Zafar Iqbal Zafar افسانہ۔۔۔ناسور۔۔۔از: ظفر اقبال ظفر

Zafar Iqbal, Art Land, Shuja Abad Distt. Multan (Pakistan) افسانہ: ناسور تحریر : ظفر اقبال ظفر مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی بس چوڑی چکلی سڑک پر دوڑے جارہی تھی۔...

Zafar Iqbal, Art Land, Shuja Abad Distt. Multan (Pakistan)

افسانہ: ناسور
تحریر : ظفر اقبال ظفر

مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی بس چوڑی چکلی سڑک پر دوڑے جارہی تھی۔ ڈرائیور نے ٹیپ ریکارڈر اونچی آواز سے چلا رکھا تھا۔ دسمبر کے آخری عشرے کی یہ شام ابھی سے ہی کہر میں ڈوبنے لگی تھی۔ گھڑی دیکھے بغیر اندازہ کرنا مشکل تھا کہ سورج افق پر پگھل رہا تھا یا ڈوب چکا تھا۔ سیٹوں پر بیٹھے ہوئے کچھ مسافر بڑھی ہوئی سردی پر تبصرہ کر رہے تھے، کچھ لوگ بس کے ہچکولوں سے سرور حاصل کر تے ہوئے اُونگھ رہے تھے۔ بعض مسافر فلمی گیت کی دُھن میں کھوئے ہوئے تھے۔
بس میں گیلری کے آخر تک مسافر چھت میں لگے ہوئے لوہے کے پائپ کو تھامے آڑے ترچھے بے ترتیب انداز میں کھڑے تھے اور ایک دوسرے کے بدنوں کی گرمی سے سردی کا احساس مِٹا رہے تھے۔ انہی لوگوں میں وہ بھی کھڑا تھا۔ اس کے بدن پر باریک کپڑے کی شلوار قمیص جبکہ پاؤں میں ربڑ کی چپل تھی۔ قمیص کی آستینوں کے بٹن غائب تھے۔ جس ہاتھ سے اُس نے چھت کا پائپ تھام رکھا تھا، اس بازو کی آستین ڈھلک کر اس کی کہنی سے اٹکی ہوئی تھی اور سردی سے اُس کا وہ بازو شل ہو رہا تھا۔ دوسرا بازو اُس نے برابر کھڑے ہوئے مسافر کی گرم اُونی چادر کے لٹکے ہوئے پلو میں دے رکھا تھا۔ اس کے حد درجہ بڑھے ہوئے بال اور خود رو جھاڑیوں کی طرح چہرے پر پھیلی ہوئی شیو نے اس کے حلیے کی غِلاظت میں اضافہ کر رکھا تھا۔ اُس کی عمر بیس سال سے زیادہ نہیں تھی مگر اپنی ظاہری حالت کی بنا پر وہ دگنی عمر کا دکھائی دیتا تھا۔ سردی سے اُس کے ہونٹوں پر نیلاہٹ آرہی تھی۔ آنکھوں میں بیابان جیسی ویرانی سائیں سائیں کر رہی تھی۔ کئی مسافر اُسے مشکوک اور حقارت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
’’ہاں بھئی! بغیر ٹکٹ سواری کون سی ہے؟‘‘ کنڈیکٹر مسافروں کو چیرتا ہوا قریب آن کھڑا ہوا۔
برابر والے مسافر نے جیب میں ہاتھ ڈال کر پیسے نکالے اور کنڈیکٹر کو اپنی منزل کا پتہ بتا یا، ساتھ ہی پیسے اُس کی پھیلی ہوئی ہتھیلی پر رکھ دیے۔
اِسی لمحے ساتھ والی سیٹ پر براجمان ایک نوجوان نے اُس مشکوک اور حقیر دکھائی دینے والے مدقوق شخص پر پہلی سنگ زنی کی، ’’اپنی اپنی جیبوں کا خیال رکھنا بھائیو! رَن وے پر ایک جہاں ببھی کھڑا ہے۔‘‘
اُس کا کسا ہوا جملہ بے جا بھی نہیں تھا۔ وہ اپنے حلیے سے نشے کا عادی یا کوئی چور اُچکا ہی دکھائی دیتا تھا۔
’’ہاں بھئی! ٹکٹ؟‘‘ کنڈیکٹر ایک دم اُس کے سامنے آگیا۔
وہ خالی خالی نظروں سے کنڈیکٹر کو دیکھنے لگا۔
’’جلدی کر بھئی! پیسے نکال، کہاں جانا ہے؟‘‘ کنڈیکٹر نے قدرے جھنجلا کر اُسے ڈانٹنے کے سے انداز میں کہا۔
جواباً وہ چپ چاپ کھڑا تھا۔ یوں، جیسے کنڈیکٹر کے سامنے مٹی کی دیوار آ گئی ہو۔
ایسے میں اُسی نوجوان نے دوسرا پتھر پھینکا، ’’یہ ٹکٹ کہاں سے لے گا؟ اِسے تو اپنی جیب سے پُڑیا کے پیسے دے دو۔‘‘
اَب کنڈیکٹر بِھنّا گیا۔ اُس نے گاڑھی زبان میں دو تین غلیظ گالیاں اُس کے چہرے پر تھوکیں اور بلند آواز میں کہا، ’’اِسے چلتی بس سے دھکا دے دو۔ ‘‘
کوئی چلایا، ’’مارو سالے کو!‘‘
کسی نے کنڈیکٹر کے مدعا کی اعانت کی، ’’بس روکو اور یہیں اُتار دو؛ جنگل میں ہی۔ معاشرے کے ناسور ہیںیہ نشئی لوگ!‘‘
ایک بھرائی ہوئی آواز گونجی، ’’ارے! یہ تو کوئی جاسوس لگتا ہے۔‘‘
’’سوچنا کیا ہے جی! بس روکو اور یہیں اُتار دو اسے۔‘‘
’’ ساری بس کو گندہ کر رکھا ہے اِس غلیظ نے۔‘‘
کنڈیکٹر پر چاروں طرف سے مشوروں کی بوچھاڑ ہو رہی تھی۔ اُس نے زور سے بس کی چھت دھڑ دھڑائی۔ پہلے ٹیپ ریکارڈر بند ہوا، پھر ایک دم گاڑی کے بریک چرچرائے۔
’’اوئے! کیا بات ہے؟‘‘ ڈائیور نے جھنجلا کر پوچھا۔
’’اُستاد! ایک جہاز بغیر ٹکٹ چڑھ گیا ہے، سالا! نہ پیسے دیتا ہے، نہ کچھ بولتا ہے۔‘‘
ایسے میں پھر ایک آواز اُبھری، ’’جہاز ہے، اُڑ کر بس سے پہلے پہنچ جائے گا۔‘‘
کنڈیکٹر کی پیشانی سلوٹوں سے بھر گئی، ’’چل اوئے! نیچے اُتر، باپ کی گاڑی سمجھ رکھی ہے کیا؟‘‘
ساتھ ہی اُس نے جہاز قرار دیے جانے والے مدقوق شخص کو بازو سے پکڑا اور دروازے کی طرف دھکیلا۔ دروازے کے باہر کہر میں ڈوبی ہوئی رات اور بدن کو چیرتی ہوئی سردی منہ پھاڑے کھڑی تھی۔
’’یار! یہ رکھو پانچ رُپے ، اِسے یہاں مت اُتارو۔ کسی اگلے سٹاپ پر اُتار دینا۔‘‘ ایک خدا ترس انسان نے انسانوں سے بھری بس پر پانچ روپے دے کر لعنت بھیجی اور اُس کا ہاتھ پکڑ کر دروازے سے پیچھے کھینچ لیا۔
بس دوبارہ چل پڑی۔ اَب خداترس آدمی سنگ باری کی لپیٹ میں آگیا تھا۔ ایک آواز اُبھری، ’’مجرموں کی مدد کرنے والے لوگ بھی معاشرے کے ناسور ہوتے ہیں۔‘‘
بس کے عقبی حصے سے آواز بخارات زدہ فضا میں سرسرائی، ’’اگر ایسے ’خدا ترس‘ لوگ ہمارے بیچ موجود نہ ہوتے تو یہ ’جہاز‘ کب کے سیدھے ہو گئے ہوتے۔‘‘
پھر دَبی دَبی تنقید کا مرحلہ آگیا اور ٹیپ ریکارڈ پر دوبارہ فلمی گیت چھڑ گیا۔
’’جانا کہاں ہے تم نے؟‘‘ پانچ روپے دینے والے نے اُس سے پوچھا۔
وہ اُس آدمی کو بھی ویسے ہی دیکھنے لگا جیسے کنڈیکٹر کو دیکھ رہا تھا؛ خالی خالی نظروں سے۔ اُس کے پاس کوئی جواب تھا ہی نہیں اور اگر ہوتا بھی تو بولتا کیسے؟ وہ تو گویائی سے محروم تھا۔ بیگار کیمپ سے بھاگا ہوا ایک مظلوم؛ جسے آج تیسرا دن تھا سفر کرتے، گالیاں سنتے اور لوگوں کی سنگ باری کو سینے پر جھیلتے ہوئے۔پھر بس کی رفتار دھیمی ہونے لگی۔ کنڈیکٹر نے آنے والے اسٹاپ کا اعلان کرتے ہوئے اترنے والے مسافروں کو آگاہ کیا۔ بس ایک جھٹکے سے ٹھیر گئی۔ شاید کسی مسافر کو یہاں اُترنا ہی نہیں تھا، کوئی اپنی جگہ سے نہیں ہلامگر خدا ترس آدمی کے دیے ہوئے پانچ رُپوں کا پتھر بھی سرک گیا تھا۔ کنڈیکٹر نے اُسے بازو سے پکڑا اور بس سے نیچے لڑھکا دیا۔ سنگ زنی کرنے والے نوجوان کا قہقہہ سنائی دیا، ’’چلو! خس کم جہاں پاک۔‘‘
کسی اور کے سینے پر سے بھی بھاری سِل اُتر گئی، ’’سالا ناسور کہیں کا! اَبھی ’زُوں‘ کی آواز نکالتا ہوا فضا میں اُڑنے لگے گا۔‘‘
وہ اُڑنے کے بجائے اسٹاپ پر کھمبے کی طرح ایستادہ، چاروں طرف خالی الذہنی کے عالم میں دیکھ رہا تھا۔ غالباً دس بیس ہزار نفوس پر مشتمل آبادی کا کوئی قصبہ تھا۔ دو اطراف میں اچھی خاصی دکانیں تھیں جن میں سے بیشتر بند تھیں۔ سامنے ہی پان سگرٹ کے دو کیبن، چائے کا ایک ہوٹل اور پھول بتاشے بیچنے والے کی ایک بڑی سی دکان کھلی تھی۔ اُس دکان پر ایک دو گاہک بھی کھڑے تھے جو گرم کپڑوں اور اونی چادروں میں ملبوس تھے۔
سردی اُس کی رَگ رگ میں اُتر رہی تھی۔ اس کے ٹھٹھرے ہوئے بدن میں بھوک کی بھڑکتی ہوئی آگ سردی سے ماند پڑتی جارہی تھی مگر چائے کا ہوٹل سامنے دیکھ کر ایک بار پھر اُس کے خالی پیٹ میں بھاپ سی اُٹھنے لگی تھی۔ کل رات سے اُس نے کچھ بھی نہیں کھایا تھا۔ گالیوں، دھکوں، جھڑکیوں اور مسلسل کرب کے سوا کچھ بھی نہیں میسر آیا تھا۔ وہ بنا سوچے ہوٹل کی طرف بڑھ گیا۔
’’آؤ راکٹ!‘‘ اندر بیٹھا ہوئے ایک شخص نے اُسے دیکھتے ہی اپنے ساتھی کے پہلو میں کہنی چبھوئی۔
’’لگتا ہے ؛ بے چارہ ’تروڑ‘ میں ہے۔‘‘ دوسرے شخص نے چائے کی لمبی چسکی لیتے ہوئے کہا۔
وہ ان آوازوں سے بے نیاز سیمنٹ کی پختہ بھٹیوں پر رکھے ہوئے دودھ کے پتیلے کو دیکھ رہا تھا جس میں سے بھاپ اُٹھ رہی تھی۔ پھر اس کی نظر دکاندار کے عقب میں نصب شدہ لکڑی کے تختوں والی الماری پر ٹھیر گئی۔ الماری میں شیشے کے مرتبان دھرے ہوئے تھے جن میں کیک، بسکٹ اور خشک میوہ جات بڑے قرینے سے سجائے گئے تھے۔
’’اِسے ہٹا یار، پہلے ہی سردی میں گاہک نظر نہیں آرہا، اوپر سے یہ کم بخت کھڑا ہو گیا ہے آ کر!‘‘ ہوٹل کے مالک نے ملازم سے کہا۔
ملازم نے اپنے آقا کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اُسے برابر میں لگے نلکے کی طرف دھکا دیا۔ اُس کی وفاداری شاید ایسی ہی فرض ادائیگیوں سے مشروط تھی۔
وہ دھکا کھا کر کیچڑ میں منہ کے بل جا گرا۔ عقب میں دکاندار اور ہوٹل میں موجود لوگوں کے ملے جلے قہقہے بلند ہوئے۔
بیگار کیمپ میں بھی ایک دن شاہ نواز نے کسی بات پر اسی طرح اُسے دھکا دیا تھا اور وہ کٹے ہوئے درخت کی طرح اینٹوں کی تھپائی والے گارے میں جا گرا تھا۔ مگر وہ تو بیگار کیمپ تھا جہاں شاہ نواز ڈیڑھ سو اغوا شدہ بچوں کی ننگی پیٹھوں پر اپنی مرضی کے ہنٹر مارا کرتا تھا۔ وہ بیگار کیمپ کو کئی سو میل پیچھے چھوڑ آیا تھا، پھر یہ کیا تھا؟
اُس نے کچھ سوچا، پلٹ کر ہوٹل کے مالک اور تماشائیوں کو دیکھا۔ سبھی شاہ نواز جیسے دکھائی دیے۔سرِمُو کوئی فرق حائل نہیں تھا۔ ہتھیلیوں کے بل پر برفیلے کیچڑ سے اُٹھ کر بلند ہوا اور لڑکھڑا کر سنبھلنے کی کوشش کرنے لگا۔ اُس کا اَنگ اَنگ نقاہت سے چور تھا۔ چار سال کی عمر سے اکیسویں سال تک اُس نے بیگار کیمپ میں گدھوں کی طرح زندگی گزار دی تھی۔ سولہ سولہ گھنٹے مشقت کرنے کے بعد دو روٹیوں اور دال کے کٹورے پر بہلنے والے بدن میں بچتا ہی کیا ہے، نقاہت کے سوا۔
وہ سڑک کے دائیں ہاتھ پر قدرے اندھیرے کی طرف چل دیا۔ سامنے دو کتّے ایک بند ہوٹل کے تنور کے ساتھ پڑی ہوئی ہڈیاں چچوڑ رہے تھے۔ تیسرا تنور کی سیک میں دُبک کر بیٹھا تھا۔ وہ آگے بڑھتا گیا۔ اُسے دیکھ کر دونوں کتے ایک ایک ہڈی منہ میں دبا کر اندھیرے کی طرف دوڑ گئے۔ تین ہڈیاں ابھی باقی پڑی تھیں۔ وہ ہڈیوں کے پاس بیٹھ گیا۔ کتوں کی چچوڑی ہوئی ہڈیوں پر کچھ بھی بچا ہوا نہیں تھا جس سے وہ اپنے پیٹ کی آگ بجھاتا۔ بس اُس کے منہ کا لعاب ذرا نمکین سا ہوگیا۔ تنور پر بیٹھے ہوئے کتے نے اس انداز میں اُسے دیکھا جیسے وہ آدمی نہیں، اُسی کی جاتی کا ہی کوئی جناور ہو۔۔۔
منہ کا ذائقہ بدل جانے سے بھوک کا احساس اور بڑھ گیا۔ اَب وہ باقاعدہ ہوٹل کے تخت کے نیچے ہڈیاں ڈھونڈنے لگا۔ ایک ہیجان اس پر طاری تھا، بھوک کا ہیجان!
پھٹے سے باہر نکلا تو اُس کی جھولی میں کافی ساری ہڈیاں بھری ہوئی تھیں۔ تنور پر بیٹھا ہوا کتا اچک کر اندھیرے میں غائب ہو گیا۔ وہ تنور کی سیک میں آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اور ہڈیوں پر بچے کھچے نمکین ریشے نوچ نوچ کر اپنے پیٹ میں اُتارنے لگا۔ دُھند بڑھتی جارہی تھی۔ رفتہ رفتہ تنور بالکل ٹھنڈا ہو گیا۔ وہ اُٹھ کر پھر سڑک پر آگیا۔ سردی اَب اُس کے حوصلوں کو مات دینے لگی تھی۔ گرتی ہوئی اَوس نے اُس کے کپڑے برف کی طرح سرد کر دیے تھے۔ اس کے ہونٹوں کی نیلاہٹ تیز ہو رہی تھی اور دانت متواتر بج رہے تھے۔ اس نے پلٹ کر دکانوں کی طرف دیکھا۔ مکمل اندھیرا تھا۔ البتہ قصبے کی آبادی کی طرف جانے والے رستے کی نکڑ پر گڑے ہوئے کھمبے سے ایک روشن بلب لٹک رہا تھا۔ بلب کی زرد روشنی اُسے سردیوں کی گرما دینے والی دھوپ جیسی محسوس ہوئی اور وہ کھمبے کی طرف چل دیا۔ چند لمحوں کے بعد وہ کھمبے کے نیچے بغلوں میں ہاتھ دبے کھڑا کپکپا رہا تھا۔ دانت اُسی طرح بج رہے تھے، ہونٹ متواتر نیلے ہوتے جارہے تھے۔
اُس نے اپنے سر سے ذرا اُونچے لٹکے ہوئے بلب کو بے چارگی سے دیکھا اور اپنے وجود کو سکیڑتا دبوچتا آبادی کی طرف ہو لیا۔ کسی کسی گھر کے باہر اُجالا تھا۔ اکثر مکان تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ایسے ہی تاریک ماحول سے موقع پاتے ہی وہ نکل کر اُجلی دنیا کے شوق میں یہاں تک آن پہنچا تھا۔ بھٹے کے جیل نما تہہ خانے کا چوکیدار دروازہ کھول کر چارپائی باہر نکالنے کے لیے اندر گیا اور وہ ستونوں کی اوٹ لیتا ہوا تہہ خانے سے نکل بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔ صبح ہونے تک مسلسل دوڑتا رہا۔ دن نکلے بیگار کیمپ سے میلوں دور تارکول کی ایک چوڑی سڑک پر آنکلا تھا۔ اس سڑک پر ہر قسمی گاڑیاں آجا رہی تھیں۔ چار فرلانگ دور اُسے ایک پٹرول پمپ دکھائی دیا تھا جہاں پہنچ کر وہ ایک ٹھہری ہوئی بس میں پہلی مرتبہ سوار ہوا تھا۔
وہ گم صم گھروں، لب بستہ گلیوں کے بیچ بغلوں میں ہاتھ دیے لڑھکنے کے سے انداز میں چلتا جارہا تھا اور ماضی کا سترہ سال پرانا سفر دل ہی دل میں طے کرتا جاتا تھا۔ سترہ سال پہلے وہ ایسی ہی ایک بس میں اپنے ماں باپ اور چھوٹی بہن کے ساتھ کہیں جارہا تھا۔ بس ایک پٹرول پمپ پر ٹھہری تھی۔ سواریاں ٹینکی سے ٹھنڈا پانی پینے کے لیے اُتری تھیں۔ اُس کا باپ بھی اس کی بہن کے لیے پانی لینے کے خاطر بس سے اُترا تھا۔
وہ بھی اپنے باپ کے پیچھے پیچھے بس سے اُترا اور پھر دوبارہ بس میں سوار نہیں ہو پایا۔ اس کی آنکھ کھلی تو وہ بیگار کیمپ کے اُسی تہہ خانے میں تھا جہاں سے نکل کر آیا تھا۔ ان سترہ برسوں میں اس نے کیا کچھ نہیں دیکھا تھا اور کیا کچھ نہیں سوچا تھا۔ ایک دن سوچتے سوچتے وہ ہیجانی انداز میں چیخ اُٹھا اور شاہ نواز کو گالیاں دینے لگا۔ شاہ نواز کے ایک سانڈ جیسے پلے پلائے ساتھی نے اُسے زناٹے دار تھپڑ مارا تھا اوروہ چکرا کر مٹی کے تودے سے پھسلتا ہوا چالیس فٹ کی گہرائی میں جا گرا تھا۔ پھر جب اُس کی آنکھ کھلی تو اُس کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور وہ کسی دماغی چوٹ کے باعث قوتِ گویائی سے محروم ہو چکا تھا۔ شاہ نواز کے خلاف زبان کھولنے کی یہ سزا ملی تھی اُسے کہ اب وہ شاہ نواز کی گالیاں سن توسکتا تھا مگر جواب نہیں دے سکتا تھا۔ ایک ہفتے بعد اُس کے سرپر بندھی ہوئی پٹی کھل گئی مگر زبان پر لگنے والا قفل کبھی نہ کھل سکا۔ اظہار کے دروازے اُس پر ہمیشہ کے لیے بند ہوگئے اور اُسے شاہ نواز کو گالیاں دینے کی پاداش میں گدھوں کی طرح جوت دیا گیا۔ سال، پھر کئی سال گزر گئے، شاید زندگی ہی گزر گئی تھی۔
وہ بیگار کیمپ سے نکل کر بے منزل تھا۔ وہ تو بس زیادہ سے زیادہ سفر طے کرکے شاہ نواز سے دور ہو رہا تھا۔
اچانک۔۔۔ راستے میں پڑی ہوئی پختہ اینٹ سے اُسے ٹھوکر لگی اور اس کے خیالات کا سلسلہ سردی کی چوٹ میں ٹھٹھر کر جم گیا۔ وہ آبادی میں کافی دور تک نکل آیا تھا۔ قصبے کی زندگی گرم لحافوں میں دبک کر سو رہی تھی اور وہ دور ٹیلے جیسی اونچائی پر بنے ہوئے گنبد کو دیکھتا ہوا گھسٹ رہا تھا۔ سینے میں اُمید کا ایک ننھا سا گرم جھونکا سا اُٹھا اور وہ قدرے تیز روی سے ٹیلے کی طرف بڑھ گیا۔ اب وہ مزار کی سیڑھیوں سے ہٹ کر اندھیرے میں کھڑا کانپ رہا تھا۔ آہستہ آہستہ۔۔۔ سیڑھیاں چڑھ کر دائیں طرف رکھے ہوئے بڑے سے پرانے آہنی صندوق تک آگیا۔ اس صندوق کے اوپری حصے میں سکے اور نوٹ ڈالنے کے لیے جھری نما سوراخ بنے ہوئے تھے۔ اچانک دربار کے دروازے چرچرائے۔ وہ کسی بے عنوان خوف کے تحت لپک کر دروازے کے ساتھ بنے ہوئے ستون کے پیچھے چھپ گیا۔ دروازے کی ناگوار چرچراہٹ تھمی، ایک صحت مند لمبا تڑنگا سبز پوش شخص باہر نکلا اور ہاتھ میں دبے ہوئے گچھے میں سے چابی ٹٹولتا ہوا صندوق کی طرف بڑھا۔
اس نے ستون کی اوٹ میں سے جھانکا اور نظر بچا کر دربار کے اندر داخل ہو گیا۔ دربار کے ماحول میں سیلن زدہ سی ٹھنڈک رچی ہوئی تھی۔ دم توڑتی ہوئی اگر بتیوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ تین فٹ اونچے پختہ چبوترے پر بنی ہوئی قبر کو سبز اور سیاہ رنگ کی بے شمار چادروں نے ڈھانپ رکھا تھا۔ اسے اپنے بدن پر چپکا ہوا باریک لباس برف کی تہہ کی طرح محسوس ہورہا تھا۔ اگلے ہی لمحے اسے اپنے عقب میں قدموں کی آواز سنائی دی۔ شاید وہ سبز پوش آدمی صندوق خالی کر کے واپس لوٹ رہا تھا۔ وہ جلدی سے قبر کے سربالیں گیا اور چھپ بیٹھا۔ دروازہ ایک بار پھر چرچرایا اور بند ہوگیا۔ سبز پوش آدمی قبر کے دائیں طرف والے حجرے میں داخل ہو گیا جہاں روشنی کی بساط پھیلی ہوئی تھی۔ حجرے میں دربار کا مجاور اپنے دو خادموں سمیت صندوق کی رقم گننے کے لیے بے چین بیٹھا ہوا تھا۔ سبز پوش نے دھاری دار رومال کی پوٹلی مجاور کے سامنے کھول کر چھوٹے بڑے سکے اور مڑے تڑے نوٹ ڈھیر کر دیے۔ مجاور کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
قبر کے سرہانے کی اوٹ میں چھپا پناہ گزیں قبر پر پھیلی ہوئی چادروں کو گھوررہا تھا اور کچھ سوچ رہا تھا۔ پھر اُس نے اپنی کیچڑ میں لت پت گیلی قمیص اتار کر ایک طرف پھینکی اور ایک ایک کرکے قبر کی چادریں دیوانگی آمیز مستعدی سے اپنے برہنہ بدن پر لپیٹ لیں۔ ان میں سے ایک چادر کو اُس نے مفلر کی طرح اپنے سر اور گردن پر لپیٹ لیا۔ کچھ دیر اسی عالم میں بیٹھا رہا۔ سردی کا جانکاہ احساس قدرے کم ہو گیا تھا۔ بدن پر لپٹی ہوئی چادروں نے اُس کے بدن کو گرمانا شروع کردیا اور اس پر نقاہت آمیز غنودگی طاری ہونے لگی۔ پھر وہ نیند میں ایک طرف کو لڑھک گیا اور زور زور سے خراٹے لینے لگا۔
روشن حجرے میں بیٹھے ہوئے مجاور اور تینوں افراد نے رات کے سکوت میں خراٹوں کی آواز سنی تو ان کے چہروں پر تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ خدام نے جلدی جلدی پھیلے ہوئے سکوں اور نوٹوں کو رو مال میں باندھا اور خراٹوں کی آواز کی طرف دوڑ پڑے۔
دن نکلے قصبے کی زندگی بیدار ہوئی تو دربار کی سیڑھیوں کے سامنے لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ گئے۔ پہلی سیڑھی پر اکیس بائیس سال کے ایک نوجوان کی لاش پڑی تھی۔ اس کے بدن پر شلوار اورکندھوں پر کیچڑ میں لت پت ایک قمیص رکھی تھی، پیروں میں ربڑ کی ایک چپل تھی۔ رات بھر کی لہو جما دینے والی سردی میں لاش بالکل اکڑ گئی تھی۔ قصبے کی بھری آبادی میں اسے کوئی نہیں پہچانتا تھا۔ دربار کا بڑا اور بھاری دروازہ ایک دم چرچراہٹ کے ساتھ کھلا اور مجاور اپنے خادموں کے ساتھ سیڑھیاں اُتر کر لاش کے قریب آکر کھڑا ہو گیا، ’’پتہ نہیں کون تھا بے چارہ؟ قصبے میں پہلے تو کبھی نہیں دیکھا کسی نے۔۔۔‘‘
ایک خدام نے پُر تأسف لہجے میں کہا، ’’شاید نشئی تھا کوئی، نہیں شاید۔۔۔ سردی سے مر گیا بے چارہ!‘‘
لوگ اپنے اپنے اندازے پیش کرنے لگے۔
’’خاموش ہو جاؤ!‘‘ مجاور کی پاٹ دار آواز گونجی، ’’بے چارے کی مغفرت کے لیے دعا مانگو۔ چاہے کوئی بھی ہو، آخر انسان ہی تھا۔ جلدی جلدی چندہ اکٹھا کرو۔ اس بدنصیب کے کفن دفن کا انتظام کرنا ہے۔ آخر ہم نے بھی ایک نہ ایک دن مرنا ہے۔‘‘
’’ہاں بھئی! موت بر حق ہے۔ اللہ ہر کسی کو کفن اور قبر نصیب کرے۔‘‘
مجاور نے رومال سے اپنی بھیگی ہوئی آنکھوں کے گوشے صاف کیے اور اپنا رومال پھیلا دیا۔ غیر ارادی طور پر لوگوں کے ہاتھ اپنی اپنی جیبوں کی طرف رینگ گئے۔
***

Viewers: 1709
Share