Hajra Bano | King Fisher | کنگ فشر

کنگ فشر صبح سات بجے روزانہ ایک تالاب کے کنارے سے کالج کی طرف روانہ ہوتی ہوں تو برقی تاروں پر بیٹھا ہوا مد مست کنگ فشر میری منتشر سوچ...

ہاجرہ بانو
پلاٹ نمبر ۹۳، سیکٹر اے، سڈکو این ۱۳،حمایت باغ،
اورنگ آباد۔ ۴۳۱۰۰۸۔
ریاست مہاراشٹر-
موبائل: 9860733049
hajra857@g-mail.com

کنگ فشر

ہاجرہ بانو

صبح سات بجے روزانہ ایک تالاب کے کنارے سے کالج کی طرف روانہ ہوتی ہوں تو برقی تاروں پر بیٹھا ہوا مد مست کنگ فشر میری منتشر سوچ کا مرکز بن جاتا ہے۔ اس کی خوبصرت منقار سیاہ میں کوئی نہ کوئی مچھلی اپنی زندگی بچانے کی آخری جدوجہد میں مصروف ہوتی ہے اور یہ مصرع اس کے گلپھڑوں سے نکل رہا ہوتا ہے:
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
آخر وقت تک بیچاری پنکھ دم مار کر اپنی زندگی کو ناکام طریقے سے بچانے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ جیسے آج سرکاری ادارے اپنی بقا کے لیے نجی کاری کے پھیلتے جال میں خود کو ناتواں اور بے بس ہاتھ پیر مارے ہوئے اپنی آخری سانسیں گن رہے ہیں۔ یہ تو ایسی آگ ہے جن لکڑیوں سے میرا مطلب ہے جن اداراوں سے پیدا ہوتی ہے بعد میں انہیں کو جلاکر راکھ کرتی ہے۔ اور آس پاس پھیلے دھویں میں گھٹتے ہوئے دم کے خلاف خود ہی صف آراء کھڑی ہوجاتی ہے۔ سارا کمال تو اس نیلی چھتری والے کا ہے جو کائنات کے آغاز سے ہی کتنی الٹ پھیر کرچکا ہے۔ چند ثانیے میں خزاں بہار میں اور بہار خزاں میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
یہ خدا کی ہستی بھی ایک عجیب معمہ ہے
خم شمار سے باہر کل تمام تر تنہا
کبھی شےئر بازار کا بیل سرپٹ دوڑتا ہے اور کبھی تو ایسا سہم جاتا ہے جیسے قصاب کی چھریاں نظروں کے سامنے آگئی ہوں۔ کنگ فشر کے خاندان کی ساری انواع پوری دنیا میں کم و بیش نظر آتی ہیں چاہے امریکہ ہو یا ملیشیا۔ عرب امارات ہو یا یوروپ کے سمندر۔ غرض کنگ فشر اپنے چمکیلے اودے اودے پروں کے ساتھ پرواز کرتا دکھائی دیتا ہے اور اپنے سر پر بکھرے چھوٹے چھوٹے پروں کو ہلاتے ہوئے صوفیانہ انداز سے دنیا کو یہ بتاتا ہے کہ سیارہ زحل کے دائروں کی طرح میری اڑان کے دائروں کا شکنجہ بھی بہت بڑا
اودے اودے پروں کے ساتھ پرواز کرتا دکھائی دیتا ہے اور اپنے سر پر بکھرے چھوٹے چھوٹے پروں کو ہلاتے ہوئے صوفیانہ انداز سے
بھی ہوتا ہے کہ کوئی مچھلی اپنی ترکیب کی بدولت کنگ فشر کی سیاہ مضبوط چونچ سے پھسل سے دوبارہ نئی زندگی بھی پالیتی ہے جیسے نو سو چوہے کھاکر بلی حج کرکے اپنے گناہ معاف کروالیتی ہے۔ مندروں، مسجدوں اور درگاہوں میں ماتھا ٹیک کر اور دوزانو ہوکر عقیدت کے پھول چڑھاکر انسان اپنے دانستہ گناہوں کا وزن کم کرکے ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگتا ہے اور جلد ہی دوبارہ گناہوں کا وزن بڑھانے کی تیاری میں جٹ جاتا ہے۔ کیونکہ اچانک کم ہوا وزن بھی انسان کا توازن برقرار نہیں رکھ سکتا ہے نا۔
کل شام ایک جلسہ میں شرکت کی غرض سے جانا ہوا۔ قدم تو خود نہیں اٹھے زبردستی اٹھالے گئے تھے۔ سامنے ہی چمچماتی ہوئی ایمبیسیڈر کار سے ایک صاحب چہرے پر معزز ہونے کا مکھوٹا لگائے اترے۔ اپنی سہیلی کا ہاتھ دباتے ہوئے میں نے دبے انداز میں پوچھا یہ کنگ فشر، میرا مطلب ہے یہ جناب یہاں کیا لینے آئے ہیں؟ اس نے کہا ’’جانتی نہیں یہ بڑی معزز ہستی ہیں۔ کئی اداروں کے واحد ڈکٹیٹر ہیں اور ہر سال ماہ رمضان میں مڈل ایسٹ جاکر بڑی محنت سے کروڑوں کی رقم بٹورلاتے ہیں۔ ان کی جان توڑ محنت کو سراہتے ہوئے سرکار اپنے کئی ادارے ان کے نجی اداروں میں ضم کرچکی ہے۔‘‘ ’’ہاں!‘‘ میں نے کہا ’’کروڑ کو کروڑ ہی کھینچتا ہے۔ ویسے کتنی مچھلیاں کھائیں اس کنگ فشر نے؟‘‘ اور مجمع کے شور میں میری آواز دب گئی۔
کنگ فشر کے شکار کا طریقہ یہ ہے کہ وہ پانی کی سطح سے ذرا اوپر کئی ایک مقام پر ہوا میں اپنے جسم کا توازن قائم رکھنے کے لیے زور زور سے پنکھ مارتا رہتا ہے اور جونہی کوئی مچھلی پانی کی سطح پر آتی ہے وہ یکایک ہی اس پر جھپٹ پڑتا ہے اور ذرا سا خود بھی پانی میں غوطہ لگاتا ہے۔ میرے ذہن سے ان موصوف اور کنگ فشر کا چہرہ متصل ہوچکے تھے۔ ایسا لگا جیسے ان کی گردن پر کسی نے کنگ فشر کا چہرہ اپنی چونچ سمیت چپکادیا ہو۔ ان ہی خیالوں میں الجھی ہوئی تھی کہ مائک سے موصوف اپنی تقریر کے بعد اعلان کرنے لگے۔ ’’بھائیو! ہمارے اداروں میں سارے ہی محنتی اور جوشیلے لوگ اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ ان کی محنت کے بل بوتے پر ہی میں نے آج یہاں سی ایم کی موجودگی میں مزید پانچ سرکاری اداروں کو ہمارے انسٹی ٹیوٹ میں ضم کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ لیکن اس شرط کے ساتھ کہ میں ایسے قابل افراد کا تقرر کروں گا جو معاشی لحاظ سے مستحکم ہوں اور صرف پیسہ کمانا ہی ان کامقصد نہ ہو بلکہ میرا اور میرے اداروں کا نام روشن کرنا ہی ان کا نصب العین ہو……..‘‘
مجھے کنگ فشر تالاب پر منڈلاتا نظر آنے لگا۔ اب مچھلیوں کی خیر نہیں۔ ساتھ ہی مینڈک اور کیکڑے بھی ڈرے سہمے خود کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے نظر آئے۔ اور مائک پر آواز بلند ہوتی گئی۔ کنگ فشر کا اپنا تو کوئی راگ نہیں ہوتا۔ اس کی آواز سریلی تو نہیں ہوتی لیکن قابل سماعت ضرور ہوتی ہے۔ آوارہ گردی کنگ فشر کا پیدائشی حق ہے۔ اس تالاب سے اس دریا اس ندی سے اس نہر۔ غرض جہاں مچھلیاں دیکھی اپنا جادو چلادیا۔ اس کی طبیعت سفاکانہ ہوتے ہوئے بڑی حد تک آوارہ گرد بھی کہلائی جاسکتی ہے۔ آوارہ گردی تو ہر ذی روح کا بھی حق ہے اور قدرت کا بڑا انعام بھی۔ اب یہ الگ بات ہے کہ اس انعام کو کون کہاں اور کیسے استعمال کرتا ہے۔ اگر انسان کی فطرت میں آوارہ گردی نہ ہوتی تو سقراط، ارسطو، سکندر، ابن بطوطہ، واسکوڈی گاما جیسی عظیم شخصیتیں تاریخ میں اپنا نام سنہری حرفوں سے نہیں لکھواتیں۔ واسکوڈی گاما کی آوارگی نے تو وہ کارہائے نمایاں انجام دیا ہے کہ دنیا جتنی حیران ہے اتنی ہی پریشان بھی
ہے۔ آزادی روی اور روایات سے بغاوت صرف وہی لوگ کرسکتی ہے جو آہنی کلیجہ اور کول مائنڈ رکھتے ہیں۔ یہ ایک ایسی نئی پگڈنڈی
مجھے کنگ فشر تالاب پر منڈلاتا نظر آنے لگا۔ اب مچھلیوں کی خیر نہیں۔ ساتھ ہی مینڈک اور کیکڑے بھی ڈرے سہمے خود کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے نظر آئے۔ اور مائک پر آواز بلند ہوتی گئی۔ کنگ فشر کا اپنا تو کوئی راگ نہیں ہوتا۔ اس کی آواز سریلی تو نہیں ہوتی لیکن قابل سماعت ضرور ہوتی ہے۔ آوارہ گردی کنگ فشر کا پیدائشی حق ہے۔ اس تالاب سے اس دریا اس ندی سے اس نہر۔ غرض جہاں مچھلیاں دیکھی اپنا جادو چلادیا۔ اس کی طبیعت سفاکانہ ہوتے ہوئے بڑی حد تک آوارہ گرد بھی کہلائی جاسکتی ہے۔ آوارہ گردی تو ہر ذی روح کا بھی حق ہے اور قدرت کا بڑا انعام بھی۔ اب یہ الگ بات ہے کہ اس انعام کو کون کہاں اور کیسے استعمال کرتا ہے۔ اگر انسان کی فطرت میں آوارہ گردی نہ ہوتی تو سقراط، ارسطو، سکندر، ابن بطوطہ، واسکوڈی گاما جیسی عظیم شخصیتیں تاریخ میں اپنا نام سنہری حرفوں سے نہیں لکھواتیں۔ واسکوڈی گاما کی آوارگی نے تو وہ کارہائے نمایاں انجام دیا ہے کہ دنیا جتنی حیران ہے اتنی ہی پریشان بھی ہے۔ آزادی روی اور روایات سے بغاوت صرف وہی لوگ کرسکتی ہے جو آہنی کلیجہ اور کول مائنڈ رکھتے ہیں۔ یہ ایک ایسی نئی پگڈنڈی بناتے ہیں جس پر صرف صاحب ذہنیت ہی اپنے قدم جماسکتے ہیں۔
اتنا سب کچھ ہوتے ہوئے بھی خانہ بدوشی کی لذت سے آشنا کنگ فشر بنا قطب نما کے اور کیمرے کے یہ جان لیتا ہے کہ کس تالاب میں کس قسم کی مچھلیاں ہیں۔ جلدی پھنسنے والی مچھلیوں کے پاس یہ فوراً پہنچ جاتا ہے۔ جس طرح سرمایہ دار دم توڑی فیکٹریوں و کارخانوں کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ میں نے کنگ فشر کو کبھی دوربین لگائے نہیں دیکھا۔ پھر بھی وہ تمام حشرات الارض پر بھی اپنی دور رس نگاہیں خاطر جمع رکھتا ہے۔ تاکہ بوقت ضرورت ان سے بھی استفادہ حاصل کرسکے۔ جیسے مرکزی حکومت تمام ریاستوں میں جاری قانونی و غیر قانونی حرکات سے باخبر ہوتی ہے اور جب جنہیں اپنے جال میں پھانسنا ہو تب ان پر اپنا شکنجہ کستی ہے۔
کنگ فشر اپنا گھونسلہ دریائی کناروں کی زمین میں سرنگ کھودکر بناتا ہے۔ آج ملک میں ایسی کئی سرنگیں دکھائی دے رہی ہیں۔ اس کی رفتار قابل تعریف سہی لیکن یہی حال رہا تو تالاب کی مچھلیاں آنے والی نسلوں کے لیے قصہ پارینہ بن جائیں گی۔ میرے ذہن میں انگریزوں کی آمد سے قبل کا ہندوستان فلیش بیک میں ابھرنے لگا۔ اپنی اپنی ریاستوں کو بچانے، دولت و اقتدار کی ہوس کے بھوکے راجے مہاراجے ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتے دکھائی دینے لگے اور کنگ فشر اپنی چونچ میں سرخ و سفید پٹیوں اور ستاروں سے مزین پرچم لے کر تالاب کی طرف بڑھتا دکھائی دیا۔ اف…….. چھوڑو بھی یہ سب……… سارے کام دھرے پڑے ہیں۔ میں نے گاڑی کی رفتار بڑھادی۔
ایک دن تالاب سے گزرتے وقت میں نے اپنی سہیلی سے کہا ’’کیا تم نے کبھی سوچا ہے کہ ایک دن اس تالاب کی ساری مچھلیاں ختم ہوجائیں گی اور صرف کنگ فشر ہی نظر آئیں گے اور ہم اپنے بچوں سے کہیں گے کہ دیکھو یہ تھیں سنہری، روپہلی اور قوس قزحی مچھلیاں جو پانی کی دنیا کو اپنا سب کچھ سمجھتی تھیں۔ کائی کھاکر پانی کو صاف و شفاف بناتی تھیں۔ سارے بھید بھاؤ سے پرے تالاب کی ترقی کے لیے کوشاں رہتی تھیں۔ لیکن اس نیلے چمکیلے پروں والے کنگ فشر نے ساری مچھلیوں کو ختم کرکے صرف اپنے دو انڈوں کی پرورش کی ہے۔‘‘ ’’میں اس موضوع پر کوئی گفتگو نہیں کرنا چاہتی۔‘‘ اس نے نیل کٹر سے اپنے ناخنوں کو شیپ دیتے ہوئے لاتعلقی ظاہر کی۔
’’آخر کیا راز چھپا ہے اس کے نیلے پروں میں؟‘‘ میں نے محلے کے عمر رسیدہ چچا جان سے پوچھا جو پیکر دیو جانسن بنے کمبل اوڑھے کمرے کے ایک گوشے میں پڑے رہتے تھے۔ جن کی آنکھیں زمانے کے اتار چڑھاؤ کی طرح ہمیشہ نیچے اوپر ہوا کرتی تھیں۔ ’’اب کیا بتائیں بی بی۔ دلدل میں اگی خوبصورت ہری گھاس کو دیکھ کر حیوانات تو پھنس ہی جاتے ہیں۔ اب مچھلیاں تو مچھلیاں ہی ٹھہریں۔ نیلے رنگ میں سماجانے کو ہی اپنی نجات سمجھتی ہیں۔ لیکن نہیں جانتیں کہ یہ چکر ہے اور بڑا گھماؤ دار چکر ہے۔
یہ فلک تو بلاتا ہے تمہیں ارض میں سمونے کے لیے
’’اور چچا کنگ فشر کے انڈے……….؟‘‘
میرا سوال چچا کے اوڑھے کمبل سے ٹکراکر واپس آگیا۔

*****

Viewers: 1170
Share