Aziz Balgaumi, Banglore (India) Cel# +91 9900222551 E-mail: azeezbelgaumi@hotmail.com
دعوتِ انقلابِ اسلامی:پیراہنِ شعر میں
عزیز بلگامی
ادبِ اِسلامی کا آوازہ جس زمانے میں بلندہواوہ ترقی پسند تحریک کے عروج کا زمانہ تھا۔لینن زدہ فنکارو قلمکار،تخلیق کارو افسانہ نگار کمیونزم کی خدمت میں مصروف تھے جو اُس زمانے میں ایک غالب نظریہ تھا اور سیاسی قُوّت بن کردُنیا پر چھا یا ہوا تھا۔اِس قوّت سے لوہا لینے کے لئے سیاسی و حربی اعتبار سے لے دے کر ایک امریکہ ہی تھا۔ ورنہ باقی دنیا کا حال یہ تھا کہ وہ یا تو سٹالین و لینن کی بارگاہ میں سجدہ ریز تھی یا اُس نے سرمایہ دارمغرب کی درگاہ پر جبیں سائی کو اپنا وظیفۂ حیات بنا رکھا تھا۔صرف’’ ایک بلبل تھا جو محوِ ترنّم تھا اور اُس کے سینے میں نغموں کا طلاطم برپا تھا‘‘ اور وہ تھا خدا پرست ڈاکٹر محمد اِقبالؒ جو دنیائے فکر و عمل میں انقلاب کا داعی تھا۔ایک ایسے نظام کا قیام اُس کا مدعا تھا جو غربی ہو نہ شرقی بلکہ ایک ایسا نظام جو ٹھیٹ اسلامی ہو۔اُس نے صرف شاعری نہیں کی تھی بلکہ انقلابِ اسلامی کی بنیادیں فراہم کی تھیں، اُن کاادب اِس اعتبار سے ادبِ اسلامی تھا کہ اس میں انقلابِ اسلامی کا پیغام تھا۔ ظلمت کدے میں ایک لعلِ درخشاں لئے وہ جس شاہیں صفات، مردِ جگردار اور مردِ مومن کی جستجو میں تھا وہ مولانا مودودیؒ کی شکل میں اُسے مل بھی گیا تھا۔ لیکن خود شاعرِ اِنقلاب اِ س بات سے بے خبر تھا کہ ایک مغلوب قوم آنے والے دنوں میں اُسے صرف شاعر بنا کر رکھ دے گی اور اُس سے فکر و عمل کی آنچ لینا بند کر دے گی۔
یہ بات قارئیں کو تعجب خیز لگے گی کہ مولانا مودودیؒ نے بھی شاعری کی تھی۔ لیکن فوری طور پر اُسے ترک کرتے ہوئے انہوں نے وہ تحریریں ملّت کو دیں جن پر بجا طور پر اِسلامی ادب کا اطلاق ہوتا ہے۔کیونکہ ان ہی تحریروں نے اُس دور کے ملحد اصحابِ دانش کوتشکیک و تذبذب کی قید سے باہر نکالا تھا اور اُنہیں اسلام کی چوکھٹ پر لا ڈالا تھا۔اُن کی تحریریں اِسلامی ادب کی حقیقی مثال ہیں۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اِسلامی ادب کا مقصد و مدّعافکر و عمل کی دنیا میں اِنقلاب برپا کر نا ہے۔زیادہ واضح الفاظ میں ایک ہمہ جہتی فکری و سیاسی انقلاب۔اُن کی تحریروں کایہی کمال تھا کہ کھنچ کھنچ کر قلمکار ان کے ا طرا ف جمع ہوئے۔گو کہ انہوں نے ان کی ادبی دلچسپیوں کوDisturbنہیں کیا تاہم مولانا مودودی ؒ چاہتے تھے کہ اِن قلم کاروں کے ادب کا معاملہ بھی کچھ ویسا ہی ہو۔یعنی اُن کا قلم چاہے نثر تخلیق کرے کہ نظم ان کی تخلیقات کی تیزی و معنی آفرینی باطل کی قلعی کھولنے کاکام کرے۔جو نظام دُنیا پر مسلط ہیں اُ ن پر کسی معذرت خواہی کے بغیر ایسی تنقیدیں ہوں کہ لوگ ان نظاموں کی خباثتوں سے کراہت محسوس کرنے لگیں اور اُن کے تحت زندگی کو ایک ذلّت کی زندگی سمجھیں اور با لآخراُس فکر کا غلبہ ہو جو اِنسانو ں کی حقیقی فلاح کی ضامن ہے۔
اُس زمانے میں مولانا مودودیؒ کی دعوتِ انقلاب سے جن لوگوں کو نسبت ہوئی اُن میں مولانا حمادؔ عمری بھی ہیں۔ اُن کے مرتبے کا تعیّن ،اِس پس منظر میں نہ کیا جائے تو ہم اُن کی فکر و فن کے ساتھ اِنصاف نہیں کر سکیں گے۔دیکھنے کی اصل چیز یہی ہے کہ حضرتِ حمادؔ نے اپنے قلم کو فکرِ اِسلامی کے فروغ کے لئے کس زمانے میں وقف کیا۔جو لوگ حضرتِ حمادؔ کی شاعری کے صبر آزما ادوار کو دیکھے بغیر اُن کے کلام کا مطالعہ کریں گے تو انہیں اُس فرق کا ادراک نہیں ہوگا جو حمادؔ اور اُن شعراء کے درمیان پایا جاتا ہے جو ادبِ اسلامی کے قافلے کوتحریکِ اِسلامی کے فروغ کے بعد ملے۔ دین و مذہب ، اخلاق و کردار کی باتیں تو اِسلامی ادیب کرتے ہی ہیں لیکن اب تو حال یہ ہے کہ باقیاتِ ترقی پسندی سے متعلق قلمکار بھی اپنی خیریت اِسی میں سمجھتے ہیں کہ اُن کی زنبیل میں کم از کم ایک عدد نعت یاحمد یا اخلاق وکردارکے موضوع پر ایک آدھ نظم بہر صورت موجود رہے ۔یہ اور بات کہ وہ اپنی کمین گاہوں میں اب بھی اُسی فکر و فلسفے کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں جس کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔
حضرتِ حمادؔ ہمارے سروں پر سایہ بن کر موجود ہیں۔ گو کہ اُن کا کلام پیراہنِ شعر میں دعوتِ انقلابِ اسلامی کا نقیب ہے تاہم درد و سوز میں ڈوبے اُن کے نعتیہ کلام کی کمپیوگرافی کے دوران کئی بارپلکیں بھیگ گئیں۔اُنہوں نے اپنے ایک شعر میں جس فکر کی ترجمانی کی تھی کئی دہے گذرنے کے بعد بھی اُس کی تاثیرمیں کوئی فرق نہیں آیا۔
میں نقیبِ انقلابِ دین ہوں شاعر نہیں
میراپیغامِ حقیقت وقت کی آواز ہے
میں اس اعتبار سے اپنے آ پ کو خوش قسمت محسوس کر رہا ہوں کہ مولانائے موصوف کے مجموعۂ حمد و نعت کی اِشاعت ہمارے ادارے’’پرنٹیک پبلشنگ ہاؤز‘‘(آرٹی نگر، بنگلور) کے زیرِ اہتمام ہو رہی ہے۔
***



on
on
