Jamshaid Sahil | Urdu Article | ہم اور ہمارے بچے

جمشید ساحل مدیر ماہنامہ ’’لیہ ٹائمز‘‘ لیہ ۰۳۳۳۶۲۰۱۴۶۴ ہم اور ہمارے بچے جارج واشنگٹن نے کہا تھا ’’زندگی میں تمہارے ارتقاء کا دارو مدار اس بات پر ہے کہ تم...

جمشید ساحل
مدیر ماہنامہ ’’لیہ ٹائمز‘‘
لیہ ۰۳۳۳۶۲۰۱۴۶۴

ہم اور ہمارے بچے

جارج واشنگٹن نے کہا تھا
’’زندگی میں تمہارے ارتقاء کا دارو مدار اس بات پر ہے کہ تم بچوں کے ساتھ کتنی شفقت برتتے ہو،بوڑھوں کی کتنی خدمت کرتے ہو،مصیبت زدوں سے کتنی ہمدردی کرتے ہو اور کمزوروں کے ساتھ کتنے در گذرسے کام لیتے ہو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ تم زندگی میں کبھی نہ کبھی ان سارے مراحل سے گذرو گے‘‘
سوسائٹی برائے تحفظ حقوق اطفال کی طرف سے جاری کی جانے والی سالانہ رپورٹ ’’پاکستان میں بچوں کی صورتحال ۲۰۱۰ ؁ء‘‘میں کہا گیا ہے کہ مہذب ممالک اپنے بچوں کو جائز اور بنیادی حقوق فراہم کرتے ہیں لیکن پاکستان میں بچوں کے مستقبل کو خطرات لاحق ہیں۔
بدقسمتی سے ۲۰۱۰ ؁ء کے دوران شدت پسندی کے ہاتھوں ۹۲ بچوں کی موت واقع ہوئی جبکہ ۱۱۸ شدید زخمی ہوئے۔ ستمبر ۲۰۱۰ ؁ء تک پانچ سال سے کم عمر کے ۵.۲ملین بچوں کو غذائی قلت کے سنگین خطرے کا سامنا تھا۔گھروں، گلی کوچوں اور بدقسمتی سے فوجداری نظام انصاف کے اداروں میں بچوں پر تشدد کا سلسلہ جاری رہا اس سال ۱۸۷ بچوں نے خود کشی کی جبکہ ۸۰ نے اقدام خود کشی کیا۔
یہ ہے ہمارا چہرہ جس پر ابھی سے سلوٹیں اُبھر آئی ہیں اور ہم زردی مائل آنکھیں لیے کسی اندھیرے غار میں اپنے اپنے خدوخال ٹٹول رہے ہیں۔بچے جو اپنے ماں باپ کی کُل کائنات اور انکے مستقبل کا سہارا ہوتے ہیں محض غریبی اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے معاشی تنگدستی کا دوچار ہو کر کسی ایسی سمت نکل جاتے ہیں جہاں سے واپسی کے تمام راستے ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتے ہیں۔
بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی بنیادی وجہ والدین کی غربت اور ذرائع آمدن کے نامساعد حالات ہوتے ہیں جس سے انکی تعلیم کا جاری رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ایسے حالات میں والدین اپنے بچوں کو معمولی ذرائع آمدن کے حصول کے لیے ایک ایسی دُنیا میں دھکیل دیتے ہیں جہاں حال اور مستقبل اُنکے پیٹ کا انیدھن بن جاتے ہیں۔
شہروں میں ان بچوں کودستیاب چھوٹے موٹے مقامی ہنر مندی کے مراکز میں معمولی رقم کی خاطربھیج دیا جاتا ہے یاوہ چائے خانوں میں چائے تقسیم کرتے کرتے ایک میز سے دوسری میز تک اتنے خانوں میں بٹ جاتے ہیں کہ انھیں سمیٹنا نہ تو والدین کے بس میں اور نہ اُس سوسائٹی کے بس میں ہوتا ہے۔دیہی علاقوں میں صورتحال اس سے ابتر ہے وہاں بچوں کو ابتداء سے ذرائع آمدن کا ایک بڑا ذریعہ تصور کیاجاتا ہے جس سے ہمارے دیہی علاقے برسوں سے کسی بڑی تبدیلی سے محروم چلے آرہے ہیں۔بچوں کو تعلیم کی بجائے ابتداء سے ہی اپنے ساتھ کام کاج میں شامل کر لینے سے ان دیہی علاقوں میں شرحِ خواندگی مایوس کُن ہے۔
ہر سال ۱۲ جون کو دُنیا بھر میں بچہ مزدوری کے خلاف دن منایا جاتا ہے سمینار،ریلیاں اور دیگر تقریبات کا اہتمام ہوتاہے۔ مقررین بھرپور جوش و جذبے سے بچہ مزدورں کے متعلق قوانین پر روشنی ڈالتے ہیں۔
پاکستان میں بچہ مزدوری کے رجحان کی مذمت کرتے ہیں اور تقریب ختم ہونے کے بعد یہ جوش وجذبہ ماندپڑ جاتا ہے۔ ہر گلی کوچے میں،سڑک کنارے،سگنل پر، ورکشاپوں میں،گھروں میں اور ہوٹلوں میں کام کرنے والے مزدور بچے ۱۲ جون کے دن باقی ۳۶۴ دنوں کی طرح مشقت کرتے رات کو تھکے ماندے سو جاتے ہیں۔
یہ ہے ہمارا چہرہ جس پر ہم میک اپ کرنے کی کوشش میں اپنے اصلی خدوخال بھولتے جارہے ہیں۔ پاکستان کو آج تک مہذب ممالک کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیااس کی بنیادی وجہ ہمارے وہ قوانین ہیں جو کتابیں اوڑھے مقفل لائبریروں میں گرد سے اٹے پڑے ہیں اور ریاست انہیں عملداری کے متضادتصور کرتی ہے۔
لیکن جہاں معاملہ بچوں کا آجاتا ہے وہاں انفرادی طور پر قانون بنائے جاتے ہیں جن کا بنیادی مقصد بچوں کی تعلیم و تربیت اور ایک عمدہ مستقبل کی شروعات ہوتی ہیں اور جب ان تمام عوامل سے چشم پوشی کرتے ہوئے اپنی دانست میں بچوں کو کام کاج پر لگا دیا جاتا ہے تو اس سے نہ تو حالات بہتر ہوتے ہیں اور نہ ہی ہم مہذب کہلا پاتے ہیں۔ہم مہذب اُس وقت کہلائیں گے جب ہم اپنے بچوں کی پرورش ایک ایسے ضابطہ اخلاق کی روشنی میں کریں گے جو کسی بھی ریاست کی اساس ہوتے ہیں۔
آرتھرای کلارک نے کہا تھا۔
’’ممکن کی حدوں سے آگاہ ہونے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انہیں عبور کر کے ناممکن کی حدوں میں جایا جائے‘‘
***

Viewers: 339
Share