|
یہ بچیاں کہاں جائیں |
Maryam. France E-mail: shahbanomir@yahoo.fr
آپی آپ بتاؤ ناں کیا کروں ؟
آپ نے ماما کو بتایا ماما کو کہا تھا۔ ماما کہتیں ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے ہم اپنی ذات اور خاندان سے باہر رشتے نہیں کرتے ؟
ہممم
آپ کو یہ سب پتہ تھا پھر؟ ایسا کیوں کیا؟
آپی میں 23 سال کی ہو گئی ہوں ـ میری ہر فرینڈ کے پاس بوائے فرینڈ ہے۔ مجھے کہیں کوئی سیکیورٹی نہیں ہے ـ بوائے فرینڈ کا میں سوچ بھی نہیں سکتی ـ اور یہاں بغیر میل کے آپ محفوظ نہیں ہیں ـ
اوہ، آج سمجھ آئی کہ یہاں یورپ میں مختلف قومیتوں کی وجہ سے تہذیب کا کلچر کا وہ حال ھو گیا کہ سب ہی پریشان ہیں ٌانکا کلچر کیا سے کیا ہو گیاـ
صرف اس جرم کی پاداش میں کہ انکے پیٹ بھرے ہوئے تھے اور حکمراں سمجھدار تھے وہ عوام کو بہترین سہولتیں دے رھے تھے ـ
میں اور مجھ جیسے کئی ہزاروں انکے اس خوبصورت معاشرے میں زبردستی آگئے ـ صرف اپنے ملک کے غربت اور مفلسی کی وجہ سے ہم نے اپنے بہن بھائیوں کو تو سپورٹ کر دیاـ
بھائیوں نے پردیس کاٹا اور ماؤں کے فرائض کی بجا آوری بھی کر دی ـ
سب نے ہی نہ صرف بہن بھائیوں کو پڑھا لکھا دیا بلکہ گھروں کو بھی پاکستان کے معاشرے میں نمایاں مقام عطا کر دیا ـ
پیچھا تو ہم نے سنوار لیا لیکن یہ جو میری گود میں سر رکھے رو رہی ہے، یہ آنسووں کی زبان میں پوچھ رہی ہےکہ میرا کیا قصور ہے؟
میں یہاں پیدا ہوئی یہاں پلی بڑھی۔ جب جب نرسری میں تھی پلے گروپ میں تھی تب تب مجھے میری عمر سے بڑی باتیں سمجھائی جاتی تھیں۔ لڑکوں سے بات نہیں کرتے۔ یہ لوگ اچھے نہیں ہیں۔ ہم بہت اچھے ہیں کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔
یہ باتیں بہت چھوٹی عمر سے ہر ایشین اور خاص طور پے پاکستانی ماں اپنی بیٹی کے کانوں میں انڈیلتی ہے۔
اسکا نتیجہ کہ یہ باتیں اس عمر میں آ کے اپنا وزن ہی ختم کر کے بے وزن ہو جاتی ہیں کہ جس عمر میں ان کو سمجھنے کی شدید ضرورت ہوتی ہے ـ
پاکستانی ماں ۔۔ قابلِ احترام اور سادہ ۔
ہماری زندگی اتنی محدود ہے کہ آپ نوٹ کریں کہ کہیں بھی خواتین بیٹھی ہوں تو انکی باتوں کا مرکز صرف اور صرف زیورات کپڑے اور فیشن یا ایک دوسرے کی برائی، سب کچھ ختم ہو جائے تو سسرالیوں کی شامت۔ ان سے ہٹ کے آج بھی انہیں شعور دِلانے کی کوشش کی ہی نہیں گئی ـ
ایسی سادہ خواتین جب یورپ میں رہائش پذیر ہوتی ہیں ـ بیٹیوں کی ماں بنتی ہیں تو اپنی سادگی کم علمی کی وجہ سے وہ یہاں کے جدید اور برق رفتار اندازِ زندگی کو سمجھ نہیں سکتیں ـ وہ صرف یہی دیکھ کر خوش ہوتی ہیں کہ انکا گاؤں میں پرائمری سکول تھا جہاں کی بلڈنگ خستہ حال تھی اور وہ ٹاٹ پر بیٹھ کر تختی لکھتیں تھیں ـ
لیکن آج جس سکول میں وہ بیٹی کو چھوڑنے جا تی ہیں ـ وہ پیرس جیسے جدید شہر میں جدید بلڈنگ اور جدید طرزِ تعمیر کا نمونہ ہے ـ وہاں بیحد خوبصورت گوری میمیں بڑے پیار سے بچوں کو پھولوں کی طرح سنبھالتی ہیں اور پڑھاتی ہیں ـ
اپنےمولا بخش ابھی بھی یاد آتے تو ھاتھوں سے ٹیسیں اٹھتی سی محسوس ہوتیں۔ وہ اپنی سوچ میں مگن بچی کو ان کولوں میں اہتمام سے چھوڑنے جاتی ہیں ـ
لیکن ۔۔۔۔۔کاش ۔۔۔۔ کاش وہ جدید عمارتوں کے اندر جدید اندازِ زندگی کو بھی پلتے بڑہتے دیکھیں اور ساتھ ساتھ اپنے اپنے گھروں کا قدیم نظام ۔ مشکل انکے لئے نہیں ۔وہ تو پاکستانی ذ ہن کی مضبوط عمارت ہیں جنہیں کوئی بھی بدل نہیں سکتا۔
مسئلہ ہے بہت بڑا ہےـ اس بچی کیلیۓ جو صبح آٹھ بجے سے شام 5 بجے تک سکول میں رہتی ہے اور سارا دن وہاں بے باکی اور آزادی کے وہ لمحات گزارتی ہے جہاں کوئی روک ٹوک نہیں ـ
جہاں اسکی پسند کی نظمیں ہیں، ڈانس ہے سوئمنگ ہے، سپورٹس ھے، آزاد زندگی کی تعلیم ہے ـ سارا دن وہ ایک خوبصورت اور آزاد دنیا میں رہ کر جب واپس پلٹتی ہے تو وہی سادہ سی ماں ہے وہی اسکے لیکچر ہیں اور وہی گھر کا پابند ماحول ہے ـ وہ خود بخود اس معاملے میں ماہر ہو جاتی ہے کہ ماں کے سامنے کسی کلاس فیلو
لڑکے کا نام نہیں لینا۔ ماما کو اچھا نہیں لگتا۔ کوئی ڈانس کی بات نہیں کرنی۔ سوئمنگ گئے یہ نہیں بتانا۔ یہی وہ سوچ وہ ڈر ھے جو آپکی بچی کے اندراگر آگیا تو آپ کے لئے تباہی ہے بربادی ہےـ
اکثر گھرانے پاکستان میں اتنے مذھبی نہیں ہوتے لیکن یہاں کی آزادی تنہائی اور اپنوں کی جدائی گھر کی خاموشی انہیں کب کیسے اللہ کے قریب کر گئی وہ نہیں جانتے تھےـ یہاں ہر پاکستانی خواہ وہ نماز پڑھے یا نہ پڑھے لیکن خدا خوفی اور انسانیت میں اس سے کئی گنا خود بخود ہی بڑھ جاتا ھے جو جو پردیس آگیا ـ
یہ تمام لوگ وہ سب کرنے سے اپنی اولاد کو بچاناٴ چاہتے ہیں جو وہ باہر سنتے ہیں اور سمجھتے ہیں ۔گھروں میں نماز قرآن کا اہتمام پہلے سے زیادہ کر دیا جاتا ھے جوان بچوں کیلیۓ پریشانی کا باعث بن جاتا ہےـ
عام پاکستانی چھوٹے فلیٹوں میں رہتے ہیں جہاں چھوٹے کمرے دم گھٹتا ہوا ماحول۔ ایسے میں بچے شکر کا کلمہ پڑھتے ہیں جیسے ہی سکول کا وقت ہوتا ھےـ
یہاں کیا جادو ھے سکول میں سب حیراں ھیں کہ بچے بیمار بھی ہوں تو سکول کی جانب بھاگتے ہیں ـ گھر واپسی پے سخت سردی ان کو اتنا تھکا دیتی ہے کہ کھانا کھا کے سونے کی تیاری ہو جاتی ہے ۔
اکثر گھروں کی یہ پریشانی ہے کہ گھر کا مالک رات کو اتنا تھکا ہارا آتا ھے کہ چھوٹا گھر اور بچوں کا شور اسکو ناگوار گزرتا ہے اسی لیۓ ماں کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ اسکے آنے سے پہلے بچوں کو سُلا دے ـ
پاکستانی گھروں کی روٹین کا انیس بیس کا فرق ہو گا مگر ایسے کچھ حالات ہیں کہ پیچھے کی پریشانیاں انہیں یہاں کے رشتوں سے بیزار رکھتی ہیں ـ کوئی اور تو ہوتا نہیں۔ بیوی بچے وہی عتاب کا نشانہ بنتے ہیں ـ
لڑکوں کو پاکستان کی طرح یہاں بھی ہم آزاد چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ
وہ کچھ بھی کریں انکے لئے روک ٹوک کوئی نہی ۔ مسئلہ یہاں بھی بیٹی کا ہےـ ایک ٹاؤن میں ساتھ ساتھ رہتے ہوئے ایک ہی سکول ایک ہی کالج کی وجہ سے چھوٹی چھوٹی بات افسانہ یہاں بھی اسی طرح بنایا جاتا ھے جیسے پاکستان میں محلے میں رہنے والی بناتی ہیں ـ بچیاں جب عربنوں کے ساتھ افریقنوں کے ساتھ اور سری لنکن کے ساتھ پھریں گی، انکے آزاد ماحول میں بوائے فرینڈ مسئلہ نہیں ہے۔
تعلیمی ادارے جوں جوں بچے کی عمر بڑہتی ہے ان اداروں کا فاصلہ بھی دانستہ بڑھا دیا جاتا ہے تاکہ وہ انکے نظام میں جذب ھو جائے اور گھر کم سے کم وقت گذارےـ کیونکہ بہت دور دور دفاتر ہیں ۔ سسٹم ایسا بنا دیا گیا کہ باپ بھی عاجز بھائی بھی بے فکر اور اکیلی جاتے ہوئے کمزور ہونے کا احساس ہر لڑکی کو ایک بوائے فرینڈ کی ضرورت کو پورا کرنے کیلۓ مجبور کرتا ھےـ
وہی فرینڈ ہوتا ھے جو اسکے لئے ٹائم نکالتا ھےـ اسے دوسروں سے محفوظ رکھتا ھےـ
ہماری بچیاں جب یہ سب کچھ دیکھتی ہیں تو بے بسی سے خاموش ہو جاتی ہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ اسلام اسکی اجازت نہیں دیتاـ
ایک بے بسی چہروں سے ظاہر ہوتی ہے جب وہ کالی سیاہ لڑکیوں کو کسی لڑکےساتھ فخر سے چلتے دیکھتی ہیں ۔ وہ نظام سے باہر نظر آنے کی وجہ سے لڑکیوں کا بھی اور لڑکوں کا بھی نشانہ بنتی ہیں ـ
لیکن یہ مسائل گھربیٹھی ماں نہی سمجھ سکتی اسے بس باہر کی عمارت نظر آتی ہے، اندر کی پریشانی نہیں ۔
یہ جو میری گود میں سر چھپائے رو رہی ہےـ یہ بھی ان ہزاروں پاکستانی لڑکیوں میں سے ایک ہے جس کے والدین گاؤں سے ہیں ۔
پیسہ خوب کما لیا، جائیداد پاکستان یہاں خو ب بنا لی ـ اگر کچھ نہیں بنا سکے تو وہ ہے دوستی رشتے اعتماد اور بچوں کیلیۓ۔ پر یہ کام وہ اس لئے نہیں کر سکےکہ یہاں بیٹی دینا وہ بے غیرتی سمجھتے ہیں
اور پیچھے کوئی لینے کو تیار نہیں ۔ اگر کوئی کہتا ھے تو وہ بھی صرف پیپرز کی خاطر۔
یہ ہے یہاں کی بیٹی کا مقام ۔ یہ بیٹی جو آج بکھر کے رو رہی ہےـ
آپ سب سے سوال کرتی ہے کہ اسکو یہاں اجازت نہیں دی جا رہی شادی کرنے کی۔ ماں باپ سختی سے منع کر چکے ـ پیچھے کوئی رشتہ دیتا نہیں ۔ جن کے لئے پردیس کاٹا وہ سب بہن بھائی انہی کے باپ کی کمائی سے بیاھے گئے آج وہ سب آپس میں لے دے کے بیٹے بیٹیاں رشتے دار بن گئے مگر ان کے بچے یورپین ہیں، بولڈ ہیں، غلط ہیں۔ بغیر دیکھے بھالے یہ لیبل انکے ماتھے پہ چسپاں کیوں کۓ گئے ؟ والدین کب یہ جھوٹی غیرت کا ڈرامہ ختم کر کے یورپ کے مسائل اور بچوں کےمسائل سمجھیں گے؟
امیگریشن کی پریشانیوں سے بچنے کیلئے اب بہترین حل یہی ہے کہ آپس میں پاکستانی فیملیز اپنے بچوں کے رشتے کریں۔ ایک خاتون کی ایک بات مجھے بہت دن ہنساتی رہی ـ فلاں کی طرف رشتہ اس لئے نہیں کیاکیونکہ وہ ہمارے ساتھ ہی فرانس آئی تھیں اور انکی یہ بیک گراونڈہےـ یہ سب کر کے وہ آج کروڑ پتی ہوئےـ حیرت یہ ہوئی کہ پاکستان جہاں کسی معروف صنعتکار کے گھر بیٹی کا رشتہ کر رہی تھیں کیا وہ صنعتکار اتنا بڑا نام بغیر کسی گھپلے کے بنا گیا ؟ وقت کی ضرورت اور اہمیت کو ہم پہلے کبھی نہیں سمجھتے سب ایک دوسرے کو ذاتوں برادریوں میں منقسم کر کےان بچوں کی زندگیوں کو بر باد کر رھے ہیں ـ
یہ آج رو رہی ہے۔ یہ اپنے حقوق جانتی ہے، انکو استعمال کرنا بھی جانتی ہے اگر اسکوماں باپ نے جائز راستہ نہ دیا تو کیا ہوگا ؟ یہ وہ نہیں سمجھ رھے، اسکی ڈیمانڈ صرف اتنی ہے کہ وہ ایک پاکستانی سے شادی کرنا چاہتی ہےـ مگر گھر والوں نے غیرت کا مسئلہ بنا دیا ہے یہ غیرت اس وقت کیا کرے گی جب وہ گھر ہی چھوڑ دے گی ؟
ہماری جہالت ہماری ماحول سے ناواقفیت کتنی اور بیٹیوں کو رُلا رہی ہے کبھی سوچا ہے ؟ یہ نسل اس نسل کی بیٹیوں کا کیا قصور ہے؟ وطن کیوں چھوڑا ؟ اسلام اور مذھب کا اتنا سخت استعمال خود اپنی جوانی میں نہیں کیا مگر اب ان پر ٹھونس دیا جاتا ھےجو ایک آزاد اور جدید معاشرے کا حصہ ہیں کیا یہ انصاف ہے؟
Viewers: 555


on
on

میں( مریم ) شاہ بانو میر پیرس سے آپ سب کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہوں گی کیونکہ دیارِ غیر مین رہ کر میں نے پاکستان کے لوگوں کی تکلیفوں کو بہت قریب سے محسوس کیا ہے اور میری تحریر اپنے انہی لوگوں کے مصائب پر مبنی ہوتی ہے میں چار کتابیں انٹر نیٹ پر تحریر کر چکی ہوں اور ماہانہ دو سال سے زائد عرصے سے ایک من،تھلی میگزین بنا رہی ہوں ـ اسکا لنک درج ذیل ہے ـ پاکستان اور اردو زبان کیلیۓ کام کرنا میرا نصب العین ھے ـ میں ہر اس سوچ کے ساتھ کام کرنے کی خواہش رکھتی ہوں جو خالصة پاکستان اور اردو زبان کیلیۓ کام کرنا چاہے شکریہ ـhttp://mag.urdulink.org
maryam
Your magazine has no email or contact info so I am writing here.
The couplet mentioned in the magazine as gumnam shair
meray baap nay hijrat ki thi manay naql makani
us nay aik tarekh likhi thi main nay aik kahani
belongs to NY poet Muqsit Nadeem. His first poetry collection came in 1974, his 3rd came out this month.
Dr syed saeed Naqvi
janab dr saeed naqvi sahib
aap ki nishan dahi yaqeenan qalam kar maryam k ilm mein izafay ka sabab ho gi.
dosri bat, keh website administration se rabtay k leay email contact nahee dia gia. aisa nahee hai. aap bar par mojood “Rabta” ko click kejeay. aap ko mukammal maloomat mil jaey gi. bar sabeel zikr, email ID ye hay.
nasirmalik.01@gmail.com
agar aap ko yad na raha ho to yad dila doon keh aap ne es email ID par apni tahreerain arsal farmai theen.
Editor, Nasir Malik
مریم آپ نے ایک اہم مسئلےپر قلم اٹھایا ہے. یہ برف تمام تارکین وطن خاص طور پر یورپ، امریکہ وغیرہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں قیام پذیر پاکستانیوں پر پڑ رہی ہے اور سب کے حواس منجمد دکھائی دیتے ہیں. آغاز میں ہماری ان ہم وطنوں نے ڈالر کی پوجا کی اور بھولے تو وہ کچھ بھول گئے جو شاید یادداشت جانے پر بھی بھلایا نہیںجاسکتا.
اس کا حل صرف اور صرف 6666 کیلکولیشنز میں ملے گ.کیونکہ ان کیلکو لیشنز میںآفاقیت ہے.
اردو لنک
شاہ بانو میر
اردو لنک نیا وڈیو ٹیسٹ ورژن
اردو لنک ایک ناقابل یقین پلیٹ فارم ہے جو کئی سالوں سے اپنی دن رات کی محنت سے پاکستان کیلیۓ مختلف انٹر نیٹ کی دنیا میں انقلابی اقدامات کو متعارف کروا چکا ہے ـ اردو لنک اب ایک اور زبردست کامیابی حاصل کرنے جا رہا ہے ـ جو یو ٹیوب سے مماثلت رکھتی ہے ـ
اردو لنک کا نیاوڈیو ٹیسٹ ورژن انقلابی دور کا آغاز کر چکا اب یو ٹیوب کی طرح اردو زبان میں آپ ہر طرح کے وڈیو پروگرامز جن میں آپکے پسندیدہ سونگز فلمز ڈرامے ڈاکومنٹری فلمز عجیب و غریب حیرت انگیز واقعات ـ غرضیکہ ہر طرح کا عکسی مواد پہلی بار اردو زبان میں میسر ہو گا ـ اردو زبان سے محبت کرنے والے تمام لوگوں کو عرصہ دراز سے اس کمی کا احساس ہو رہا تھاـ جب وہ انٹر نیٹ پر تمام بڑی قومیتی زبان کو رائج دیکھتے تھےـ تو ایک حسرت ضرور ہوتی تھی کہ کاش ہم بھی ان کی طرح اردو زبان میں یہاں کچھ دیکھ سکیں ـ لیجیۓ اب آپکا انتظار ختم ہو اـ اور اردو زبان کےانٹر نیٹ پر راج کرنے کا وقت آگیا ـ اب انٹر نیٹ پر اردو ای میل اردو چیٹ روم ساز و آواز، ہمسفر کے بعد ایک نیا انقلابی قدم اٹھایا ہےـ
اردو لنک بنانے والے چند اصحاب ہیں ـ جن میں راجہ اعجاز اور مہتاب احمد کاص اہمیت کے حامل اشخاص ہیں ـ ان کا تعلق پاکستان سے ہے یہ لوگ کینیڈ امیں مقیم ہیں ـ اور وطن عزیز کیلیۓ ہمہ وقت کسی نہ کسی اہم کام میں مصروف رہتے ہیں یہ نامور سپوت کسی تعارف کے محتاج نہیں لیکن عملی طور پے کام کرنے والے نمود و نمائش سے پرہیز ہی رکھتے ہیں انکو انکے کام سے جنون کی حد تک عشق ہےـ اور اسی کام کو متاثر نہ کیا جائے اسی لئے خاموشی سے کوئی نہ کوئی بڑا کارنامہ کچھ عرصے بعد منظرِ عام پر لے آتے ہیں ـ اور سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں ـ
اردو فورم اردو لائبریریکے بعد اب اردو وڈیو ٹیسٹ ورژن کیا کمال ہے ـ پاکستان میں بسنے والے اور پوری دنیا میں رہنے والے ہر ہر پاکستانی کو اردو زبان کیلیۓ مہتاب احمد اور انکے ممبران کی جانب سے یہ شاندار کامیابی مبارک ہو اب ہم اردو لنک وڈیو کے زریعے بڑی تیزی سے تعلیمی سرگرمیوں کو بھی آگے بڑھا سکیں گے ـ
اردو لنک دنیا کا واحد اردو کا سافٹ وئیر ہے ـ جو نہ صرف آپکو اردو زبان کی ٹائیپنگ سکھاتا ہےـ بلکہ آپکی تحریری صلاحیتوں کو تخلیقی کارکردگی کو بھی نکھارتا ہےـ عام سی گھریلو خواتین اسکے توسط سے گھر میں بیٹھ کر نہ صرف عملی طور پے بیرونی دنیا میں شامل ہو کر اپنی زبان اپنے ملک کیلیۓ کام کڑتی نظر آتی ہیں ـ بلکہ اس پلیٹ فارم کا ماحول ہی تعلیمی اور تخلیقی ہے جو آپکی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بہت جلد ہی منظرِ عام پر لا کر آپکو عزت شہرت اور مرتبے سے بھی نوازتا ہے ـ یہ پُرخلوص لوگوں کی دن رات کی محنت ہے ـ ہر ہر لمحہ کامیابی کے زینے تیزی سے عبور کرتا ہو ا انٹر نیٹ کی دنیا میں ایک الگ مقام رکھتا ہے ـ آئیے اپنی زبان اپنے ملک اپنے لوگوں کیلیے کام کریں اور اردو لنک میں آکر وطن سے اپنے لوگوں سے عملی طور پے محبت کو ظاہر کریں ـ
اردو لنک آپکا منتظر ہے آئیے اور ہمارا ساتھ دیجیۓ لائبریری فورم ساز و آواز اردو ای میل سب آپکو اردو ٹائپنگ سکھانے کے بہترین پلیٹ فارمز ہیں ـ
آئیے مل کر ایک ہو کر پاکستان کیلیۓ زبان کیلیۓ دوسری زبانوں کے استعمال کو ترک کر کے آج سے اردو زبان کو انٹر نیٹ پر استعمال کرنا شروع کریں ـ اردو زبان میں جاری ہونے والی عنقریب اردو لنک وڈیو کو استعمال کر کےنہ صرف اس میں اپنی پسند کی چیزیں خود ایڈ کر کے نہ صرف دوسروں تک اپنی پسند کی وڈیوز پہنچائیں بلکہ جتنے زیادہ لوگ آگے بڑہیں گے اس آپشن کو استعمال کریں گے اتنا ہی بڑا وڈیو کا شعبہ پھیلے گا ـ امید ھے کہ آپ سب غیر ملکی زبانوں کے استعمال کو ترک کر کے اردو زبان کیلیۓ کی جانے والی اس دن رات کی محنت کو اپنے تعاون اپنے ساتھ سے اور زیادہ تقویت فراہم کریں گے ـ اردو لنک وڈیو ایک انقلابی قدم ہے ـ جلد ہی آپ اردو لنک فیس بُک بھی استعمال کر سکیں گےـ جو کافی سالوں سے شروع کی جا چکی ہے لیکن اتنا وسیع پراجیکٹ ھے کہ کام ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ـ یہ ہم سب کی خوش نصیبی ہے کہ اردو لنک ایسا ادارہ بن چکا ہے جو بیرونی دنیا میں انٹر نیٹ سے تعلق رکھنے والوں کیلیۓ ترقی کا ایک کامیاب نام ہے ـ
اردو سے محبت کرنے والے ہر انسان کو یہ عظیم الشان ترقی مبارک ہو ـ اپنے ملک سے پیار کیجئے اپنی زبان کو اہمیت دیجیۓ یاد رکھئے زندہ قوموں کا یہی وطیرہ ہے ـ انٹر نیٹ پر غیر ملکی زبانوں کے ہر ہر شعبے کو بھرپور استعمال کر کے ہم نے ہی انکو عروج عطا کیا ہےـ اب جب وہ سب آپشنز ہمارے پاس اردو زبان میں موجود ہیں ـ تو کیوں نہ ای میل اردو زبان کی استعمال کی جائے؟ وڈیوز کیلیۓ بھی تو غیر ملکی زبان کو اہمیت کیوں دیں ہم؟ اپنے ملک اور اسکے لوگوں کی بنائی ہوئی چیزوں کو استعمال کر کے اپنے ملک کا وقار کیوں نہ بلند کریں ؟ بیرونی زبان بیرونی امداد مختلف شعبوں میں بیرونی کامیابیاں ہم لوگوں کے بھرپور تعاون کا نتیجہ ہیں ـ آج سے سوچ کا رخ بدلئے اور اردو زبان کیلیۓ کئے جانے والے ہر قدم کو اپنے تعاون کا یقین دلائیے تو انشاءاللہ ہم انٹر نیٹ دنیا کے وسیلے سے ایک اچھا مکمل اور کامیاب پاکستان بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے ـ
زندگی کے ہر میدان میں انتخاب کر کے کام کرنا سیکھیں سوچ کا کام کا عمل کا اعلیٰ معیار زہن میں رکھیں ـ تو آپکو کامیابی ہر ہر قدم پر اردو لنک کی طرح یہی نصیب ھوگی ـ اردو لنک اعلیٰ ذہنی معیار کا منہ بولتا تخلیقی ثبوت ہےـ آئیے اعلیٰ معیار کو پاکستان کیلیۓ انٹر نیٹ پر پہچان بنائیں اپنے تعاون سے اردو لنک کے ہر ہر نئےکارنامے کو سراہیں اور خود شامل ہو کرترقی کے شہرت کے اعلیٰ مراتب حاصل کریں ـ
پاکستان زندہ باد اردو لنک پائیندہ باد
السلام علیکم
میں معذرت خواہ ہوں کہ مجھے کل آپکا ای میل ایڈریس نہیں مل رہا تھا اور اردو لنک کی نئی کامیابی کیونکہ خاص اہمیت کی حامل ہے اس کو آپ سب تک پہنچانا چاہتی تھی تا کہ پاکستان کی ترقی میں اسکے تمام لوگ شامل ہو کر فخر محسوس کریں
رات گئے مجھے آپکا ای میل ایڈریس ملا تو آپکو دوسرا آرٹیکل وہاں سینڈ کر دیا ـ میری ذاتی مصروفیات بڑھ رہی ہیں اس لیۓ گاہے بگاہے آپکا فورم چیک کرتی رہون گی اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
دعاگو مریم
tahreer aor tasweer mein koi mutabiqat dikhai nahee daiti. editor sahib ne na janay kis mode mein es tasweer ka mazmoon k leay entikhab kia hay, mein samajh nahee pai. maryam sahiba ne barray hassas mozoo ka ehata kia hay.
نیناں شکریہ ٹاپک کو سمجھنے کیلیۓ ـ
میری تھریرں پردیس کے غموں اور مسائل پر ہی مبنی ہوتی ہیں ـ خاص طور سے ہم لوگں کی اگلی نسل جو بیچاری پیدا تو یورپ میں ہوتی ہے لیکن والدین اچھی تربیت کیلیۓ انکو دوہرے عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں ـ گھٹن اور ماں باپ سے ذہنی دوری عجیب خوفناک سے مسائل کو جنم دیتی ہے ـ ِوقت کا تقاضہ ہے کہ انکے زہنوں کو سمجھ کر ان سے دوستی کی فضا قائم کر کے انکو اعتماد میں لیا جائے ورنہ تو ہمارا نام نہ ہو گاکتابوں میں ـ
You are a prominent Urdu fiction writer, critic,poet and scholar. Keep continue your writing short stories try to come into main stream. Soon you will got cognize as a symbolic writer. And will receive many awards from all over the world. Really you are one is the best among your contemporary and well known not only in Urdu but also in other subjects. You are deeply committed to the aim of setting highest literary standards by recognizing good literature and also establishing a deep cultural bond among various languages and communities across the world through your writings. You published works of high quality in different Urdu newspapers and journals are significant contribution to knowledge.
wah