Maryam | Yeh Bachian kaha jaen | یہ بچیاں کہاں جائیں۔۔۔از: مریم

یہ بچیاں کہاں جائیں

Maryam. France E-mail: shahbanomir@yahoo.fr

A Pakistani Girl in Oversease in hopes


آپی آپ بتاؤ ناں کیا کروں ؟

آپ نے ماما کو بتایا ماما کو کہا تھا۔ ماما کہتیں ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے ہم اپنی ذات اور خاندان سے باہر رشتے نہیں کرتے ؟

ہممم

آپ کو یہ سب پتہ تھا پھر؟ ایسا کیوں کیا؟

آپی میں 23 سال کی ہو گئی ہوں ـ میری ہر فرینڈ کے پاس بوائے فرینڈ ہے۔ مجھے کہیں کوئی سیکیورٹی نہیں ہے ـ بوائے فرینڈ کا میں سوچ بھی نہیں سکتی ـ اور یہاں بغیر میل کے آپ محفوظ نہیں ہیں ـ

اوہ، آج سمجھ آئی کہ یہاں یورپ میں مختلف قومیتوں کی وجہ سے تہذیب کا کلچر کا وہ حال ھو گیا کہ سب ہی پریشان ہیں ٌانکا کلچر کیا سے کیا ہو گیاـ

صرف اس جرم کی پاداش میں کہ انکے پیٹ بھرے ہوئے تھے اور حکمراں سمجھدار تھے وہ عوام کو بہترین سہولتیں دے رھے تھے ـ

میں اور مجھ جیسے کئی ہزاروں انکے اس خوبصورت معاشرے میں زبردستی آگئے ـ صرف اپنے ملک کے غربت اور مفلسی کی وجہ سے ہم نے اپنے بہن بھائیوں کو تو سپورٹ کر دیاـ

بھائیوں نے پردیس کاٹا اور ماؤں کے فرائض کی بجا آوری بھی کر دی ـ

سب نے ہی نہ صرف بہن بھائیوں کو پڑھا لکھا دیا بلکہ گھروں کو بھی پاکستان کے معاشرے میں نمایاں مقام عطا کر دیا ـ

پیچھا تو ہم نے سنوار لیا لیکن یہ جو میری گود میں سر رکھے رو رہی ہے، یہ آنسووں کی زبان میں پوچھ رہی ہےکہ میرا کیا قصور ہے؟

میں یہاں پیدا ہوئی یہاں پلی بڑھی۔ جب جب نرسری میں تھی پلے گروپ میں تھی تب تب مجھے میری عمر سے بڑی باتیں سمجھائی جاتی تھیں۔ لڑکوں سے بات نہیں کرتے۔ یہ لوگ اچھے نہیں ہیں۔ ہم بہت اچھے ہیں کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔

یہ باتیں بہت چھوٹی عمر سے ہر ایشین اور خاص طور پے پاکستانی ماں اپنی بیٹی کے کانوں میں انڈیلتی ہے۔

اسکا نتیجہ کہ یہ باتیں اس عمر میں آ کے اپنا وزن ہی ختم کر کے بے وزن ہو جاتی ہیں کہ جس عمر میں ان کو سمجھنے کی شدید ضرورت ہوتی ہے ـ

پاکستانی ماں ۔۔ قابلِ احترام اور سادہ ۔

ہماری زندگی اتنی محدود ہے کہ آپ نوٹ کریں کہ کہیں بھی خواتین بیٹھی ہوں تو انکی باتوں کا مرکز صرف اور صرف زیورات کپڑے اور فیشن یا ایک دوسرے کی برائی، سب کچھ ختم ہو جائے تو سسرالیوں کی شامت۔ ان سے ہٹ کے آج بھی انہیں شعور دِلانے کی کوشش کی ہی نہیں گئی ـ

ایسی سادہ خواتین جب یورپ میں رہائش پذیر ہوتی ہیں ـ بیٹیوں کی ماں بنتی ہیں تو اپنی سادگی کم علمی کی وجہ سے وہ یہاں کے جدید اور برق رفتار اندازِ زندگی کو سمجھ نہیں سکتیں ـ وہ صرف یہی دیکھ کر خوش ہوتی ہیں کہ انکا گاؤں میں پرائمری سکول تھا جہاں کی بلڈنگ خستہ حال تھی اور وہ ٹاٹ پر بیٹھ کر تختی لکھتیں تھیں ـ

لیکن آج جس سکول میں وہ بیٹی کو چھوڑنے جا تی ہیں ـ وہ پیرس جیسے جدید شہر میں جدید بلڈنگ اور جدید طرزِ تعمیر کا نمونہ ہے ـ وہاں بیحد خوبصورت گوری میمیں بڑے پیار سے بچوں کو پھولوں کی طرح سنبھالتی ہیں اور پڑھاتی ہیں ـ

اپنےمولا بخش ابھی بھی یاد آتے تو ھاتھوں سے ٹیسیں اٹھتی سی محسوس ہوتیں۔ وہ اپنی سوچ میں مگن بچی کو ان کولوں میں اہتمام سے چھوڑنے جاتی ہیں ـ

لیکن ۔۔۔۔۔کاش ۔۔۔۔ کاش وہ جدید عمارتوں کے اندر جدید اندازِ زندگی کو بھی پلتے بڑہتے دیکھیں اور ساتھ ساتھ اپنے اپنے گھروں کا قدیم نظام ۔ مشکل انکے لئے نہیں ۔وہ تو پاکستانی ذ ہن کی مضبوط عمارت ہیں جنہیں کوئی بھی بدل نہیں سکتا۔

مسئلہ ہے بہت بڑا ہےـ اس بچی کیلیۓ جو صبح آٹھ بجے سے شام 5 بجے تک سکول میں رہتی ہے اور سارا دن وہاں بے باکی اور آزادی کے وہ لمحات گزارتی ہے جہاں کوئی روک ٹوک نہیں ـ

جہاں اسکی پسند کی نظمیں ہیں، ڈانس ہے سوئمنگ ہے، سپورٹس ھے، آزاد زندگی کی تعلیم ہے ـ سارا دن وہ ایک خوبصورت اور آزاد دنیا میں رہ کر جب واپس پلٹتی ہے تو وہی سادہ سی ماں ہے وہی اسکے لیکچر ہیں اور وہی گھر کا پابند ماحول ہے ـ وہ خود بخود اس معاملے میں ماہر ہو جاتی ہے کہ ماں کے سامنے کسی کلاس فیلو

لڑکے کا نام نہیں لینا۔ ماما کو اچھا نہیں لگتا۔ کوئی ڈانس کی بات نہیں کرنی۔ سوئمنگ گئے یہ نہیں بتانا۔ یہی وہ سوچ وہ ڈر ھے جو آپکی بچی کے اندراگر آگیا تو آپ کے لئے تباہی ہے بربادی ہےـ

اکثر گھرانے پاکستان میں اتنے مذھبی نہیں ہوتے لیکن یہاں کی آزادی تنہائی اور اپنوں کی جدائی گھر کی خاموشی انہیں کب کیسے اللہ کے قریب کر گئی وہ نہیں جانتے تھےـ یہاں ہر پاکستانی خواہ وہ نماز پڑھے یا نہ پڑھے لیکن خدا خوفی اور انسانیت میں اس سے کئی گنا خود بخود ہی بڑھ جاتا ھے جو جو پردیس آگیا ـ

یہ تمام لوگ وہ سب کرنے سے اپنی اولاد کو بچاناٴ چاہتے ہیں جو وہ باہر سنتے ہیں اور سمجھتے ہیں ۔گھروں میں نماز قرآن کا اہتمام پہلے سے زیادہ کر دیا جاتا ھے جوان بچوں کیلیۓ پریشانی کا باعث بن جاتا ہےـ

عام پاکستانی چھوٹے فلیٹوں میں رہتے ہیں جہاں چھوٹے کمرے دم گھٹتا ہوا ماحول۔ ایسے میں بچے شکر کا کلمہ پڑھتے ہیں جیسے ہی سکول کا وقت ہوتا ھےـ

یہاں کیا جادو ھے سکول میں سب حیراں ھیں کہ بچے بیمار بھی ہوں تو سکول کی جانب بھاگتے ہیں ـ گھر واپسی پے سخت سردی ان کو اتنا تھکا دیتی ہے کہ کھانا کھا کے سونے کی تیاری ہو جاتی ہے ۔

اکثر گھروں کی یہ پریشانی ہے کہ گھر کا مالک رات کو اتنا تھکا ہارا آتا ھے کہ چھوٹا گھر اور بچوں کا شور اسکو ناگوار گزرتا ہے اسی لیۓ ماں کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ اسکے آنے سے پہلے بچوں کو سُلا دے ـ

پاکستانی گھروں کی روٹین کا انیس بیس کا فرق ہو گا مگر ایسے کچھ حالات ہیں کہ پیچھے کی پریشانیاں انہیں یہاں کے رشتوں سے بیزار رکھتی ہیں ـ کوئی اور تو ہوتا نہیں۔ بیوی بچے وہی عتاب کا نشانہ بنتے ہیں ـ

لڑکوں کو پاکستان کی طرح یہاں بھی ہم آزاد چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ

وہ کچھ بھی کریں انکے لئے روک ٹوک کوئی نہی ۔ مسئلہ یہاں بھی بیٹی کا ہےـ ایک ٹاؤن میں ساتھ ساتھ رہتے ہوئے ایک ہی سکول ایک ہی کالج کی وجہ سے چھوٹی چھوٹی بات افسانہ یہاں بھی اسی طرح بنایا جاتا ھے جیسے پاکستان میں محلے میں رہنے والی بناتی ہیں ـ بچیاں جب عربنوں کے ساتھ افریقنوں کے ساتھ اور سری لنکن کے ساتھ پھریں گی، انکے آزاد ماحول میں بوائے فرینڈ مسئلہ نہیں ہے۔

تعلیمی ادارے جوں جوں بچے کی عمر بڑہتی ہے ان اداروں کا فاصلہ بھی دانستہ بڑھا دیا جاتا ہے تاکہ وہ انکے نظام میں جذب ھو جائے اور گھر کم سے کم وقت گذارےـ کیونکہ بہت دور دور دفاتر ہیں ۔ سسٹم ایسا بنا دیا گیا کہ باپ بھی عاجز بھائی بھی بے فکر اور اکیلی جاتے ہوئے کمزور ہونے کا احساس ہر لڑکی کو ایک بوائے فرینڈ کی ضرورت کو پورا کرنے کیلۓ مجبور کرتا ھےـ

وہی فرینڈ ہوتا ھے جو اسکے لئے ٹائم نکالتا ھےـ اسے دوسروں سے محفوظ رکھتا ھےـ

ہماری بچیاں جب یہ سب کچھ دیکھتی ہیں تو بے بسی سے خاموش ہو جاتی ہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ اسلام اسکی اجازت نہیں دیتاـ

ایک بے بسی چہروں سے ظاہر ہوتی ہے جب وہ کالی سیاہ لڑکیوں کو کسی لڑکےساتھ فخر سے چلتے دیکھتی ہیں ۔ وہ نظام سے باہر نظر آنے کی وجہ سے لڑکیوں کا بھی اور لڑکوں کا بھی نشانہ بنتی ہیں ـ

لیکن یہ مسائل گھربیٹھی ماں نہی سمجھ سکتی اسے بس باہر کی عمارت نظر آتی ہے، اندر کی پریشانی نہیں ۔

یہ جو میری گود میں سر چھپائے رو رہی ہےـ یہ بھی ان ہزاروں پاکستانی لڑکیوں میں سے ایک ہے جس کے والدین گاؤں سے ہیں ۔

پیسہ خوب کما لیا، جائیداد پاکستان یہاں خو ب بنا لی ـ اگر کچھ نہیں بنا سکے تو وہ ہے دوستی رشتے اعتماد اور بچوں کیلیۓ۔ پر یہ کام وہ اس لئے نہیں کر سکےکہ یہاں بیٹی دینا وہ بے غیرتی سمجھتے ہیں

اور پیچھے کوئی لینے کو تیار نہیں ۔ اگر کوئی کہتا ھے تو وہ بھی صرف پیپرز کی خاطر۔

یہ ہے یہاں کی بیٹی کا مقام ۔ یہ بیٹی جو آج بکھر کے رو رہی ہےـ

آپ سب سے سوال کرتی ہے کہ اسکو یہاں اجازت نہیں دی جا رہی شادی کرنے کی۔ ماں باپ سختی سے منع کر چکے ـ پیچھے کوئی رشتہ دیتا نہیں ۔ جن کے لئے پردیس کاٹا وہ سب بہن بھائی انہی کے باپ کی کمائی سے بیاھے گئے آج وہ سب آپس میں لے دے کے بیٹے بیٹیاں رشتے دار بن گئے مگر ان کے بچے یورپین ہیں، بولڈ ہیں، غلط ہیں۔ بغیر دیکھے بھالے یہ لیبل انکے ماتھے پہ چسپاں کیوں کۓ گئے ؟ والدین کب یہ جھوٹی غیرت کا ڈرامہ ختم کر کے یورپ کے مسائل اور بچوں کےمسائل سمجھیں گے؟

امیگریشن کی پریشانیوں سے بچنے کیلئے اب بہترین حل یہی ہے کہ آپس میں پاکستانی فیملیز اپنے بچوں کے رشتے کریں۔ ایک خاتون کی ایک بات مجھے بہت دن ہنساتی رہی ـ فلاں کی طرف رشتہ اس لئے نہیں کیاکیونکہ وہ ہمارے ساتھ ہی فرانس آئی تھیں اور انکی یہ بیک گراونڈہےـ یہ سب کر کے وہ آج کروڑ پتی ہوئےـ حیرت یہ ہوئی کہ پاکستان جہاں کسی معروف صنعتکار کے گھر بیٹی کا رشتہ کر رہی تھیں کیا وہ صنعتکار اتنا بڑا نام بغیر کسی گھپلے کے بنا گیا ؟ وقت کی ضرورت اور اہمیت کو ہم پہلے کبھی نہیں سمجھتے سب ایک دوسرے کو ذاتوں برادریوں میں منقسم کر کےان بچوں کی زندگیوں کو بر باد کر رھے ہیں ـ

یہ آج رو رہی ہے۔ یہ اپنے حقوق جانتی ہے، انکو استعمال کرنا بھی جانتی ہے اگر اسکوماں باپ نے جائز راستہ نہ دیا تو کیا ہوگا ؟ یہ وہ نہیں سمجھ رھے، اسکی ڈیمانڈ صرف اتنی ہے کہ وہ ایک پاکستانی سے شادی کرنا چاہتی ہےـ مگر گھر والوں نے غیرت کا مسئلہ بنا دیا ہے یہ غیرت اس وقت کیا کرے گی جب وہ گھر ہی چھوڑ دے گی ؟

ہماری جہالت ہماری ماحول سے ناواقفیت کتنی اور بیٹیوں کو رُلا رہی ہے کبھی سوچا ہے ؟ یہ نسل اس نسل کی بیٹیوں کا کیا قصور ہے؟ وطن کیوں چھوڑا ؟ اسلام اور مذھب کا اتنا سخت استعمال خود اپنی جوانی میں نہیں کیا مگر اب ان پر ٹھونس دیا جاتا ھےجو ایک آزاد اور جدید معاشرے کا حصہ ہیں کیا یہ انصاف ہے؟

Viewers: 555
Share