیونکہ راہداری اتنی پتلی تھی کہ ہم ان کے پیچھے پیچھے چلنے پر مجبور تھے۔ہمارے ممکنہ سسر صاحب اور ان کے رفقائے کار نے یہ دلدوز منظر دیکھا تو تاب نہ لاسکے ، دوسرے دن رشتہ کرانے والی صاحبہ سے کہلا بھیجا کہ چونکہ لڑکا بدمعاش ہے اور لڑکیوں کا پیچھا کرتاہے، لہٰذا یہ رشتہ منظور نہیں۔
بارش کے موسم میں متوسط طبقہ جلدی جلدی گھر بھاگنے کی کوشش کرتا ہے کہ دیکھیں کمرے کی چھت سے کتنے آبشار بہہ رہے ہیں۔ رہ گئے امرء ، تو فکر کی کوئی بات نہیں کیونکہ گھر سے نکلے تو کار، دفتر سے نکلے تو کار، اگر خراب ہوگئی تو بے کار، عموماً اس طبقے کے لوگ بارش میں بھیگنے کو ترستے ہیں۔ ایسے ہی ایک صاحب یہ شکوہ کرتے ہوئے پائے گئے کہ ’’ ہم تو اس امیری سے باز آئے کہ گذشتہ بیس سالوں سے بارش کے پانی کو ترس گئے ہیں۔‘‘ ان سے عرض کیا کہ ’’ آپ یہ شوق غسل خانے میں شاور کے نیچے بیٹھ کر پوراکرسکتے ہیں۔ ‘‘ بے بسی سے فرمانے لگے۔ ’’ مگر میں توکپڑے پہن کر یہ شوق پورا کرنا چاہتاہوں‘‘ خیر یہ جملہ ء معترضہ تھا۔ بات یہ ہو رہی تھی کہ اس قبیل کے خواتین و حضرات بارش کے اصل لطف سے محروم ہی رہتے ہیں۔ بیچارے! شاید اسی لیے نظار�ۂبارش کے لیے ان لوگو ں کو گھر سے باہر جانے کا خاص اہتمام کرناپڑتا ہے اور جسے Rainy Day Enjoyment کا مصنوعی نام دیا جاتا ہے۔
پھر ایسے موسم میں گلی کے نکڑ سے گھر تک پہنچنے کا واحد راستہ اینٹوں کی وہ قطار ہوتی ہے جسے پل صراط کہا جائے تو بیجانہ ہو گا۔ چند دوست اسی پل صراط سے ایسے گذر رہے تھے جیسے سرکس میں ایک صاحب ہاتھ میں بانس کابیلنس لے کر پتلے تار پر چہل قدمی کیاکرتے ہیں۔ پہلے نمبرپر جو صاحب تھے وہ بار بار سب سے آگے ہونے پر خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔کہ وہی سب سے پہلے اپنے گھر پہنچیں گے دوسرے نمبر پر چلنے والے دوست سے نہ رہا گیا انہوں نے آگے والے دوست کو ہلکا سا ٹہوکادیا۔’’اماں چلویار‘‘ چند ہی ثانییے بعد وہ پہلے نمبر پر آنے کا اعلان کررہے تھے، پھر تو ایسی ٹہوکے بازی چلی کہ آخر میں ایک بڑی بی اول آئیں۔
رفع شر کے لیے عام طور پر پولیس کی مدد لی جاتی ہے مگر آپ یقین کریں کہ شر کو رفع بلکہ دفع کرنے میں یہ اپنی بارش بھی خاصی کارآمد ہے چشم دید واقعہ بیان کرتا ہوں۔ سرکاری نل پر دو اشخاص میں تکرار ہوگئی،(دلچسپ بات یہ کہ اس وقت نل میں پانی کی آمد کے دور دور تک امکانات نہ تھے) یہ تکرار مزید دو مرحلوں سے گذرتی ہوئی ہاتھاپائی اور پھر بلوے کی شکل اختیار کر گئی۔
کہیں پانی بھرنے بھرانے پہ جھگڑا
ان تمام اشیاء کاآزادانہ استعمال ہو ا جو قابل دست اندازیء پولیس ہوتی ہیں۔ عید ملن کا یہ سلسلہ ابھی جاری تھا کہ بڑے زور کی بارش شروع ہو گئی پل بھر میں مید ان صاف تھا جیسے ہاتھی کی زنجیر کھل گئی ہواور وہ بازار میں آگیا ہو۔ جس کاجدھر منہ اٹھا سما گیا۔
مضحکہ خیز بات یہ ہوئی کہ اہل شر ایک دوسرے کے ڈنڈے اور ڈبے بھی ساتھ لے گئے بارش تھمنے کے بعد علاقے کے معززین کی زیر نگرانی ڈنڈوں اور لاٹھیوں کا تبادلہ ہوا تاکہ آئندہ ایسے ہی موقعوں پر دوبارہ استعمال کیے جا سکیں۔
***

Viewers: 5440
Share