Hafiz Muzafar Mohsin | نصاب میں شامل کر دی جانے والی نظم

حافظ مظفر محسن 101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور 0300-9449527 ادب نصاب میں شامل کر دی جانے والی نظم مجھے پتہ ہے ۔ یقینی موت کا سن کر کئی تو ڈر...

حافظ مظفر محسن
101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور
0300-9449527
ادب

نصاب میں شامل کر دی جانے والی نظم

مجھے پتہ ہے ۔ یقینی موت کا سن کر کئی تو ڈر ہی جاتے ہیں۔ نہیں سنتے کوئی تاویل….. بس وہ مر ہی جاتے ہیں۔ پرندے پھر کے کھلیانوں میں آخر گھر ہی جاتے ہیں۔
مگر جو برف میں پیدا ہوئے۔ راتوں کو یخ پانی جنہیں بیدار کر تا ہے۔ سورج کا بعد مدت کے جو دیدار کر تا ہے ۔ اِن حالات سے جھگڑا۔ مرد جی دار کرتا ہے۔
جب سیاچن کا ’’محاذ آباد‘‘ تھا۔ برف میں آگ برس رہی تھی۔ زندگی زندہ رہنے کو ترس رہی تھی۔ میں نے سیاچن پر کئی نظمیں لکھیں۔ رات سے مجھے وہ نطمیں یاد آ رہی ہیں ، ٹو ٹے پھوٹے مصرعے۔ دماغ میں گھوم رہے تھے۔ مجھ پر وہ کیفیت طاری تھی جو سیاچن کے محاذ پر موجود میرے دوستوں ’’ جوانوں‘‘ نے محسوس کی۔ موت کی سی کیفیت ۔ جن میں سے کچھ معذوری کا ’’ تحفہ‘‘ بھی وہاں سے لے آئے وطن کی عظمت کی خاطر۔۔۔
’’ ریگل چوک‘‘ جی ہاں لاہور کا ریگل چوک۔۔۔اِس چوک سے میری یادیں۔ بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ یہ شہر لاہور کا وہ چوک ہے جو ساری رات آباد رہتا ہے ۔ ویسے تو شہر لاہور پورے کا پورا رات گئے جاگتا رہتا ہے۔
دنیا بغداد کی شاموں کو یاد کرتی ہے۔ جب وہ حسن دلآویز سے لبریز تھا۔ جوانوں کو وہ شامیں یاد آتی ہیں جو بیروت میں چمکتی دھمکتی تھیں ۔ عربی میوزک محمد عبدُو کے گیت محبت بھرے ، مگر پھر لوگ دبئی کی طرف لوٹ گئے۔ سنگاپور ،ہانگ کانگ اور بمبئی پیچھے چلے گئے۔ میرا شہر لاہور آباد ہے۔ مجھے یہ بغداد ۔ بیروت ، دبئی سے کہیں زیادہ پیارا ہے۔ ہاں ، مجھے اگر محبت ہے۔ لاہور سے کہیں بڑھ کر محبت تو وہ ہے میرا شہر کراچی۔
وہ رات میرے ساتھ تھا ’’ریگل چوک‘‘ آباد تھا۔ ہمارے دلوں اور زبانوں پر ’’ سیاچن ‘‘ کا تذکرہ تھا۔ یہ تذکرہ جب بھی ہوتا ہے۔ آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔جہاں آج بھی برف میں جمی لاشیں پڑی ہونگی۔ کِس قدر بلند رتبہ ہوتا ہے۔’’ سیاچن ‘‘سے بھی بلند۔
ہم دونوں سیاچن سے وابستہ تھے۔ اُن دنوں جب سیاچن ’’ برننگ ایشو‘‘ تھا۔ میں نے اُن دنوں اِک نظم ’’ سیاچن ‘‘ کاشہید لکھی جو ’’ ہلال ‘‘ میگزین ’’ فیملی‘‘ میگزین اور دیگر ادبی رسائل میں چھپی اور مجھے میرے فوجی دوستوں نے بتایا کہ کئی یونٹوں میں وہ نظم محبت سے عقیدت کے ساتھ پڑھی گئی کہ ہم جو دن بھر ساتھ ہوتے۔ اکٹھے رات گزارتے۔ جب ساتھی کی شہادت کی خبر آئے تو یوں ہی لگتا ہے جیسے ماں سے بچہ جُدا ہو گیا۔ بہن سے بھائی چھن گیا۔ مگر سنئیر ۔ آتے آنکھیں اُن کی بھی آنسوؤں سے تر ہوتیں۔ مگر وہ پر عزم لہجے میں کہہ رہے ہوتے۔
’’ میرے افسروں میرے جوانوں ۔۔ یہ شہادت بھی تو کھیل کا حصہ ہے‘‘ شہادت بلاشبہ کھیل کا حصہ ہے ۔ مگر یہ مردوں کا کھیل ہے۔ جو جی دار لوگ کھیلتے ہیں۔ بڑا وہی ہے جو اپنی مٹی کے نام پر شہادت کے درجے پر فائز ہوا کہ ہم سب بھی تو یہی آس لگائے بیٹھے ہوتے تھے۔ کہ ’’ شہادت ‘‘ کا درجہ کاش ہمیں بھی نصیب ہو جائے۔
’’ ریگل چوک ‘‘ خوشبوؤں سے لبریز چوک ہے۔ جوبیس گھنٹے نہاری ملے گی۔ یہاں چھوٹے سائز کے سموسے ’’ کٹلٹس‘‘ جو میں پچیس سال پہلے بھی یہاں سے کھایا کر تا تھا۔ چوبیس گھنٹے ملتے ہیں فروٹ چاٹ دہی بڑوں کے تو کیا کہنے۔ مگر ہم تکہ ’’بوٹی ‘‘ کھا رہے تھے۔ آج یہ سب شہزادنّیر کی پسند سے چل رہا تھا۔ عثمان فاروق بھی لکھاری ہے۔ مزاح لکھتا ہے لیکن آج ہم دونوں کے بیچ سنجیدہ ’’ باؤ‘‘ بنا بیٹھا تھا۔ سیاچن کے نام پر عثمان فاروق کو اُس وقت سردی لگ رہی تھی جب تکہ بوٹی کھانے سے شہزاد نّیر اور میں پسینے میں شرابور تھے۔ شہزادنّیر کھانے پینے کا زیادہ شوقین نہیں اتنی مختصر خوراک کسی سوچ بیچار والے شاعر کی نہیں ہو سکتی ہے ویسے گفتگو سے یہ لاہوریا لگتا ہے ۔
لیکن سنا ہے گجرات سے تعلق۔ چیمہ چٹھہ نہیں لگا تا اپنے نام کے ساتھ نیر تخلص بہر حال کر تا ہے۔ جب سے میں نے اس کی کتا ب ’’ برفاب‘‘ پڑھی خاص طور پر اُس میں موجود قومی درد محبت سے سرشار ملی نظمیں پڑھیں تو اِک خواہش سی تھی کہ اس شہزاد نّیر سے ملوں اور اِس کے مُنہ سے اِس کی کہی ہوئی نظمیں خاص طور پر ’’ کارگل‘‘ او ’’ سیاچن ‘‘ سُن لوں۔ ’’ برفاب ‘‘ نے تو جیسے مجھے بیدار کر دیا۔
’’ برفاب‘‘ کے ساتھ ساتھ جب شہزاد نّیر نے ’’ چاک کے بنے وجُود ‘‘ بھی پیش کی تو میں ٹائیٹل سے ہی سمجھ گیا کہ یہ اپنی مٹی سے جڑا ہوا محبت کرنے والا انسا ن ہے۔ اپنی مٹی کی بات وہی کرتا ہے۔ جو اپنی مٹی پہ مر مٹنے کو تیا ر ہو۔
شہزاد نّیر ۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ہمارے اسکولوں میں نصاب کی کتابوں میں ہمیشہ اسماعیل میرٹھی۔ مرزا ادیب، غلام عباس، الطاف حسین حالی یا صوفی تبسم ہی کی نظمیں یاکہانیاں پڑھائی جانی چاہیں؟!۔
خوب ہنسا ۔۔۔ ’’ واہ‘‘ ….! ۔ اُس کے مُنہ سے نکلا ۔ ’’ آہ‘‘ میں نے مذاق سے کہا تو سنجیدہ ہو گیا۔ مظفر محسنؔ کیا تمھاری نطم ’’ چندا اور ماں ‘‘ اِس قابل نہیں کہ وہ نصاب کی کتابوں میں شامل ہو؟!۔
نہیں نہیں ۔ شہزاد نیّر ہم کہاں اِ س قابل ہیں وہ تو مذاق مذاق میں میری بچوں کی شاعری کی کتاب ’’ جاگو ہوا سویرا‘‘ کو رائٹرز گلڈ ادبی انعام سے نوازا گیا تھا ۔ شہزاد نیّر خوب ہنسا۔ پھر بولا ۔ کلاسیک ادب بچوں کو ہمیشہ پڑھایا جانا چاہیے لیکن جدید ادب کی آمیزش کے ساتھ۔
عثمان فاروق نے گاڑی سٹارٹ کر رکھی تھی۔ وہ ہارن پہ ہارن بجا رہا تھا۔ مجھے چونکہ عثمان فاروق پر کبھی بھی غصہ نہیں آ یا اور اِسی وجہ سے شعیب مرزا مجھ پر غصہ بھی کرتے ہیں۔ کہ ہمارا چھوٹا سا مذاق بھی برداشت نہیں ہوتا۔ شعیب مرزا کو۔
میں نے اشارے سے گاڑی بند کرنے کو کہا تو اُس نے خُوب ریس دے کر گاڑی بند کر دی اور اتر کر پاس آگیا۔ میں نے انگلی ہونٹوں پررکھ کر اُسے چپ رہنے کو کہا تو وہ پھر بھی بول پڑا مظفر صاحب اب آپ ہی بتائیں کہ کیا یہ شہزاد نّیر کی قومی نظم ’’ سیاچن ‘‘ ۔ ہمارے نصاب کی کتابوں میں شامل نہیں ہونی چاہیے۔
نئی نسل جس پستی کی طرف مائل ہے۔ اُسے اس سے بچانے کے لیے ۔ میں نے ’’ ہاں‘‘ میں سر ہلایا اور شہزاد نّیر کی نظم ’’ سیاچن‘‘ غور سے پوری توجہ سے سننے لگا کہ یہ وہ شاعری ہے جس پر لوگ ’’ مقرر مقرر‘‘ کہتے ہیں اور اُس وقت تک سنتے ہیں جب تک آنکھیں آنسوؤں سے تر رہتی ہیں۔ اور محب وطن لوگوں کی آنکھیں وطن کی محبت میں ہر وقت تر رہتی ہیں۔ یہی میرا نئی نسل کو بھی پیغام ہے کہ ’’ ہماری آنکھیں کھلی بھی رہنی چاہیں اور تر بھی‘‘۔ ملاحظہ کریں شہزاد نّیر کی مشہور نظم ’’ سیاچن‘‘ کے کچھ بند ۔
جہاں میں ہوں
وہاں پر ذی نفس کوئی نہیں رہتا
سوائے کاروانِ سخت جاں کے رھ نوردوں کے
جو اپنی سر زمیں دشمن کے قدموں سے بچانے کو
اِن اُونچے کوہ ساروں
برف زاروں پر اُترا آیا!۔
جہاں میں ہوں
وہاں پر لذت کام و دہن کیسی
جہاں مخصوص کھانا ہے
جو باسی ہے ، پرانا ہے
میرے یہ نوجواں ساتھی
کہ جن کے عزم کا پرچم، ہمالہ سے بھی اونچا ہے
یہ برفانی فضاؤں میں
مخالف سمت سے آتی ہواؤں سے بھی لڑے ہیں
دلوں میں یہ ارادہ ہے
وطن کا نام اونچا ہو
ہمارا مان اونچا ہو!۔

Viewers: 633
Share