Shah Bano Mir, France, Email:shahbanomir@yahoo.fr
ٹرینین بند خصوصی طیارہ فردِ واحد کیلئے روانہ
ملک کے اقتصادی سماجی معاشرتی دفاعی ڈھانچے کو اس بری طرح سےتباہ کیا گیاہے ـ کہ پورا ملک ایک اجڑی ہوئی بیوہ کی عکاسی لگنے لگا ہے ـ پولیس فوج اور دیگر دفاعی ادارے اور انکے افسران ان کی ہٹ لسٹ پے آگئے ـ محافظ ہی جب لاشے بنتے جائیں تو اس ملک کی عوام کی ذہنی کیفیت کیا ھو گی ، کیا یتیمی کا احساس انکے ذہنوں میں پل رہا ہو گا ـ یہ پاکستانی قوم سے زیادہ کوئی نہیں جان سکتا ـ حالات کی اس مخدوش کیفیت میں چاہیۓ تو یہ تھا سیاسی اکابرین سیاست کو پسِ پشت ڈال کر ملک گھٹنوں گھٹنوں زمین میں دھنس رہا ہے ـ اس بات کا اثر لیتے اور آپس میں مل بیٹھ کر دشمن کو کوئی موثر جواب دیتے، اس کی بجائے ان اہل مفاہمتی پالسی پر
عمل پیرا ھو کر اپنی نالائقی کو ہر شعبے میں چھپا کر اجتماعیت کا نعرہ لگانے والے سب سیاستداں اپنی اپنی دوکانداری کو چمکانے میں مصروف رہے ـ اور جو برسرِ اقتدار نہیں تھےوہ لوگ کمیشنوں کی صورت اپنی جیبیں بھرنے لگے ـ وہ تمام رقم جو کھربوں میں ان سب کے اکاونٹس میں چلی گئی ملک کے کسی بھی ایک شعبے کی حالت کو سنوار سکتی تھی ـ خواہ وہ شعبہ تعلیمی ہوتا یا ریلوے کا ـ بجلی کی جاں لیوا لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے عوام کو کچھ راحت عطا کرتا یاپھر پانی کے دن بدن ہوتے سنگین مسئلے کو بہتر طور پے حل کرتا ـ
ٹیم ورک یا مفاہمتی پالیسی نااہل لوگوں کی کمزور آڑ ہے اسکا نعرہ بلند کرنے والوں نے کسی بھی شعبے کی بہتری کیلئے اپنی عمرو عیار کی زنبیل کو کالی کرنا مناسب خیالم نہیں کیا ـبلکہ اور زیادہ اور زیادہ اس نعرے کو لگایا جانے لگا کہ ہمیشہ ہی بڑے مگر مچھوں نے اکٹھے ھو کر مشکل پیرائے میں الفاظ استعمال کر کے خود تو کاوروباری فوائد اور دولت حاصل کر لی لیکن اگر اس بیکار مفاہمتی عمل سے کبھی آج تک کسی کو فائدہ نہیں پہنچا تو وہ ہے اس ملک کی سادہ عوام جو ہمیشہ ہی پڑھے لکھے عیار طبقے کی تعلیمی سوچ کا شکار ہوئی ہے ـ
مفاہمتی عمل کی ایک اور جیتی جاگتی زندہ مثال آض آپکے سامنے پیش خدمت ہے ـان ھالات میں جب کہ
ریلوے کے پاس اب صرف ایک دن کا ایندھن باقی ہے ـ اس موقعے پر جہاں بے بس غریب عوام کیلیۓ زرائع آمد ورفت بند ھونے کا امکاں نظرآرھا ہے ایندھن نہ ہونے کی وجہ سے ـ اس کڑے وقت میں صدرِ مملکت کا ذاتی طیارہ سندھ کے گورنر عشرت عباد اللہ کو لینے دوبئی روانہ ہوتا ہےـ اور ایک فردِ واحد کیلیۓ کروڑوں کا تیل اور جہاز گیا ـ کیا اس طیارے کا ایندھن دو چار روز تک غریب عوام کیلیۓ ٹرینوں کو چلانے کا سبب نہیں بن سکتا تھا؟؟ کاش صدر ایک بار سوچتا کہ گورنر تو کسی بھی طیارے میں وی آئی پی بن کے آ سکتا تھا ـ
لیکن یہ لاکھوں کا تیل شائد کسی ٹرین میں دو دن اور ڈالا جاتا تو کئی لوگ مرے ہووں کا دیدار کر سکتے تھے ـ کئی لوگ نوکری کے انٹرویو کیلیۓ وقت پر پہنچ سکتے تھے ـ کئی ہوں گے جن کو ادائیگی کی خاطر ایک ایک پل کا انتظار ھو گا ـ وہ اپنے بچوں کے اخراجات کیلیۓ رقم حاصل کر سکتے تھے ـ کئی جاں بلب مریض کسی بڑے شہر کے ڈاکٹر کے منتظر ھوں گے ـ لیکن یہ ہزاروں لوگ جن کی ضرورت اس طیارے کے ایندھن سے پوری ہو سکتی تھی ـ ان سے کسی کو سیاسی کیا فائدہ حاصل ہوتا نہ وفاق کی سب سے بڑی جماعت کو کو اور نہ ہی کراچی کی طلسماتی جماعت کو جن کی پہچان ہی اب بس اقتدار کی رسہ کشی میں بازیگری دکھا کر ہر بار پہلے سے زیادہ فوائد حاصل کرنا ہے اور وفاقی نااہل حکمراں نے اپنی ڈولتی کرسی کیلیۓ یہ سب کرنا ہے عوام اور اسکی پریشانویں سے ان اعلیٰ قیادتوں کو بیان بازی کے علاوہ نہ کبھی پہلے غرض تھی اور نہ ہی آج ہے ـ
لیکن یہ سوال نااہل اور بکاؤ لوگ کیسے سمجھیں گے ظلم بھی تو یہی ہے، یہ سوال جو ایک عام آدمی کو اٹھانے چاہیۓ سیاسی جادوگر انہی غریبوں کے گروہوں کو لیکر انکے استقبال کیلیےایک عظیم الشان استقبال کے مناظر دکھانے میں کامیاب ھو جاتے ہیں ـ سیاسی مفاہمت یا نااہلوں کا ایک ٹولہ جو اپنی ہر نا اہلی کو مفاہمت جیسے لفظ کی آڑ میں چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ـ اب تو بچہ بچہ سمجھ گیا مفاہمت یا ٹیم ورک پاکستان میں صرف اسی وقت کامیاب ھوتا جب کئی نااہل مل کر کسی بڑے خواب کی تعبیر چاہتے ہوں ـ وہ بے شمار دولت کے انبار ہوں ـ یا کمیشنوں کی صورت ایک بڑی رقم کو کاغذات میں قانونی حیثیت سے پیش کرنا ہویا پھر دھونس دھاندلی سے ذاتی کاروباری فوائد کو حاصل کرنا ـ
ایک بار کسی فلم میں دیکھا تھا کہ ایک ڈون دوسرے ڈون کو کہتا ہے کہ ہم کام تو دو نمبر کرتے ہیں لیکن ہمارے اس کالے دھندے میں بھی پہلا اور آخری اصول ایمانداری ہے ورنہ کوئی ڈون نہ ہوتا اور نہ کوئی کسی پر یقین کرتا ـ سیاست کی بھول بھلیوں اور زبان کی کارفرمائیوں پر جس طرح سیاست داں عوام کے سامنے عیاں ہوے ہیں ـ حیرت ہوتی ہے آج کےمیڈیا کے تیز ترین دور میں یہ دوبارہ اپنے انہی چہروں کے ساتھ کس ڈھٹائی اور کس مضبوطی کے ساتھ اپنے ہی چند روز قبل کہے گئے الفاظ کو کسی اور پیرائے میں بیان کرتے نظر آتے ہیں ـ شرمندگی حیا شرم غیرت ان عناصر سے اب سیاستداں مکمل طور سے بری الذمہ نظر آتے ہیں ـ ان کی ڈھٹائی اور ڈرامہ بازی دیکھ کر تو بے اصولی بھی ایک بار شرما گئی ہےـ جس ملک میں سہولیات کا فقدان ہو تووہاں ذہن غریب ہو جاتے ہیں ـ ہر کاوش ہر جدوجہد کے پیچھے مقصد بس ایک ہی کارفرما نظر آتا ہے صرف ذاتی فوائد کا حصول ـ
اقتدار سہولیات آسائشات اور ایک شاندار زندگی انکی اسی خوہش نے ملک سے دانہ دانہ ختم کر دیا ہے ـ لیکن ان کے اکاونٹس دیکھیں تو لبا لب بھرے ھوں گے ـ اور یہ پورے جوش و خروش سے ایک دوسرے کی کردار کُشی کرتے نظر آئیں گے ـ سیاست کا آج کا یہ اہم اصول بن چکا ہے خود کھاؤ حلال حرام لیکن دوسرے کیلیۓ اتنا برا بولو کہ اپنے ہر کالےکرتوت سے لوگوں کی نظر ہٹ جائےاوردوسرے پر نظر جم جائے ـ لیکن دنیا اب بہت ہوشیار ھوگئی ـ وطن عزیز کے حالات اور سیاست کی گندگی کو دیکھ دیکھ کر جتنا مرضی کوئی بڑھ چڑھ کر بولے سننے والے سن کر مسکرا دیتے ہیں ـ اور آگے بڑہتے ہوئے کہتے ہیں کہ سر جی وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہاں اور آپ کہاں ؟؟



on
on

bahut khob .kash ap k mulk ki har maa bahen beti ap ki tahreer ki akkaas ban jay to qaum o millat k sare masayl hal ho jayen.q k jab aurat bedar hoti hai to har qism ka zulm so jata hai .issi tarah apni tahreer k zarye taqat o tawanai bikherny ka amal jari rakhen.
MashAllah bhot Khub.
Communication Cost on Railways is 11Times less than Communication Cost on Highways. All over world Countries improve there Railway Infrastructure in order to avoid Extra or High Expenditure. But in Pakistan after Partion Existing Infrastructure of Railways Destroy because of no maintaience and now this Institution is unable to provide any Services.
Syeda Asma Gillani a Honest and Devoted bureaucrat in Pakistan Railways is Suspended in 2008 by Federal Minister of Railways, when she refused to accept illegal orders of Job Recuriment without any Advertisement.
(Reference : Haroon ur Rashed of Jang Newspaper)
Yours is a cevelr way of thinking about it.