Sughra Sadaf صغری صدف سے گفتگو۔۔۔ از: علی شاہ

Dr. Sughra Sadaf

منفرد اسلوب کی شاعرہ ،ادیبہ ،محقق،ریڈیو براڈ کاسٹر ،ٹی وی کمپےئراور” ترنجن”کی چیف ایڈیٹر ڈاکٹر صغریٰ صدف کے ساتھ ایک نشست
تحریر و ملاقات : علی شاہ

قائداعظم نے فرمایا “کام ،کام اور صرف کام”بابائے قوم کا یہ فرمان شیر و نغمہ کی دھرتی لاہور میں مقیم خوش اسلوب شاعرہ، ادیبہ ،محقق، ریڈیو براڈ کاسٹر،پی ٹی وی کی کمپےئر اور پنجابی زبان کے مقبول ترین ادبی جریدہ مہینہ وار”ترنجن”کی چیف ایڈیٹر ڈاکٹر صغریٰ صدف نے یقیناًمستقل طورپر پلو سے باندھ کے رکھا ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ بیک وقت علم و ادب و ثقافت کی کئی جہتوں پر کام کرتی نظر آتی ہیں لیکن اکتاہٹ یا تھکاوٹ نام کی کوئی چیز ان کے پاس پھٹکتی تک نہیں۔رب ذوالجلال نے انہیں بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں سے نوازہ ہے اور انہیں اپنی اس خوبی کا بھر پور ادراک ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری و نثر نگاری محبت کی خوشبو بن کر چہار سو پھیلی ہوئی ہے۔ محترمہ خوش شکل ہونے کے ساتھ ساتھ خوش گفتار بھی ہیں اور ایک عرصہ سے پی ٹی وی پر عمدہ کمپئرنگ کے علاوہ ریڈیو پر بھی اپنی پُرترنم آواز کاجادو جگار ہی ہیں ۔ فلسفہ میں ڈاکٹر یٹ کی ڈگری حاصل کرنے والی محترمہ صغری صدف آج کل “پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگویج ،آرٹ اینڈ کلچر”کے زیر انتظام چلنے والے ایک مقبول نشریاتی ادارے ریڈیو ایف ایم۔ 95کی ڈائریکٹر اور اسی محکمہ کے زیر اہتمام شائع ہونے والے پنجابی ادبی جریدے مہینہ وار “ترنجن”کی چیف ایڈیٹر بھی ہیں ۔ وہ دنیا کے متعدد ممالک میں منعقد ہ مشاعروں اور ادبی سیمیناروں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ وہ صاف گو اور حق پرست ادیبہ اور دنیا بھر میں پاکستان کی ادبی سفیر کے طور پر خود کو منوا چکی ہیں ۔ گزشتہ دنو ں لاہور جانے کا اتفاق ہوا تو پنجابی کمپلیکس میں واقع ان کے دفتر FM.95میں ڈاکٹر صغریٰ صدف کے ساتھ ایک تفصیلی نشست ہوئی ۔اس نشست کے دوران اُن سے ہونے والی گفتگو قارئین کی نذر ہے۔

Dr. Sughra Sadaf, different poses

س۔ ڈاکٹر صاحبہ ! اپنے ابتدائی دور کے بارے میں کچھ بتائیے؟ بچپن کہاں اور کیسا گزرا؟دوران تعلیم کس قسم کی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہی ہیں؟
ج۔ میراآبائی تعلق تحصیل کھاریاں کے غیر معروف گاؤں سرسال سے ہے ۔ قریبی قصبہ کوٹلہ ارب علی خان سے میٹرک،گورنمنٹ گرلز کالج فوارہ چوک گجرات سے گریجویشن اور پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فلاسفی میں ایم اے اور ڈاکٹر یٹ کیا ۔ میں نے پڑھا ئی کے میدان میں ہمیشہ نمایاں کارکردگی کا مظاہر ہ کیا تاہم میں شرارتی بہت تھی۔ ادبی مقابلوں میں بھی کسی حد تک حصہ لیتی رہی ہوں۔ یونیورسٹی میں ادبی تنظیم بزم اقبال بنائی ۔سٹوڈنٹس یونین کے انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
س۔ آپ کو کب ادراک ہوا کہ آپ کے اندر ایک خوبصورت شاعرہ، ادیبہ موجود ہے؟
ج۔ ویسے تخلیق کار تو پیدائشی ہوتا ہے تاہم ایک خاص لمحہ میں وہ خود کو دریافت کر تاہے۔مجھے اپنے تخلیق کار ہونے کا احساس بہت بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ جس عمر میں عموماً بچے پڑھنا شروع کر تے ہیں میں نے لکھنا شروع کردیا تھا ۔ میں چھٹی جماعت میں تھی جب میں نے نظمیں لکھنا شروع کیں اور اسی دورمیں صدف تخلص کیا۔ بس پھر وقت کے ساتھ تخلیقی کرب بھی بڑھتا گیا اور تخلیق کا سفر بھی تاحال جاری ہے ۔تب سے شاعری اور نثر کا سفر شانہ بشانہ چل رہا ہے۔
س۔ جی! آپ مشاعروں میں کس حد تک حصہ لیتی ہیں اور مشاعرہ پڑھنے کہاں کہاں گئی ہیں؟
ج۔ دیکھیں جی! مشاعرہ ہماری توانا ادبی روایت ہے اور شاعری کے فروغ ترویج میں مشاعروں کا کلیدی کردار ہے۔ میں نے ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں کے علاوہ انگلینڈ ،امریکہ ،فرانس،ابوظہبی ،دوبئی ، ناروے،بھارت اور کینیڈا وغیر ہ میں مشاعروں اور سیمیناروں میں شرکت کی ہے۔
س۔ آپ کی تصانیف ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
ج۔ میری شاعری ،تحقیق اور تصوف پر اردو اور پنجابی میں آٹھ تصانیف منصۂ شہود پر آکر پذیرائی حاصل کرچکی ہیں۔
س۔ کیا ہمارا ادب بین الاقوامی ادب کے معیار پر پورا اترتا ہے؟
ج۔ بالکل جی! کیوں نہیں ۔ہمارے ہاں بہت خوبصورت ،بے حد توانا اور با مقصد ادب تخلیق ہو رہا ہے۔جو تمام تر بین الاقوامی تقاضے پورے کر رہا ہے ۔ اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی زبان میں بھی اعلیٰ پائے کاادب منظر عام پر آرہا ہے۔
س۔ کہا جاتا ہے کہ قاری اور کتاب کے درمیان ایک خلیج سی حائل ہو رہی ہے۔ آپ کے نزدیک اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟
ج۔ ویسے تو قاری اور کتاب کا رشتہ اٹوٹ ہے اور کتاب کی اہمیت و افادیت سے انکاربھی قطعی ممکن نہیں ہے۔ کتاب کی اہمیت کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالی نے بھی اپنا کلام کتاب کے ذریعے ہم تک پہنچایا ہے۔ تاہم اقدار و تربیت کی کمی اثر انداز ہو رہی ہے۔ بچوں کے والدین اور اساتذہ کتاب کلچر کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں لائبریری کا باقاعدہ پیریڈ ہونا چاہیے تبھی کتاب کلچر زندہ رہ سکتا ہے۔
س۔ کیا عصر حاضر کا ادیب موجودہ سلگتے مسائل کے حل کے لیے یا انہیں اجا گر کر نے کے حوالے سے کوئی کردار ادا کر رہا ہے؟
ج۔ جی بالکل! ادیبوں نے ہر دور میں اپنے حصے کا بھر پور کردار ادا کیاہے۔تخلیق کا ر اپنے ارد گرد کے ماحول سے ہی اپنے تخلیقی موضوعات کشید کرتا ہے ۔وہ جو کچھ محسوس کر تا ہے اسے سپر د قلم کر تا ہے اور یہی ایک سچے تخلیق کار کا حقیقی کردار ہے۔
س۔ موجودہ ادبی فضا میں تناؤ کے اسباب کیا ہیں؟
ج۔ یہ تناؤ آج کی بات نہیں بلکہ شروع سے چلا آرہا ہے تاہم اگر مقابلہ کی فضا صحت مند ہو تو کسی حد تک درست ہے اور اس سے توانا ادب پروان چڑھتا ہے۔
س۔ ادبی گروپ بندیوں نے ادب کو کس حد تک متاثر کیا ہے؟
ج۔ گروپ بندیوں سے مسابقت کی فضا پیدا ہوتی ہے اور توانا ادب پروان چڑھتا ہے تاہم اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ کئی نا اہل لوگ غالب آجاتے ہیں جبکہ کئی جنےؤئن قلمکار پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں۔
س۔ آپ ادب میں تجربے کی کس حد تک قائل ہیں؟
ج۔ تجربات ہرعہد میں ہوتے آئے ہیں اور ہونے بھی چاہئیں ۔ تجربات سے ہی ادب کی نئی جہتیں دریافت ہو تی ہیں تاہم میں تجربہ کے نام پر بھونڈے پن کی قائل نہیں ہو ں۔
س۔ کیا آپ ادب کے فروغ کے حوالے سے میڈیا کے کردار سے مطمئن ہیں؟
ج۔ یہ کہنا چاہیے کہ میڈیا ادب کے حوالے سے وہ کردارادا نہیں کر رہا جو اسے کرنا چاہیے۔پی ٹی وی تو بہت حد تک اپنی درخشندہ روایات پر کار بند ہے لیکن دیگر پرائیویٹ چینل کا ادب کی طرف کوئی دھیان نہیں ہے۔ پرنٹ میدیا بھی اب الیکٹرانک میڈیا کی تقلید میں چل پڑا ہے۔ زیادہ تر قومی اخبارات نے اپنے ادبی ایڈیشنز بھی ختم کردیے ہیں اوریہ نا گفتہ بہ صورتحال ادب اور اہل ادب کے لیے تشویشناک ہے۔
س۔ آ پ عصرِ حاضر کا بڑا شاعر کسے مانتی ہیں؟
ج۔ ماضی کی طرح آج بھی بہت سے لوگ بہت عمدہ ادب تخلیق کر رہے ہیں ۔ کئی نام ہیں ۔کسی ایک کا نام لینا زیادتی ہو گی۔بہر حال ہر آدمی اپنی جگہ اپنے حصے کا کام کر رہا ہے۔فیصلہ وقت کر تا ہے۔
س۔ آپ نے اب تک ٹی وی کے لیے کون کون سے پروگرام کئے اور کس کس چینل کے لیے کام کیا؟
ج۔ ویسے تو میں نے پنجاب ٹی وی پہ بھی بطور میزبان کا م کیا ہے لیکن زیادہ کام پی ٹی وی کے لیے کیا ہے۔پی ٹی وی پر مشاعروں ،ڈاکومنٹری ،سیاسی اور ادبی پروگراموں کی کمپےئرنگ کی ہے۔ میرے پروگرام “مہکاں”او ر”سخن دے وارث”کو بہت پذیرائی ملی ہے۔ آج کل میرا ہفتہ وار پروگرام “صوفی سنگ”پی ٹی وی سے چل رہا ہے۔
س۔ آپ کوٹی وی پر متعارف کرانے کا سہرا کس کے سر جا تا ہے؟
ج۔ جی! کرامت مغل صاحب نے مجھے ٹی وی پر متعارف کرایا اور تمام تر کریڈٹ انہیں کو جا تا ہے۔ وہ آ ج کل پی ٹی وی ملتان سنٹر کے جنر ل منیجر ہیں۔
س۔ ریڈیو کب جوائن کیا اور کس کس حیثیت میں کام کیا؟
ج۔ میں نے ریڈیو FM.95ڈیڑھ سال قبل جوائن کیا اور بطور ڈائریکٹر ذمہ داری نبھا رہی ہوں ساتھ ہی کئی پروگراموں کی کمپےئرنگ بھی کرتی ہوں۔
س۔ آ پ کے ریڈیو FM.95کا اجراء کب ہوا اور اس کا بنیادی منشور کیا ہے؟
ج۔ FM.95پہلا پنجابی ریڈیو سٹیشن ہے جس پر صرف پنجابی پروگرام چلتے ہیں۔یہ ساڑھے تین سال سے کام کر رہا ہے۔ اس کا منشور پنجابی ادب و ثقافت کا فروغ و ترویج ہے اور ایف ایم۔95الحمداللہ اپنے مقاصد پوری طرح کامیاب جا رہا ہے۔
س۔ آپ بیک وقت شاعرہ، ادیبہ ، ٹی وی کمپےئر،ریڈیو کی مصروفیات اور ایک پرچے کی چیف ایڈیٹر بھی ہیں یہ سب کیسے سنبھال پاتی ہیں؟
ج۔ بس جی اللہ کی مہربانی ہے “ہمت کرے انسان تو کیا ہونہیں سکتا”جب بندہ چل پڑتا ہے تو منزل خود بخود آ سان ہو تی جاتی ہے۔
س۔ “ترنجن”کے پلیٹ فارم سے کیا ہو رہا ہے؟
ج۔ میں نے تو “ترنجن “کی ادارت کی ذمہ داری حال ہی میں سنبھالی ہے تاہم “ترنجن”بھی FM.95کی طرح خالصتاً پنجابی زبان کا ادبی پرچہ ہے جس کا بنیادی مقصد پنجابی ادب کو پروموٹ کر نا ہے۔
س۔ ادبی حوالے سے آپ کے گھر کا ماحول کیسا تھا؟
ج۔ مجھے اپنے گھر سے ہمیشہ بھر پور سپورٹ ملی ہے۔ بالخصوص میرے والدمحترم نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی اور میری رہنمائی کی جس سے نہ صرف میرے اعتماد میں بھر پور اضافہ ہوابلکہ میری منزلیں بھی نسبتاً آسان ہوئی ہیں۔
س۔ آپ کا پیغام ۔۔۔۔۔ بالخصوص نئے قلم کار وں کے لیے؟
ج۔ محنت اور نظم وضبط کو اپنا شعار بنائیں نیز ہم ہجوم سے قوم بنیں اور دنیابھر میں عرض وطن کانام روشن کریں۔
***

 

Viewers: 4540
Share