Sohail Ahmed Loun, UK E-mail: sohailloun@gmail.com
مزاح کے چمن میں خزاں کی آمد
تحریر : سہیل احمد لون ۔سربٹن۔سرے
مزاح کے چمن میں جیسے خزاں کا موسم آگیاہو۔یکے بعد دیگرے ہنستے مسکراتے پھول مرجھا مرجھا کر گرنا شروع ہو گئے ۔لیاقت سولجر، مستانہ ، ببو برل اور اب معین اختر۔۔۔سبھی اپنی فن کی یادوں وسیع خزانہ چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہو گئے ۔معین اختر جس نے اپنے فنی سفر کا آغاز ۱۹۶۶ ء میں صرف ۱۶ برس کی عمر میں پی ٹی وی سے کیا اور اس کے بعد فن کی تمام بلندیوں کو چھو کر ساڑھے چار دہائیاں تک فن کی دنیا میں حکومت کرتا رہا۔اس کی ذہانت اور قابلیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اردو ، انگریزی ، بنگالی، سندھی ، پنجابی ، میمن ، پشتو ، گجراتی اور کئی اور زبانیں بھی بڑی مہارت سے بولتاتھا۔
ٹی وی ، سٹیج اور فلم کا معروف اداکار ، آل ٹائم بہترین کامیڈین ، اعلی پایہ کا میزبان ، مصنف ، ہدائیتکار ، پیشکار ، گلوکار ۔۔۔اور شاید ہی فنی دنیا کا کوئی شعبہ ایسا ہو جو معین اختر سے بچا ہو۔وہ ان فنکاروں میں سے ایک تھا جو بیک وقت کئی خوبیوں کے مالک ہوتے ہیں اور ہر خوبی میں اپنی مثال آپ ہوتے ہیں۔یعنی وہ فن کی دنیا کا عظیم آل راؤنڈر تھا۔ون مین شو ہو یا ٹیم شو ہر اک کو وہ بلا کی خوبصورتی سے نبھاتا تھاکہ دیکھنے والے کو کردار میں کبھی معین اختر کی جھلک نظر نہ آئی بلکہ ان کو حقیقی کردار ہی نظر آیا ۔اور ہر بھیس ، لباس ، حلیے اور زبان میں کردار نبھائے حتی کہ مس روزی کے کردار میں بھی کی صنف نازک فنکاراؤں کو ان سے جلن ہونا شروع ہو گئی کہ اب ان کا کیا بنے گا۔ان کی ٹیم میں بشری انصاری اور انور مقصود قابل ذکر ہیں ۔ جنہوں نے مل کر نہ جانے کتنے پروگرامز کیے۔ انور مقصود فن کاوہ سپہ سالار ہے جس نے معین اختر اور بشری انصاری کو تلوار اور ڈھال کے طرح استعمال کر کہ فن کے میدان میں اب تک بڑی شان سے فتح یاب ہوتا رہا۔اب اس میں یہ جاننا مشکل ہے کہ تلوار کون ہے اور ڈھال کون؟ بڑی بڑی شخصیات کا بڑے پراعتماد طریقے سے انٹرویو کیے اور کسی کو بھی کاپی کرنے میں اس کو کوئی مسئلہ نہ تھا۔
زندگی تو اللہ تعالی کی وہ امانت ہے جس کو ہر کسی نے ایک نہ ایک دن واپس لوٹانا ہے ۔خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس امانت کو دنیا کی کج روی اور حالات کی ستم ظریفی دیکھنے سے قبل ہی واپس لوٹا دیں۔اس لحاظ سے معین اختر کے بخت اچھے تھے کہ اس کو یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوا او ر وہ ہم کوداغ مفارقت دے کر چپ چاپ مگر شان سے ۲۲ اپریل کو اس دنیا فانی سے کوچ کر گیا۔ورنہ حال ہی میں مستانہ اور ببو برال اور ماضی میں کئی معروف سٹار اور سپر اسٹارز علاج کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایڑیاں رگڑرگڑ کر اپنی جان کی امانت خدا کے سپرد کرتے نظر آئے۔یہ المیہ ہے کہ مصیبت کی چکی میں پھنسے ہوئے کروڑوں لوگوں کو ہنسا کر وقتی طور پر ان کے غموں کے نجات دہندہ بننے والے جب خود مصیبت میں آتے ہیں توان کروڑوں میں سے کوئی درجنوں بھی ایسے نظر نہیں آتے جو ان کے زخموں پر پیار کا مرہم رکھے ۔جو ان کے غموں کی اتھاہ گہرائیوں میں سے خوشی کی چند موتی تلاش کر کہ ان کو دے سکیں۔مالی مدد تو دور کی بات ایسے موقع پر بیمارپرسی اور دعاؤں کا صدقہ دینے کو بھی کوئی نہیں آتا۔ماضی میں فن کے افق پرچمکنے والے سپر اسٹارز مہدی حسن اور لہری کا حال بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔
روتے آئے اور رلا کر چل دئیے
زندگی ہے بس رونے رلانے کا نام
اس رونے رلانے کی دنیا میں حقیقتاً ہنسنے ہنسانے والے لوگ بہت کم ہیں۔انسان کو خوش کرنا گو کہ مشکل ترین کام ہے۔ مگر معین اختر کو یہ ملکہ حاصل تھا کہ وہ ہر قسم کے انسان کو اپنے فن کے سحر میں ایسا مسحور کرتا کہ بندہ ہنسنے پہ مجبور ہو جاتا تھا۔یوں دیکھیں تو انسان کو خوش کرنا خدا کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے۔لہذا ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ معین اختر ۴۵ سال تک اپنے اعمال نامے میں نیکیاں لکھواتا رہا۔وہ جتنا بڑا فنکار تھا اسی پایہ کا بلند کردار کا انسان بھی تھا۔اللہ تعالی نے اس کو بڑی عزت سے نوازا اور موجودہ دور کے تمام بڑے ایوارڈزاس کے حصے میں آئے۔اس نے جس شعبے میں بھی ہاتھ ڈالا اپنی محنت ، قابلیت اور دعاؤں سے اپنا لوہا منوایا۔جس طرح دیسی گھی کا ترکہ عام ذائقہ پکوان کے ذائقے کو بھی چار چاند لگا دیتا ہے اسی طرح فن کے پکوانوں کو معین اختر کی اداکاری کا تڑکا لگ جاتا تو بے جان سکرپٹ بھی چٹ پٹا بن جاتا کہ دیکھنے والے اسے مدتوں فراموش نہ کر پاتے اور بار بار دیکھ کر بھی دل نہ بھرتا۔ہر کردار کی کھال میں گھس کر پرفارم کرنا اس کا طرہ امتیاز تھا۔
المیہ یہ ہے کہ کوئی اچھا انسان جاتا ہے تو اس کا نعم البدل کتنی دہائیوں تک نہیں ملتا جبکہ کوئی شیطان صفت اس دنیا سے جائے اس کے خلا کو پر کرنے والے سینکڑوں آجاتے ہیں۔مزاح کے بے تاج شہنشاہ منور ظریف ، ننھا، لیاقت سولجر ، مستانہ ، ببو برال اور اب معین اختر ۔۔۔باری باری چلے گئے ۔مگر ان کا خلا پر کرنا بڑا مشکل ہے۔اس عظیم فنکار کی نماز جنازہ بھی اک فنکار نے ہی پڑھائی،جمشید جنید نے۔
اذان سے شروع ہوئی نماز پہ ختم
دور حیات ایک یہ صلوۃ ہی تو ہے
ایسے بہت سے فنکار اور کھلاڑی اور زندگی کے دوسرے شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگ جو کبھی پاکستان کا نام روشن کرتے تھے ۔ حالات کی ستم ظریفی کا شکار ہوکر خستہ حالی ، تنگدستی، اور بھوک افلاس کے شکنجے میں ایسا آئے کہ ان کو ایڑیاں رگڑکر مرنے پرمجبور ہونا پڑا۔ یا اس وقت بھی وہ غیرت کی بو سیدہ چادر اوڑھے گھر کی چار دیواری میں مقید ہو کر اپنے آخری وقت کا اکیلے انتظار کر رہے ہیں۔ویسے آج تک کسی سابقہ جرنیل ، جوائنٹ سیکر یٹری ، یا کسی سابقہ ایم این اے یا ایم پی اے کو اس حالت میں نہیں دیکھا گیا۔اس کی کیا وجہ ہے؟
اس لیے فنکاروں اور زندگی کے دوسرے شعبہ جات کے لوگوں کو اب کچھ سبق لینا چاہئے اور مستقبل کے
کے لیے کوئی ایسا لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے کہ کم از کم کوئی فنکاراورکھلاڑی آئندہ علاج کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایڑیاں رگڑتا ہوا دم نہ توڑے ۔ان کو آپس میں مل کر کوئی ایسی انجمن بنانی چاہیے جو مصیبت زدہ فنکاروں کی فلاح بہبود کی کیے کام کرے۔برا وقت کسی پر بھی آسکتا ہے۔اور کم ازکم جو اچھے دنوں کے ساتھی ہوں وہ تو آگے بڑھ کر ان کے دکھوں کا مداوہ کریں۔ضرورت پڑنے پر باہر آئیں اور اسی عوم الناس میں جہاں یہ کبھی خوشیاں بانٹتے تھے سے مدد کی اپیل کریں۔تاکہ آئندہ کسی فنکار کے ساتھ ببو برال اور مستانے والا حال نہ ہو۔آج بھی لہری زندگی اور موت کی جنگ ایک بند کمرے میں اکیلا ہی لڑ رہا ہے ۔ اور کتنے اس کے ساتھی فنکار ہیں جو اس کے لیے سوچتے ہیں۔اگر آج وہ آگے بڑھیں گے تو ہو سکتا ہے کل ان کے لیے بھی کوئی قدم اٹھائے گا۔
***



on
on

weldone mr loan, keep it up. you r looking energetic.