سائنس اور جدید تعلیم کا عام کرنا سر سید کا مشن تھا : شاہد صدیقی
سر سید ایک فرد نہیں بلکہ تحریک کا نام ہے: شفیق الرحمن برق
رپورٹ ؛ تابش فرید
میرٹھ ۱۷؍ اکتوبر ۲۰۱۱ء
سرسید کی سوچ سائنسی تھی اورجدید تعلیم عام کرنا ان کا مشن تھا جو آج بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جو سرسید کے وقت میں رکھتاتھا۔ سرسید کی اسی سوچ کو عام کرنا ان کو سچا خراج عقیدت ہوگا۔انہوں نے مزید کہاکہ عنقریب سر سید کی200ویں سالگرہ منائی جائے گی۔لیکن کیا ان دو سو سالوں میں ہم نے وہ ترقی کی جو سر سید چاہتے تھے۔ سر سید کا مقصد ہر شہر،گاؤں اور محلے میں تعلیم گاہ کھولنا اور تعلیم کو عام کرنا تھا۔ ابھی ہم لوگ بہت پیچھے ہیں۔ ہم سب کو مل کر سر سید کے مشن کو عام کرنا ہوگا۔یہ الفاظ ’’نئی دنیا‘‘ کے مدیر اور راشٹریہ لوک دل کے جنرل سیکریٹری شاہد صدیقی کے تھے، وہ شعبۂ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اور انجمن فروغ اردو کے باہمی اشتراک سے پریم چند سیمینار ہال میں منعقدہ جشن سر سید تقریبات سے بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔
اس موقع پر ممبر آف پارلیا منٹ محترم شفیق الرحمن برق نے کہا کہ سر سید ایسے زمانے میں سامنے آئے جب قوم بے سہارا اور تعلیم کے مقصد سے بے بہرہ تھی۔انہوں نے تعلیم اور بالخصوص جدید تعلیم کی وکالت اور ادارہ قائم کرکے یہ ثابت کردیا کہ وہ محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک تحریک تھے۔
شیخ الجامعہ ڈاکٹر وپن گرگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ سرسید ایک ماہر تعلیم اور ہندوستان میں جدید تعلیم کے بانی تھے۔ان کے نظریات کو عام کرنے کی ضرورت ہے اور سر سید ایوارڈ کے لیے جن ناموں کا انتخاب کیا گیا وہ مناسب ہیں۔ڈاکٹر معراج الدین نے کہا کہ سرسید نے علی گڑھ کالج کی بنیاد رکھ کر ہندوستان کی زوال آمدہ قوم کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لئے سردھڑ کی بازی لگائی تھی۔صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری نے سرسید تقریبات کے معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان تقریبات کے مقاصد پرروشنی ڈالی اور کہا کہ ان تقریبا ت سے طلبہ میں نہ صرف معلومات کا اضافہ ہوتا ہے بلکہ ان میں اتحادو یگانگت اور ملک وقوم سے محبت ووفاداری کا جذبہ پیدا ہوتاہے۔
اس سے قبل شعبہء اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ اور انجمن فروغ اردو میرٹھ کے باہمی اشتراک سے منعقد ہورہے ہفت رزہ جشن سرسید تقریبا ت کا آج شعبہء اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ کے پریم چند سیمنار ہال میں صبح ساڑھے گیارہ بجے اختتامی جلسہ منعقد ہوا۔ جس کے صدارت کے فرائض پروفیسر آر ایس اگروال(ڈین فیکلٹی آف آرٹس)نے اور نظامت کے فرائض محتر م آفاق احمد خاں نے انجام دیئے۔ استقبالیہ کے رسم ذیشان خاں نے اور شکریہ کی رسم طالب زیدی نے اداکی۔ جبکہ ڈاکٹر وپن گرگ( شیخ الجامعہ چودھر ی چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ) محتر شاہد صدیقی (مدیر اعلیٰ نئی دینا دہلی) محترم شفیق الرحمن برق (ایم پی) اور ڈاکٹر معراج الدین (سابق وزیر حکومت اتر پردیش)مہمانان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔
تقریب کا آغاز امیر احمد نے تلاوت کلام پاک سے کیا اور ہدیۂ نعت حیدرخاں نے پیش کیا۔ مہمانوں نے شیخ الجامعہ کے ساتھ ملکر شمع روشن کی اور گلدستوں سے مہمانوں کا استقبال کیا گیا۔ مسلم گرلس ڈگری کالج بلند شہر کی طالبات نے دعا اور قومی گیت نیز سعید سہارنپوری نے خوبصورت اندازمیں غزل پیش کی۔محترم شاہد صدیقی نے کہا کہ۔ محترم شفیق الرحمن برق نے کہا کہ سرسید ایسے زمانے میں سامنے آئے پروفیسر آر ایس اگروال نے اپنے صدارتی خطبہ میں تقریبات کی مجلس منتظمہ کو مبارکبا د دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو بلندیوں تک لے جانے کے لئے آج سرسید جیسے ماہرین تعلیم کے نظریات کو ہر فردتک پہنچانا ضروری ہے۔
دریں اثناء مظفر نگر سے شائع شدہ ہفت روزہ اخبار لحارث ٹائمز اردو کا رسم اجراء بھی عمل میں آیا اور چھ افراد کو سرسید ایوارڈ اور کوئز وتحریری مقابلہ کے چالیس کامیاب طلبہ وطالبات کو اعزاز سے نوازا گیا۔سرسید ایوارڈ میں پدم شری حکیم سیف الدین کو لائف ٹائم اچیومنٹ، زہیر بن صغیر (ڈی ایم سہارپنور) کو انتظامی امور، پروفیسر قاضی زین الساجدین کو اسلامی تعلیمات، محمد متین انصاری کو پرئمری تعلیم، افخار احمد خاں کو سماجی خدمات اور سرسید ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کو طبی خدما ت کے لئے اعزاز دیا گیا۔ تحریر مقابلہ میں بی اے سطح پر ثنا خان، جوہی زیدی، شاہنما پروین، ایم اے سطح پر عامر نظیر، چاندی عباسی، سمیع اللہ اور ایم فل سطح پر ساجد علی، فرح ناز اور نصر عالم کو باالتدریج پہلے دوسرے اور تیسرے انعامات سے نوازا گیا۔کوئز میں حمیدیہ گرلس انٹر کالج میرٹھ نیوہورائزن پبلک اسکول میرٹھ حسنہ بیگم، اردو میموریل ہائی اسکول میرٹھ اسلامیہ مسلم گرلس انٹر کالج سہارنپور نواب عظمت علی خاں، گرلس ڈگری کالج مظفر نگرمسلم گرلس ڈگری کالج، بلند شہر اور شعبہء اردو چودھر ی چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ کے ۳۱؍ طلبہ وطالبات نیز سپر کوئز میں حاضر ین میں سے سات افراد کو انعامات سے نوازاگیا۔
اس موقع پر ایشور چند گمبھیر، سلیم سیفی، ڈاکٹر ارشد اقبال، محمدارشد، اکرام بالیان، مرزا منہاج، بیگم شہناز احمد، قمر النساء زیدی، ساجد علی، سیداطہرالدین،جی ایم مصطفی،یشویر سنگھ، کنورشاہد، نعیم صدیقی، رخسانہ عثمانی، صبیحہ خاتون، تسلیم جہاں، مزمل، نجم الحسن سمیت یونیورسٹی کے طلبہ وطالبات اور عمائدین شہر نے کثیر تعدا د میں شرکت کی۔





on
on

Nasir bhai! Khabar sha-e karne ka bahut shukriya.
good and excellent……….