کلکتہ گرلس کالج میں دو روزہ قومی سیمینار بعنوان ’’ اردو کی معروف خواتین افسانہ نگار اور ان کی خدمات‘ ‘ کا انعقاد
(ڈاکٹر نعیم انیس ): شعبۂ اردو ‘ کلکتہ گرلس کالج کے زیر اہتمام مورخہ ۲۰؍دسمبر ۲۰۱۱ء کو سہ پہر ۳؍ بجے مسلم انسٹی ٹیوٹ‘ کلکتہ کے قادر نواز ہال میں دو روزہ قومی سیمینار کا افتتاح ہوا۔ افتتاحی دورانیے کی صدارت پروفیسر سیّد منال شاہ القادری ‘ وائس چیئر مین ‘ مغربی بنگال اردو اکاڈمی نے انجام دی۔ کالج کے شعبۂ اردو ‘ اکانومکس اور تاریخ کی طالبات نے علی سردار جعفری کے ’’ترانۂ اردو‘‘ کو اپنی مترنم آواز میں پیش کر تے ہوئے پروگرام کا آغاز کیا۔ نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے سیمینار کنوینر ڈاکٹر نعیم انیس نے مہمانان کو بتایا کہ کلکتہ گرلس کالج کی 48 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ شعبۂ اردو کے تحت دو روزہ قومی سیمینار کا اہتمام کیا جارہا ہے ۔ سیمینار کا عنوان طے کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ مغربی بنگال میں جہاں مرد افسانہ نگاروں نے اردو کے افسانوی ادب میں اہم اضافہ کیا‘ وہیں یہاں کی خواتین افسانہ نگاروں نے بھی اردو افسانے کی اہم خدمت انجام دی۔ مگر مقامِ افسوس ہے کہ مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والی خواتین افسانہ نگاروں کو اہلِ نقد و نظر نے وہ مقام نہیں دیا جس کی وہ مستحق تھیں۔ آج کا یہ سیمینار ہرچند کہ اردو کی معروف خواتین افسانہ نگاروں کی خدمات کا احاطہ کرے گا مگر سیمینار کے دوران مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والی خواتین افسانہ نگاروں کے فن کو بھی خصوصیت کے ساتھ اجاگر کیا جائے گا۔ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر رگھو ناتھ دتّا نے خیرمقدمی کلمات سے نوازتے ہوئے خصوصیت کے ساتھ مغربی بنگال میں اردو کی تاریخ کا جائزہ پیش کیا۔ ڈاکٹر دتّا نے فورٹ ولیم کالج کی ادبی خدمات کا ذکر کیا اور ساتھ ہی اس بات پر فخر بھی محسوس کیا کہ اردو صحافت کا آغاز بھی اسی شہرِ نشاط کلکتہ سے ہواتھا۔ شانتی رنجن بھٹاچاریہ کی اردو زبان و ادب کی بے لوص خدمات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے شانتی بابو کو خراجِ عقیدت پیش کیا کہ شانتی بابو نے اردو اور بنگلہ زبانوں کی دوریاں مٹانے کی اپنی بساط بھر ہر ممکن کوشش کی اور ان کے بعد اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ساتھ ایک خوبصورت لسانی ہم آہنگی بھی برقرار رکھیں۔ حیدر آباد سے تشریف لائے پروفیسر محمد ظفر الدین ‘ صدر شعبۂ ترجمہ ‘ اور ڈین ‘ اسکول السنہ ‘ لسانیات اور ہندوستانی علوم ‘ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے اردو کی معروف خواتین افسانہ نگاروں کا مختصراً ذکر کیا اور ان کی خدمات کا اعتراف کیا۔ انھوں نے کہا کہ اردو فکشن میں خواتین کے تعلق سے اور خواتین کے ذریعہ لکھے جانے کی روایت بہت قدیم ہے ۔ اردو کے ابتدائی فکشن نگاروں میں ہمیں عورت کا مخصوص تصور ملتا ہے ۔ عورتوں کے مسائل پر انھوں نے نہ صرف روشنی ڈالی بلکہ ان کے حل کے لیے اپنی رائے بھی پیش کی ۔ بعد میں جب خواتین قلم کاروں نے فکشن کے میدان میں اپنے قلم کا استعمال کرنا شروع کیا تو ہندوستانی عورت کے مسائل اور بھی واضح طور پر عوام کے سامنے آئے۔ مجھے توقع ہے کہ اس دوروزہ سیمینار میں اس منفرد موضوع پر اچھے مقالے پیش کیے جائیں گے ۔پروفیسر موصوف ترانۂ اردو کی پیشکش سے اس قدر محظوظ و متاثر ہوئے کہ انھوں نے ترانہ خواں تمام بچیوں کو ’’دیوانِ غالب‘‘ کا ایک مخصوص نسخہ جو تین رسم الخط اردو ، دیوناگری اور رومن میں ہے‘تحفتاً دینے کا اعلان کیا۔ پہلے دورانیے میں کل چار مقالے پیش کیے گئے۔ پہلا مقالہ ڈاکٹر اسلم جمشید پوری ‘ صدر شعبۂ اردو ‘ چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی ‘ میرٹھ نے ’’اتر پردیش میں اردو کی نئی خواتین افسانہ نگار‘‘ کے عنوان سے پیش کیا۔ ڈاکٹر زین رامش ‘ شعبۂ اردو ‘ ونو با بھاوے یونیورسٹی ‘ ہزاری باغ ‘ جھارکھنڈ نے ’’جھارکھنڈ کی اہم خواتین افسانہ نگار‘‘ ، ڈاکٹر محمد کاظم ‘ شعبۂ اردو ‘ دہلی یونیورسٹی نے ’’ذکیہ مشہدی کے افسانوں میں عورتوں کے مسائل ‘‘ اور نوشاد مومن ‘ کلکتہ نے ’’ بنگال کی ایک معتوب افسانہ نگار : طاہرہ دیوی شیرازی ‘‘ کے عناوین سے اپنا مقالہ پیش کیا۔ محترمہ دیپا مکھوپادھیائے ‘ رکن ‘ گورننگ باڈی ‘ کلکتہ گرلس نے اردو میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہر عورت میں ایک افسانہ نگار ‘ ایک کہانی کار چھپی ہوتی ہے ۔ ماں جب اپنے بچے کو لوری اور کہانی سناتی ہے تو اس میں بہت سی کہانیاں اس کے دماغ میں چل رہے واقعات کی پیداوار ہوتی ہیں۔ مہمانِ خصوصی پروفیسر محمد سلیمان خورشید ‘ جنرل سکریٹری دی مسلم انسٹی ٹیوٹ ‘ کلکتہ نے مہمانوں سے مسلم انسٹی ٹیوٹ کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ کلکتہ کے مسلمانوں کا تاریخ ساز ادارہ ہے ۔ اس کی حیثیت ہمہ جہت ہے کیوں کہ یہاں ۱۶؍ذیلی شعبوں کے تحت مختلف ادبی ‘ ثقافتی‘ تعلیمی ‘ کھیل کود اور سماجی سرگرمیاں عمل میںآتی ہیں۔ مسلم انسٹی ٹیوٹ نے اپنے قیام کے بعد سے ہی اپنے دروازے دوسرے اداروں کے لیے بھی کھول رکھے ہیں جو ان سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ یہی سبب ہے کہ آج کلکتہ گرلس کا لج کا سیمینار مسلم انسٹی ٹیوٹ میں منعقد کیا گیا ہے اور ہمیں اس بات کی مسرت ہے کہ اس تاریخ ساز سمینار میں ہمارا ادارہ بھی تعاون کر رہا ہے ۔ آپ حضرات کو یہ جان کر بھی خوشی ہو گی کہ اس ادارے میں اردو کے علاوہ انگریزی ‘ بنگلہ ‘ ہندی اور دیگر زبانوں کے سیمینار بھی اسی سرگرمی کے ساتھ منعقد ہوتے ہیں۔ صدرِ دورانیہ پروفیسر (ڈاکٹر) منال شاہ القادری‘و ائس چیئرمین‘ مغربی بنگال اردو کاڈمی نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ ان کے زمانے میں فکشن کا مطالعہ معیوب تسلیم کیا جاتا تھا۔ مگر فکشن میں دلچسپی کے سبب وہ رات کے وقت چھپ کر بستر میں افسانے پڑھا کرتے تھے۔ افسانے کی سماج پر پڑنے والے اثرات کے پیشِ نظر انھوں نے موجودہ افسانہ نگاروں سے کہا کہ آپ ایسا فکشن تحریر کریں جو ادب میں اضافے کے ساتھ اپنے قاری کو خصوصاً نوجوان نسل کو راہِ راست پر لانے میں ممد و معاون ہو۔
سیمینار کا دوسرا دورانیہ ۲۱؍دسمبر ۲۰۱۱ء کو صبح دس بجے ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کی صدارت میں ہوا۔ اس دورانیہ میں کل چار مقالے پڑھے گئے۔ پہلا مقالہ ڈاکٹر دیبا ہاشمی ‘ کلکتہ نے ’’ممتاز شیریں کی افسانہ نگاری ‘‘کے عنوان سے پیش کیا ۔ دوسرا مقالہ ڈاکٹر دبیر احمد ‘ شعبۂ اردو ‘ مولانا آزاد کالج ‘ کلکتہ نے ’’قرۃ العین حیدر کے افسانوں کا سماجی پس منظر‘‘ کے عنوان سے پیش کیا۔ تیسرا مقالہ ڈاکٹر عاصم شہنواز شبلی ‘ شعبۂ اردو‘ مولانا آزاد کالج ‘ کلکتہ نے ’’شائستہ فاخری کی افسانہ نگاری ‘‘ کے عنوان سے پیش کیا۔ ڈاکٹر شبانہ نسرین ‘ شعبۂ اردو‘ لیڈی برابورن کالج ‘ کلکتہ نے ’’شہیرہ مسرور کی افسانہ نگاری‘‘ کے عنوان سے اس دورانیے کا چوتھا اور آخری مقالہ پیش کیا۔ دورانیے کی نظامت ڈاکٹر یاسمین اختر نے انجام دیے۔ دن کا دوسرا دورانیہ ۱؍ بجے شروع ہوا جس میں کل تین مقالے پڑھے گئے ۔ ڈاکٹر زین رامش نے دورانیے کی صدارت کا فریضہ انجام دیا۔ اس دورانیے کا پہلا مقالہ ڈاکٹر یاسمین اختر ‘ شعبۂ اردو ‘ کلکتہ گرلس کالج نے ’’عصمت چغتائی کے افسانوں کے سماجی افکار‘‘ کے عنوان سے پیش کیا۔ دوسرا مقالہ ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی ‘ شعبۂ اردو‘ پٹنہ یونیورسٹی نے ’’بہار کی خواتین افسانہ نگار‘‘ کے عنوان سے پیش کیا ۔ تیسرا مقالہ ڈاکٹر ارشاد نیر ‘ نئی دہلی نے ’’دہلی کی خواتین افسانہ نگار‘‘ کے عنوان سے پیش کیا۔
سیمینار کا چوتھا اور اختتامی دورانیہ ظہرانے کے فوراً بعد دوپہر ۳۰۔۲؍بجے شروع ہوا جس میں کل دو مقالے پیش کیے گئے۔ اس دورانیہ کی صدارت کے فرائض پروفیسر شمیم انور ‘ سابق صدر ‘ شعبۂ اردو ‘ کلکتہ یونیورسٹی نے انجام دیے ۔ اس دورانیے کا پہلا مقالہ شاہد اقبال ‘ کلکتہ نے ’’صغریٰ سبزواری کی افسانہ نگار ‘‘ کے عنوان سے پیش کیا جب کہ دوسرا مقالہ ڈاکٹر نعیم انیس ‘ شعبۂ اردو‘ کلکتہ گرلس کالج نے ’’مغربی بنگال کی خواتین افسانہ نگار‘‘ کے عنوان سے پیش کیا۔ تمام دورانیوں کے خاتمے کے بعد صدور حضرات نے پیش کیے مقالوں پر سیر حاصل تبصرہ بھی کیا ۔ سیمینار کے اختتام پر مقررین ‘ شرکاء اور طلبا و طالبات کو اسناد تقسیم کی گئیں۔
***



on
on
