گلزار ملک۔ فیصل آباد
پنجاب۔ پاکستان
E-Mail: aagone@yahoo.com
غلام آباد
وہ ّ ستر اسّی سالہ ایک عام سا بوڑھا تھا،لیکن اس کے سوال نے پل بھر میں اسے دوسروں سے جدا کر دیا تھا، حالت اس کی ایسی جیسے عرصہ دراز سے مسافت میں ہو، جھکی کمر پیچھے کپڑے کی پرانی سی پوٹلی، ہاتھ میں لرزتی لاٹھی، جھریاں ڈھانپتی موٹے عدسوں کی عینک اور آنکھوں میں ایک سوال لئے ہر چہرے کو متلاشی نگاہوں سے گھورتا ہوا بوڑھا اجنبی ، اس لمحے طوفانی بارش بس سٹاپ کو چاروں اور سے گھیر ے برس رہی تھی، مسافر سکڑے سمٹے یہاں جگہ ملی بیٹھے ، کچھ کھڑے بس کے منتظر تھے۔ ہوا کے تیز جھونکے پانی کی بو چھاڑ کے ساتھ ٹین کے چھپروں سے ٹکرا کر دھلا دینے والی آوازیں نکال رہے تھے، ایسی آوازیں جو انسان کے اندر تک اتر جانے کی خاصیت رکھتی ہوں، بچے سہمے ہوئے اپنی ماؤں کی گود میں سمٹے ایسی نظروں سے گردوپیش کو دیکھ رہے تھے جیسے وہ بھی فطرت کی تفہیم چاہتے ہوں،کائناتی علم اس پل ان کی بچپنا معصومیت کا مذاق اڑا رہا تھا،بارش کی چادر نے دور کے منظر اپنی اوٹ میں چھپا رکھے تھے،کبھی کبھار کسی گزرتی گاڑی یا سٹرنگ کرتے انجن کی آواز کہیں دور سے اُٹھتی اور بیٹھ جاتی، ایسے میں بوڑھا بارش کی اوٹ سے یوں اچانک نمودار ہو ا تھا کہ جیسے وہ پل بھر پہلے اسی کا حصہ رہا ہو، اس کے بدن سے پانی کے قطرے حیاتی کے ست کی مانند مسلسل ٹپک کر دھرتی کو سیراب کر رہے تھے۔ لیکن جیسے ہی وہ سٹاپ کے شیڈ تلے کھڑا ہو ا، بارش فورا تھم گئی تھی۔
اس کے سوال پر تو جیسے سب کو سانپ ہی سونگھ گیا ہو، کچھ حیرت سے منہ بگھاڑے بوڑھے سے نگاہیں چرا رہے تھے۔ چہرے ان کے پشیمانی سے دھواں دھواں، اور دل دھک دھک کر رہے تھے، بوڑھا نجانے کہاں سے ٹپکا تھا کہ سارے پرانے زخم پل بھر میں ہرے ہو گئے تھے۔
’’ آپ نے شائد خواب دیکھا ہو،ادھر تو ایساکچھ نہیں‘‘ نوجواں جو سوال کی گہرائی کو سمجھ ہی نہ پایا تھا، سر سری سا جواب دے کر دوسری جانب دیکھنے لگا ۔
’’ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ منزل ہی نہ ہو اور راہی چل نکلیں، اس کو تو ادھر ہی کہیں ہو نا چاہے، دیکھو میں بہت تھک گیا ہوں، کوئی تو ہوگا جو جانتا ہو،مجھ بوڑھے کی منزل کھوٹی مت کرو‘‘قریب ہی بیٹھی ایک سفید فام عورت اپنی جگہ خاموشی سے کسمسائی، سفید فام عورت کے ساتھ بیٹھی دھوبن کی آنکھیں نجانے کب سے اپنے بیٹے پر لگیں تھیں جو بدیسی عورت کوآنکھیں چرا چرا کر دیکھ رہا تھا۔
’’ اس سفید چڑیل سے دور رہو ‘‘ اس نے آنکھیں نکا ل کر بیٹے کوآواز دی اور پھر بغیر کسی وجہ کے اپنے خاوند کو گھورنے لگی،خاوند نے تیز چبھتی ہوئی نظروں کو محسوس کرکے گھنی بھنووں کو اٹھا کر بیوی کی جانب دیکھا اور پھر بر ا سامنہ بنا کر دور دیکھنے لگا۔
’’ کتابوں میں کہیں پڑھا تو ضرور تھا ‘‘ پرائمری سکول ماسڑ نے جو درسی کتب سینے سے لگائے کھڑا تھا یاد کرتے ہو ئے کہنے لگا۔ بوڑھے کی آنکھیں امید سے چمکنے لگیں ، جیسے وہ منزل کے قریب تر ہو۔
’’ لیکن یہ مدت پہلے کی بات ہے ، میرے خیال میں۔۔۔ ‘‘ اس نے یہاں تک ہی کہا تھا کہ اس کی نگاہیں اردگرد موجود مگر مخفی لوگوں پر پڑیں جو غصیلے انداز میں اسے گھور رہے تھے، تبھی یوں جیسے اس نے بات پلٹ دی ہو ۔
’’ مم ۔۔میرے خیال میں ڈرائیورہی جا نتا ہوگا اس بابت ۔۔۔‘‘
’’ ڈرائیور ۔۔۔ کونسا والا، آج ، کل یا پرسوں والا، ادھر یا ادھر والا ،کوئی ایک ہو تو۔۔۔ یہ کہتے ہوئے کتنے ہی ہنسنے لگے تھے، جسے وہ اس کی کم عقلی پر ٹھٹھا اڑا رہے ہوں ، ایسا کرتے ہوئے پل بھر کے لئے ان کی جھکی گردنوں اور تاریک چہروں پر زرد سی روشنی جگمگائی پھر اگلے لمحے وہ یکلخت گل ہو گئی۔بوڑھے نے دیکھا گردوپیش میں موجود ہر شے پر ازلی غربت کی پرچھایاں لرز رہی تھیں، سب کچھ بوجھل بوجھل ، فضا بے بسی کے غبار سے آلودہ اور اجنبی سی تھی۔ اپاہج، لولے ، لنگڑے، گونگے اور اندھے لو گوں کا ہجوم اس پل اسے گھیر ے کھڑا تھا، کہیں کہیں کو ئی اِکا دُکاا فراد ہی مکمل اعضاء کے ساتھ دکھا ئی پڑتے، لیکن ان کے وجود بھی کسی نہ کسی قسم کے کوڑھ سے داغدار ، غلام گردشوں میں متحرک، پالتو جانوروں کی مانند حقیر سے حقیر چیز پر رال ٹپکاتے سرگرداں، جن کی منزل تھی نہ جینے کا کوئی مقصد، ماسوائے کینے، حسد اور لامتناہی لالچ کے جس کا کوئی انت نہ تھا۔ حالتِ جبر میں وہ ناقابل یقین اَبتر صورت حال کا شکار تھے۔
عجب جگہ تھی،مائیں بچوں کو چھپائے اردگرد یوں دیکھتیں جیسے نہائت خوفزدہ ہوں ذرا سی آہٹ پر وہ چونک چونک جاتیں۔
’’ ارے بچہ کتنا پیا را ہے‘‘
’’بچہ۔۔۔ کس کابچہ۔۔۔ تمہارا تو یہاں کوئی بچہ نہیں۔‘‘
’’ میں اپنے نہیں اس عورت کے بچے کی بات کر رہا ہوں، دیکھو تو کتنا خوبصورت اور معصوم ہے‘‘
’’ پہلا ہے جو کسی کے بچے کو پیا را کہہ رہا ہے، ادھر تو کو ئی ایسا نہیں کہتا، سب کو اپنی اپنی ہے، اپنے بچوں کی دوسرے کا بچہ پیا را کہاں، صرف اپنا۔۔۔‘‘ حیرت سے بیک وقت کئی چلا اٹھے تھے۔ لیکن ماں جس کے کانو ں نے ایک مدت بعد کسی دوسرے فرد سے اپنے بچے کی تعریف سنی تھی اس کی آنکھیں بچے کی تعریف پر نمناک ہو اٹھیں اور انہیں الفاظ کے باعث ہی اس کے چہرے پر بوڑھے کے لئے ممنونیت کا غیر معمولی احساس بیدار ہوا۔
’’ اپنا ہی تو ہے ۔۔ قوم کا سپوت۔۔۔‘‘
’’ قوم ۔۔یہ کیسا لفظ ہے، کان اس سے مانوس نہیں۔۔‘‘
’’ کیا کہتے ہو۔۔۔ یہاں کوئی قوم نہیں۔۔۔ حیرت ہے ۔ہم سب ایک قوم ہی تو ہیں۔۔۔‘‘
’’ قوم ۔۔۔ہاہ۔۔۔ ہاہ۔۔۔ایک دوسرے کی بوٹیا ں نوچتا ،سر پٹ بھاگتا ہجوم۔۔۔‘‘
سرکاری ادارے میں کام کرنے والے ہیڈ کلرک نے پر اشتیاق نگاہوں سے بوڑھے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا ، اس کے بے رونق چہرے پر کنپٹیوں کے ابھار کسی بار بردار خچر کی مانند اُبھر ے ہوئے تھے جو زندگی میں شدید مشقت کے غماضی تھے۔ بغل میں اس کے پنشن کی فائل تھی اور دماغ میں پانچ جوان بچیوں کی رخصتی کے خواب۔ قریب موجود باریش آدمی نے مہندی سے رنگی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے یوں کھجایا جیسے اس کا واسطہ نہائت ہی نادان لوگوں سے پڑ گیا ہو ۔
’’ مم۔۔۔ میرے بیٹے نے بھی تو یہی کہا تھا۔۔۔کہیں ٹھیک ہی تو نہیں کہتا تھا وہ۔۔۔ ‘‘ بوڑھے کا جملہ مہمل تھا لیکن اس کے اند ر دھکنے والے الاؤ کی تپش سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔ ہیڈ کلرک نے بے چینی سے پہلو بدلا۔
’’ وہ۔۔۔کہتا تھا۔۔۔ بہت سمجھ دار تھا۔۔۔ کوئی نہیں جانتا ماسوائے میرے۔۔۔ وہ سب جان گیا تھا ، وہ بھی جو میں جانتا تھا اور وہ بھی جو میں نہیں جا نتا تھا، نجانے کیسے، کہتا تھا بابا، میں جو رات رات بھر جاگتا ہوں، زند گی وقف کر دی میں نے ایک مقصد کے لئے، سارا جوش و جذبہ اور جوانی یو ں جیسے اسی آس کی بھٹی کا ایندھن ہو، پر اگر سب پھونکنے کے بعد پتا چلا کہ یہ سب تو بکواس تھا، نہائت گھٹیا تو تب کیا ہوگا۔ میں کیا جواب دیتا ۔۔۔ اور پھر ایک روز اسے پتا چل ہی گیا تھا، وہ سب جان گیا تھا۔ وہ جان گیا تھا کہ وہ صرف میرا ہی بیٹا تھا۔۔۔ قوم تو کہیں تھی ہی نہیں ادھر تودور دور تک ۔۔۔باپ بیٹا،پوتا اعلیٰ عہدے اور جعلی ڈگریاں۔۔۔‘‘ بوڑھے کی آنکھیں نمناک اور ہاتھ کانپنے لگے تھے۔
’’ تم نہیں سمجھو گے، جانتے ہو جب اس نے پنجاب یونیورسٹی ٹاپ کی تو امتحان کا داخلہ اس کی ماں نے رات بھر کھیت سے سبز مرچیں توڑ کر ۔۔ نہیں تم نہیں سمجھ سکتے ،جب انسان کے پاس کچھ نہ ہو ماسوائے اولاد کے اور اس کے بخشے خوابوں کے تو ایسے میں اس سے جو بن پڑے کر تا ہے۔۔۔ وہ ۔۔۔ وہ بھاگتے بھاگتے ہانپنے لگا تھا، اسے کوئی راستہ دکھلائی نہ پڑتا تھا، دیکھو زمیں بنجر کہاں تھی، وہ تو نہائت زرخیز اور شادباد تھی پر کسی کے طفیل پل بھر میں کلرزدہ ہو گئی، جو اس کا رس چوس اور راکھ چاٹ رہے تھے، خزینے کی نسل در نسل بندر بانٹ کرنے والے خنزیر، چورں کی مانند نقب لگا کر پہنچے تھے اور اب ہر شے پر قابض کسی دوسرے کو راستہ دینے پر تیار نہ تھے ، یہ سب کہتے ہوئے بوڑھے نے ہوسِ زر اور سب کچھ اپنے لئے حاصل کر لینے کی خباثت پر غور کیا، وہی خباثت جس کے زیر اثر دوسروں کے دکھ دکھلائی نہیں پڑتے،اس سفاک عمل کی بابت سوچتے ہوئے اس کی روح بے چین ہواٹھی۔
’’د یکھو میں جو چاہتا ہوں اس بابت بات کرتے ہیں، منزل یہیں کہیں ہے، میں راستوں سے واقف نہیں اور نہ ہی مجھے کوئی چارہ کار ہی سجائی دیتا ہے یوں جیسے تا ریکی میں کہیں کھو چکی ہو، عجیب بات ہے کوئی ایک بھی نہیں جو اس سے با خبر ہو، میں جو اردگرد دیکھتا ہوں تو لگتا ہے دن بدن اس سے دور جا رہا ہوں، نا جانے ایسا کیوں ہے، کیا تم میں سے کوئی بتائے گا کہ تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہو رہا ہے۔‘‘
’’ بچہ بغل میں ڈھنڈورا شہر میں۔‘‘ کسی نے لقمہ دیا۔
یہ کیسے ہو سکتا ہے، جس کی جستجوہو سامنے آئے تو پہچاننا مشکل ہو، اسے لگا جیسے وہ اس کی بات سمجھ ہی نہیں رہے ہوں،اس کی آواز بھر اگئی، اس نے اچٹی سی نگاہ ان پر ڈالی آنکھوں میں پشیمانی، حیرت اور اُداسی کے سائے لیے اسے اس لمحے شدید گھٹن کا احساس ہوا، گھٹن جو اس کی روح میں اتر جانے والی تھی۔ یہ سب سوچتے ہوئے اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا ، کافی انتظار کر لیا اب نا امیدی اسے گھیرے کھڑی تھی، اس نے دائیں بائیں دیکھا، زمیں پر تھکاوٹ سے چور مزدور، یوں پڑے تھے جیسے بٹوارے کے وقت مسخ شدہ لاشوں کے ڈھیر ہوں، جن میں زندگی کی رتی بھر رمق باقی نہ تھی ، اچانک جیسے بوڑھے کے اند ر ہی اند ر توڑ پھوڑ سی ہونے لگی، ارد گرد ایک ہجوم تھا، ہجوم جس کی کوئی منزل نہ تھی تبھی اسے لگا جیسے وہ اس لمحے بلوے میں گر گیا ہو، چیخ و پکار، لڑنے کی آوازیں، چھت سے پھینکی اینٹ سے زخمی ہوکر گرتے ہوئے اس کے باپ کی کراہیں، پیٹ میں چاقو گھونپنے پر مغلظات،مقابل کو کوسنے اور تکلیف سے چلانے کی آوازیں ایک انبو جو اس پل اس کے ساتھ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا انجانی سر زمین کی جانب محو سفر تھا۔ سفر جوجاری تھا سبھی کچھ ویسے کا ویسا کچھ نہیں بدلا تھا، فضا میں پہلے کی مانند فربہ گدھ نیچی اڑانے بھرتے،زندہ وجودوں کا گوشت نوچتے اڑ رہے تھے، تھکن سے اس کا بدن ٹوٹنے لگا ویسی ہی تھکن جو اینٹ سے زخمی ہونے کے بعد ایک برساتی نالے میں ڈھ کر باپ پر غلبہ پا گئی تھی، لیکن باپ کی آنکھوں میں تو اس وقت بھی اک خواب تھا جس نے اس کی آنکھوں میں نور اور ایک طرح کی سر بلندی کا احساس بیدار کر دیا تھا۔
وہی خواب جو بھلے اس نے اپنے بیٹے کیلئے ہی دیکھا تھا، خود اس کے دامن میں تو کچھ بھی نہ تھا، رسائی پانے کی لا انتہا جستجو ،ہر طرح کے باطنی یقین کے باوجود وہ آج تک اس بستی تک نہ پہنچ پایا تھا، پاکیزہ بستی، برسوں کی مسافت اور ایک انبو، نجانے وہ کہاں کھڑا تھا، اس نے حیرت سے زمین پر اترتے گدھ کے ہجوم کو دیکھا، جو اس پر نگاہیں جمائے چونچیں تیز کر رہے تھے۔ لمحہ بھر کے لیے اس کی چمکدار سیاہ آنکھیں بے حس و حرکت رہیں، پھر نجانے اسے کیا ہوا یکلخت اس کا رنگ پیلا پڑ گیا۔
’’ خدا پناہ۔۔۔اتنی مشابہت۔۔۔‘‘
’’مشابہت تو ہوگی ہی، باپ کے بعد بیٹا۔۔اس کے بعد بیٹا ، پھر بیٹا۔۔۔ ادھر یونہی چلتا ہے، صاحبزادہ ازم ،ہر جگہ ، ہر مقام پر، اوپر سے نیچے تک یہی قا بلیت ہے، اور یہی کام، چھینو ،نوچو اور کھاؤ پیو موج اڑاؤاور مشکل پڑے تو ایک اڑان بھرو اور کہیں دور جا بیٹھو اس وقت تک جب تک کہ حالات سازگار نہ ہو جائیں۔‘‘قریب ہی ایک کتا دیوار پر لکھے کسی پارٹی کے منشور پر ٹانگ اٹھائے پیشاب کر رہا تھا، اجتماعی طور پر سبھی وقوع پذیر ہو نے والے ان تمام چھوٹے چھوتے واقعات،زیادتیوں اور نا انصافیوں کی بابت پل بھر کے لئے سوچتے تھے جن کا انکی زندگیوں پر گہرا اَثر تھا، لیکن معاشی جبریت کو سمجھنا اتنا آسان کہاں تھا، زبانیں کند، آنکھیں پتھرائی ہوئی اور ذہن لا متناہی خوف کے حصار میں لرزاں، کون جانے ان کی زندگیوں کا مقصد کیا تھا، غلامی،راتب نگلنا اور بس سوئے رہنا،یہ ایک دو دن کی بات تھوڑی تھی ، اب تو کسی کو اس موسم کے وارد ہونے کی مدت بھی یاد نہ تھی، سب کے چہروں پر بوڑھے کے لئے پہلے لمحے والی ہی حیرت تھی، لایعنی تعلیم،فضول مقاصد اور تاریک مستقبل کے دھارے میں بہنے والے لوگ ، بوڑھے کے سوال پر ابھی تک حراساں تھے۔ بوڑھا بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔
’’ وہ کہتا تھا با با ۔ کبھی انسان کی پرکھ ذہن کی پرواز کی بجائے صرف زبان ہی ہو سکتی ہے، وہ بھی مقتل کی زبان۔۔۔ جس سے اجداد کے لہو کی بو آتی ہو، لیکن سبھی گدھ ،چمگادڑ اور خنزیز سینہ پھیلائے اسی جانب راغب تھے، ماں بولیاں اور مرکز بے زبان، بے وزن ، حقیر ۔‘‘
دھوبن نے جو بڑی دیر سے بوڑھے کو بغور سن رہی تھی اپنی جوتی کی جانب دیکھا جس کی مرمت کپڑے کی لیر سے گانٹھ کرکی گئی تھی گوبر سے لتھڑی جوتی اس کے نصیب کی مانند تھی،تو کیا اس کی یہ حالت کسی اور کے باعث تھی، وہ کسی حد تک اپنے دکھ کے اسباب سمجھنے لگی تھی۔لمحے بھر کی خاموشی ہولناک سناٹا اور اردگرد موجود خوفزدہ برفیلی پرچھائیاں ،بوڑھے کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہونے لگا، باوجود اس کے اس نے اپنی سی کوشش کی تھی لیکن وہ تو جیسے کچھ سمجھنا ہی نہیں چاہتے تھے، ناامیدی کی تیز کاٹ دار لہر اس کے خون میں بہنے لگی، جگر یوں جیسے اگلے ہی پل ٹکڑے ٹکڑے ہوکر بکھرنے والا ہو، پھر اس نے آخری بار اپنی ساری توانائیاں متحد کیں اور ایک آخری کوشش کرنے لگا، الفاظ تسلسل اور ترتیب کے ساتھ بہنے لگے، خواب یوں جیسے ابھی لبوں سے ٹپکا کہ ابھی۔
’’ ہم سب جنت کی چاہ میں سرگرداں، زندہ ہیں پر مردوں سے بدتر، جسے ڈھونڈنے نکلے وہ ملتی نہیں کہیں، راستہ دکھلائے کون، امیر کاروان،نہ فریاد سننے والا کوئی، سب گم گشتہ خواہشوں کے سراب میں ہلکان، کوئی بتلائے تو وہ جنت کیا ہوئی، جس کے خواب اک نسل کی آنکھوں کا تارا تھے، شنید ہے اب تلک اس کی ہڈیاں بھی اژدھے ڈفار چکے، جو ہے وہ تو ہے ایک قبرستان، جس میں نوحہ کناں وجود اپنی باری کے ہیں منتظر، کو ن جانے اس کو کون کھائے گا ، مجھے کون، تجھے کون پر ہم سبھی آخر کھائے ہی جائیں گے آج نہیں تو کل، اپنی اپنی باری پر ، کوئی آگے، کوئی پیچھے،کوئی اوپر ،کوئی نیچے۔‘‘
’’ تو کیا ایسی کوئی جگہ ہے بھی۔۔۔‘‘ لمحے بھر کے لیے پہلی بار ہر چہرے پر یو ں جیسے خواب ایک دم لا متناہی تعداد میں اُگنے لگے ہوں ، باوجود اس کے کہ وہ جانتے تھے کہ اس وقت بھی وہ سبھی خفیہ کی نگرانی میں تھے ، ایک تو سامنے ہی اخبار کے پیچھے چہرہ چھپائے بیٹھا بے چینی سے اپنی جگہ متحرک تھا۔
’’ ہاں ہاں کیوں نہیں، زیادہ دور نہیں ہمارے گردوپیش میں ہی کہیں، ہماری آنکھوں کے سامنے، اتنی بڑی شے کوئی کیسے چھپا سکتا ہے، یہیں کہیں ہے وہ ۔۔۔ میر ے بیٹے نے تو ایک روز اس جہت کو پا لیا تھا، اسی لئے تو چھپانے والے بونتر ہی گئے تھے، پیچھے انکے یہی تھے کئی طرح کے گھناؤنے مقاصد لئے، اس نے سفید فام عورت کی جانب اشارہ کیا، بوڑھے کی آواز لرز رہی تھی سب لوگ،اب بار بار مشکوک اور متجسسا نہ انداز میں کبھی سفید فام عورت کو اور کبھی بوڑھے کو دیکھ رہے تھے، بوڑھے کی لب کشائی کا سب سے زیادہ اثر ہیڈ کلرک نے لیا ، اسے وہ فائل جس میں اس کی زندگی بھر کی پونجی پنشن کی صورت بند تھی ایک لامتناہی بوجھ کی شکل لگنے لگی۔ اوریوں ساری حیاتی رائگاں جانے کے دُکھ نے اسے گھیر لیا۔ دھوبن جو دیر سے بوڑھے کی باتیں سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی بس اتنا سمجھ سکی کہ میٹرک میں بار بار فیل ہونے والااس کا بیٹا بے قصور تھا، قصور تو کسی اور کا تھا ، کس کا ،وہ جان نہ سکی ماسوائے سفید فام عورت کو گھورنے کے ۔
ٹھیک اس لمحے بریک چرچرائے، بس سٹاپ پر ہلچل مچ گئی، لیکن کوئی بھی بس کی جانب نہ بڑھا، انکے وجود جیسے بوڑھے کے ساتھ ہی زمیں نے پکڑ رکھے ہوں، ہزاروں سوال ایسے کہ سنپولیوں کی مانند ہرذہن میں رینگنے لگے تھے، ڈرائیور اور کنڈیکٹر نے حیرت سے ہجوم کی جانب دیکھا، وہ اس تبدیلی کو سمجھنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے پکارنے لگے۔
’’ غلا ماں باد۔۔۔غلاماں باد۔۔۔ کسی نے اپنی جگہ سے حرکت نہ کی، ڈرائیور اور کنڈیکٹر کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑنے لگے۔
تبھی بوڑھے نے ڈرائیور کی جانب دیکھا اور اپنا سوال دھرا دیا ، وہی سوال جس نے اسے یک لخت دوسروں سے جدا کر دیاتھا۔
’’ غلاماں باد نہیں ، ہمیں غلام محمد آباد لے چلو۔۔۔بچہ۔۔۔ کیا تم ایسا نہیں کر سکتے۔ وہیں لے چلو میرے بچے جس کی ہمیں چاہ ہے۔ ہمارا اپنا جس کے خواب دیکھے ہم نے ماں جائیوں کی عصمتیں گئیں، باپ گیا، بیٹا بھی۔۔۔ ایک عرصہ بیت گیا۔ لے چلو گے نا بیٹا۔۔۔ہمیں لے چلو۔‘‘
سوال تیزاب کی مانند ڈرائیور کے وجود کو کاٹنے لگا، اردگرد سبھی خا موشی سے دیکھ رہے تھے، تبھی صورت حال کی یکلخت تبدیلی پر کتنے ہی بھاگتے قدموں کی آواز یں سنائی دیں، انتہا پسند، دہشت گرد۔۔۔ کوئی چلایا، سفید فام عورت اپنی جگہ سے اٹھی اور پھرتیزی سے بس کی سیٹ کی جانب بڑھنے لگی جو عین ڈرائیور کے ساتھ تھی اتنی جڑی ہوئی کہ حقیقی ڈرائیور کون ہے ،اس کا فیصلہ کرنامحال تھا ، لیکن بس میں سوار ہو نے سے پہلے وہ پل بھر کے لیے رُکی اور پھر بوڑھے کے سامنے کھڑی ہو کر اس کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی۔
’’ تیرا بیٹا کہاں ہے۔۔۔اس کا کیا ہوا۔ ‘‘
وہ ۔۔۔وہ تو۔۔ انہیں تین راتوں میں کہیں۔دھوئیں کے حصار میں گھرے مکتب میں، اپنوں ہی کے ہاتھوں ۔۔۔ کون جانے اب وہ کہاں ہو ،شائد اسی گم گشتہ جنت میں کہیں ۔۔۔ادھر کا راستہ نہیں معلوم مجھے۔۔۔ غلاماں باد ۔۔۔نہیں غلام محمدآباد کی چاہ میں ۔۔۔ سفید فام عورت اس کی نم آلود آنکھوں کو پل بھر کے لیے ساکت کھڑی دیکھتی رہی پھر گھبرا کر یوں پیچھے کھسکی جیسے بوڑھے نے بیٹے کی لاش کا بوجھ اس کے کندھوں پر ڈال دیا ہو ۔
’’بوڑھا توسٹھیا گیا ہے، اب غلام محمد آبادکا زمانہ کہاں ، غلاماں باد۔۔۔ غلاماں باد‘‘ ۔۔۔ کوئی چلایا ۔
ہر چند کہ وہ خود بھی اس امر پر کافی سوچ بچار کر چکا تھا تاہم جب کسی نے یہ الفاظ کہے تو اس کا دل ڈوبنے لگا، پھر اچانک یو ں ہوا کہ بدہیت اشخاص،جن کی آنکھیں خون سے بھرے پیالوں کی مانند اُبل رہی تھیں اچانک موجود صورت حال پر وحشت زدہ انداز میں چلا اٹھے جس پر عورتوں مردوں میں ایک عجیب بے ہنگم سا شور برپا ہو ا اور ارد گرد بھگد ڑ سی مچ گئی ساتھ ہی ہراساں نوجوان، جوان مرد اور باریش بوڑھے سراسیمگی کی حالت میں ، بزدل کینچوؤں کی مانند لرزنے لگے جیسے سردی سے ٹھٹھرنے لگے ہوں، اس پل تاریک سایوں کی مانندمتحرک ان کے بدنوں کے لئے سانس لینا بھی دشوار تھا، وہ نرغے میں گرے لمحے بھر کے لیے کبھی بوڑھے کو اور کبھی اپنے بچوں کو دیکھتے رہے اور پھر حتمی فیصلے پر پہنچ کر بے بسی سے بس کی او ر بڑھ گئے ،ڈیوٹی پر موجود بدہیت اشخاص کی وراچھیں بوڑھے کو اکیلا پا کر کانوں تک کھینچ آئیں، بوڑھا ناامیدی سے ہجوم کی جانب دیکھ رہا تھا۔
’’ خدا را۔۔۔مم میں اس معاملے کو یوں ختم ہوتا ہوادیکھ نہیں سکتا۔‘‘
دیکھو!
مضبوطی سے تھامے رکھنا۔۔۔
اسے چھوڑنا نہیں۔۔۔
کوئی سنے گامیری آواز۔۔۔
میرے بچو! خواب کو ڈوبنے نہیں دینا۔۔۔
غلام محمد آباد!
اسے ڈوبنے نہیں دینا
غارت گرو!
اسے رہنے دو۔۔۔
سپنا ہی تو ہے
رہنے دو۔۔۔تمہارا کیا جاتا ہے۔
بچے کل اُمید کی فصل اُٹھائیں گے۔
رہنے دو۔۔۔!
وہ آخرکار پاگلوں کی مانند چلانے لگا۔
لو گ بس کی جانب بڑھتے ہوئے پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے، خدا پناہ اس وقت اس کے چہرے پر کرب کی عجیب سی کیفیت تھی۔ عین اسی لمحے سکول ماسٹر رکا، اس نے حکمرانوں کی نمائشی درسی کتب کو فضول اور خون چوسنے والی جونکیں گردانتے ہوئے قریب موجود بینچ پر پھینکا ، ہاتھوں کی مٹھا یاں شدید جذباتی انداز سے بند کرتے ہوئے جھکے سر کو کشیدہ کیا اور تیز،نپے تلے مضبوط قدموں کے ساتھ چلتا ہوا بوڑھے کے برابر آ کھڑا ہوا، اس لمحے اس کے لبوں پر ایک باوقار سی مسکراہٹ تھی۔ وہی مسکراہٹ جو فرائض کی انجام دہی پر جنم لیتی ہے۔پھر وہ بچہ بھی جس کی تعریف بوڑھے نے کی تھی اپنی ماں کے ساتھ بوڑھے کی جانب بڑھا، اس کے دیکھا دیکھی دھوبن، ہیڈ کلرک اورپھرناجانے کون کون ،جیسے سبھی بارش کے پہلے قطرے کے ہی منتظر تھے ۔
اس کے بعد یوں لگا جیسے نرغے میں لینے والے افراد خود نرغے میں ہوں، ناجانے کیسی خواہش تھی جس کی جڑیں ہر وجود میں ۔۔۔ بوڑھے کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے ، جو اس پل اس کے احساسات کی مکمل ترجمانی کر رہے تھے، اسے لگا جیسے ایک آہٹ ایک آوازاس لمحے اور سنائی دی ہو، اس نے غور کیا ، آواز زیادہ واضح سنائی دینے لگی، دل کے دھڑکنے اور سانسوں کی آواز، اس نے غیریقینیت سے اپنی آنکھیں میچ لیں اور کوشش کرنے لگا کہ اس خیال کو ایک طرح کا وہم ہی گردانے، پھر شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہ رہی، خوشی سے اس کے سراپے پر کپکپی سی طاری ہونے لگی، اس نے اپنے حواس بحال کر کے غور سے سنا، تبھی اسے اپنے بیٹے اور اینٹ سے زخمی ہو کر گرتے ہوئے باپ کے لوٹ آنے کی محبوب آوازیں سنائی دیں، جیسے وہ تو کبھی مرے ہی نہ ہوں بلکہ ہر پل اس کے ساتھ ہوں ، چھوٹے بڑے دکھوں کے ساتھی اور کبھی فراموش نہ ہونے والے سفر میں اس کے ساجھے دار۔ سفر جو جاری تھا۔



on
on

Malik ge… bohat umda hai. khas ker akri streen pertey hoy insan zuzbati ho gata hy . bohat khoob… slamt raho.
Ghulamabad ney mery mou ke bat cheen ley. great observations.no dout its fintastic. heran hoon loog keya perty nehin, ager perty hain too khamoos kuoon rehtey hain. mery terf say mubraik bad.
afsana thora sa skeel hey leykun per ckny k bad kafi swadi nklta hey.
ہم سب جنت کی چاہ میں سرگرداں، زندہ ہیں پر مردوں سے بدتر، جسے ڈھونڈنے نکلے وہ ملتی نہیں کہیں، راستہ دکھلائے کون، امیر کاروان،نہ فریاد سننے والا کوئی، سب گم گشتہ خواہشوں کے سراب میں ہلکان، کوئی بتلائے تو وہ جنت کیا ہوئی، جس کے خواب اک نسل کی آنکھوں کا تارا تھے، شنید ہے اب تلک اس کی ہڈیاں بھی اژدھے ڈفار چکے، جو ہے وہ تو ہے ایک قبرستان، جس میں نوحہ کناں وجود اپنی باری کے ہیں منتظر، کو ن جانے اس کو کون کھائے گا ، مجھے کون، تجھے کون پر ہم سبھی آخر کھائے ہی جائیں گے آج نہیں تو کل، اپنی اپنی باری پر ، کوئی آگے، کوئی پیچھے،کوئی اوپر ،کوئی نیچے۔
boohat koob……slamt rehy jee