Adil Raza Mansoori | Article | دشت کے پار سمندر بھی ہُوا کرتے ہیں۔

عادل رضامنصوری c/o 413 Mahima Heritage. Central Spine. Vidiya Nagar. Jaypur. Rajisthan. India Ph: 9829088001 Email: aadilmansoori@gmail.com دشت کے پار سمندر بھی ہُوا کرتے ہیں۔ شاعری اور کچھ جو بھی...

عادل رضامنصوری
c/o 413 Mahima Heritage. Central Spine.
Vidiya Nagar. Jaypur. Rajisthan. India
Ph: 9829088001
Email: aadilmansoori@gmail.com

دشت کے پار سمندر بھی ہُوا کرتے ہیں۔

شاعری اور کچھ جو بھی ہو، پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ ’’شاعری احساس کو الفاظ دینے کا نام ہے‘‘۔ اور اس کے اظہار کے لئے وہ جس چیز کا سہارا لیتا ہے وہ ہے ’’لفظ‘‘ اور لفظ کی سب سے بڑی طاقت اُس کی معنی خیزی ہے۔ اس طاقت کو’’شکتی‘‘ کہاگیاہے۔ شکتی وہ طاقت ہے جو ’’لفظ‘‘ کو’’معنی‘‘سے جوڑتی ہے۔’’لفظ‘‘ اور’’معنی‘‘ کے رشتے کے بارے میں ہندوستانی شعریات میں دو نظریئے ہیں، میمانسا‘ والوں کا کہنا ہے کہ لفظ سے معنی کا رشتہ فطری ہے جبکہ ’نیایے‘ والوں کا کہنا ہے کہ لفظ کا معنی سے رشتہ فطری نہیں ہے، بلکہ یہ رشتہ رسمی اور روایتی نوعیت رکھتا ہے۔ کیونکہ اگر لفظ سے معنی کا رشتہ فطری ہوتا تو ایک لفظ کے لئے الگ الگ معنی یا پھر ایک ہی معنی کے لئے الگ الگ لفظ نہیں ہوتے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ لفظ کوئی بے جان حربہ نہیں بلکہ ہر لفظ کا ایک احساسی حلقہ بھی ہوتا ہے، جو اس لفظ کو اپنی آغوش میں لئے ہوتا ہے۔اورترسیل کے دوران لفظ کے ساتھ ہی منتقل ہوتا ہے۔اس لئے فنون میں شاعری سب سے مشکل فن ہے کیونکہ یہ ابلاغ کے لئے لفظ کے زندہ پیکر کو استعمال کرتی ہے۔ اس لئے شاعری میں کبھی ابلاغ سو فیصد نہیں ہوتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ شاعرکوئی نیا لفظ نہیں بناتا اورنہ ہی کوئی نئی چیز تخلیق کرتا ہے۔بلکہ دواشیاء کے مابین ایک ایسا ربط دریافت کرتا ہے جو اس سے قبل دریافت نہیں ہُوا تھا۔ایک اچھا فنکار لفظوں کے استعمال اور تشبیہوں اور استعاروں کی تخلیق میں جدّت سے کام لیتا ہے۔اور انہیں گھسی پٹی صورتوں کے طورپراستعمال نہیں کرتا۔دراصل وہ دوسروں کی نظرسے ماحول کاجائزہ نہیں لیتابلکہ آنکھیں کھول کرخودہرشے کودیکھتا ہے۔ کچھ شعر دیکھئے۔۔۔
’’اُگ رہی ہے تکھن درختوں پر
کچھ پرندے سفر سے آئے ہیں‘‘
’’دھرے ہیں طاق میں ٹھنڈے اندھیرے
دِیا دیکھے زمانہ ہوگیا ہے‘‘
’’سنا ہے بادلوں کی دوستی میں
وہ سارے گھر کو نیلا کر رہی ہے‘‘
’’میں یہاں لکھ رہا ہوں بہتی دھوپ
اور دریا سمجھ رہے ہیں آپ‘‘
’’میں نے گُل کو کیا ہے رنگ آلود
اپنے اُجلے، سفید ہاتھوں سے‘‘
’’زخم کھرچا تو رات بہہ نککلی
ایک سورج گمان میں تھا کہیں‘‘
جب میں ’’کھڑکی میں خواب‘‘ کے لئے نئی آوازوں کی تلاش میں تھا تب ’’سرسبز‘‘ کے مدیر جناب کرشن کمار طور نے پاکستان میں نئی نسل کے جن شعراء کا ذکر کیا ان میں سب سے پہلا نام سیّد کامی شاہ کا تھا۔کامی شاہ سے میری پہچان ’’تجھ بِن ذات ادھوری ہے‘‘ کے ذریعے ہی ہوئی۔ شاعرکے بارے میں جاننے کے تو ہوسکتا ہے کئی طریقے ہوں پر شاعرکوجاننے کاصرف ایک طریقہ ہے اور وہ ہے اس کا کلام۔مندرجہ بالا اشعار پڑھنے کے بعد یہ تو صاف طور پر کہا جا سکتا ہے کہ کامی شاہ کی اپنی ایک نظر ہے اور وہ دو اشیاء میں ایک ایسا ربط دریافت کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں جو ان سے قبل کسی نے نہیں کیاہوتا۔اس کو آسان الفاظ میں تازگی بھی کہا جا سکتا ہے۔
مجھے یہ بات کہنے میں کئی تکلف نہیں کہ کامی شاہ کی لفظیات اور کینوس محدو دہے، پر میرے نزدیک یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔کیونکہ جب میں ماضی قریب کی طرف نظر کرتا ہوں تو مجھے وہاں ایسے چہرے دکھائی دیتے ہیں جو اپنی محدود لفظیات اور محدود کینوس کے باوجود ادب میں زندہ ہیں۔ کامی شاہ کے یہاں جو اطمینان ہے وہ شاید اس بات کے سبب سے ہے کہ وہ کرنا نہیں چاہتا،ہونے کا انتظار کرتا ہے، اس لئے اس کے کلام میں کاری گری نہیں ہے، کیفّیت ہے۔ اور یہ کیفیّت ہی اُس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
یہ بات تو ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ غزلوں کے مقابلے میں نظموں میں انفرادیت کیونکر زیادہ ہوتی ہے، پر اچھی نظم کہنا اچھی غزل کہنے سے زیادہ بڑی آزمائش ہے۔ کامی شاہ کی نظموں نے مجھے زیادہ متاثر نہیں کیا۔یہ بات صحیح ہے کہ غزلوں کے مقابلے میں دیگر شاعروں کے اثرات ان کی نظموں میں کم دِکھائی دیتے ہیں پر جہاں بھی یہ دِکھائی دیتے ہیں ان کی کمزوری سامنے آتی ہے۔ ان کی جو نظمیں مجھے پسند ائی وہ ہیں’’ ایک نظم تمہارے ناخنوں کے نام‘‘۔ ’’اِن دنوں‘‘ جہاں وہ نظم کے بھر پور شاعر کی طرح نظر آتے ہیں۔
کامی شاہ کے پاس نظر،فکر،احساس اور زندہ ذہن کا ایسا توازن ہے جو اُن کے دور تک سفر کرنے کا پتہ دیتا ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ آنے والے وقت میں پاکستان میں جو شعراء اپنے عہد کی نمائندگی کے لئے جانے جائیں گے ان میں ایک نمایاں نام سید کامی شاہ کا ہوگا۔
دُعا گو ہوں کہ اُن کی تلاش جاری رہے۔
***

Viewers: 428
Share