The Article is sent by Syed Anwar Javed Hashmi
اساتذہء قدیم اور غالب کا د ل۔۔۔ حقیقی اور جمالیاتی مفہوم
ڈاکٹر وہاب قیصر ، حیدرآباد بھارت
فاضل مصنف نے اپنے اس مضمون بعنوان غالب کا دل ،حقیقی اور جمالیاتی مفہوم مشمولہ انجمن ترقیء اردو ہند کا ترجمان سہ ماہی نئی کتاب (۱) بابتہ اپریل ۔جون ۲۰۰۷ء میں’ دل اور اس کے مشتقات ‘کے ذیل میں مرزا اسداللہ خاں غالبؔ کے دو سو سے زائد اشعار کی بابت لکھا ہے کہ غالب نے دل کی مختلف حیثیتوں اور اس کی صفات کا تذکرہ نہایت خوبی سے کیا ہے۔راقم نے دورانِ ملازمت کچھ عرصے قبل اردو لغت بورڈ کراچی کے مدیر اعلا جناب ڈاکٹر رؤف پاریکھ(موجودہ استاد شعبہء اردو جامعہ کراچی پاکستان) سے یہ جریدہ مستعار لینے کے بعد اس مضمون کو کئی مرتبہ پڑھا اور ہر مرتبہ نیا لطف حاصل کیا۔ ساتھ ہی نہ صرف میر وغالب کے بلکہ ان تمام کے پیش رو شعراء، شعرائے قدیم متقدمین، متوسطین و متاخرین یعنی قلی قطب شاہ تا ۲۱ویں صدی کے اپنے ہم عصر شعرا ء کے دوادین اور مجموعہ ہائے کلام نیز تذکرہ جات شعرائے اردو و فارسی کا مطالعہ کرتے ہوئے چند معیاری اشعار بھی اپنی ڈائری میں محفوظ کرتا رہاجنہیں بجا طور پر مشتقاتِ دل کے ذیل میں ہی اس مضمون میں شامل کرتے ہوئے جہاں دوگونہ مسرت محسوس ہورہی ہے وہیں اپنے شوق کو مہمیز کرنے پر ڈاکٹر موصوف کا شکر گزاراور سہ ماہی نئی کتاب کے مدیران کا بھی ممنون سپاس ہوں۔بلاشبہ کوئی مضائقہ نہو گا اگریہاں وضاحت کردی جائے کہ اشعارِ غالب اور ان کے ذیل میں گفتگو یعنی اصل مسودے کے لحاظ سے یہ مضمون ڈاکٹر وہاب قیصرؔ ہی کا سمجھا جائے۔ ان کے اصل مضمون کاحوالہ دے دیا گیا ہے تاکہ اصل مآخذ تک بآسانی پہنچا جاسکے۔دیگر شعراء کے اشعار کی تلاش و جستجو،درستگی اور کسی بھی قسم کی غلطی کا ذمہ دار راقم کو قرار دیا جاسکتا ہے.
شروع کرتے ہیں خالقِ کائنات، پروردگارِ عالم کے نام سے جس نے انسان کو قلم سے علم کی تحصیل و حصول سکھلایا.
(سید انور جاویدہاشمی،سابق معاون اردو ڈکشنری بورڈ،وزارتِ تعلیم، حکومت پاکستان، کراچی)
خالقِ کائنات کی مخلوق میں افضل ترین حضرت انسان یا بنی آدم کو مرتبہ حاصل ہے.یہ روح اور جسم پر مشتمل ایک ساختہ ہے جسے کائنات میں اچھے اعمال کرنے اور برے اعمال سے بچنے کی
ترغیب و ہدایت دے کر بھیجا گیا ہے.ڈاکٹر وہاب قیصر نے مضمون کے آغاز میں بیان کیا ہے کہ ’’انسانی جسم کے اندرونی اعضاء میں دل، گردہ، جگر، پتّا ، ایسے اعضائے جسمانی ہیں جن کا استعمال اردو زبان میں بکثرت ہوا ہے۔ان میں دل کو نمایاں اہمیت حاصل ہے کیوں کہ اردو شعر و ادب میں دل کا جس قدر استعمال ہوا ہے شاید ہی کسی دوسرے عضو کا ہوا ہوگا!اس کا استعمال کہیں اسم کے طور پر ہوا ہے تو کہیں صفت کے طور پر۔بطور محاورہ تو اس کا استعمال بیسیوں تراکیب کے ساتھ ہوا ہے۔یہاں یہ سوال ذہن میںآسکتا ہے کہ انسانی جسم میں دل کو کیامقام حاصل ہے؟‘‘ ’’دل ہمارے جسم میں سب سے اہم عضو ہے۔اس کو نمایاں اور اہم ترین کام رگوں (شریانوں) میں خون پہنچانا ہے، گویا دل کو ہم خون پمپ کرنے والی ایک قدرتی مشین کہہ سکتے ہیں۔یہ عمل دل کی دھڑکن سے ظاہر ہوتا ہے۔اگر پمپ کی رفتا رسست ہے تو دل کی دھڑکن بھی سست ہوجاتی ہے اور اگر یہ تیز ہو تو دھڑکن بھی تیز رہے گی۔خون کے ذ ریعے یہ جسمانی ریشوں کو آکسی جن پہنچاتا رہتا ہے جس کے نتیجے میں زندگی کو درکار طاقت فراہم ہوتی ہے یعنی حیات انسانی کا دارومدار اسی پر ہے چناں چہ دل کی دھڑکن جب رک جاتی ہے تو موت واقع ہوجاتی ہے اسے میڈیکل سائنس کی اصطلاح میں ’ہارٹ فیل‘ Heart Failہونا کہا جاتا ہے۔
اُردو زبان میں دل کو قلب سے ظاہر کیا گیا ہے یہ اصل میں عربی سے اخذ کیا گیا ہے اس کی جمع قلوب کہلاتی ہے یعنی بہت سے دل فیِ قلوبِِْ مَرَض‘‘ ان کے دلوں میں بیماری(نافرمانی)ہے القرآن،یہ جگر اور کلیجے کا نعم البدل ہے اورشعر وادب میں کہیں یہ تینوں بیک وقت بھی استعمال کیے جاتے ہیں اوربیشتر جداگانہ حیثیت میں بھی۔کسی شئے کا باطن (یا مرکز) بھی دل کہلاتا ہے۔انسانی حوصلے کو دل سے تعبیر کیا جاتا ہے،ہمت،شجاعت،دلیری،جرأت وغیرہ کے لیے دل کو بطور علامت پیش کیا جاتا ہے جوان و توانا افراد کے لیے جو بھاری بوجھ اٹھاسکتے،لڑائی جھگڑوں میں سبقت لے جاسکتے ہوں ان کے لیے شیر دل کا لقب استعمال کیا جاتا ہے۔دل کا استعارہ کعبہ بھی ہے اسی لیے (نقلِ کُفر، کفر نباشد!) بیساختہکہہ دیا گیا کہ ’’مسجد ڈھادو،مندر ڈھادو پر کسی کا دل نہ توڑو‘‘مسائلِ تصوف سے ہٹ کر بھی،دل آزاری سے منع کرنے کا سبب بھی یہی ہے کہ دل میں (باطنی عقیدہ ) خدا رہتا ہے۔خواہشاتِ نفسانی، رغبت اور ہوس کے معنیٰ میں دل کا استعمال کنایتاً ہوتا ہے۔کہیں اسے تشبیہ دے کرمرکز،وسط یا رُخ، سمت اور توجہ کے لیے بھی لیا جاتا ہے۔مرضی اور خوشی کو دل سے ہی تعبیر کرتے ہیں۔یہ دلیری، سخاوت اور فیاضی کے ہم معنیٰ بھی ہے.
ہم جب بنظرِ غائر شاعری میں دل کے معاملات پر توجہ دیتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ سائنسی تحقیقات ،نفسیاتی عوامل کی کھوج کرنے والے ماہرین کے علاوہ اسے ماہرینِ فلسفہ نے بھی اپنے تمام موضوعات میں شامل رکھا چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ سقراطؔ نے انسانی احساسات اور جذبات کے لیے دل کو ذمے دار ٹھہرایا اور ایک عظیم غلطی کا ارتکاب کربیٹھا،حال آنکہ انسانی جسم میں اعصابی نظام کا تمام تر تعلق دماغ سے ہوتا ہے یہ دماغ ہی ہے جو تمام احساسات اور جذبات کو محسوس کرتا ہے۔یہ اور بات ہے کہ محسوسات کے راست اثرات دل پر رونما ہوتے ہیں جس کے باعث دل کی دھڑکن میں تبدیلی واقع ہوتی ہے ،دراصل دل اور دماغ کی بات بالکل ویسی ہی ہے جیسی کہ بخار کی پیمائش کے لیے تھرمامیٹر!اس آلہ کا حساس حصہ اس کا جوفہ ہوتا ہے جس میں پارہ بھرا رہتا ہے ،حرارت کا پتا وہاں چلتا ہے جہاں پیمانے کے درجوں کے ساتھ پارے کی لکیر بڑھتی اور گھٹتی رہتی ہے۔گویا کہ پارے سے بھرا جوفہ دماغ ہے جو حساس تو ہے لیکن اپنی حسیت کو ظاہر نہیں کرتا جب کہ دل کی دھڑکن کی طرح پارے کی لکیر میں اتار چڑھاؤ ظاہر ہوکر کم یا زائد ٹمپریچر کا احساس دلاتا ہے۔
’’دل کو جب احساس کا مرکز مان لیا گیا تو دوسری زبانوں کی طرح
اردو زبان اور شعر وادب میں اس کو جمالیاتی اظہار کا ذریعہ بنایا گیا۔نت نئی علاماتیں، تراکیب اور محاورے وجود میں آئے۔سو آج تقریباً تین صدیوں سے اردو شاعری دل کے تذکروں سے بھری پُری نظر آتی ہے یعنی وہ قلی قطب شاہ کے معاصرین ہوں ،میرؔ و سودؔ ا وغالبؔ کے معاصرین ہوں یا اکیسویں صدی کے معروف و غیر معروف شاعر سبھی دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر ’ہائے دل، وائے دل‘ لکھتے چلے آرہے ہیں۔یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اردو و فارسی کا شاید ہی کوئی ایسا شاعر رہا ہو جس نے دل اور اس کے مشتقات اپنی شاعری میں نہ برتے ہوں!خود مرزا غالب کی اردو غزلوں کا جب ہم جائزہ لیتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ ان میں ۲۳۴ دوسوچو نتیس اشعارایسے ہیں جن میں دل کو نہ صرف مختلف حیثیتوں میں پیش کیا گیا ہے بلکہ اس کی صفات اور تراکیب کا تذکرہ بھی کثرت سے ملتا ہے جیسے دل آنا،دل باندھنا،دل توڑنا،دل ٹوٹنا،دل جلنا،دلِ آوارہ،دل افسردہ،دلبر،دل دار،دلِ بے قرار،دلِ بے مدعا،دلِ پروانہ،دل پذیر،دل چشم،دلِ حق شناس،دلدار،دلِ زار،دل سوز، دلِ شوریدہ،دلِ گداختہ،دلِ گم گشتہ،دلِ ناداں، دلِ نازک ،دلِ ناکام، دلِ وابستہ،دلِ وحشی،سنگ دل،سادہ دل، لرزتا دل،کافر دل وغیرہ اور جذبات ،احساسات و کیفیات کے لیے دل کا استعمال مختلف تراکیب مثلاً آتشِ دل،آئین�ۂ دل،احوالِ دل،اعتمادِ دل، پارۂ دلِ ،تپشِ دل،تدبیرِ دل،تنگ�ئدل ،جمالِ دل،جذبِ دل،جذبہ ٗ دل،جراحتِ دل، چاکِ دل،حالِ د ل ،خراشِ دل،خند�ۂ دل، خونِ دل،داغِ دل۔دردِ دل،سوزَ دل،سوزشِ دل،سوئے دل،شکستِ دل،عقد�ۂ دل،فریادِ دل،قیمتِ دل ،کوریِ دل،نالہ ٗ دل،نشاطِ دل،نگاہِ دل وغیرہ قابلِ ذکر ہیں‘‘.
میرؔ سے پہلے کے،معاصرین اور غالبؔ کے پیروکار شعراء نے دل پر مشتمل جن محاوروں کو اپنی غزلوں میں برتا ان میں دل باندھنا(دل کو مائل کرلینایا دل بن جانا)،دل جلنا(رنج ہونا یا حسرت)، دل دینا(فریفتہ ہونا یا عاشق ہونا)،دل کھولنا(بے دھڑک،خاطر خواہ یا بلا تامل)،دل گم گشتہ (دل کھوبیٹھنا)،دل گنوانا(دل ضائع کرنا یاہوجانا) ،دل لگانا،دل لگنا،دل لگی(عاشق ہونا،محبت ہونا،متوجہ ہونا) ،دل لینا (مائل کرنا،عاشق بنالینا یا منشا دریافت کرنا)دلِ وابستہ (عاشق ،فریفتہ،مطیع )وغیرہ آسانی سے دیکھے جاسکتے ہیں۔مضمون کے تتمہّ پرڈاکٹر وہاب قیصر نے لکھا کہ : اس طرح غالب کے کلام میں(نیز اضافہ شدہ دیگر شعرائے قدیم و جدید کی شاعری میں بھی) دل نے جمالیاتی شعور کو بیدر کیا اور عشق کے حسین پیکر تراشے۔شعری تقاضوں کو پورا کرکے خیال میں ندرت، احساس میں شدت، جذبات میں اثر انگیزی اور اظہار میں دل کشی پیدا کی۔ دل نے جہاں ایہام سے اشعار میں لطف پیدا کیا تو ابہام نے شعری لطافت میں اضافہ کیا۔تشبیہات نے شاعرانہ خیال بندی کی تو کنایوں نے شعریت کی تکمیل کی۔دل نے کہیں سوزوگداز پیدا کیا تو کہیں زخم و داغ دکھانے کی تمنا کی۔ہول و وحشت سے جہاں دل افسردہ رہا وہیں حسرت و بے قراری سے پریشان، سوزش و آتش نے دل کو بے چین کیا تو نالہ و فریاد نے اس پر اثر چھوڑا۔دیدہء دل نے حیران کیا تو نگاہِ دل نے زیر کیا،عقدہٗ دل نے پیچاں کیا تو تدبیرِ دل نے کام کیا۔الغرض غالب (اور دیگر شعراء نے بھی) دل کو حیات و زیست کی علامت بنا کر اس کے وجود کو دوام بخشا ہے۔ہر چند کہ فوقیت یہاں غالب کو ہی دی جارہی ہے کہ اس کی تعلّی اور دعوے بیجا نہیں گنجینۂ معنی کا طلسم اُس کو سمجھیے
جو لفظ کہ غالبؔ مرے اشعار میں آوے
قارئین، ہم نے اپنے اس مضمون کی تبدیل شدہ صورت میںیہاں پرمحاورات اور تراکیب کو بلحاظِ حروف تہجی مرتب و یک جا کردیا ہے(ہاشمی) پہلے چند اضافہ شدہ متفرقات ملاحظہ فرمائیے:
ع بات میں دل کو کھینچ لیتے ہو
ع شارحِ حال دل سمجھ مجھ کو
ع دل ہے شوقِ گناہ سے لبریز
ع کیا کروں دل نے کردیا بے بس (میر مہدی مجروح)
صفات ومحاوراتِ ِِ دل
دل آفت
اک عشق کا غم آفت اور اُس پہ یہ دل آفت
یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا
چراغ حسن حسرتؔ
دل آنا
غضب ہوا کہ بتِ سنگدل پہ دل آیا
خدا بچائے کہ شیشہ گرا ہے پتھر پر
(خواجہ وزیر)
دل اٹکانا
دل کہیں اور ہم نے اٹکایا
بے وفاؤں سے بے وفائی کی
خواجہ وزیرؔ
دل اُجڑنا
کبھی بستا تھا اک عالم یہاں بھی
یہ دل جو اب کہ اجڑا سا نگر ہے
میر حسنؔ
دل کا اُجڑنا سہل سہی، بسنا سہل نہیں ظالم
بستی بسنا کھیلنا نہیں ہے بستے بستے بستی ہے
شوکت علی فانی بدایونی
ہم تو فقط اسیر تھے اک چھیڑ چھاڑ کے
کیا پایا تو نے دل کی یہ بستی اجاڑ کے
سیدانورجاویدہاشمیؔ
دل اُداس ہونا
وہ خود پرست بھی ہے زندگی شناس بھی ہے
اسے خبر ہے مرا دل بہت اداس بھی ہے
محسن اسرار
دلِ امیدوار
جور و جفا بھی غیر پہ اے یار دل شکن
کچھ بھی خیال ہے دلِ اُمیدوار کا
شاہ مبارک آبرو
دلِ آوارہ
لیتا نہیں میرے دلِ آوارہ کی خبر
اب تک وہ جانتا ہے کہ میرے ہی پاس ہے
غالبؔ
دلِ بادہ کشاں
چشمِ تر جام ، دلِ بادہ کشاں ہے شیشہ
محتسب آج کدھر جام کہاں ہے شیشہ!
محمد بقاء اللہ بقاؔ
دل باندھنا
جب بہ تقریبِ سفر یار نے محمل باندھا
تپشِ شوق نے ہر ذرّے پہ اک دِل باندھا
غالب
دلِ بدخواہ
کئی دن ہوگئے ہیں روتے روتے
دلِ بدخواہ میں کچھ بھی نہیں ہے
خلش مظفر
دل بر ؛ دلبری
برہا زہر پئی ہوں، مرنا ہوا ہے نیڑے
بارہا پیا ہے نزدیک
دلبر طبیب آپی امرت اَدَھر نہ بھیجا
حسن شوقیؔ
عجب کچھ لطف رہتا ہے شبِ خلوت میں دلبر سوں
سوال آہستہ آہستہ ، جواب آہستہ آہستہ
ولیؔ دکنی
بے تابیء دل آج میں دلبر سے کہوں گا
ذرّے کی تپش مہرِ منّور سے کہوں گا
شاہ مبارک آبرو
نکوُہش ہے سزا فریادی بیداد دلبر کی
مُبادا خندہء دنداں نما ہو صبح محشر کی
غالبؔ
میں سارا شہر دیکھ آیا ہوں صابرؔ
کوئی اُس جیسا دل بر دیکھنے کو
صابر وسیم
دلبری
آج کی دلبری بھی کاری تھی
جیو پر بے دلاں کے بھاری تھی
قاضی محمود بحریؔ
مول لو ہم کو دلبری سیں میاں
مُفت بکتے ہیں یار لکھ لیجئے
شاہ قاسمؔ اورنگ آبادی
دل کی غفلت کہ آگہی دیکھی
ہاشمیؔ تم نے دل بری دیکھی!
سیدانورجاویدہاشمیؔ
دلِ بے قرار تسکین دے رہا ہوں دلِ بے قرار کو
کل آئے گا وہ، آج نہ آیا تو کیا ہوا
شیخ امداد علی بحرؔ
کون سنتا ہے اس سے جا کہیے
اس دلِ بے قرار کی فریاد
میرزاجواں بخت جہاندار شاہ
دل جو یوں بے قرار اپنا ہے
اس میں کیا اختیار اپنا ہے
سید محمد اثرؔ
کچھ ٹھہرتی نہیں کہ کیسی ہو
اس دلِ بے قرار کی صورت
شاہ مبارک آبروؔ
تنہا گزار شام دلِ بے قرار آج
تجھ کو نہ مل سکے گا کوئی غم گسار آج
سیدانورجاویدہاشمیؔ
دل بھر آنا
دل بھر آیا کاغذِ خالی کی صورت دیکھ کر
جن کو لکھنا تھا وہ سب باتیں زبانی ہوگئیں
احمدمشتاقؔ
اک دل کہ بھرا آئے نہ سمجھے ہوئے غم سے
اِک شعر کہ پیرایہء اظہار کو چاہے
سیدمصطفی زیدی
دل پذیر
اپنے پہ کررہا ہوں قیاس اہلِ دہر کا
سمجھا ہوں دل پذیر، متاعِ ہنر کو میں
غالب
دل پروانہ
باوجودِ یک جہاں ہنگامہ پیدائی نہیں
ہیں چراغانِ شبستانِ دلِ پروانہ ہم
غالبؔ
دلِ پُر خوں
دلِ پُرخوں کی اک شتابی سے
ہونٹ اس کے ہوئے گلابی سے
میرتقی میرؔ
آئے ہیں ہم جہاں میں غم لے کر
دلِ پُرخون و چشمِ نم لے کر
حسرتؔ عظیم آبادی
بے وفائی کی یہ مشترکہ نئی آسائش
دلِ پُرخوں میں بھی اورنگِ حنا میں بھی نہ تھی
سیدمصطفی زیدی
دل پہ گزرنا
جو دل پہ گزری سو گُزری مگر شبِ ہجراں
تمھارے اشک مری عاقبت سنوار چلے
فیض احمد فیضؔ
سینے میں نہیں رکھتے اشعار شعورؔ اپنے
دل پہ گزرتی ہے یاروں کو سناتے ہیں
انورشعورؔ
دل تھامنا
تھام لوں دل کو ذرا ہاتھوں سے
ابھی پہلو سے نہ اٹھ جائیے گا
خواجہ وزیرؔ
دل تنگ ہونا
کب ہوئے دل تنگ ہم زنداں میں بھی رہ کر فرازؔ
ہاں مگر جب آگئی ہے یادِ یارانِ بہار
احمدفرازؔ
دل توڑنا۔۔۔ٹوٹنا
آنکھیں لہو بہائیں جو ساغر سے مئے گرے
شیشہ جو گر پڑے تو مرا ٹوٹ جائے دل
خواجہ وزیرؔ
تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ، ایسے تو حالات نہیں
ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں
قتیل شفائی
اپنا دل جب ٹوٹا محسنؔ تب یہ بات سمجھ میں آئی
اچھا خاصا انساں آخر کیوں دیوانہ ہوتا ہے
محسن اسرار
شکوہ بجا نہیں ہے ترا اُن سے ہاشمیؔ
دل توڑنا حسینوں کا شیوہ سدا رہا
سیدانورجاوید ہاشمی ؔ
دل جلانا…دل جلنا
کس کس کی میں خبر لوں آتش سے غم کی یارب
ایدھر تو دل جلے ہے، اودھر جگر پھکے ہے
میرحسنؔ
دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا
آتشِ خاموش کے مانند گویا جل گیا
غالب
جلا ہے جسم جہاں ، دل بھی جل گیا ہوگا
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
اسداللہ خاں غالبؔ
جلتا ہے دل تو کیوں نہ ہم اک بار جل گئے
اے ناتمامیء نفسِ شعلہ بار حیف!
غالب
اے نوا سازِ تماشا اک سربکف جلتا ہوں میں!
ال طرف جلتا ہے دل اور اک طرف جلتا ہوں میں
غالبؔ
یہ بھی تجھے گوارا نہیں اے ہوا کہ ہم
دل ہی ذرا جلائیں اندھیرے مکان میں
لیاقت علی عاصمؔ
دل جمعی
غنچہ تاشگفتن ہا، برگِ عافیت معلوم!
باوجودِ دل جمعی خوابِ گل پریشاں ہے
غالب
دل چرُانا
تج چک کے ہت پلک سو ہر اک ہے گرہ کشا
آنکھ ہاتھ تو پھب کیا ہے دیکھتے فن دل چُرانے کا
ملک الشعراء نصرتی
دلِ چشم
مت مردُمکِ دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں
ہیں جمع سویدائے دلِ چشم میں آہیں
غالبؔ
دلِ خانہ خراب
ایسے جفا شعار سے اظہارِ آرزو
دیکھو تو حوصلے دلِ خانہ خراب کے
اصغرعلی خاں نسیم دہلوی
مجھ کو یقیں اب آپ کی باتوں کا آچکا
تسکین ہوچکی دلِ خانہ خراب کی
نظام شاہ نظام رامپوری
دل خریدار
درم ہاتھ میں ہے نہ دینار ہے
عبث حُسن کا دل خریدار ہے
حسین علی تاٗسفؔ
مول بکتی نہیں کہیں صورت
دل خریدار شمع کا ٹھہرا
سیدانورجاویدہاشمیؔ
دلدار،دل داری اے ساکنانِ کوچہء دلدار دیکھنا
تم کو کہیں جو غالبِِؔ آشفتہ سر ملے
غالبؔ
پھر چاہتا ہوں نامہء دل دار کھولنا
جاں نذرِ دل فریبیء عنواں کیے ہوئے
غالبؔ
دوستو فُرصتِ دلداریِ دُنیا تھی کہاں
اپنے شعروں کے تو ممدوح تھے موزوں بدناں
ابنِ انشاء
دل دُکھانا۔۔۔دکھنا
سب جینے کا مزا ملا محبت کرکے
صد شکر فراقؔ دل کو دُکھانا آیا
رگھوپتی سہائے فراقؔ گورکھپوری
اے یادِ دوست آج تو جی بھر کے دل دُکھا
شاید یہ رات ہجر کی آئے نہ پھر کبھی
ناصرؔ کاظمی
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
احمد فراز
دل دھڑکنا
تیرے ہم نام کو جب کوئی پکارے ہے کہیں
دل دھڑک جائے ہے میرا کہ کہیں تو ہی نہ ہو
میرحسن
دل دینا
میں جس کو دل دیا سو وہ دشمن ہوا مرا
شہ قاسمؔ اب سمجھ یہ زمانہ بھلا نہیں
شاہ قاسم اورنگ آبادی
کسی کو دے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو
نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو
غالبؔ
دیا ہے دل اگر اس کو بشر ہے، کیا کہیے
ہُوا رقیب تو ہو، نامہ بر ہے، کیا کہیے
غالبؔ
دل جو دینے کا سلسلہ ٹھہرا
درمیاں اپنے آئینہ ٹھہرا
سیدانورجاویدہاشمیؔ
دلِ دیوانہ
دلِ دیوانہ میں کچھ آتا ہے
آپ پر کچھ نہ جی میں لائیے گا
سیدمحمداثرؔ
دلِ دیوانہ نے سنائی ہمیں
کون سنتا ہے یاں صدائے اشک
سیدانورجاویدہاشمیؔ
دلِ راحت طلب
چلا ہے او دلِ راحت طلب کیا شادماں ہوکر
زمینِ کوئے جاناں رنج دے گی آسماں ہوکر
خواجہ وزیر ؔ
دل رُبا
آج اس رہ سے دلربا گزرا
جی پہ کیا جانیے کہ کیا گزرا
میر سوزؔ
دل رکھنا
کوئی تو ٹوٹے ہوئے حوصلوں کا دل رکھے
کوئی تو بگڑی ہوئی بات کی گواہی دے
منظورؔ ہاشمی
دلِ زار ہنگامہ گرم آہِ شرر بار نے کیا
رسوائے خاص و عام دلِِ زار نے کیا
سید محمد خاں رندؔ
اثرِ آہِ دل زار کی افواہیں ہیں
یعنی مجھ پر کرمِ یار کی افواہیں ہیں
شیفتہ
دل سوختہ
نہ کہیو مرا سوزِ دل شمع سے
وہ دل سوختہ صبح تک روئے گی
میر عبدالحئی تاباں دہلوی
دل شکستہ
اور دیتے ہیں پرائے دلِ نازک کو شکست
دل شکستوں کے خریدار کہاں ہوتے ہیں
شاہ قاسم اورنگ آبادی
خشک آنکھیں، دل شکستہ، روح تنہا، لب خموش
بستیوں میں دیکھتے ہیں صورتِ ویرانہ ہم
شاہد عزیزروشؔ صدیقی
دلِ شوریدہ
ہے دلِ شوریدہء غالب طلسمِ پیچ و تاب
رحم کر اپنی تمنا پر کہ کس مشکل میں ہے
غالبؔ
دلِ غمیں
دلِ غمیں سے بھی جلتے ہیں شادمانِ حیات
اسی چراغ کی اب شہر میں ہَوا سی ہے
ناصرؔ کاظمی
دل فریب
دنیا نے تیری یاد سے بے گانہ کردیا
تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے
فیض احمد فیضؔ
دل کا پھول کھلنا
یہ سوچ کے اٹھنا ہر دن تم، اس دل کا پھول کھلے گا ضرور
اس آس پہ سونا اب کی شب، کوئی خوب نرالا آئے گا
صابر وسیم
دل کا تقاضا
درد کا کہنا چیخ اٹھّو اور دل کا تقاضا وضع نبھاؤ
سب کچھ سہنا، چُپ چُپ رہنا کام ہے عزت داروں کا
ابنِ انشاء
دل کھولنا
نہ بندھے تشنگیء ذوق کے مضموں غالبؔ
گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
غالبؔ
دل کی گرہ
اے باغِ حیا دل کی گرہ کھول ، سخن بول
تنگی ہے مرے حال پہ اے غنچہ دہن بول
سراجؔ اورنگ آبادی
دل کے داغ دکھانا
سب کو دل کے داغ دکھائے ایک تجھی کو دکھا نہ سکے
تیرا دامن دُور نہیں تھا ہاتھ ہمیں پھیلا نہ سکے
ابنِ انشاء
دلِ گداختہ
حُسِن فروغِ شمعِ سخن دور ہے اسدؔ
پہلے دلِ گداختہ پیدا کرے کوئی
مرزااسداللہ خاں غالب
دلِ گم گشتہ
پھر ترے کوچے کو جاتا ہے خیال
دلَ گم گشتہ ، مگر، یاد آیا
غالبؔ
دل گنوانا
ال مت گنوا ، خبر نہ سہی ، سیر ہی سہی
اے بے دماغ آئینہ تمثال دار ہے
غالبؔ
دل گھبرانا
باغ میں لگتا نہیں صحرا سے گھبراتا ہے دل
اب کہاں لے جا کے بیٹھیں ایسے دیوانے کو ہم
سید ولی محمد نظیر اکبرآبادی
دل لرزنا
ابتدا میں ہر مصیبت پر لرز جاتا تھا دل
اب کوئی غم امتحانِ عشق کے قابل نہیں
سکندرعلی وجد
دل لگانا
ایک دلدار بھی نہیں پایا
ہم ہزاروں سیں دل لگا بیٹھے
قاسمؔ اور نگ آبادی
دل لگاکر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا
بارے اپنی بے کسی کی ہم نے پائی داد یاں
غالبؔ
نہیں سنتا اسے اب دل لگاکر کوئی رغبت سے
مزا محفل میں تیری لٹ گیا میری کہانی کا
نسیم دہلوی
ہم دل تو لگالیتے دنیا میں کہیں لیکن
جب آپ نہیں ملتے دنیا بھی نہیں ملتی
انورشعورؔ
دل لگنا
بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنا سے دل لگے
پر کی کریں جو کا نہ بے دل لگی چلے
شیخ محمد ابراہیم ذوق ؔ
نہیں اک لمحہ بے؛ تابی سے فرصت
الٰہی دل لگا تھا کس گھڑی کا
عبدالحئی تاباں دہلوی
جنت میں عاشقوں کا بھلا کیا لگے گا دل
نقشہ ملا نہ اس کا اگر تیرے گھر کے ساتھ
میاں داد خاں سیاحؔ
دل لگایا تو ناصحوں کو کیا
بات جو اپنے جی میں آئی کی
نواب مصطفی خاں شیفتہؔ دل لگی
ہمارے شعر ہیں اب صرف دل لگی کے اسدؔ
کھلا کہ فائدہ عرضِ ہنر میں خاک نہیں
اسد اللہ خاں غالب
دل لگی کی آرزو بے چین رکھتی ہے ہمیں
ورنہ یا بے رونقی، سُودِ چراغِ کشتہ ہے
غالبؔ
چھوڑی اسد نہ ہم نے گدائی میں دل لگی
سائل ہوئے تو عاشقِ اہلِ کرم ہوئے
غالبؔ
دل لینا
رہزنی ہے کہ دلستانی ہے
لے کے دل راہزن روانہ ہوا
غالبؔ
دل آپ کا، کہ دل میں ہے جو کچھ، سو آپ کا
دل لیجیے، مگر مرے ارماں نکال کر
غالبؔ
دلِ مجروح
جراح چھو نہ اب دلِ مجروح کو مرے
اب آنکھ لگ گئی مجھے آرام ہوچکا
حضورؔ عظیم آبادی
دلِ ناداں
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
غالبؔ
دلِ ناداں کو سمجھائیں کہاں تک
ہماری جان کے پیچھے پڑا ہے
میاں داد خاں سیاحؔ
دلِ نازک
اور دیتے ہیں پرائے دلِ نازک کو شکست
دل شکستوں کے خریدار کہاں ہوتے ہیں
شاہ قاسم اورنگ آبادی
دلِ نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔ
نہ کر سرگرم اُس کافر کو الفت آزمانے میں
میرزااسداللہ خاں غالب ؔ
دلِ ناشاد
مل سکتے نہیں تجھ سے تصور ہی سے تیرے
تسکیں دلِ ناشاد کو دے شاد کریں ہم
جہاندار شاہ
دل نشیں
درد میرا کسو کے کہنے سے
تیرے ہو دل نشیں خدا نہ کرے
ظہورالدین حاتمؔ
دلِ ناصبور
ہر حال میں شکستہ دلِ ناصبور تھا
شیشہ بھی تھا تو سنگِ حوادث سے چُور تھا
شیخ محمد جان شادؔ لکھنوی
دلِ ناکام
غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے
یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام، بہت ہے
ظہورالدین حاتمؔ
تراکیب ِ لفظی
دلِ شادماں
نہ گیا کوئی عدم کو دلِ شاداں لے کر
یاں سے کیا کیا نہ گئے حسرت و ارماں لے کر
شیخ غلام ہمدانی مصحفیؔ
دلِ صد چاک
ہر سلسلہء گردشِ افلاک سے ملنا
اک روز، ہمارے دلِ صد چاک سے ملنا
منظورؔ ہاشمی
دل کھول کے رونا
جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے
لوگ آرام سے سوئے ہوں گے
احمدفرازؔ
دل کھولنا
نہ بندھے تشنگیء ذوق کے مضموں غالبؔ
گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
غالبؔ
دل کے داغ دکھانا
سب کو دل کے داغ دکھائے ایک تجھی کو دکھا نہ سکے
تیرا دامن دُور نہیں تھا ہاتھ ہمیں پھیلا نہ سکے
ابنِ انشاء
دلِ گداختہ
حُسِن فروغِ شمعِ سخن دور ہے اسدؔ
پہلے دلِ گداختہ پیدا کرے کوئی
مرزااسداللہ خاں غالب
دلِ گم گشتہ
پھر ترے کوچے کو جاتا ہے خیال
دلَ گم گشتہ ، مگر، یاد آیا
غالبؔ
دل گنوانا
دل مت گنوا ، خبر نہ سہی ، سیر ہی سہی
اے بے دماغ آئینہ تمثال دار ہے
غالبؔ
دل لگانا ….دل لگنا
ایک دلدار بھی نہیں پایا
ہم ہزاروں سیں دل لگا بیٹھے
شاہ قاسم اورنگ آبادی
دنیا میں دل کسی سے لگانا بھلا نہیں
اس دوستی کے بیچ میں آنا بھلا نہیں
قاسمؔ اور نگ آبادی
دل لگاکر لگا گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا
بارے اپنی بے کسی کی ہم نے پائی داد یاں
غالبؔ
نہیں سنتا اسے اب دل لگاکر کوئی رغبت سے
مزا محفل میں تیری لٹ گیا میری کہانی کا
نسیم دہلوی نہیں اک لمحہ بے؛ تابی سے فرصت
الٰہی دل لگا تھا کس گھڑی کا
عبدالحئی تاباں دہلوی
جنت میں عاشقوں کا بھلا کیا لگے گا دل
نقشہ ملا نہ اس کا اگر تیرے گھر کے ساتھ
میاں داد خاں سیاحؔ
دل لگایا تو ناصحوں کو کیا
بات جو اپنے جی میں آئی کی
نواب مصطفی خاں شیفتہؔ
دل لگایا تھا دل لگا ہی نہیں
عشق بارِ دگر ہوا ہی نہیں
لیاقت علی عاصمؔ
دل لگی
ہمارے شعر ہیں اب صرف دل لگی کے اسدؔ
کھلا کہ فائدہ عرضِ ہنر میں خاک نہیں
اسد اللہ خاں غالب
دل لگی کی آرزو بے چین رکھتی ہے ہمیں
ورنہ یا بے رونقی، سُودِ چراغِ کشتہ ہے
غالبؔ
چھوڑی اسد نہ ہم نے گدائی میں دل لگی
سائل ہوئے تو عاشقِ اہلِ کرم ہوئے
غالبؔ
دل لینا
رہزنی ہے کہ دلستانی ہے
لے کے دل راہزن روانہ ہوا
غالبؔ
دل آپ کا، کہ دل میں ہے جو کچھ، سو آپ کا
دل لیجیے، مگر مرے ارماں نکال کر
غالبؔ
دلِ مرحوم
تڑپوں گا عمر بھر دلِ مرحوم کے لیے
مصحفی
دلِ مجروح
جراح چھو نہ اب دلِ مجروح کو مرے
اب آنکھ لگ گئی مجھے آرام ہوچکا
حضورؔ عظیم آبادی
دلِ مہجور
دلِ مہجور کو قرار کہاں
طاقت و تابِ انتظار کہاں
میرعبدالحئی تاباں دہلوی
دلِ ناداں
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
غالبؔ
تب چاکِ گریباں کا مزہ ہے دلِ ناداں!
جب اک نفس الجھا ہوا ہر تار میں آوے
مرزاغالبؔ
دلِ ناداں کو سمجھائیں کہاں تک
ہماری جان کے پیچھے پڑا ہے
میاں داد خاں سیاحؔ
دلِ نازک
اور دیتے ہیں پرائے دلِ نازک کو شکست
دل شکستوں کے خریدار کہاں ملتے ہیں
شاہ قاسم اورنگ آبادی
دلِ نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔ
نہ کر سرگرم اُس کافر کو الفت آزمانے میں
میرزااسداللہ خاں غالب ؔ
دلِ ناشاد
مل سکتے نہیں تجھ سے تصور ہی سے تیرے
تسکیں دلِ ناشاد کو دے شاد کریں ہم
جہاندار شاہ
دل نشیں
درد میرا کسو کے کہنے سے
تیرے ہو دل نشیں خدا نہ کرے
ظہورالدین حاتمؔ
دلِ ناصبور
ہر حال میں شکستہ دلِ ناصبور تھا
شیشہ بھی تھا تو سنگِ حوادث سے چُور تھا
شیخ محمد جان شادؔ لکھنوی
دلِ ناکام
غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے
یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام، بہت ہے
ہو
ظہورالدین حاتمؔ
دلِ وابستہ
پڑا رہ اے دلِ وابستہ ، بیتابی سے کیا حاصل
مگر پھر تابِ زلف پُرشکن کی آزمایش ہے
غالبؔ
دلِ وحشی
میں اور اک آفت کا ٹکڑا، وہ دلِ وحشی کہ ہے
عافیت کا دشمن اور آوارگی کا آشنا
غالبؔ
دلِ ہنگامہ طلب
سخت مضطر دلِ ہنگامہ طلب ہے یارب
آج ہی کیوں نہ وہ ہوجائے جو فردا ہوگا
میرمہدی حسین مجروحؔ
دل کی تراکیب
سو نامِ خدا اب ہم دیکھتے ہیں کہ صرف اور محض غالبؔ نے ہی نہیں(جیسا کہ اس مضمون کا عنوان اور پیش کش ہے) دیگر شعرائے قدیم و جدید نے کیسے کیسے معاملاتِ دل کو دیکھا،سمجھا،برتا اور پیش کیا ہے ع
آبل�ۂ دل
آبل�ۂ دل کوئی شیشہ نہیں اے رونقِ محفل ٹوٹا
آہ کی ٹھیس لگی آبل�ۂ دل ٹوٹا
اصغر علی نسیم دہلوی
آتشِ دل
وحشتِ آتشِ دل سے شبِ تنہائی میں
صورتِ دود رہا سایہ گریزاں مجھ سے
غالبؔ
آبل�ۂ دل
آبل�ۂ دل کوئی شیشہ نہیں اے رونقِ محفل ٹوٹا
آہ کی ٹھیس لگی آبل�ۂ دل ٹوٹا
اصغر علی نسیم دہلوی
احوالِ دل
کبھی احوالِ دل پوچھے جو ہم سے یار کیا کہیے
زباں کو جب نہ ہووے طاقتِ گفتار کیا کہیے
حسرتؔ عظیم ٓبادی
کوئی اس سے کیا کہے احوالِ دل
وہ کسی کی بات سنتا ہی نہیں
جوششؔ عظیم آبادی
سیکڑوں باتیں اُس کی سنتے ہیں
اپنے احوالِ دل سنانے میں
حسین علی تاسفؔ
تو ہے بے درد تجھ سے کیا کہیے
دل کا احوال کس سے جا کہیے
جعفر علی حسرتؔ
پوچھا تھا گرچہ یار نے احوالِ دل مگر
کس کو دماغِ منِتِ گفت و شنود تھا
غالبؔ
میں تو فقط کرتا تھا بیاں احوالِ دل
قصّہء درد سُنا جس نے، نم ناک ہُوا
سیدانورجاویدہاشمیؔ
اعتمادِ دل
دوستدارِ دشمن ہے اعتمادِ دل معلوم
آہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا
غالبؔ
افسردگیء دل
شعلہ سے نہ ہوتی ، ہوسِ شعلہ نے جو کی
جی کس قدر افسردگیء دل پہ جلا ہے!
غالبؔ
اہلِ دل
زیارت اہلِ دل کی طوفِ بیت اللہ ہے حاتمؔ
ہم اپنے پیر ومرشد سے یہی ارشاد رکھتے ہیں
ظہورالدین حاتمؔ
بے قراریء دل
یادِ ایّام بے قراریء دل
وہ بھی یارب عجب زمانہ تھا
غالبؔ
بیمارئ دل
اُلٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیمارئ دل نے آخر کام تمام کیا
میرتقی میرؔ
پارۂ دل
عشرتِ پارۂ دل ، زخمِ تمنا کھانا
لذتِ ریشِ جگر، غرقِ نمک داں ہونا
اسداللہ خاں غالبؔ
آتاہے ایک پارۂ دل ہر فغاں کے ساتھ
تارِ نفس کمندِ شکارِ اثر ہے آج
غالبؔ
تپشِ دل
وہ آکے خواب میں تسکینِ اضطراب تو دے
ولے مجھے تپشِ دل مجالِ خواب تو دے
غالبؔ
تدبیرِ دل
مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میں
شایانِ دست و بازوئے قاتل نہیں رہا
غالبؔ
تنگی ء دل
تنگیء دل کا گلہ کیا یہ وہ کافر دل ہے
کہ اگر تنگ نہ ہوتا تو پریشاں ہوتا
زخم نے داد نہ دی تنگیِ دل کی یارب
تیر بھی سینۂ بسمل سے پُر افشاں نکلا
غالبؔ
جذبِ دل غلط ہے جذبِ دل کا شکوہ، دیکھو جرم کس کا ہے
نہ کھینچو ،گر تم اپنے کو کشاکش درمیاں کیوں ہو!
غالبؔ
جذبۂ دل
میں بلاتا تو ہوں اُس کو مگر اے جذبۂ دل
اس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بنِ آئے نہ بنے
خدایا جذبۂ دل کی مگر تاثیر اُلٹی ہے
کہ جتنا کھینچتا ہوں اور کھنچتا جائے ہے مجھ سے
غالبؔ
اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آجائے
منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آجائے
بہزاؔ دلکھنوی
جراحتِ دل
نہ پوچھ نسخۂ مرہم جراحتِ دل کا
کہ اس میں ریزہء الماس جزو اعظم ہے
مرزااسداللہ خاں غالبؔ
پھر پرسشِ جراحتِ دل کو چلا ہے عشق
سامانِ صد ہزار نمکداں کیے ہوئے
غالب
جمالِ دل
جب وہ جمالِ دل فروز صورتِ مہرِ نیم روز
آپ ہی ہو نظارہ سوز، پردے میں منہ چھپائے کیوں!
غالبؔ
چاکِ دل
ترا حال تو ہے بُرا بھلا، ولے کیا علاج کریں ترا
یہ سمجھ اے حسرتِ خستہ جاں کہیں چاک دل کا رفو نہیں
حسرتؔ عظیم آبادی
بچھڑے ہوئے احباب جو مل جاتے ہیں
چاکِ دلِ افسردہ بھی سل جاتے ہیں
عرش ؔ ملسیانی
چاکِ دل کی خیر یارب رشتۂ سوزن گیا
اب خزاں کا راج ہے دلبر گیا ساون گیا
سیدانورجاویدہاشمیؔ
حاصلِ دل بستگی
بہ نالہ حاصلِ دل بستگی فراہم کر
متاعِ خانہء زنجیر، جُز صدا معلوم!
غالبؔ
حالِ دل
پوچھ مت حالِ دل مرا مجھ سے
مضطرب ہوں مجھے حواس نہیں
سید محمد اثرؔ
شارحِ حالِ دل سمجھ مجھ کو
درد ہی درد ہوگیا ہوں میں
سید مہدی مجروحؔ
کس سے امید اپنے خبر لینے کی رکھوں
تو ہی جو حالِ دل سے مرے بے خبر رہا
سید محمد اثرؔ
سنتا نہیں کسو ہی کی وہ یار دیکھنا
کیجو نہ اس سے حالِ دل اظہار دیکھنا
جہاندار شاہ
حالِ دل صبح شام کیا کہیے
ایک قصہ مدام کیا کہیے
قائمؔ چاند پوری
حالِ دل نہیں معلوم ،لیکن اس قدر، یعنی
ہم نے بارہا ڈھونڈا ، تم نے بارہا پایا
(غالب)
کیا حالِ دل اس شوخ ستمگر سے کہا جائے
جو جنبشِ لب دیکھتے ہی بات کو پاجائے
میر مہدی مجروحؔ
حالِ دل ہم بھی سناتے ناصرؔ
جب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا
ناصرؔ کاظمی
نپٹ یہ حالِ دل کچھ رسمسا ہے
یہ کس کی زلف کے خم میں پھنسا ہے
حسرتؔ عظیم آبادی
ہاشمیؔ ہر کوئی شاکی ہی یہاں دیکھا گیا
’حالِ دل کس کو سنائیں کوئی سنتا ہی نہیں‘
سیدانورجاویدہاشمیؔ
حالتِ دل
کیا کہوں حالتِ دل اپنی میں اس سے جس نے
اپنا آ نا نہ رکھا میرا بلانا چھوڑا
حیدر بخش حیدریؔ
حسرتِ دل
بہ قدرِ حسرتِ دل ، چاہئے ذوقِ معاصی بھی
بھروں یک گوشۂ دامن، گر آبِ ہفت دریا ہو
نہ کہہ کہ گریہ بہ مقدارِ حسرتِ دل ہے
مری نگاہ میں ہے جمع و خرچ دریا کا
عُذرِ واماندگی، اے حسرتِ دل!
نالہ کرتا تھا، جگر یاد آیا
غالبؔ
عرصہء ہجر پُر سکوں گزرا
دل میں حسرت رہی کہ ہوتا کچھ
محسن ؔ اسرار
خاکِ دل
کون سا نغمہ کھِلا کون سا پژمُردہ ہوا
خاکِ دل جانتی ہے، شاخِ گلو کیا جانے
لیاقت علی عاصمؔ
خانہء دل
آ تش تو دی تھی خانہء دل کے تئیں میں آپ
پر کیا خبر تھی یہ کہ بجھایا نہ جائے گا
قائمؔ چاندپوری
شکست و ریخت ہر گھر کی جہاں میں ہوتی ہے یارب
ہمارے خانہء دل کی نہ کی تعمیر کیا باعث!
میر سوز
شور برپا ہے خانہء دل میں
کوئی دیوار سی گری ہے ابھی
ناصرکاظمی
خندۂ دل
وہ گل جس گلستاں میں جلوہ فرمائی کرے غالبؔ
چٹکنا غنچۂ گل کا صدائے خندۂ دل ہے
میرزااسداللہ خاں غالبؔ
خواہشِ دل
ہم وہ ہیں کشتہء تمنا شادؔ
خواہشِ دل کو عمر بھر مارا
شیخ محمد جان شاد لکھنوی
خونِ دل
خونِ دل میں تمھیں معاف کیا
نئیں گر اعتبار لکھ لیجے
قاسم اورنگ آبادی
کیا کروں بیماریِ غم کی فراغت کا بیاں
جو کہ کھایا خونِ دل بے منّتِ کیموس تھا
غالبؔ
کتنوں کو جگر کا زخم سیتے دیکھا
دیکھا جسے، خونِ دل ہی پیتے دیکھا
شوکت علی فانی بدایونی
داغِ دل
دکھاؤں گا تماشا دی اگر فرصت زمانے نے
مرا ہر داغِ دل اک تخم ہے سروِ چراغاں کا
داغِ دل گر نظر نہیں آتا
بو بھی اے چارہ گر نہیں آتی
شبنم بہ گلِ لالہ نہ خالی زِ ادا ہے
داغِ دلِ بے درد ، نظر گاہِ حیا ہے
غالبؔ
داغِ دل ہم کو یاد آنے لگے
لوگ اپنے دیے جلانے لگے
حفیظ ہوشیارپوری
دردِ دل
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّو بیاں
الطاف حسین حالیؔ
انجان ہو تو اس سے کوئی دردِ دل کہے
جو جانتا ہے اس کو میں آگاہ کیا کروں
میرعبدالحئی تاباںؔ دہلوی
دردِ دل کیا کہوں کسی سے کہ یار
درد کی بات کم سمجھتے ہیں
شیخ ظہور الدین حاتم
دردِ دل کی جو کہی میں نے کہانی جانی
تونے ہر بات مری سن کے دوانی جانی
حسین علی تأسفؔ
تیری جفا و جور کے ہاتھوں سے بے وفا
فرصت کسے کہ دردِ دل اپنا رقم کروں
دل عظیم آبادی
دل جلنا/دل جلے
آتشِ دل نہیں بجھنے کی بجھانے سے کبھو
دل جلوں کو نہ کبھی گرمِ فغاں کیجیے گا
حافظ عبدالرحمان خاں احسانؔ
دیدۂ دل
جلوے کا تیرے وہ عالم ہے کہ گر کیجئ خیال
دیدۂ دل کو زیارت گاہِ حیرانی کرے
غالبؔ
رونقِ دل
اجڑ کر رہ گئی ہے رونقِ دل
اُتر کر روپ سارا رہ گیا ہے
لیاقت علی عاصمؔ
زکوٰۃِ دل
زکوٰۃِ دل کبھی دیتا غرورِ کج کلہی
نکاتِ ذہن کبھی عاجزانہ بھی سنتے
سیدمصطفی زیدی
سادہ دل
میں سادہ دلِ آزردگئ یار سے خوش ہوں
یعنی، سبقِ شوق مکرر نہ ہوا تھا
غالبؔ
سادہ دلی
ہماری سادہ دلی دیکھیے کہ ڈھونڈتے ہیں
ہم اپنے دیس کی باتیں پرائے شہروں میں
احمدفرازؔ
یہ مری سادہ دلی ہے کہ مرا حسنِ یقیں
ناامیدی میں بھی، اک آس بندھی رہتی ہے
منظورؔ ہاشمی
سنگ دل
غضب ہوا کہ بتِ سنگدل پہ دل آیا
خدا بچائے کہ شیشہ گرا ہے پتھر پر
خواجہ وزیرؔ
سوزِ دل
نہ کہیو مرا سوزِ دل شمع سے
وہ دل سوختہ صبح تک روئے گی
میرعبدالحئی تاباں دہلوی
شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابرِ آب تھا
شعلہٗ ضوّالہ ہر اک حلقہء گرداب تھا
غالبؔ
سوزشِ دل
لکھتا ہوں اسدؔ سوزشِ دل سے سخنِ گرم
تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پہ انگشت
غالبؔ
سوئے دل
حلقے ہیں چشم ہائے کشادہ بہ سوئے دل
ہر تارِ زلف کو نگہہِ سرما سا کہوں
مرزاغالبؔ
شکستِ دل
مدعا محوِ تماشاے شکستِ دل ہے
آئینہ خانے میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے
مرزااسداللہ خاں غالبؔ
شیشہء دل
کیوں نہ ہو شیشۂ دل چوُر مرے پہلو میں
میں نے ایّامِ جنوں کھائے ہیں تھوڑے پتھر
غلام ہمدانی مصحفی
عقدہء دل
رونے سے اے ندیم ملامت نہ کر مجھے
آخر کبھی تو عقدہء دل وا کرے کوئی
غالبؔ
غبارِ دل
مستوں کا غبارِدل کچھ مے نے نہیں چھوڑا
زاہد گزر اب تو بھی اس کینے سے کیا ہوگا
انعام اللہ خاں یقین ؔ
فریادِ دل
وفائے دلبراں ہے اتفاقی ، ورنہ اے ہمدم
اثر فریاِ دل ہائے حزیں کا کس نے دیکھا ہے
غالبؔ
فسانہء دل
مثلِ زلفِ بتاں فسانہء دل
ہت طویل اختصار کیا کیجئے
جہاندارشاہ
قصرِ دل
ٹوٹا جو کعبہ کون سی یہ جائے غم ہے شیخ
کچھ قصرِدل نہیں کہ بنایا نہ جائے گا
شیخ ظہورالدین حاتم کے نام سے ’غزل نما‘ میں دیا گیا جبکہ یہ مرزامحمد رفیع سودا کا شعر ہے
قیمتِ دل
سن اے غارت گرِ جنسِ وفا، سن
شکستِ قیمتِ دل کی صدا کیا
غالبؔ
کوریء دل
تری طرف ہے، بہ حسرت، نظارہء نرگس
بہ کوریِ دل و چشمِ رقیب ساغر کھینچ
غالبؔ
لرزتا دل
لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہر درخشاں پر
میں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خارِ بیاباں پر
غالبؔ
مجبوریء دل
بعض اوقات بہ مجبوریء دل
ہم تو کیا آپ بھی روئے ہوں گے
احمدفرازؔ
مُردہ دل
زندگی زندہ دلی کا نام ہے
مرُدہ دل خاک جیا کرتے ہیں
شیخ امام بخش ناسخؔ
نشاطِ دل
باغِ شگفتہ تیرا بساطِ نشاطِ دل
ابرِ بہار خمکدہ کس کے دماغ کا!
مرزاغالبؔ
نگاہِ دل
خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے
نگاہ دل سے تری سرما سا نکلتی ہے
اسداللہ خاں غالبؔ
وابستۂ دل
دل ہے وابستہ تیرے دامن سے
دست میرا رسا نہیں تو نہ ہو
شیخ ظہورالدین حاتمؔ
ویرانہء دل
الہٰی کر آباد ویرانہء دل
یہ اُجڑا نگر ہے بسانے کے قابل
شیخ محمد جان شاد لکھنوی
ویرانہء دل کو مرے کیا جانیے کس روز
وہ خراب آن کے آباد کرے گا
میرزاجواں بخت جہاندار شاہ
ہائے دل
آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
میں ہائے گل پکاروں، تو چلائے ہائے دل
سیدمحمدخاں رندؔ
ہوائے دل
اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل
زنہار اگر تمہیں ہوس ناؤ و نوش ہے
غالبؔ
ہولِ دل
واں اُس کو ہولِ دل ہے تو یاں میں ہوں شرمسار
یعنی یہ میری آہ کی تاثیر سے نہ ہو
سید محمد اثر
قارئین! انتہائی عرق ریزی اور دقتِ نظر سے اشعار کی ترتیب اور تلاش و تحقیق و کمپوزنگ کے بعد یہ مضمون آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے راقم فخر و مسرت کا اظہار کرتا ہے یقیناًیہ مطالعہ بہت سے لوگوں کی دل چسپی، دل بستگی کا سامان بہم پہنچائے گا،انشاء اللہ سیدانورجاویدہاشمی،کراچی،پاکستان
تمت بالخیر



on
on

Nawazish,Karam,Shukriya,Mehrbaani Nasir Malik Saheb/Urdu Sukhan
Syed Anwer Jawaid Hashmi,Karachi