MUSARAT KLANCHWI: Ali Shah Mankera محترمہ مسرت کلانچوی کے ساتھ ایک نشست۔۔۔از:علی شاہ

 

نامور افسانہ نگار ،ڈرامہ نویس اور ماہر تعلیم محترمہ مسرت کلانچوی کے ساتھ ایک نشست

انٹرویو: علی شاہ۔ منکیرہ

 سرائیکی دھرتی نے دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح علم و ادب کے میدان میں بھی ممتا ز شخصیات کو جنم دیا ہے۔ ادب و ثقافت کے مرکزی شاعرلاہور میں مقیم خوش اسلوب افسانہ نگار ،ڈرامہ نویس اور ماہر تعلیم محترمہ مسرت کلانچوی کا تعلق بھی سرائیکی وسیب کے معروف شہر بہاولپور سے ہے ۔اگرچہ علم وادب مسرت کلانچوی کو اپنے والد اور معروف تخلیق کار دلشاد کلانچوی کی طرف سے وراثت میں ملا اور ہوش سنبھالتے ہی اپنے اردگرد کتابوں کو پایا لیکن مسرت کلانچویں کی خداداد تخلیقی صلاحیتوں اور انتھک جدوجہد کی بدولت نہ صرف تخلیقی سفرمیں اپنے لیے نئی راہیں متعین کیں بلکہ انہوں نے ہر میدان میں بھرپورکامیابیاں سمیٹیں۔مسرت کلانچوی کے تخلیق کردہ ڈرامے ریڈیوٹی وی پر چلے تو ہر طرف ان کا ڈنکا بجنے لگا۔افسانہ لکھنے پر آئیں تو سرائیکی ادب کی تاریخ میں اولین صاحب کتاب افسانہ نگار بن گئیں ۔ٹی وی ریڈیوپر کمپیئرنگ بھی کی ریڈیو میں پرڈیوسر بھی رہیں۔اور ان کی تخلیقات میٹرک سے لے کر ایم اے تک نصاب میں شامل ہیں ۔محترمہ مسرت کلانچوی کی اصل انفرادیت ان کا اپنی دھرتی سے گہرا رشتہ ہے۔ محترمہ کے ڈرامے ہوں یا افسانے ،ہر تحریر میں محترمہ کی اپنی دھرتی سے بے پایاں محبت نمایاں نظر آتی ہے۔ آج کل محترمہ مسرت کلانچوی گورنمنٹ کالج برائے خواتین گلشن راوی لاہور میں وائس پرنسپل ہیں اور کالج کے شعبہ تاریخ کی صدر بھی ہیں۔بے پناہ شہرت اور پذیرائی کے باوجود مسرت کلانچوی انتہائی سادہ اور خوش مزاج شخصیت کی مالک ہیں۔ ان کی تخلیقات اور شخصیت کو پہلو سے دیکھا جائے تو خواجہ فرید کی کافی جیسی مسرت کلانچوی پر حقیقی معنوں میں روہی کی رانی کا گماں ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل لاہور جانے کا اتفاق ہوا تو محترمہ مسرت کلانچوی کی رہائش گاہ پر ان سے ان کی ذاتی زندگی ،ان کی ادبی سرگرمیوں اور قومی ادبی مسائل کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔
س مسرت کلانچوی صاحبہ! کچھ اپنی تعلیم کے بارے میں بتائیے۔ تعلیم کہاں تک اور کہاں کہاں حاصل کی؟
ج جی! میں نے میٹرک کا امتحان گورنمنٹ صادق ہائی سکول بہاولپور ،گریجو یشن گورنمنٹ صادق کالج فار گرلز بہاولپور اور ایم ۔اے۔ تاریخ کا امتحان اسلامیہ یونیورسٹی سے پاس کیا۔ فائن آرٹس میں بے حد دلچسپی تھی اور ایم اے فائن آرٹس کا شوق اور ارادہ تھا لیکن ان دنوں بہاولپورمیں ایسا بندوبست نہ تھا۔ سو مجبوراً ہسٹری میں ماسٹر کرنا پڑا۔
س زمانہء طالب علمی میں کس قسم کی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہی ہیں؟
ج میں نے ادبی مقابلہ جات میں نہ صرف بھر پور حصہ لیا بلکہ تقریری مقابلوں میں بہت سے انعامات بھی جیتے ۔شاعری کے مقابلوں میں بھی کئی بار حصہ لیا۔سٹوڈنٹ لائف میں شوقیہ طور پر لان ٹینس بھی کھیلتی رہی ہوں۔
س کچھ یاد ہے آپ نے پہلی تحریر کون سی لکھی؟
ج تاریخ تو یاد نہیں تاہم پہلی تحریر ایک کہانی تھی جو”امروز”میں شائع ہوئی ۔بعد میں “تعلیم و تربیت”میں کئی کہانیوں کو اول انعام ملا۔”تعلیم و تربیت”میں میری مصوریبھی چھپی رہی ہے۔
س آپ کے اندر لکھنے کی تحریک کیسے پیدا ہوئی؟
ج میرے والد صاحب نہ صرف ممتاز قلمکار تھے بلکہ گھر میں ان کی بڑی اچھی لائبریری بھی تھی اور بہت سے رسائل وجرائد کے علاوہ بچوں کے رسائل بھی گھر میں آتے تھے۔ چونکہ گھر کا ماحول مکمل طورپر ادبی تھا اس لئے کتابیں پڑھتی پڑھتی خود لکھنا شروع کر دیا۔
س آپ کی تخلیقات کے موضوعات کیا رہے ہیں؟
ج میں نے ہمیشہ اہم سماجی مسائل کو اجا گر کیا ہے۔ میں نے علامتی ادب بھی تخلیق کیا ہے لیکن معاشرتی مسائل میری ترجیحات میں شامل رہے ہیں بالخصوص گھر یلو زندگی کو فوکس کیا ہے یہی وجہ ہے کہ میرے افسانے اور ڈرامے ہر گھر کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔میں نے علامتی ادب بھی جدت کو مدنظر رکھا ہے۔
س عصر حاضر کے تخلیق کار پر معاشرتی عوامل کے اثرات کس حد تک مرتب ہو رہے ہیں؟
ج یہ ایک فطری بات ہے ۔تخلیق کار عام لوگوں سے زیادہ حساس ہوتا ہے۔ وہ اپنے ارد گرد کے ماحول اور حالات کا ضرور اثر لیتا ہے۔
س آپ کے نزدیک ادبی فضا میں تناؤ کے اسباب کیا ہے؟
ج اس کی بڑی وجہ ادیبوں کی گروپ بندیاں ہیں۔گروپ بندیوں نے ادب کو نقصان پہنچا یاہے۔ا س منفی عمل سے کئی حقیقی ادیب پسِ منظر میں چلے گئے ہیں جبکہ کئی دونمبر لوگ موجیں مار رہے ہیں۔ میں ان گروپ بندیوں کے سخت خلاف ہوں۔ میں سمجھتی ہوں کہ اختلاف رائے ضروری ہے تاہم مقابلہ صحت مندانہ ہونا چاہیے۔ یعنی تنقید برائے تنقیدنہیں بلکہ تنقید برائے اصلاح ہونی چاہیے۔
س قاری اور کتاب کے درمیان خلیج حائل ہورہی ہے۔وجہ؟
ج اس کی ایک وجہ الیکٹرانک میڈیا کی بہتات ہے دوسری وجہ کتب کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہے تاہم سنجیدہ قاری کے لیے کتاب اب بھی بہت اہم ہے اور اب بھی کتاب دھڑا دھڑ بکتی ہے تاہم ناکام قسم کے لوگ اس قسم کی مایوس کن افوا ہیں پھیلاتے رہے ہیں۔ جب تک کائنات کا نظام قائم ہے کتاب بھی زندہ رہے گی۔
س کیا آپ ادب کے فروغ کے حوالے سے میڈیا کے کردار سے مطمئن ہیں؟
ج ہر گز نہیں! پرائیویٹ چینلز یا تو کٹھ پتلیاں بنے ہوئے ہیں اور یا پھر خوف وہراس پھیلانے والی رپورٹس چلاتے ہیں۔ سو ان کے پاس ادب پرموٹ کرنے کا و قت ہی نہیں ہوتا۔ پی ٹی وی پر اگر کوئی مشاعرہ یا کوئی اور ادبی پروگرام آئے تو وہاں مخصوص لوگوں کی اجارہ داری ہے اور بار بارو ہی چہرے دکھائی دیتے ہیں۔ پرنٹ میڈیا کاادب کے فروغ و ترویج کے حوالے سے ہمیشہ مثبت کردار رہا ہے لیکن اب وہ بھی الیکٹرانک میڈیا کی راہ پر چل نکلے ہیں اور بڑے قومی اخبارات نے اپنے ہفتہ وارادبی ایڈیشنزتقریبا ختم کردیے ہیں اس ناگفتہ بے صورتحال میں ادب کیا ترقی کر پائے گا۔
س مسرت کلانچوی صاحبہ! آپ ادیب تقاریب میں کس حد تک شریک ہوتی ہیں؟
ج اگر کالج کی ڈیوٹی یا کوئی انتہائی ذاتی مصروفیت آڑے نہ ہوتو ادبی تقاریب میں بہت شوق سے جاتی ہوں اور بہت اچھا لگتا ہے۔
س آپ کی ادبی سرگرمیاں آپ کی ذاتی زندگی پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہیں؟
ج جی! میں نے اپنی ڈیوٹی ،گھر یلو مصروفیات اور ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے توازن رکھا ہواہے۔جب سب لوگ سو جاتے ہیں تو میں لکھنے پڑھنے بیٹھتی ہوں اور اکثرصبح کی اذان تک کام کرتی ہوں۔چھٹی والے دن کسی تقریب میں جاتی ہوں۔ بچوں کو بھی پورا وقت دیتی ہوں۔ ویسے میرے شوہر اسلم ملک صاحب معروف صحافی ہیں اور ادبی حوالے سے میرے بھر پور معاون بھی ہیں یعنی اس حوالے سے میرے گھر کا ماحول انتہائی سازگار ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ میری ادبی سرگرمیاں میری نجی مصروفیات پر اثر انداز ہرگز نہیں ہوتی ہیں ۔
س آپ ڈرامہ نویسی کی طرف کیسے آئیں؟
ج میرے گھر کا ماحول شروع سے ہی ادبی تھا ،بچپن سے ہی لکھنا شروع کیا جب میں بہاولپور کالج میں پڑھتی تھی تو ریڈیو پاکستان بہاولپور شروع ہوا تب میں نے ریڈیو کے لئے لکھنا شروع کیا ۔میں نے دس سال تک ریڈیو کے لئے لکھا ۔ریڈیو میں بطور گیسٹ پروڈیوسر بھی کام کیا اور کمپےئرنگ بھی کی۔ پھر میری شادی ہوگئی تو لاہور آگئی جہاں پی ٹی وی لاہور کی طرف سے ڈرامہ لکھنے کی آفر ہوئی یوں پی ٹی وی کے لئے لکھنا شروع کر دیا پی ٹی وی پر کمپےئرنگ بھی کی۔
س اب تک منظر عام پہ آنے والی آپ کی تصانیف ۔۔۔۔۔۔۔؟
ج اُچی دھرتی جھکا اسمان(سرائیکی افسانے)1976۔ڈکھن کنیں دیاں والیاں(سرائیکی افسانے)1987ء ۔وڈیاں دا آدر(طویل کہانی)1986۔سنجھ صباحیں(ڈرامے)1989ء۔مکی مدنی (سیرت)2003ء۔اپنا گھر(اردوڈرامہ)2004ء۔تھل مارو دا ینڈا(سرائیکی افسانے)2005ء۔حضورؐ کا بچپن اور لڑکپن(سیرت)2008ء۔
س آپ نے افسانہ لکھا ،کہانی لکھی،سیرت مبارکہ پہ کام کیا،ڈرامہ بھی لکھا۔ وہ کون سی تخلیق تھی جو آپ کے لئے وجہ شہرت بنی ہو؟
ج میرا پی ٹی وی کا پہلا ڈرامہ ریگزاربھی خاصہ مقبول ہوا لیکن ڈرامہ”صحرا”میری ایسی تخلیق تھی جو صحیح معنوں میں میرا تعارف بن گئی ۔اس ڈرامہ پر پی ٹی وی کو اتنا بزنس مِلاکہ انہوں نے مجھے بونس بھی دیا۔
س ایک وقت تھا جب پی ٹی وی کا ڈرامہ بھارتی فلم سے زیادہ مقبول تھا لیکن آج ڈرامے کا وہ معیار نہیں رہا ۔وجہ؟
ج دراصل ہم مقابلے کی دوڑ میں اپنی روایات سے ہٹتے جارہے ہیں ۔اپنی ثقافت سے دور ہو رہے ہیں۔نقل کا رجحان پیدا ہو گیا ہے۔ ہمارے آس پاس اب بھی ان گنت موضوعات بکھرے پڑے ہیں۔ میرے ڈراموں کی مقبولیت کی بڑی وجہ ہی یہی تھی کہ میں نے اپنی ثقافت کو اجا گر کیا۔ زمینی حقائق کو سپرد قلم کیا۔
س آپ نے اپنی مادری زبان سرائیکی میں بہت عمدہ ادب تخلیق کیا ہے۔ کیا آپ سمجھتی ہیں کہ سرائیکی میں بین الاقوامی معیار کا ادب تخلیق ہو رہا ہے؟
ج جی بالکل! سرائیکی زبان کے ادب کو پرموٹ نہیں کیا گیا۔ وہ پذیرائی نہیں ملی جو اس کا حق ہے۔ورنہ سرائیکی میں بہت ہی خوبصورت اور توانا ادب تخلیق ہو رہا ہے۔
س آپ ادبی روایات میں تجربے کی کس حد تک قائل ہیں؟
ج تجربات ہر دور میں ہوتے رہے ہیں اور ہونے چاہئیں ورنہ تو کھڑا پانی بھی خراب ہو جا تا ہے۔ یکسانیت طاری ہو اجاتی ہے۔ میں تجربے اور جدت کی قائل ضرور ہوں لیکن تجربے سے مراد بھونڈ پن نہیں ہو نا چاہیے۔تواناتجربات کی روایات زندہ رہنی چاہئیں۔
س آپ ادب برائے ادب یا ادب برائے زندگی میں سے کس کی قائل ہیں؟
ج میں ادب برائے زندگی کو مانتی ہوں۔ اگر آپ حقیقت اور زندگی سے ہٹ کے لکھیں گے تو کس کے لئے لکھیں گے؟
س کہا جا تا ہے کہ خواتین لکھاریوں کو بڑے تخلیق کار پرموٹ کرتے ہیں۔ آپ کی رائے۔۔۔۔۔؟
ج شاید ایسا ہو لیکن دوسروں کے سہارے چلنے والے زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکتے۔چاہے وہ خواتین ہوں یا مرد۔ اچھی تخلیق اپنا آپ خود منواتی ہے۔
س ادبی خدمات کے اعتراف میں اگر آپ کو کوئی سرکاری یا غیر سرکاری ایوارڈ ملا ہو تو تفصیل بتائیے؟
ج الحمداللہ مجھے متعدد ایوارڈ زسے نوازہ گیا۔ جن میں سے چند ایک یہ ہیں۔ فاطمہ جناح میڈل (حکومت پنجاب 2007)نیشنل بُک فاؤنڈیشن ایوارڈ
(2006ء)۔قومی سیرت ایوارڈ ،وزارت مذہبی امور،حکومت پاکستان (2005ء)۔قومی ادبی انعام (اکیڈمی آف لیٹرز2003ء)۔نامزدگی
برائے پی ٹی وی نیشنل ایوارڈ (2002ء)۔گریجویٹ ایوارڈ برائے بہترین پی ٹی وی ڈرامہ نویس(2002ء)۔گریجویٹ ایوارڈ برائے ریڈیو بہترین ڈرامہ نویس (1999ء) ۔پاکستان ٹیلی ویژن نے سکرپٹ رائٹنگ ورکشاپ میں شرکت کے لئے ایشیا پیسفک براڈ کاسٹنگ یونین انسٹیٹیوٹ (ملائشیا)بھیجا۔میری تحریر یں ایم اے (سرائیکی)۔بی اے(سرائیکی)اور میٹرک(پنجابی)کے نصاب میں شامل ہیں۔ اکیڈمی آف لیٹرز نے سات بین الاقوامی زبانوں میں شائع ہونے والے پاکستانی ادب کے انتخاب میں شامل کیا۔ سرائیکی زبان میں افسانوں کا پہلا مجموعہ”اُچی دھرتی جھکا اسمان”(1976)میں شائع جو سرائیکی ادب کی تاریخ میں افسانوں کا پہلا مجموعہ ہے۔ نیز بورڈ آفس ڈیز،اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ،پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز،پاکستان رائٹرز گلڈ،حلقہ ارباب ذوق اور سرائیکی ادبی مجلس کی رکنیت کااعزازبھی ملا ہوا ہے۔تاہم اصل ایوارڈ تو اپنی دھرتی کے لوگوں کی بے پایاں محبتیں،بے لوث اور نیک تمنائیں اور دعائیں ہیں۔
س اب تک آپ نے کتنے ڈرامے لکھے ہیں اور ان میں سے اہم کون سے ہیں؟
ج میں نے پچاس سے زائد ڈرامے لکھے ہیں تاہم جن چند ڈراموں کے نام یاد ہیں وہ یہ ہیں۔ ریگزار(اردو)۔بو ہے تے باریاں(پنجابی)۔ مسافت(اردو)۔دھوپ اور سائبان(اردو)۔منجھدار(اردو)۔پربت(اروو)۔رت بدلے گی(اردو)۔صحرا(اردو)۔پارت(سرائیکی)۔
مٹی رنگے لوک(پنجابی)۔
س میدان ادب میں آنے والی نو آموز خواتین قلمکاروں کے نام آپ کا پیغام۔۔۔۔؟
ج سخت محنت اور مطالعے کو اپنا شعار بنائیں۔کوئی بھی ایسا کام نہ کریں جس سے ان کی آبرو پر حرف آئے ۔اگر عزت نہیں تو شہرت ،دولت اور دیگر چیزیں بے معنی ہیں۔ شارٹ کٹ کے بجائے صبراور مستقل مزاجی سے کام لیں۔ یقیناًپر وردِگارمحنت کا پھل دیتا ہے۔
س محترمہ مسرت کلانچوی صاحبہ! آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے ہمارے لیے اتنا وقت نکالا اور اپنے خوبصورت خیالات سے اگاہ کیا۔
ج میں “اردو سخن ڈاٹ کام”کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے اپنی خوبصورت بین الاقوامی ویب سائٹ کے لیے میرے انٹرویو کا اہتمام کیا۔

Viewers: 2583
Share