Hafiz Muzafar Mohisn مزید بہتر مستقبل کیلئے۔۔۔۔از:حافظ مظفر محسن

حافظ مظفر محسنؔ ،چراغ پارک شاد باغ لاہور،فون:9449527-0300 مزید بہتر مستقبل کیلئے کیا عورت بڑھتی ہوئی تلخی کا شکار ہے؟۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب مرد کیا […]

حافظ مظفر محسنؔ ،چراغ پارک شاد باغ لاہور،فون:9449527-0300

مزید بہتر مستقبل کیلئے

کیا عورت بڑھتی ہوئی تلخی کا شکار ہے؟۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب مرد کیا دیں گے۔ کیونکہ عورتیں بھی جواب دینے سے قاصر ہیں ۔ میں ایک عرصہ سے اخبارات کا باریک بینی سے مطالعہ کرتے وقت یہ بات شدت سے محسوس کر رہا ہوں کہ روزانہ بیسیوں لوگ خود کشی کے مرتکب ہو رہے ہیں جن میں نّوے فیصد سے زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔ ہے ناں خطرے اور دُکھ کی بات؟!۔
30 مئی کے اخبارات میں خودکشی کرنے والوں میں سب کی سب خواتین تھیں ۔ کل خودکشی کے 6 کیس رپورٹ ہوئے جن میں سے دو خواتین پھندے سے جھول گئیں۔ دو نے خود کو گولی مار لی اور دو نے زہر کھا لیا اور موت کے منہ میں چلی گئیں۔ اور حسب سابق کسی سے پوچھ گچھ نہ ہوئی کہ آخر کیا محرک تھا اِن اذیت ناک اَموات کا؟!۔
ایک دور تھا جب پاکستان کے اُن علاقوں میں جوان خواتین بڑی تعداد میں خود کشیاں کرنے لگیں، جہاں مرد حضرات بڑی تعداد میں انگلستان گئے ہوئے تھے دولت کمانے کی غرض سے اور عورتیں پیچھے اکیلی بڑے بڑے گھروں میں اچھے مستقبل کی اُمید لیے بیٹھی تھیں۔ ایک پر آسائش زندگی کے ساتھ جہاں اُن کا مرد اُن کے ساتھ نہ تھا۔
انسانی خواہش میں سب سے پہلے پیٹ بھر کر کھانا ہے جب یہ خواہش پوری ہو جائے تو بڑا سا گھر حاصل کر نے کی خواہش سر اٹھانے لگتی ہے۔ اُس کے بعد مرد کی خواہش ہوتی ہے بڑی سی گاڑی جب کہ عورت کی خواہش ہوتی ہے۔ بہت سا زیور اور اب معاشرتی تبدیلیوں کے بعد عورتیں بہت سے زیور کے ساتھ ساتھ اپنے لئے علیحدہ سے گاڑی کی بھی خواہش دل میں رکھنے لگی ہیں۔ یہ انسانی کمزوریاں بہر حال صدیوں سے انسان کے ساتھ ہیں۔
جب بڑا سا گھر بھی ہو۔ اچھی گاڑی بھی گھر میں ہو تو مرد کا اکیلے بیرون ملک بیٹھے رہنے کا، بیوی بچے یہاں چھوڑ کر، کوئی بظاہر جواز نہیں رہتا۔ لیکن پھر بھی مردوہاں اکیلے رھ کر کیوں خوش رہتے ہیں۔ انسانی خواہشات کا بڑہتے چلے جانا آج کا تقاضہ ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں مرد یورپ امریکہ اور سب سے بڑی تعداد میں مڈل ایسٹ میں موجود ہیں جن کے بیوی بچے یہاں بیٹھے باپ یا خاوند کی آمد کے ہر دن منتظر رہتے ہیں۔ بہت سی دولت کے ساتھ ۔ چار چار سال جو مرد اپنے بیوی بچوں کا منہ نہیں دیکھتے۔ کیا ایسا تو نہیں کہ اُنہوں نے وہاں شادیاں کر رکھی ہوں۔ یہ وسوسے عورتوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر تے رہتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب عورتیں مرد کے کئی کئی سال پاکستان نہ آنے پر اعتراض کر تی ہیں تو مرد پر دھمکی دے کر چپ کرا دیتے ہے کہ ’’ میں تم لوگوں کے بہتر مستقبل کے لیے ہی تو پردیس جا کر محنت مزدوری کر رہا ہوں‘‘۔
بہت سے مرد مڈل ایسٹ گئے وہاں جوان عمر گزاری گھر والوں کو معقول پیسے بھی بھیجتے رہے لیکن پھر ’’ مزید بہتر مستقبل‘‘ کے لئے امریکہ یا یورپ چلے جاتے ہیں اور پیسے بھی بھیجنا بند کر دیتے ہیں۔ اور تعلق بھی کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس دوران اولاد جوان ہوتی ہے تو ماں بے بسی کا نمونہ بن جاتی ہے۔ ماں جوان بچوں کی من مرضی پر پر یشان ہوتی ہے۔ تو دوسری طرف خاوند کی دھمکی آمیز کالیں اُسے تلخ بنا دیتی ہیں۔ کچھ خواتین میں بغاوت کا عنصر پیدا ہوتا ہے۔ اور ایسی صورت میں عام طور پر دھاک میں بیٹھا کوئی ’’ ٹھگ‘‘ ایسی خواتین کو ’’ اُلو‘‘ بناتا ہے روپیسہ بھی جاتا ہے اور عزت بھی۔ کبھی وہ بے چاری قتل کر دی جاتی ہے۔ تو کبھی مجبور ہو جاتی ہے کہ پھندے سے جھول جائے۔ یا اپنے سر میں اُس پستول سے گولی مار لے جو خاوند نے اپنے دفاع کے لئے لے کر دے رکھا ہوتا ہے۔ حالانکہ مرد کو خود یہاں رھ کر روکھی سوکھی کھا کر اپنی عورت کا دفاع کرنا چاہیے؟۔
میں ایک ایسی خاتون کو بھی جانتا ہوں جس کا خاوند اٹھا رہ سال سے سعودی عرب میں تھا اور ایک بچہ اور بیوی کے اچھے مستقبل کے لئے بہت محنت مزدوری کر رہا تھا وہاں۔ جب وہ سات سال تک پاکستان نہ آیا تو بیوی نے گڑ گڑا کر آنے کی دعوت دی رشتہ داروں ، برادری کے لوگو ں کے اکسانے پر وہ آیا تو ’’ فرمانبردار‘‘ بیوی نے التجا کی کہ یہ مکان جس میں تمھارے ایک بچے کے ساتھ اٹھارہ سال سے رہتی ہوں تم اب کے بار میرے نام کر دو تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔ مرد نے رشتہ داروں کے اکسانے پر ایسا ہی کیا۔ عورت نے ایک ماہ بعد وہ مکان فروخت کیا پیسے بنک میں جمع کرائے اور خُلا لے لیا۔ جس دن اُس کا خاوند دوبارہ’’ اپنے ‘‘ اچھے مستقبل کے لئے جہاز پر چڑھ رہا تھا اُس کی بیوی اُس مرد کے ساتھ اپنے جوان بیٹے کو سامنے بٹھائے نکاح پڑھوا رہی تھی جس نے ایک سال پہلے اُسے یہاںآ کر یہ بتایا تھا کہ جب میں عمرہ کرنے سعودی عرب گیا تو وہاں میں نے تمھارے خاوند کو دیکھا اُس نے کندھے پر ایک چار پانچ سالہ بچی اٹھا رکھی تھی جو یقیناً اُس کی اُس بیوی میں سے ہو گی جو اُس نے سعودی عرب میں رکھی ہوئی ہے‘‘۔ یہ غلط فہمی تھی یا سچ ۔ یہ خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ بظاہر ہر کردار اپنی جگہ سچا دکھائی دیتا ہے۔
میں امریکہ میں مقیم اپنے دوست جاوید کے حالات سے اکثر پریشان رہتا ہوں۔ جاوید بھی پہلے مڈل ایسٹ گیا۔ پھر وہیں سے وہ کسی طرح امریکہ چلا گیا۔ ایک بیوی ایک بیٹا ۔ یہی اُس کی کل کائنات تھی۔ جاوید کی بیوی اکثر واپسی کا تقاضہ کرتی ۔ تو وہ چیخ کر شور مچا کر اُسے چپ کرا دیتا کہ ’’ میں کون سا اپنے بہن بھائیوں کو اپنی کمائی بھجتا ہوں یہ سب تم دونوں کے لئے ہی تو کر رہا ہوں۔ اِس دوران جاوید کی لاٹری نکلی اور اُس نے اُن ڈالروں سے وہاں پٹرول پمپ خرید لیا۔ اور کچھ اور جائیداد بھی۔ اب بیوی اور بچے نے پھر طعنے دیئے کہ اب کیا مجبوری ہے۔ یہاں تک کہ جاوید کی بیوی اور سترہ سالہ بیٹے نے مجبور کر دیا اور دونوں امریکہ پہنچ جا پہنچے۔
دونوں ماں بیٹے نے اِک منصوبے کے تحت امریکہ پہنچ کر شلوار قمیض کی جگہ جین پہنی اور جاوید کاکا روبار میں ہاتھ بٹانے کے لیے ساتھ دینا شروع کیا۔ جاوید نے لاکھ سمجھایا بجھایا لیکن دونوں کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ کچھ دن بعد بیوی نے طلاق کے لیے دعوٰی کر دیا اور بیٹے نے اپنے حقوق کے لیے ۔ مذاق مذاق میں بات نہایت سنجیدہ شکل اختیار کر گئی۔
وکلاء نے دونوں کو اُمید دلوائی کہ ساری جائیداد تم دونوں کی ہو جائے گی۔ مگر جب فیصلہ ہوا تو معاملہ مختلف نکلا۔ عورت کے کسی اور مرد سے پہلے سے ہی شادی کے سلسلہ میں معاملات طے تھے۔ اور کیس کمزور نکلا۔ جبکہ بیٹے کی عمر کمسنی سے گزر چکی تھی وہ ایک میچور مرد تھا اِس لئے وہ بھی پٹرول پمپ اور دوسری جائیداد پر قبضہ نہ کر سکا۔ طلاق ہو گئی۔ رشتہ داروں نے لاکھ کوششیں کیں کہ پھر سے رشتے قائم ہو جائیں۔ مگر دوریاں ہو جائیں تو قربت ہو جانے کی اُمید ہو جاتی ہے۔ شیشہ ٹوٹ جائے تو جڑ نہیں سکتا۔
’’ مگر اِس دوران لاہور میں جاوید بھی اِک نئی دلہن تلاش کر چکا تھا۔ جو دلہن بننے سے پہلے ہی جاوید کے ساتھ بیس لاکھ کا فراڈ کر کے مُنہ موڑ گئی۔ ہم سب دوست جاوید کے ساتھ مل کر آج بھی اُس نہ ہونے والی بھابھی کو تلاش کر رہے ہیں کہ جاوید فراڈ ہو جانے کے باوجود اُس سے شادی کرنے کو تیار ہے۔ یہ ہوتی ہیں تباہ کاریاں ۔ جب انسان کے اندر ضرورت سے زیادہ لالچ پیدا ہو جائے۔
عالمی سطح کے بہت سے ادارے خود کشی کی روک تھام کے لیے کوششیں کر رہے ہیں مگر بھارتی فلموں کی یلغار اور ہزاروں قسطوں پر محیط غیر فطری کہانیوں پر مشتمل بھارتی ڈراموں نے ہماری خواتین کی سوچوں میں بنیادی تبدیلی پیدا کر ڈالی ہے۔ پاکستان ٹیلی ویژن واحد ادارہ تھا جو بھارتی ٹی۔وی چینلز سے ڈرامہ سازی میں مقابلہ کر سکتا تھا مگر اس سرکاری ادارے کے پاس وہ فنڈز (شاید )نہیں کہ جو ہمارے ہاں کے پرائیویٹ چینلز کے پاس ہیں۔ خواتین میں بڑہتی ہوئی خوفناک تلخی کی وجہ کہیں مردوں کا بدلتا ہوا لالچی روّیہ تو نہیں ؟! ۔ اب مجھے خواتین کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی وہ تنظیمں بھی ACTIVE نظر نہیں آتیں جو غنیمت تھیں۔ ملک پر عوامی قسم کے حکمرانوں کی موجودگی میں خواتین میں خود کشی بڑھتا ہوا یہ رجحان کوئی اچھی علامت نہیں ، سرکاری سطح پر تو یقیناًکوئی’’ تھنک ٹینک ‘‘ ضرور جلد یا بدیر کوئی کارروائی کرے گا یا غور وخوض ہو گا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی اُن مُردہ ہوتی روایات کو زندہ کریں کہ جن میں سب سے اہم روایت ہماری معاشرتی زندگی میں مذہب اسلام سے ہماری وابستگی ہے۔ یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
ورنہ خواتین کی خودکشی کے حوالے سے بڑہتی ہوئی خبریں بھی ہماری معمول کی بے حسی کاشکار ہوتی رہیں گی اور ہم جس طرح بجلی کی لوڈشیدنگ ، ڈراؤن حملے اور حکومتی وعدوں جیسی خبریں۔ پڑھے بغیر اخبار اِک طرف رکھ دیتے ہیں۔ کہیں یہ خبریں بھی۔ ہماری روائتی بے حسی کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں؟۔ کہ یہ خبریں ہی غیر اہم خبروں کی طرح فلمی اشتہارات میں سے بچ جانے والی جگہ پر لگنے لگیں۔ میرے خیال میں ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ مرد عورت کے وجود سے ہی یہ دنیا روشن ہے۔

پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم
دونوں ہی کو امجد ہم نے بچتے دیکھا کم
(امجد اسلام امجد)

Viewers: 4807
Share