Fan aor Fankar | Report | کہا نی کار سماج میں پھیلی برائیوں پر کاری ضرب لگانے کا کام کرتا ہے


Dr.Aslam Jamshedpuri and (R t L)Khursheed Hyat ,Mr.Bashir Malerkotlavi,Sabir Goodur,S.Rizwan,Dr.Anwar Pasha, Mr.A k Singh(F.C), Dr.Atul Krishn

رپورٹ: اسلم جمشیدپوری۔ میرٹھ16؍ نومبر2011

کہا نی کار سماج میں پھیلی برائیوں پر کاری ضرب لگانے کا کام کرتا ہے: ڈاکٹر انور پاشا
ہندوستان اور ماریشس کے درمیان اردوپُل کا کام کرتی ہے۔: ڈاکٹر صابر گودڑ

جس طرح محکمہ موسمیات میں نصب آلہ زمین کی معمولی لغزش اور درجۂ حرارت میں معمولی کمی و بیشی کو محسوس کرلیتا ہے اسی طرح ادیب سماج میں پھیلی چھوٹی سے چھوٹی خرا بی کو پہچان کرسماج کے بے شمار افراد کو اپنی تخلیقات کے ذریعہ آگاہ کر دیتے ہیں۔ یہ الفاظ اردو اکادمی ،لکھنؤ اور فخرالدین علی احمد میمو ریل کمیٹی کے سکریٹری ایس رضوان کے تھے۔شعبہ اردو میں منعقدہ ’’فن اور فن کار‘‘ سلسلے کے پہلے پروگرام میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے اس پرو گرام کا مقصد تین مختصر لفظوں میں بیان کرتے ہو ئے کہا کہ اس کا مقصد سنو ،سوچو اور سمجھو ہے۔انہوں نے شعبۂ اردو ،یونیورسٹی کی تعریف کرتے ہو ئے یہ یقین دہانی کرا ئی کہ عنقریب اتر پردیش اردو اکادمی اور فخرالدین علی احمد میمو ریل کمیٹی کے مشترکہ مالی تعان سے ایک عظیم الشان ادبی تقریب منعقد کی جائے گی۔جس میں فخر الدین علی احمد میمو ریل کمیٹی کے چئیر مین محترم صلاح الدین صدیقی اور اکادمی کی نائب صدر محترمہ ترنم عقیل صاحبہ بھی شرکت کریں گی۔
تقریب کا آ غاز ڈاکٹر آصف علی نے تلا وت کلام پاک سے کیا ۔مہمانوں نے مل کر شمع روشن کی اور سعید احمد سہارنپوری نے غزل پیش کی۔ بعد ازاں پرو گرام کے ناظم اور شعبۂ اردو کے صدر ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری نے ’’فن اور فن کار‘‘ سلسلے کے مقاصد کی وضاحت کرتے ہو ئے کہا کہ اس کا مقصدمصنف اور قاری کے درمیان کی خلیج پاٹ کر ان کو براہ راست مصنفوں سے فن کی باریکیوں کو سمجھنا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس سلسلے کے تحت ہر ماہ کسی مخصوص صنف یا موضوع پرچنندہ مصنفین کو براہ راست قارئین سے رو برو کرایا جائے گا ۔
آج کی تقریب افسانے کے لیے مخصوص اور دو اجلاس پر مشتمل تھی ۔پہلے اجلاس کی صدارت کے فرائض ڈاکٹر انور پاشا،(جے این یو ،دہلی)بشیر مالیر کوٹلوی، پنجاب،خورشید حیات(چھتیس گڑھ) ڈاکٹر صابر گو دڑ( ماریشس) اور محترم اے۔کے سنگھ( فائنانس کنٹرولر،سی سی ایس ،یو)نے مشترکہ طور پر انجام دیے۔اس اجلاس کی پہلی کہا نی’’عید گاہ سے وا پسی‘‘ عنوان سے ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے پیش کی جو تین نسلوں کا احاطہ کرتی ہے۔یہ کہانی نئی تکنیک کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔اس کا موضوع عصر حاضر کا اہم مسئلہ فساد ہے جو آہستہ آہستہ دیہات میں بھی پیر پسار رہا ہے۔ڈاکٹر اتل کرشن نے اپنی کہا نی میں قومی کرادر کی تشکیل کے لیے اخلاقی و سماجی اقدارکے احیاء پرزور دیا۔اور بتایاکہ نوجوان نسل ان کے ذریعے مخا لف حالات میں بھی کامیابی کے اعلیٰ مدارج طے کر سکتی ہے۔پروفیسر ابن کنول،(دہلی) کی کہانی کا عنوان ’’آنکھیں جو سیاہ پوش ہو ئیں‘‘ اور موضوع آج کی عورت تھا۔عورت جو صدیوں سے مردوں کے مظالم کاشکار ہو تی رہی ہے وہ ایثار اور قربانی کا ایسا نادر نمو نہ ہے جس کا ثانی دنیا میں موجود نہیں۔اجلاس کی آخری کہانی’’ہستی اپنی حباب کی سی ہے‘‘ تھی جو ماریشس سے تشریف لائے ڈاکٹر صا بر گودڑ نے پیش کی۔اس میں انہوں نے میرؔ کے مصرعہ سے فائدہ اُ ٹھا کر انسانیت کی راہ میں حائل تمام بری اقدار کی وضاحت کرتے ہو ئے ان سے دور رہنے کا درس دیا۔
کہا نیوں کے اختتام پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے (جے۔این ۔یو، دہلی) سے تشریف لا ئے ڈاکٹر انور پاشا نے کہا کہ آج عالمی سطح پر سب سے بڑا خطرہ انسانیت کے مفقود ہو نے کا ہے جسے بچانے میں سب سے بڑاکردار ادب بالخصوص کہانی ادا کرسکتی ہے۔کیونکہ کہا نی ہمیں آئینہ دکھاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سائنس اور ادب کا بظا ہر کوئی رشتہ نہیں لیکن بباطن دونوں میں ایک مضبوط رشتہ ہے۔جس طرح ڈا کٹرانسانی جسم میں موجود امراض کی شناخت کر کے اسے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح کہا نی کار سماج میں پھیلی برائیوں کی بروقت شناخت اور ان پر کاری ضرب لگانے کی سعی کرتا ہے۔ پرو فیسر وائی وملا نے کہا کہ کہا نیاں عموماً مسائل یاحل میں سے کسی ایک رخ کو آئینہ کرتی ہیں جب کہ مسائل اور حل دو نوں کو ملا کر کہانی لکھی جانی چاہیے۔خورشید حیات نے کہانیوں پر فرداً فرداً تبصرہ کرتے ہو ئے کہا کہ پروفیسر ابن کنول کی کہانی کے اختتام میں عورت کا جو چہرہ سامنے آ یا ہے وہ انتہا ئی عبرت ناک ہے۔ان کے علا وہ ڈاکٹر شاداب علیم،بشیر مالیر کوٹلوی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
دوسرے اجلاس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شیخ الجامعہ ڈاکٹر وپن گرگ اور صدور کی حیثیت سے ڈاکٹر پردیپ جین، طالب زیدی، ایس رضوان اورسیف بابر شریک ہوئے۔جب کہ نظامت کے فرائض مشہور ادیب مسعود اختر نے بحسن و خوبی انجام دیے۔بعد ازاں خورشید حیات نے اپنی کہانی’’آدم خور‘‘ پیش کی۔یہ کہا نی ختم ہو تی انسانیت کو آئنہ دکھاتی ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ آدم خور قبیلہ آج بھی زندہ ہے۔ہر ملک میں ،ہر شہر میں اور ہر آنگن میں جو مار ڈالٹا ہے اور تہذیبی روایات کا چہرہ مسخ کردیتا ہے۔انجم عثمانی( دہلی) کی کہانی کا عنوان ’’ وہ ایک بو ڑھا‘‘ اور مو ضوع شہری زندگی کی تنہا ئی اور بڑے شہروں میں بوڑھوں کی ابتر ہوتی صورت حال تھا۔آخری کہانی بشیر مالیر کوٹلوی کی کہانی’’حرام زادہ‘‘ تھی جس میں تقسیم وطن کے ایک ہولناک قصے کو بیان کیاگیا۔اس مو قع پر مہمان خصوصی شیخ الجامعہ (سی سی ایس یو) نے ’’فن اور فن کار‘‘ سلسلے کی شروعات پر اراکین شعبہ کو مبارکباد دیتے ہو ئے کہا کہ یہ سلسلہ مصنفین اور قارئین کے درمیان ایک مضبوط اور زندہ رشتہ قائم کرنے کے سلسلے میں مستحسن قدم ہے۔ڈاکٹر پردیپ جین ،طالب زیدی اور ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
پروگرام میں پروفیسر شہناز انجم ،ڈاکٹر ارادھنا،ڈاکٹر بشریٰ بانو، ڈاکٹر ہما،ڈاکٹر یونس، ڈاکٹر یوسف، ذیشان خان، اکرام بالیان، انجینئر رفعت جمالی، ساجد علی،تسلیم جہاں، مرتضیٰ، صبیحہ بانو، عمران چو ہان،رام کمار، مہیش کمار،حاجی مشتاق سیفی، سلیم سیفی، سید اطہر الدین، اور کثیر تعداد میں عمائدین شہر اور طلبا و طالبات نے شرکت کی۔

 

Viewers: 218
Share