Azra Asghar مدیرہ عذرا اصغر سے علی شاہ کی گفتگو

Azra Asghar

معروف ادیبہ اور ممتاز جریدہ” تجدید نو”کی ایڈیٹر عذرا اصغر کے ساتھ ایک نشست
تحریر وملاقات: علی شاہ

روشنیوں کے شہر کراچی میں مقیم صاحب اسلوب افسانہ و ناول نگار محترمہ عذرا اصغر اردو ادب میں ایک جا نا پہچا نا نام ہیں۔وہ منفرد لہجے ،نئی سوچ اور مثبت رویوں کی نمائندہ تخلیق کار ہیں انہوں نے نہایت آسان اور فہم شناس ادب تخلیق کیا ہے اسی لئے اسلوب کے اعتبار سے ان کی تخلیقات آسمان کی وسعتوں کو چھو تی دکھا ئی دے رہی ہیں۔محترمہ عذرا اصغر نے اپنے جذبات ،محسوسات ،مشاہدات اور اپنی محبت کو نثر پاروں کے روپ میں ڈھال کر ابدی تاثر سے مامور کر دیا ہے ۔ انہوں نے اپنی نثر میں قوس قزح کے اتنے رنگ شامل کر دیے ہیں کہ ان کی نثر عمدہ شاعری کی طرح گنگناتی محسوس ہوتی ہے ۔ ان کے ناول اور افسانوں میں دھوپ ،چھا ؤں ،وصل، ہجر ،خوشی ،غم اور رنج والم کے سارے دھنک رنگ انتہائی قرینے سے ملتے ہیں۔ محترمہ عذرا اصغر سالہا سال سے “تجدید نو”کے نام سے انتہائی مؤقر ارو معتبر ادبی پر چہ نکال رہی ہیں اور “تجدید نو”اردوادب کے فروغ و ترویج میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے ۔ عذرا اصغر جھوٹی پذیرائیوں اور بے جا شہرت سے بے نیاز ادب کی بھر پور خدمت کر رہی ہیں اور انتہائی توانا نثری ادب تخلیق کر رہی ہیں۔ ان کی سحر انگیز شخصیت کی خاص بات ان کی صاف گوئی ہے ۔ ان کی نجی زندگی ، ان کے تخلیقی سفر ،موجودہ ادبی فضا اور عصری تخلیقات کے حوالے سے ان کے ساتھ ایک بھر پور نشست ہوئی جس کی تفصیلات نذر قارئین”ِ اردوسخن ڈاٹ کام”ہے۔
س:۔۔۔ میڈم عذارا صغر صاحبہ!کچھ اپنے بچپن کے بارے میں بتائیں ۔کہاں اور کیسا گزرا؟
ج:۔۔۔ علی شاہ !سوال کے آخری حصے کا جواب تو یہ ہے کہ”کھٹا میٹھا”میں دہلی میں پیدا ہوئی ۔ اپنے والدین کی آخری اولاد ہوں سب سے بڑی بہن مجھ سے چودہ برس بڑی تھیں۔ان کے بعد دو بھائی بالترتیب بارہ اور دس سال بڑے ۔تین برس تک سنا ہے ہم نے بہت عیش کئے۔ ابا اور بہن بھائیوں کی لاڈلی رہی ۔ ابا اتنا چاہتے تھے کہ دورے پر جاتے تو مجھے ساتھ لے کر جاتے مگر پھر یوں ہوا کہ ابا کو ایک خاتون سے عشق ہو گیا ۔ مگر اپنا بیاہ رچا نے سے پہلے انہوں نے یہ عقلمندی کی کہ بڑی بیٹی کو بیاہ دیا جن کا نکاح تیرہ برس کی عمر میں ہو چکا تھا اور یوں ہجرتیں میرا مقدر بن گئیں ۔اماں ناراض ہو کر دادا کے گھر آ گئیں ۔ دونوں بھائی ابا کے پاس رہے”۔
س:۔۔۔ تعلیم کہاں تک ۔۔۔۔ اور کہاں کہاں حاصل کی؟
ج:۔۔۔ بی اے آنرز۔۔۔۔”کہاں کہاں۔۔۔۔؟”یہ بھی دلچسپ داستان ہے۔مختصراً ہی عرض کرونگی ۔دادا ابا میرے پہلے معلم تھے اور یقیناًیہ انکی کو ششوں کا نتیجہ تھا کہ میں بہت چھپٹن میں کم از کم اردو سے بہت اچھی طرح آشنا ہو چکی تھی۔ خالی بوری ،بستہ اور تختی پکڑ کے اسکول بھی جا تی رہی ۔گھر پر استاد پڑھانے آتے رہے۔ پھر ملک میں افراتفری مچ گئی اور ہم پاکستان آ گئے ۔ ورپال(ضلع گوجرانوالہ)اور سرگودھا سے پھر تے پھراتے لائلپور (فیصل آباد ) میں آ باد ہو گئے۔تعلیمی سلسلہ جڑتا رہا، ٹو ٹتا رہا۔
س:۔۔۔ دورانِ تعلیم کس قسم کی سر گرمیوں میں حصہ لیتی رہیں؟
ج:۔۔۔ جب تعلیمی سلسلے میں ہی تسلسل نہ رہا ہو تو سرگرمیاں کہاں ہو نگی ؟ویسے میرے شوق نرالے ہی رہے ہیں ۔شریفانہ کھیل بیڈ منٹن کھیلا۔ پھو پی زادوں کے ساتھ کر کٹ کھیلیاور آنکھ پھڑوائی ۔ کبڈی ،کنچے(گولیاں)گٹے،آنکھ مچولی۔ سبھی اس قسم کے کھیل کھیلے ۔گڑیوں کے بیاہ رچائے ۔محلے کے لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ پٹھو گرم کھیلا۔ افسانہ نگاری بہت ہی چھپٹن سے شروع ہو چکی تھی مگر جب افسانہ پکڑا جا تا تو خوب ڈانٹ پڑتی ۔ مسئلہ یہ تھا کہ میں بچی تھی اور بڑوں کی کہانیاں لکھتی تھی۔ قابل اعتراض بات تھی نا؟
س:۔۔۔ آپ نے شاعری کی بجا ئے نثر نگاری کو ذریعہ اظہار بنا یا۔ کوئی خاص وجہ۔۔۔۔؟
ج:۔۔۔ اس بات پر کبھی غور نہیں کیا۔کوئی بھی فن ہو وہ قدرت کی عطا ہوتی ہے۔ مجھ پر شاعری کی بجا ئے افسانہ اترا۔یہ عمل ارادی نہیں ہے ۔شاید اس کی وجہ وہ کہانیاں ہوں جو سونے سے پہلے اماں سنا یا کر تی تھیں ۔ باپ کی کمی یا جدائی میرے لئے ہمیشہ وجہ ء کرب بنی رہی۔بلکہ آج تک ہے۔ البتہ مجھ سے پہلے میرے خاندان میں دور دور تک کوئی تخلیق کار نہیں گزرا۔
س:۔۔۔ میڈم! آپ کو کب ادراک ہوا کہ آپ کے اندر ایک خوبصورت تخلیق کار موجود ہے ؟
ج:۔۔۔ ادراک ؟ اور وہ بھی خوبصورت تخلیق کار ہو نے کا تو اب تک نہیں ہوا ۔ بس جو قلب پر اترتا ہے میرا قلم وہ کاغذ پر منتقل کر دیتا ہے ۔ اچھا یا بُرا ۔ یہ پڑھنے والوں کے ادراک پر منحصر ہے ۔ مجھے اس سلسلے میں نہ کوئی غم ہے ،نہ کوئی خوش فہمی۔
س:۔۔۔ اب تک آپ کی تصانیف ،طبع شدہ۔۔۔۔؟ زیر طبع۔۔۔۔؟
ج:۔۔۔ “دل کے رشتے”(ناول۔ مطلوعہ ۱۹۷۰ء) افسانوی مجموعے،”پت جھڑ کا آخری پتا”(۱۹۸۰ء)،”بیسویں صدی کی لڑکی”(۱۹۸۹ء)،”تنہا بر گد کا دُکھ”(۱۹۹۰ء)،”گدلا سمندر”ّ(۱۹۹۹ء)،”مسافتوں کی تھکن”(ناول مطلوعہ۲۰۰۷ء)،”مشرق و مغرب کے سیاسی افکار”(تالیف ۱۹۷۲ء) ایم اے پولٹیکل سائنس میں مدد گار بک کے طور پر تاحال ۔زیر طبع ایک ناول ۔افسانوی مجموعہ ایک مذہبی کتاب اور اس کے علاوہ بہت کچھ جاری ہے۔
س:۔۔۔ ادبی حوالے سے گھر کا ماحول کیساتھا؟
ج:۔۔۔ کونسے گھر کا۔۔۔۔؟
س:۔۔۔ آپ کاناول”مسافتوں کی تھکن”سفر نامہ اور ناول کا خوبصورت امتزاج ہے۔ اس منفردتجربے پر اہل قلم ،قارئین اور بالخصوص نقادوں سے کیا رسپانس ملا؟
ج:۔۔۔ میں نا قدین کی Favourityنہیں ہوں ۔ اہل قلم اور قارئین کے بارے میں آپ زیادہ جا نتے ہونگے۔ تعریف تو وہ ہے جو غیر جا نبدارانہ ہو دوست تو محبت میں تعریف ہی کر ینگے۔سو کی۔
س:۔۔۔ میڈم! آپ کا نظر یہ فن۔۔۔۔؟
ج:۔۔۔ میری تخلیقات کیا نہیں بتا پائیں؟
س:۔۔۔ آپ کی ادبی سرگرمیاں آپ کی گھریلو زندگی پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہیں؟
ج:۔۔۔ ادبی سرگرمیوں اور گھریلو مصروفیات میں ہمیشہ توازن رکھا۔ گھر ہمیشہ میری ترجیح رہا۔ ادب کو فرائض پر کبھی حاوی نہیں ہو نے دیا۔ ادب برانچ لائن کے طور پر ساتھ چلتا رہا ہے۔ ادب کا ا سپ ۱۹۶۲ء سے آج تک دل کی چال چلتا چلا آرہا ہے۔میں دراصل ادبی سطح پر کبھی بھی تیز گام نہیں رہی۔ وجہ یہ ہے کہ ادب سے ہٹ کر بھی کچھ شوق میں پالے ہوئے ہیں۔ مثلا مجھے باغبانی کا بھی جنون ہے، نٹنگ،ایمبرائیڈری کی بھی لت ہے۔ان تمام کے لیے وقت تو درکار ہے نا؟ کتاب اور پھول میری کمزوری ہیں۔
س:۔۔۔ کیا آ ج بڑا ناول۔۔۔۔ افسانہ تخلیق ہو رہا ہے؟
ج:۔۔۔ بڑے سے کیا مراد ہے؟دیکھئے! دراصل نقاد کی توجہ کسی تخلیق کو بڑا بنا تی ہے۔ ہمارے تنقید نگار دوست نواز ہیں اور سہل انگار بھی۔ وہ اپنا کام فرض جان کر نہیں کرتے ۔ یوں بھی فرائض سے غفلت ہمارا قومی شعار ہے۔ اگر توجہ دی جائے اور تجزیہ کیا جائے تو کئی ناول اور بیشتر افسانے عالمی معیار کے نکلیں گے۔ ان کے تراجم ہونے چائیں۔مگر سوال تو یہ ہے کہ یہ کام کر ے کون؟
س:۔۔۔ آپ ادبی تقریبات میں کس حد تک حصہ لیتی ہیں؟
ج:۔۔۔ اسلام آبادمیں ادبی سر گرمی زیادہ تھی۔ حلقہء اربابِ ذوق اور اکادمی ادبیات میں منعقد ہو نے والی تقریبات کے علاوہ “بزم تجدید”ہر ماہ ہوتی تھی۔ خاصا ہنگامہ رہتا تھا۔ کراچی آ کر بے بسی کا احساس بڑھ گیا ہے۔ مہینے میں ایک آدھ تقریب میں شرکت ہو جا تی ہے۔ اس کی وجہ طویل فاصلے ،رستوں سے نا آشنائی اور سب سے بڑی بات یہ کہ یہاں ڈرائیور نہیں ہے ہمارے پاس۔
س:۔۔۔ کیا ادب کے فروغ کے حوالے سے میڈیا کے کردار سے آپ مطمئن ہیں؟
ج:۔۔۔ جی نہیں۔۔۔۔ قطعاً نہیں۔
س:۔۔۔ آپ کے پسندیدہ ناول نگار۔۔۔۔ افسانہ نگار؟
ج:۔۔۔ بہت سے ہیں گزرے ہوئے بھی اور موجودہ بھی۔ بہتر ہے گزرے ہوئے ادباء کا نام لیا جائے۔ ابتداء میں شفیق الرحمن پھر کرشن چندر ،الطاف فاطمہ،قرۃ العین حیدر،نشاط فا طمہ،عصر حاضر میں بہت سے لوگ اچھا لکھ رہے ہیں اور پسند آ رہے ہیں۔ تقریباً نئے لکھنے والوں میں (اگر چہ ان کو نیا کہنا بھی غلط ہے) میں محمد امین الدین اور شبہ طراز متاثر کر رہے ہیں۔ پچھلے دنوں تین ناول بہت متاثر کن لگے۔ رضیہ فصیح احمد کا “زخم تنہائی”،نسیم انجم کا “نرک”اور شمیم منظر کا “زوال”۔
س:۔۔۔ گروہ بندیوں نے ادب کو کس حد تک متاثر کیا ہے؟
ج:۔۔۔ گروہ بندیاں ہر دور میں رہی ہیں۔ میرے خیال میں یہ سیکھنے کے عمل کو آگے بڑھا تی ہیں۔ گروہ بندی ذاتیات پر مبنی نہیں ہونی چاہیے شخصیت پرستی پر مبنی گروہ بندی تنفر اور رنجش کا باعث ہوتی ہے۔ ظاہر ہے یہ عمل نقصان دہ ہو گا ادب کے لئے بھی اور ادیب کے لیے بھی بلکہ قارئین کے لیے بھی اور اس طرح اچھا خاصا پڑھا لکھاطبقہ تشکیک میں مبتلا ہو جا تا ہے۔
س:۔۔۔ کہا جا تا ہے کہ کتاب اور قاری کے مابین ایک خلیج سی حائل ہو رہی ہے ۔۔وجہ؟
ج:۔۔۔ میں سمجھتی ہوں یہ ایک مفروضہ یہ ۔ قاری ناپید ہے تو اتنی کتابیں کیوں چھپ رہی ہیں؟ اوریہ جو نئے نئے پبلشر جنم لے رہے ہیں وہ کس لیے؟ کاروباری سطح پر ابھر نے والے نئے پبلیشرز بطور خاص تو جہ طلب ہیں۔ پرانے پبلشنگ ہاؤس بھی بند نہیں ہوئے۔ کام کر رہے ہیں ۔ کچھ لو گ شاید کمپیوٹر سے خوفزدہ ہو کر یہ بات پھیلا رہے ہیں اور وہ لوگ”کتاب بینی”کی لذت سے آشنا نہیں۔آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ قارئین کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔
س:۔۔۔ معاشرتی مسائل کے حوالے سے ادیب اور بالخصوص اہل قلم خواتین کیا کر دارادا کر رہی ہیں؟
ج:۔۔۔ آپ اہل قلم خواتین سے کیا چاہتے ہیں؟ افسانہ ہو یا دوسری نثری یا شعری اصناف خواتین سب سے زیادہ معاشرتی مسائل اپنی تحریر وں میں بروئے کار لا رہی ہیں۔
س:۔۔۔ “تجدید نو”کے اجراء کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ نیز اہل ادب کی طرف سے کیسا رسپانس ملا؟
ج:۔۔۔ ۱۹۶۸ء کے لگ بھگ ایک جریدہ “آج کل”کے نام سے نکا لنا چاہا تھا۔مگر خاطر خواہ بنک اکاؤنٹ نہ ہونے کے سبب ڈیکلریشن نہ مل سکا۔ اسی اثناء میں ایک جاننے والے نے اپنا پر چہ میرے سپرد کر دیا۔”نورونار”خالصتاً خواتین کا پر چہ تھا۔ ایک سال تک نکلا پھر مالکان امریکہ چلے گئے ۔پر چہ بند ہو گیا۔ میں ماہنامہ تخلیق سے منسلک ہو گئی ۔۱۹۸۶ء میں اسلام آباد منتقل ہو نا پڑا۔ کچھ نہ کچھ کر تے رہنے کا شوق تجدید کے اجراء کا سبب بنا۔ ادیبوں کی طرف سے بھرپور تعاون حاصل رہا جو آ ج تک جاری ہے۔آج کا تجدید اسی مَیٹر(Matter)کا ثمر ہے۔ مانشااللہ ۔”تجدید نو” پر ایم اے کا تھیسس بھی لکھا جا چکا ہے۔
س:۔۔۔ ادبی رسائل و جرائد ادب کے فروغ و ترویج کے حوالے سے اپنا کر دار کس حد تک نبھا رہے ہیں؟
ج:۔۔۔ ادبی جرائد کا شائع ہو نا ہی ادب کے فروغ و ترویج کا ثبوت ہے۔
س:۔۔۔ میڈم صاحبہ! آپ سے آخر ی سوال کہ اہل قلم خواتین کے نام آپ کا پیغام؟
ج:۔۔۔ آپ قارئین کے بارے میں پیغام کی بات کر تے تو بات بنتی ۔اہل دانش خواتین اپنا منصب خوب پہچانتی ہیں۔ میں ان کو سلام پیش کرتی ہیں۔
س:۔۔۔ محترمہ عذرا اصغر صاحبہ! آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے “اردو سخن ڈاٹ کام”کے لیے اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ وقت نکا لا ۔
ج:۔۔۔ میں اس “اردو سخن ڈاٹ کام”اور اس کی پوری ٹیم آپ کا شکر یہ ادا کر تی ہوں کہ جنہوں نے اپنے بین الاقوامی پلیٹ فارم کے لیے میرے انٹرویو کا اہتمام کیا۔
***

Viewers: 2728
Share