بھتّہ خوری کا خاتمہ کون کرے گا؟
تحریر: عبدالماجد ملک
کسی دھمکی میں آکر ڈر کے مارے دل کے نہ مانتے ہوئے اگر کچھ ادا کیا جائے تو وہ بھتہ کہلاتا ہے اگر ہم آسان الفاظ میں یہ کہیں کہ بھتہ وہ ہے جو نہ چاہتے ہوئے کسی حقوق اور قرض کے بغیر ادا کیا جائے،بھتہ اور بھتہ خوری کا جب ذکر آتا ہے تو ذہن میں عروس البلاد کراچی کا نام گردش کرنے لگ جاتا ہے کیونکہ وہاں پہ بھتہ خوری کا راج ہے ویسے تو پاکستان میں ہر کہیں بھتہ چلتا ہے لیکن کراچی ان میں سر فہرست ہے ایک تو یہ پاکستان کی اقتصادی شہ رگ ہے اور دوسرا یہاں پر بسنے والے لوگ باہر سے آکر آباد ہوئے ہیں باہر سے مراد پاکستان کے مختلف اضلاع میں بسنے والے لوگ ہیں جو بسلسلہ روزگار یہا ں رہائش پذیر ہیںیہ بات تو روز اوّل سے ہے اور تقریباََ زمانہ اسی پہ کاربند ہے کہ کمزور کو دباؤ ،اس کا استحصال کرو اور خود اس کی محنت سے حاصل کئے گئے رزق سے عیش کرو،یہ بھتہ کلچر کو فروغ اس لئے ملتا ہے جب عادل حکمران اس دنیا سے رخصت ہوجائیں جب انصاف کا حصول مشکل ہوجائے جب طبقاتی تفریق بڑھتے ہوئے یہاں تک پہنچ جائے کہ امراء کے لئے علیحدہ انصاف نگریاں بن جائیں اور غرباء کے لئے علیحدہ انصاف نگریاں بن جائیں،یہ بھتہ خوری کا راج تب بڑھ جاتا ہے جب ظلم بڑھ جاتا ہے اور مظلوم کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہوتا،بھتہ خور ان جگہوں پر عیش کرتے ہیں جہاں امراء کی بات تو سنی جاتی ہو لیکن غریبوں کا مسیحا کوئی نہیں ہوتا،بھتہ خور وہاں حکمرانی کرتے ہیں جہاں ظالم کا راج ہوتا ہے جہاں مظلوم کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا ،جہاں انصاف بکتا ہو جہاں ظلم کا دور دورہ ہو جہاں حق کا پرچم لہرانے والے سو جاتے ہوں جہاں ظلم کے آگے سرتسلیم خم کرتے ہوئے ہونٹوں کو سی لی جاتا ہو،بھتہ خوری کی بھی کئی قسمیں ہیں اور ان کے مانگنے کے مختلف انداز ہوتے ہیں ویسے تو بھتہ ہر کہیں چلتا ہے لیکن ہم اگر بھتہ خوری کے گڑھ(کراچی) کی بات کریں تو وہاں پہ بھتہ مافیا کافی مضبوط ہے بھتہ خوروں نے مختلف علاقے آپس میں بانٹ رکھے ہیں جہاں سے انہوں نے فی ریڑھی،فی دکان یا فی آفس رقم مختص کر رکھی ہے جو اس غریب ریڑھی والے کو ،دوکان والے کو یا دفتر والے کو طوعاََ و کرہاََ ادا کرنا پڑتی ہے چاہے ان کا کام چلے یا نہ چلے ان کے پیٹ کا ایندھن بجھے یا نہ بجھے انہیں اس سے سروکار نہیں، اگر کوئی بندہ یہ بھتہ ادا نہ کرے یا اس کے خلاف بولنا شروع کرے تو اس کا کاروبار تباہ کر دیا جاتا ہے یہاں پر ایک بات اور کی بھی وضاحت کر دوں کہ جن کا کام تھوڑا زیادہ چلنا شروع ہوجائے اور پیسوں کی ریل پیل ہونے لگے تو ان بھتہ خوروں کو جب اس کی بھنک پڑتی ہے تو وہ ایک پرچی پر کوئی رقم اور وقت لکھ کر بھیج دیتے ہیں کہ اس وقت ہمیں اتنی رقم چاہیئے جو کہ لاکھوں میں ہوتی ہے اگر کوئی ذرا حیلے بہانے سے کام لے تو ان بھتہ خوروں کی انفارمیشن اتنی تیز ہوتی ہیں کہ انہیں پتا چل جاتا ہے اور پھر اس بندے کو یا اس کے کسی عزیز کو اغوا کر لیا جاتا ہے یا پھر وارننگ کے طور پر اسے دھمکایا جاتا ہے جس کی وجہ سے مجبور ہو کر اس بندے کو ان کی مطوبہ رقم دینا پڑجاتی ہے جو کہ اس نے کافی محنت سے کمائی ہوتی ہے اور اگربات کریں کہ ان کے خلاف کوئی بولتا کیوں نہیں ہے اور اس ظلم کو کیوں چپ چاپ سہ لیتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی کی آواز بلند ہونے سے پہلے اسے خاموش کروا دیا جاتا ہے ان بھتہ خوروں کی وجہ سے کراچی میں بزنس پر کافی اثر پڑا ہے اور اکثر سرمایہ کار یہاں سے سرمایہ نکال کر باہر کی جانب رخ کر رہے ہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہے لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ حکومت اس کے خلاف کوئی موثر کاروائی کیوں نہیں کر رہی ؟اور بھتہ خوروں کو چھوٹ کیوں دے رہی ہے ؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان بھتہ خوروں کی پشت پر کافی بااثر شخصیات ہوتی ہیں جنہیں اپنا حصہ باقاعدگی سے ملتا رہتا ہے جس کی وجہ سے ان کے خلاف کاروائی نہیں ہوتی اور یہ بھتہ خور عناصر جدید اسلحہ سے لیس کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بنے ان دیکھ رہے ہیں ان عناصر کو کچلنے کے لئے حکومت کو کوئی سخت حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی کیونکہ
کہیں ایسا نہ ہو کہ درد بنے درد لا دوا
کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو
ان بھتہ خور عناصر کے خلاف سخت اور بلاتفریق کاروائی کر کے حکومت کو سرمایہ کاروں کو محفوظ بنانا ہو گا تاکہ میرا ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے ۔۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔۔آمین



on
on

Well put, sir, well put. I’ll ceraitnly make note of that.but is say that this evil can be denied by the writers. as like you.
ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور مفاہمت۔۔۔۔۔۔Posted on January 20, 2011 by qalamnama
پچھلے کیٔ ہفتوں سے کراچی کی گلیاں انسانی خون سے رنگین ہیں۔۔۔کیٔ ہفتوں سے مراد ہے قتل و غارت کی تازہ ترین قسط اور جنون و پاگل پن کی موجودہ لہر کو شروع ہوۓ کیٔ ہفتے گذر چکے ہیں اور یہ دور وقتا فوقتا دہرایا جاتا رہا ہے۔ اس مکروہ اور شیطانی کھیل کا نام بھی عجیب رکھا گیا ہے، ٹارگٹ کلنگ یعنی نشانہ بنا کر قتل کرنا۔ اصطلاح کی صحت کو چیلنج کیۓ بغیر یہ ضرور پوچھا جا سکتا ہے کہ کس کو نشانہ بنا کر، کیوں قتل کیا جاتا ہے؟ افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے یا پھر قومیّت یا فرقے کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سب کو پتہ ہے کہ اس کیس میں دو قومیّتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہی قتل کر دیا جاتا ہے۔ کیوں؟ یہ کسی کو نہیں پتہ مگر سب کو بتہ بھی ہے اور ان دونوں حالات کی وجوہات بھی مختلف ہیں۔ قتل کرنے والوں کا تو ایجنڈا ہے، پتہ بے شک اسکا ہر کسی کو نہ ہو لیکن وہ جو تاریک راہوں میں مارے جاتے ہیں، اُنہیں بھتہ خوری، زمینوں پر قبضہ کرنے یا پھر مخصوص علاقوں پر سیاسی قبضہ جماۓ رکھنے کے ایجنڈے سے کویٔ سروکار نہیں ہوتا۔ انکی تو اکثریّت ان لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جو ایک نۓ ولولے کے ساتھ، امیدوں کے دیپ جلاۓ گھر سے نکلتے ہیں یا دن بھر کام کرکے گھر لوٹ رہے ہوتے ہیں۔ کویٔ پیٹ بھر کھانے اور بے محابا اخراجات کو کامیابی کے ساتھ پورے کرنے کی خواہش کا دامن تھامے تو کویٔ اپنے اور اپنے اہل خانہ کی تقدیر بدلنے کے ساتھ ساتھ ملکی حالات بہتر ہونے کی آس لۓ رواں دواں ہوتے ہیں کہ انکی زندگی کی ڈوری کاٹ دی جاتی ہے ۔ صرف اسلۓ کہ انکا تعلق فلاں قومیّت سے تھا یا وہ فلاں زبان بولتے تھے۔ مافیا کے ڈان بھی قتل کرتے اور کرواتے تھے، انتھایٔ بے دردی کے ساتھ تاکہ بھتے اور تابعداری سے انکار کرنے والے عبرت پکڑیں اور کارو بار چلتا رہے۔ لیکن یہاں تو صرف گنتی پوری کرنے کے لۓ انسان کا خون کیا جاتا ہے۔ قانون اور نظم و انصرام کی کتابوں میں اگر کویٔ حل موجود ہے بھی تو وہ غیر مؤثر کیونکہ اسے مفاد اور مفاہمنت کی زنگ لگ چکی ہے۔ قاتل، مفرور اور مجرم سیاست کار بننے پر تُل جایٔں اور ملکی نظام انہیں ایسا کرنے کی نہ صرف اجازت دے بلکہ اس عمل کو ایک کاروبار کے طور پر پروموٹ کرے تو پھر یہی ہوگا کہ چور چوری کرکے دھڑلّے سے کہے گا کہ ثبوت ہے تو عدالت میں پیش کردو۔ وہ زمانے بھی لد گیٔے کہ ثبوت لے آؤ تو سیاست کو خیر باد۔، جی نہیں، ثبوت عدالت لے جاؤ بلکہ زیادہ شوق ہو تو سویس عدالت میں لے جاؤ، دیکھی جاےؐ گی۔ انہیں کون سمجھاۓ کہ رشوت لیتے اور دیتے وقت لکھے ہوۓ معاہدے نہیں کیۓ جاتے بلکہ اس بات کو یقینی بنایٔ جاتی ہے کہ کویٔی ایسی چیز رہ نہ جاۓ جسے بعد میں بطور ثبوت پیش کی جاسکے۔ سمجھانے کی خیر کیا ضرورت ہے، انہوں نے جس مقصد کیلیۓ یہ بات کہی ہے وہ تو ویسے بھی حاصل ہو ہی چکا یعنی بیان ریکارڈ پر آگیا اور بس! ورنہ سچّی بات تو یہ ہے کہ اس سے بھونڈا بیان کویٔ ہے ہی نہیں کہ ثبوت لے آؤ۔ اس سے ہمیں پرانے زمانے کی پاکستانی فلموں کا ایک گھسا ٖپٹا مکالمی بھی یاد آیا جب پولیس کے ہتّھے چڑھ جانے والا اپنی بے گُناہی میں کچھ کہنے کی کوشش کرتے تو پولیس والا تقریباۡ اسکے منہ پر مُکّا رسید کرتے ہوۓ کہتا”یہ عدالت میں جا کر کہنا”
وفاقی وزیر داخلہ عرف رحمان بابا (رحمان با با کے نام کا اس طرح استعمال قابل افسوس اور باعث تعّجب ہے۔ علی با با جیسا متبادل بھی تھا، اس بحث میں پڑے بغیر کہ وہ بھی میرٹ پر بنتا ہے یا نہیں) کا کراچی کے قتل گاہ بننے کے حوالے سے ردّ عمل بھی خاصا ‘دلچسپ’ تھا۔ انھوں نے فرمایا کہ بس اب مزید کویٔ خون کی ہولی نہیں کھیلنے دی جاۓ گی۔ کار روایٔ ہوگی۔ شرارت والی جگہوں پر فورسز تعیّنات ہونگیں اور ضرورت پڑنے پر مصیبت والی جگہوں پر ہیلی کاپٹر سے کمانڈوز اُتارے جایٔیں گے جو موقع پر کار روایٔ کریںگے۔ کیا دور کی کوڑی لاۓ ہیں جناب علی بابا، معاف کیجیٔے گا رحمان بابا یہ بھی بتاتے تو کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہیلی کاپٹر کو مصیبت اور شرارت والی جگھوں کی نشاندہی کون اور کیسے کراۓ گا۔۔۔جہاں تاک میں بیٹھے لوگ پاس سے گذرنے والے بے گناہ افراد کو گولی مارکر قتل کردیں وہاں ہیلی کاپٹر نے کیا کرنا ہے۔ شاید اُنکے ذ ہن میں ابھی تک سیلاب والے ہیلی کاپٹر منڈ لا رہے ہیں
طرفہ تماشہ اُس وقت ہوا جب ‘قانون نافذ کرنے والے’ اداروں نے گھروں اور محلّوں پر دھاوا بول دیا اور سالہا سال سے دہراۓ جانے والے ڈرامے کی ایک اور قسط دکھایٔ جانے لگی تو رحمان بابا اور ڈاکٹر ذوالفقار مرزا عرف مرزا غالب نے مشترکہ دُہایٔ دی کہ ہمیں اعتماد میں لیۓ بغیر آپریشن شروع کیا گیا۔۔۔اب اسے کیا کہیۓ سواۓ اسکے کہ یہ نۓ سال کے شاہکار لطیفوں میں سے ایک ہے۔
qalamnama.wordpress.com