بشارت علی شرر
ہاوسP313/7۔ گلی 6۔ محمد پورہ
فیصل آباد۔ پاکستان
sharar.gee@gmail.com
ایک نظم
خلوتوں کے میلے میں
خواہشیں ادھوری ہیں
جینا اک پہیلی ہے
موت کیوں اکیلی ہے؟
رنجشیں مٹا دی ہیں
حسرتیں لٹا دی ہیں
اک تیرے بچھڑنے پر
سانس ہی بچی ہے بس
اس کو بھی لوٹا دوں گا
خود کو بھی مٹا دوں گا
موت روٹھ بیٹھی تھی
اس کو بھی منالوں گا



on
on

Bohat khoob Basharat sb
Shkria Ahsan bhai