Saeed Javed Mughal افسانہ۔۔۔ غبارہ ۔۔۔از: سعید جاوید مغل

Saeed Javed Mughal, Saudi Arabia E-Mail: sjmughal@hotmail.com غبارہ سعید جاوید مغل:سعودی عرب گھر کے صحن کے اندر بچھی ہوئی چارپائی پر بیٹھا نوجوان کسی لمبی فکر میں ڈوبا ہوا تھا۔...

Saeed Javed Mughal, Saudi Arabia E-Mail: sjmughal@hotmail.com

غبارہ
سعید جاوید مغل:سعودی عرب

گھر کے صحن کے اندر بچھی ہوئی چارپائی پر بیٹھا نوجوان کسی لمبی فکر میں ڈوبا ہوا تھا۔ پاس ہی اس کی نوجوان بیوی گھر کے کام کاج میں مصروف تھی۔ اچانک باہر گلی سے اس کی بچی دوڑی دوڑی صحن میں داخل ہوئی اور باپ کے گلے میں باہیں ڈال کر پیار سے کہا بابا جان باہر گلی میں غبارہ بیچنے والا آیا ہوا ہے آپ مجھے آٹھ آنے دیں میں نے غبارہ خریدنا ہے۔
باپ نے بچی کے رخسار پر پیار کیا اور کہا کہ ابھی تو میرے پاس آٹھ آنے نہیں ہیں مجھے تھوڑی دیر کے بعد ایک ضروری کام کو جانا ہے وہاں سے واپسی پر آکر آپ کو آٹھ آنے دوں گا تو پھرآپ اس سے اپنے لئے غبارہ خرید لینا۔ یہ بات کہہ کر جب وہ کھڑا ہونے لگا تو بچی پیچھے ہٹ گئی اور وہ جب باہرکے دروازہ کی طرف بڑھاتو بیوی نے پیچھے سے آواز لگائی کہ آپ اس وقت کہاں جا رہے ہیں تو اس نے باہر کی دروازہ کی کنڈی کو کھولتے ہو ئے کہا کہ ضروری کام کے لئے جا رہا ہوں ،ابھی تھوڑی دیر میں واپس آ جاؤں گا۔ بیوی یہ جواب سن کر دوبارہ گھر کے کام کاج میں مصروف ہو گئی۔ بچی دروازہ کو کھول کر باپ کو جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی جب باپ اپنی گھرکی گلی پار کر گیا توبچی باہر کے دروازہ کوبند کر کے اپنی ماں کے پاس اپنی گڑیا سے کھیلنے لگی۔
کافی وقت گزر گیا لیکن نوجوان واپس نہ آیا۔ بیوی بار بار دروازے کی طرف دیکھے ہی جا رہی تھی۔ آج بچی بھی کافی بے چین تھی کیونکہ اس کا والد اتنی دیر باہر نہیں ٹھہرتا تھا ۔ وہ کتنی دفعہ باہر کا دروازہ کھول کر گلی میں جھانک چکی تھی کہ کہیں سے اس کو اس کا باپ آتا ہوا دکھائی دے۔شام ہونے کو قریب تھی کہ باہر کا دروازہ کھلا اور نوجوان گھر کے اندر داخل ہوا۔ آج وہ شکل سے بہت ہی تھکا ہوا لگ رہا تھا۔ بیوی بے شمار سوال کر رہی تھی کہ آپ کہاں تھے؟ اتنی دیر آپ نے کہاں لگائی ہے اور کھانا بھی آپ کے انتطار میں ٹھنڈا ہو گیا ہے ۔ بچی بھی آپ کے انتظار میں تھک کر سو گئی ہے۔ وہ ساری باتیں سن رہا تھا اور وہ اسی چارپائی پر بیٹھ گیا جس پر اس کی بچی سو رہی تھی۔ اس نے بچی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بیوی سے ایک گلاس پانی مانگا۔ بیوی فورا دوڑ ی گئی اور پانی کا گلاس لے کر اس کے پاس آ گئی۔ نوجوان نے بیوی کے ہاتھ سے گلاس پکڑ کر ابھی چند گھونٹ ہی پیئے تھے کہ چکرا کر زمین پر گر پڑا اور وہ بے ہوش ہو گیا۔ یہ دیکھ کر بیوی کی چیخیں نکل گئیں اور وہ بھاگی بھاگی ساتھ کے گھر کے اندرداخل ہوئی اور رو رو کر بتانے لگی، یہ گھر اس نوجوان کے بڑے بھائی کا تھا ۔ نوجوان کا بڑا بھائی فوراً ہی اپنی بھاوجہ کے ساتھ آیا اور لوگ بھی چیخ وپکار وپکار سن کر گلی میں جمع ہو گئے تھے۔نوجو ان کا بھائی گھر سے باہر آکر بولا ہے کوئی ہے جو اس گلی کی نکڑپر موجود کلینک کے ڈاکٹر کو بلا کر لا سکے، پاس کھڑے ایک لڑکے نے جواب دیا تایا میں جاتا ہوں اور وہ بھاگ کر ڈاکٹر کو بلانے چلا گیا اورڈاکڑ فورا ہی اس لڑکے کے ساتھ آگیا۔ ڈاکٹر نے جب اس نوجوان کو چیک کیا تو بولا آپ اس کو فورامیو ہسپتال لے جائیں دیر نہ کریں۔ لوگ بھاگ کر گئے اور آٹورکشا لے آئے، نوجوان کو اس میں ڈالا اور میو ہسپتا ل کی طرف چلنے کے لئے رکشا ڈرائیور کو کہاگیا، رکشا ڈرائیور معاملہ فہم تھااور وہ اس موجودہ حالت کو سمجھ گیا ۔اور اس نے اپنی بھرپورمہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغیر تاخیر کے مریض کولے کر ہسپتال پہنچ گیا۔ ایمر جنسی میں مریض کو لیجایا گیا اور تھوڑی دیر کے بعد ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کر دی۔بڑا بھائی جب چھوٹے بھائی کی میت کو لے کر ایمرجنسی سے باہر آیا تو کافی لوگ وہاں آ کر جمع ہو گئے کہ اچانک ان سے ایک بولا، اوئے لالہ حمید اس آدمی کو دیکھو جو فوت ہو گیا ہے، یار یہ پیشہ وار خون بیچنے والا ہے۔ یہ تو اکژ یہاں آکرضرورت مند لوگوں کے پاس خون بیچتا تھا۔ بڑے بھائی نے یہ سن کر غصہ سے کہا تم کیا بکواس کر رہے ہو؟یہ سن کر اس آدمی نے کہاآپ اس لالہ حمید سے خود پوچھ لیں۔ اس آدمی نے ایک آدمی کی طرف اشارہ کر کے کہا اور لالہ حمید نے بھی اس کی تصدیق کر دی۔ اس کے بعد ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ بڑا بھائی چھوٹے بھائی کی میت کو لے کر جب گھر واپس آیا تو نوجوان کی بیوی پر سکتہ طاری ہو گیا اور وہ پاگلوں کی طرح ہر ایک کو گھور رہی تھی۔ لوگ نوجوان کے بھائی کو کہہ رہے تھے کہ جو اللہ کو منظور تھا۔
میت کو جب نہلانے کا وقت آیا تو نہلانے والوں نے دیکھا کہ میت کا ایک ہاتھ تو کھلا ہوا ہے لیکن دائیں ہاتھ کی مٹھی بھینچی ہو ئی ہے انہوں نے ذرا زور لگا کر ہاتھ کو کھولا تو اس کے اندر آٹھ آنے کا سکہ تھا۔ یہ وہ سکہ تھا جو وہ اپنی بیٹی کو غبارہ خریدنے کے لئے نہ دے سکاتھا۔
اس دنیا سے رخصت ہونے والا یہ نوجوان سعودی عرب میں 8سال گزارنے کے بعد چند سال پیشتر ہی طائف سعودی عرب سے واپس پاکستان گیا تھا کیونکہ کمپنی کے پروجیکٹس مکمل ہو گئے تھے اورابھی نئے پروجیکٹس نہیں مل رہے تھے۔ اس لئے اس نے فیصلہ کیا کہ وہ وطن واپس چلا جاتا ہے۔ وہ رات دن یہاں کام کرتا رہا اور سمجھ رہا تھا کہ اب وہ اتنے پیسے پاکستان بھیج چکا ہے کہ واپس جاکر کوئی اچھا سا کام کر سکتا ہے لیکن جب وہ واپس پاکستان گیا تو اسے معلوم ہوا کہ س کے بھیجے ہو ئے روپئے اس کے بھائی کھاتے پیتے رہے ہیں اور ان کے پاس اس کے بھیجے ہوئے روپوں میں سے کچھ بھی باقی نہیں بچا ہے ۔ اس کے پاس جو کچھ جمع پونجی باقی بچی ہوئی تھی اس سے وہ کیا کام کرے اس کی اس کو خود سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ چنانچہ چند سالوں میں جمع پونجی بھی خرچ ہو گئی اور نوبت یہاں آگئی کہ جب وہ گھر کے اخراجات سے پریشان ہو تا تو اپنا خون میو ہسپتال کے باہر چند سو روپئے کے عوض ضرورت مندوں کے ہاتھوں بیچ کرگھر آ جاتا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی یہ بھی کوشش تھی کہ وہ ایک بار پھر باہر پردیس چلا جائے۔ اس کیلئے وہ اکژ ملک سے باہر بھیجنے والوں کے دفتر وں کے چکر کاٹتا رہتا تھا۔
منڈیٹ بھی آیا، عوام کے سر چشمہ والی حکومت بھی آئی لیکن اورسیز پاکستانیوں کے لئے نہ تو کوئی اورسیزخواتین یونیورسٹی اور نہ ہی اورسیز میڈیکل کالج بنا۔ حکومتیں آئیں اوران اورسیز پاکستانیوں کے ہاتھوں میں لالی پاپ دے کر ان کے سر پر ہاتھ پھیرتی رہیں۔
ہم لوگ جو سال ہا سال سے اپنے ملک سے باہر محنت کر رہے ہیں، ملک کو زر مبادلہ بھیج رہے ہیں۔ کیا ہمارے لئے کوئی ایسا متبادل پروگرام کسی کے پاس نہیں کہ ہمارا مستقبل محفوظ ہو جائے اور ہمارے مٹھی میں اتنے پیسے ہوں کہ ہم اپنے بچوں کی خواہش پر ان کو آٹھ آنے کا غبارہ ہی خرید کر دے سکیں؟
***

Viewers: 1545
Share