Anjum Usmani | Article | اسلم جمشید پو ری کے افسا نوں میں کردار کی تشکیل: ایک جائزہ

انجم عثمانی انڈیا email: sameer_usmani@yahoo.com 09873187237(M) اسلم جمشید پو ری کے افسا نوں میں کردار کی تشکیل: ایک جائزہ اردو افسانے کے جن برسوں کا تجزیہ کرنا اس سیمینار کا...

انجم عثمانی
انڈیا
email: sameer_usmani@yahoo.com
09873187237(M)

اسلم جمشید پو ری کے افسا نوں میں کردار کی تشکیل: ایک جائزہ

اردو افسانے کے جن برسوں کا تجزیہ کرنا اس سیمینار کا موضوع قرار پایا ہے ،ان ۲۵ برسوں میں جن افسانہ نگاروں نے اپنی تخلیقی توا نا ئی سے افسانے کو افتخار اور اعتبار بخشا ہے ان میں ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری کا نام بہت نمایاں ہے۔
ہر دور کی تخلیقات کے اجتما عی رنگ و رجحان اور مجمو عی ادبی صورت حال میں کسی بھی تخلیق کار کی انفرا یت مستحکم ہونے کی کچھ خاص وجہیں ہو تی ہیں جن کی مدا ولت سے تخلیق کار کا اسلوب، نظریہ اور ذہنی انسلا کات اس کی تخلیقات میں جگہ پاتے رہتے ہیں۔ ہر لکھنے وا لے کا اپنا مزاج،طریقہ کار اور زندگی، سماج اور اپنے تئیں کوئی خا ص رویہ ہوتا ہے۔ پھر ہر کہا نی کے اپنے کچھ تقا ضے ہو تے ہیں لیکن ان سب کے باوصف کسی خاص طریقہ تحریر میں مصنف زیا دہ کھلتا اور زیا دہ موثر انداز سے اپنی بات نبھا پاتا ہے۔
گذشتہ چار دہا ئیوں کی معتدل افسا نوی تاریخ میں اپنے حصے کے برسوں میں ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری نے تقریباً ہر طرح کے افسا نے تحریر کیے۔ طویل،مختصر،بہت مختصر افسا نے مختلف رنگوں میں کئی احساس پر مبنی افسا نے بھی ہیں،واقعاتی بھی، کردار کے حوا لے سے بیان کیے گئے قصے بھی اور چند ایسے شا ہکار بھی جنہیں کسی بھی زا ویے سے پرکھ لیں ان کا تاثر کم نہیں ہو تا۔اگر صرف یہی افسا نے انہوں نے تخلیق کیے ہوتے تب بھی ان کا نام اچھے افسا نہ نگاروں کی مختصر سے مختصر فہرست میں جگہ پاتا۔ ان افسا نوں میں’’تم چپ رہو بیر پال‘‘،’’ دھوپ کا سا یہ‘‘،’’شبراتی‘‘،’’اور’’ لینڈرا‘‘ وغیرہ کے نام لیے جا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری کے افسا نوں میں تنوع ضرور ہے مگر ان کی افسانہ نگاری کے جو ہر ان افسا نوں میں زیا دہ بہتر، مو ثر اور گہرے انداز میں سا منے آ ئے ہیں جن افسا نوں کی بُنت بنیا دی طور پر کسی زمینی قصے یا کسی کردار کے توسط سے تخلیق پاتی ہے۔ اس کی وجہ ان کے مشا ہدے کی وہ گہرا ئی اور وسعت ہے جو مطا لعے سے زیا دہ تجربے اور فکر سے زیادہ جذبے کی شدت سے وجو د میں آ تی ہے۔
ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری قصہ کہنے، کہا نی کے مواد کے طور پر واقعات کے انتخاب، ماحول کی تفصیل اور کردار کی تشکیل سے افسا نے کو سجاتے اور راست بیا نیے کے ذریعے قا ری تکج پہنچتے ہیں۔
ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری کے بیشتر افسا نوں کے واقعات حقیقت سے قریب ہی نہیں ہیں بلکہ حقیقی واقعات ہیں۔اس لیے ا ن میں تخیل کی کا ر فرمائی اسی حد تک ہے جس حد تک واقعات کی حقیقت اجا زت دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واقعے کی فضا سازی افسا نے کو بو جھل نہیں ہو نے دیتی بلکہ واقعے کے تا ثر میں اضا فہ کرتی ہے:
’’رات تاریک تھی۔ چا روں طرف ایک ہو کا عا لم تھا۔آسمان کالے کالے با دلوں سے بھرا تھا۔ کبھی بجلی کی چمک اور بادلوں کی گرج ماحول کو پر ہول بنا رہی تھی۔ ملکھان سنگھ کی بیٹھک پر گہما گہمی تھی۔ گا ؤں کے نو جوان اور بو ڑھے جمع تھے۔ شبرا تی نے سر پر منڈا سا(پگڑی) اور دھو تی کو لنگوٹ کی صورت پہن رکھا تھا۔ اس کے پو رے جسم پر سیا ہی ملی ہو ئی تھی۔ چہرہ بھی کالک سے پوت دیا گیا تھا۔ دس ہٹے کٹے نوجوان بھی کچھ اس قسم کا حلیہ بنائے ہو ئے تھے ، ان سب کے ہاتھوں میں لاٹھی اور بلّم تھے۔ تیاری مکمل تھی۔ بس مکھیا کی اجا زت دینے کی دیر تھی۔ تھو ڑی دیر بعد مکھیا کی آواز گو نجی۔ہے بھگوان ہم تیرو نا م لے کر اپنے گا ؤں میں گھسے دُ کھ کو نکال رہے ہیں۔ کچھ دیر خا موش رہنے کے بعد وہ شبراتی اور اس کے گروہ سے مخا طب ہو ئے’’ بھگوان کا نام لے کر آ پ لوگ شروع کرو‘‘ اتنا سننا تھا کہ شبراتی جس کو بالکل کالابھوت بنا دیا گیا تھا،ہا تھ مین کروا لیے، جس میں دہکتی آ گ تھی آ گے بڑھا۔ اس کے پیچھے اس کے گرو ہ کے دس نو جوان سبھی ہو….ہا….شو…….اور گھڑوں کے پھوٹنے کی آ وا زیں تھیں تو دو سری طرف گا ؤں کے بے شمار لوگ جا بجا جا مدو سا کت کھڑے دکھ نکا لتے ہو ئے قا فلے کو دیکھ رہے تھے۔ شبرا تی کی بیوی بھی اپنے گھر کے با ہر کھڑی تھی ۔جب شبراتی وہاں سے گزرا تو وہ ایک لمحے کو اپنے شو ہر کو عجیب سے بھیس میں دیکھ کر ڈر گئی تھی۔ شبراتن دل ہی دل میں شبرا تی کی کا میابی کی دعائیں مانگ رہی تھی۔‘‘
(افسا نہ: شبراتی)
اس افسا نے کی واقعاتی درد ناکی اور اس کے موضوع کی اہمیت اپنی جگہ مگر اس افسا نے کے مرکزی کردار شبراتی کو جس طرح افسا نہ نگار نے تشکیل دیا ہے وہ ان کے مشا ہدے کی گہرا ئی کا ادبی ثبوت ہے۔ کہا نی کا ایک ایک جملہ گا ؤں کے پو رے ما حول، حقیقی مکالموں اور مقا می بو لی کے لہجے سے مزین ہے اور صو رت حال کی سفا کی کو پو ری شدت کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ قصے کی اُ ٹھان اور واقعات کا تسلسل کہا نی کے پہلے جملے سے اور آخری جملے تک قاری کو اس طرح ساتھ لے لیتا ہے کہ قصے کی سطریں ختم ہو نے کے بعد بھی کہا نی بین السطور میں قاری کے ذہن میں جاری رہتی ہے۔
کردار کے حوا لے سے بیان کیے گئے وا قعات میں خا کہ نگاری کے عنصر کی وجہ سے یہ اندیشہ بنا رہتا ہے کہ کہا نی صرف خا کہ نگاری ہو کر نہ رہ جائے، اسی طرح کسی وا قعہ کو مرکزی جگہ دینے میں یہ خد شہ موجود رہتا ہے کہ واقعہ صرف واقعے کی حد تک رہ جائے اور کہا نی نہ بن جائے۔ گویا یہ دو نوں طریقے بظا ہر بڑے سا دے اور آسان نظر آ تے ہیں لیکن ببا طن یہ ایک مشکل کام ہے اور افسا نہ نگار سے خاص طرح کی ژ رف نگا ہی اور صلابتِ ذہنی کے طلب گار ہیں۔
ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری اپنی بیشتر کہا نیوں میں ان مرا حل سے بہت کامیاب گذرے ہیں:
’’جیسے ہی انہوں نے سب سے نچلی سیڑھی پر قدم رکھا آواز پھر سنا ئی دی۔ آواز سنتے ہی ان کے چہرے پر اطمینان کی لہر دوڑ گئی اور ان کا جی چا ہا کہ خوب قہقہہ لگا ئیں۔ اُنہیں اپنی بے وقوفی پر غصہ بھی آ رہا تھا۔ یہ آواز ادھ جلے کو ئلوں کی تھی جو انگیٹھی کی سلا خوں سے نیچے گر رہے تھے اور لوہے کی نچلی سطح سے ٹکرا کر عجب
سا شور پیدا کررہے تھے۔ با ورچی خانے کا دروا زہ تھو ڑا سا کھلا تھا اور دم توڑ تی ہوئی آ گ کے شعلوں کی چمک دور ہی سے دکھا ئی دے رہی تھی۔ انہوں نے لمحے بھر کے لیے یہ سو چنا بھی گوا را نہیں کیا کہ کوئلے کے گرنے کی ہلکی سی آ واز انہیں نیند سے بھی جگا سکتی ہے۔ جب کہ وہ اوپری منزل کے کمرے میں سو رہی تھی۔ وہ تیز قدموں سے با ورچی خا نے کی طرف چل پڑیں۔جیسے ہی انہوں نے با ور چی خانے میں قدم رکھا، ہوا کے ایک تیز جھونکے نے لالٹین بجھا دی،ڈر کی ایک لہر ان کے جسم میں سرا یت کر گئی، ان پر کپکپی طاری ہو گئی۔ اگلے ہی لمحے انہیں احساس ہوا کہ با ورچی خانے کی کھڑ کی کھلی ہے۔ انہوں نے ٹٹول کر لالٹین میں پھنسی ماچس نکالی جیسے ہی جلا نا چا ہا، نہ جانے کیسے تیلی ہاتھ چھوٹ کر فرش پر گر گئی۔خوف نے جسم پر لرزہ طا ری کردیا….‘‘
(افسانہ : ’’وہم کے سا ئے‘‘)
واقعے کی پُر اسراریت، کردار کی نفسیات اور بیان کی ندرت نے اس طرح کے افسا نوں میں تاثر کی ایک ایسی لہر پیدا کر دی ہے جو نہ صرف قا ری کو متاثر کرتی ہے بلکہ افسا نے کی حقیقت اور حقیقی افسا نے کے درمیان ادبی تطبیق کی صورت بھی پیدا کر تی ہے۔
موضو عات کے اعتبار سے بھی ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری کے افسا نوں میں تنوع بھی ہے اور کئی افسا نے منفرد بھی ہیں۔ان منفرد مو ضوعات وا لے افسا نوں میں’’ لینڈرا‘‘،’’موت کا کنواں‘‘،’’یہ ہے دلی میری جان‘‘ وغیرہ شمار کیے جا سکتے ہیں۔
’’ لینڈرا‘‘ ان کے افسا نوں کے حالیہ مجمو عے کا نام بھی ہے۔ اس عنوان کی کہا نی(’’تنا فر صوتی‘‘ سے قطع نظر) مو ضو ع کے اعتبار سے بالکل اچھو تی کہا نی ہے۔ بلکہ شا ید اس موضوع پر یہ پہلی اور اکیلی کہا نی ہے۔(تا دم تحریر میری نظر سے اس موضوع پر کو ئی دوسرا افسا نہ نہیں گذرا۔)’’لینڈرا‘‘ مغربی یو پی کے کچھ علا قوں میں ایسے بچے کو کہتے ہیں جسے کوئی بیوہ یا مطلقہ اپنی دوسری شادی کے وقت سا تھ لائی ہو…….’’ لینڈرا‘‘ بڑی عجیب و غریب کہا نی ہے۔ اس افسا نے میں مصنف نے اپنے قلم کے سارے جو ہر کھو ل دیے ہیں۔ اس کردار کو تشکیل دینے میں افسا نہ نگار نے مشا ہدے، جذبے، نفسیات اور ماحول سا زی کے ایسے کمال دکھا ئے ہیں کہ یہ افسا نہ اردو کے شا ہکا ر افسا نوں میں جگہ پا سکتا ہے:
’’ارے او فقیرے….جرااِنگے کو(ادھرکو) آ نا۔
بابا رحیم کی آ واز پر فقیر محمد دوڑتا ہوا آ یا۔
جی بابا! کیا کئے ریو۔(کیا کہہ رہے ہو)
ارے جرا حقّہ بھر لا……اور تا جا بھی کر لا ئیو۔
بابا کے کہنے پر اس نے حقے کی پیتل کی فر شی کو گردن سے پکڑ کر اٹھایا۔ بڑی احتیاط سے چلم کو نیچے سے اتارا۔ نیچے کو فرشی کی گردن سے الگ کیا۔ نیچے کی بنا وٹ بالکل بندوق جیسی تھی۔ فقیر محمد کے دل میں لمحہ بھر ایک خیال آ یا۔ اس نے حقے کے نیچے کو بندوق کی طرح پکڑ لیا اور تصور میں اپنے سبھی دشمنوں کو ٹھا ئیں ٹھا ئیں کر دیا……..اس کو گا ؤں کے ہر اس شخص سے نفرت تھی جو اُ سے لینڈرا کہتا تھا…….‘‘
(افسا نہ: ’’لینڈرا‘‘)
افسانہ نگار نے مرکزی کردار’’ فقیر محمدسے’’ فقیرا‘‘ فقیرا سے’’لینڈرا‘‘ اور لینڈرا سے پھر فقیر محمد کی وا قعاتی اور باطنی داستان کے ہر پہلو کی تفصیل کو نہا یت باریکی اور فن کاری سے اس طرح بیان کیا ہے کہ ہر کردار کے ظا ہر، باطن اور ماحول پر مرکزی کردار پو ری طرح غالب رہتا ہے……اس افسا نے میں اور بھی کئی کردار اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں مگر مرکزی کردار کی مرکزیت فو راً ہی قا ری کو اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے….یہ کہا نی صرف مو ضوع کے اعتبار سے ہی اچھوتی نہیں ہے بلکہ تکنیک کے اعتبار سے بھی افسا نہ نگار کی مہا رت کا نمو نہ ہے۔ اس میں ہر کردار اپنی میں مکمل ہو نے کے باوجود مرکزی کردار کی تکمیلیت کے لیے زمین ہموار کرتا ہے۔ کہا نی کو آ گے بڑھا نے میں ہر کردار کا اپنا حصہ ہے مگر مر کزی کردار سے ہر کردار اس طرح پیوست ہے کہ جہاں جہاں مرکزی کردار بظا ہر منظر میں نہیں ہے وہا ں بھی اس کی موجود گی کا احساس رہتا ہے۔
ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے اکثر کردار چھو ٹے شہروں، قصبوں اور گاؤں سے اُ ٹھا ئے ہیں اور ان کرداروں کو اسی ماحول میں پوری طرح زندگی گزارنے کا مو قع دیا ہے۔ کرداروں اور ماحول کی مقا میت نے انہیں سماجی زندگی سے اور بھی قریب کر دیا ہے اور مشا ہدے کی آ نچ نے ان میں وہ صدا قت پیدا کر دی ہے کہ قاری ان کرداروں کو جینے لگتا ہے۔ ایسے مقا می کرداروں اور مشا ہدے کی بھٹی میں تپتے قصوں کی آ نچ سے رو شن کہا نی کی مثا ل ہے افسا نہ ’’ موت کا کنواں۔‘‘یہ کہا نی میرٹھ کے مشہور سا لا نہ میلے نو چندی کے منظر سے شروع ہو تی ہے اور ایک ایسے کردار کی موت پر ختم ہوتی ہے جس نے زندگی کو موت کے کنویں سے شروع کیا مگر موت کے کنویں نے بالآ خر اس کی زندگی چھین لی۔ کہا نی کا بیا نیہ اور کردار نگاری اتنی مو ثر ہے کہ پو ری دنیا موت کا کنواں اور لوگ موت کے کنویں کے تما شا ئی لگنے لگتے ہیں۔مصنف کا مشا ہدہ اور بیان اتنا پُر اثر ہے کہ منظر حقیقت میں بدلتا محسوس ہو تا ہے:
’’شن…. اور ایک بائک سوار نے بائک سے چکر کا ٹنے شروع کردیے۔ دوسرا بھی اوپر آ گیا۔ دونوں کے چکروں سے پورا کنواں ہلنے لگا۔ دیکھنے وا لوں کے دل دہلنے لگے تھے۔ اچا نک شور بلند ہوا۔تا لیاں بجیں۔ تما شے میں تیسری بائک بھی شریک ہو گئی تھی۔ با ئک سوار لڑ کی تھی۔ لوگ حیرت سے کھیل دیکھ رہے تھے۔ آہستہ آ ہستہ کھیل میں کاریں بھی شریک ہو گئیں۔ شا ئیں، شائیں،ہُر….ہُر…
پورا کنواں ہل رہا تھا۔ آ ہنی ڈھا نچہ کا نپ رہا تھا…..کھیل عروج پر تھا۔ بائک سوار اور کا روا لے کر تب دکھا رہے تھے۔ ایک ایک کا ر ڈرا ئیور اور با ئک سوار نے ہا تھ پکڑ رکھے تھے ۔تین جوڑے پو ری رفتار سے کنویں میں چکر لگا رہے تھے….‘‘
(افسانہ: ’’ موت کا کنواں‘‘)
مشاہدے کی گہرا ئی کی ایک اور مثا ل ہے افسا نہ’’یہ ہے دلی میری جان۔‘‘ پرا نی دلی سے متعلق اس افسا نے میں حقیقت کو اس طرح بیان کیا ہے کہ مجاز کا التباس پیدا ہو گیا ہے۔ پو را افسا نہ حقیقت نگا ری کا مشا ہدا نہ مرقع ہے۔یہ افسا نہ پرا نی دلی کا ایک ایسا افسا نوی منظر نامہ ہے کہ جس نے دلی نہیں دیکھی وہ اس افسا نے میں دیکھ سکتا ہے اور جس نے دیکھی ہے وہ اس میں اپنے آ پ کو دیکھ سکتا ہے:
’’……دنیا نے آ ج ملٹی فلور بیڈ ایجاد کیا ہے، پرا نی دلی میں یہ پرا نا ہو چکا ہے۔ دن میں ڈرائنگ روم بنا کمرہ رات میں ریل گاڑی کے کمپا رٹمنٹ کا منظر پیش کرتا ہے۔ کمرے کی کشادگی کو بھی جب شرم آ جاتی ہے تو پھر کیا ہو تا ہے؟آپ کو کیسے پتہ ہو گا۔ پھر یہ ہو تا ہے کہ چو بیس گھنٹوں کو تقسیم کردیا جاتا ہے۔ وہ جو پہر کہتے ہیں نا، شا ید پرا نی دلی میں ایجاد ہوا ہو۔ یعنی تین گھنٹوں کا پہر۔ ٹھیک اسی طرح گھر کے مرد افراد کے سو نے کے اوقا ت تقسیم ہو تے ہیں۔ کسی کے حصے میں شام ۸؍ بجے سے۱۱؍ بجے تک۔ کسی کے حصے میں۱۱؍ بجے سے ۲؍ بجے رات کسی کے حصے میں۲؍ بجے سے صبح پانچ بجے اور کسی کے حصے میں صبح پانچ بجے سے۱۰؍ بجے تک کا وقت آ تا ہے اور بقیہ اوقات کا صرفہ دوستوں،چا ئے خا نوں، فلم گھروں اور پارکوں میں ہو تا ہے۔ جس کے گھر پہنچنے کا جو وقت متعین ہو تا ہے وہ اس وقت اپنی جگہ چھو ڑ دیتا ہے۔ لوگوں کے اوقات کی یہ تقسیم ہی پرا نی دلی کی ایسی صفت ہے جو شاید آ پ کو کہیں ملے۔ اسی کے با عث پرا نی دلی خصوصاً جا مع مسجد کے گردو نواح کے علا قے ہمیشہ جا گتے رہتے ہیں۔ یہاں کبھی رات نہیں ہو تی۔ کبھی سو رج غروب ہو تا ہے نہ چا ند طلوع ہو تا ہے۔ میں جب بھی دہلی آ تا ہوں تو اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر اپنے محبوب علا قے دہلی ۶ سے ملنے ضرور آ تا ہوں۔ جی ہا ں یہ علاقہ محبوب سے قطعاً کم نہیں……..‘‘
(افسا نہ: ’’ یہ دلی میری جان‘‘)
افسا نے کی بُنت، موضوع، گہرا ئی و گیرا ئی کے اعتبار سے ایک اور اہم ترین افسا نہ ہے۔’’تم چپ رہو بیر پال۔‘‘یہ غیر معمولی افسا نہ اس دور کے اہم ترین افسا نوں میں شمار کیا جانا چا ہیے:
’’…….آواز کی سمت میں نے نظر کی تو ایک ہیو لہ سا نظر آ یا۔ میں نے اپنے سا رے جسم کو آ نکھوں میں سمیٹ کر دیکھنے کی کوشش کی تو میں چونک پڑا….
ارے بیر پال…….یہ تم ہو…..
ہاں…میں ہوں۔ چلو تم نے مجھے پہچا نا تو…
آخر تم یہاں کیا کررہے ہو۔ تم تو میری کہا نی کے کردار ہو۔
کون سی کہا نی تھی وہ….؟
بھول گئے….ہاں کیوں نہ بھولتے……تم خالق نہیں تھے نا….تم بھول گئے….
میں کون ہوں، کس کا کردار ہوں؟
تم چپ رہو بیر پال۔ یہی نام تھا نا کہا نی کا اور یہ نام بھی تم نے ہی دیا تھا مجھے اور تم نے مجھے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا تھا۔ میں خا موشی کی دیوار پر گزرا ہوا لمحہ بن کر چپک گیا تھا۔
یہ کیا بکواس کررہے ہو تم….میں نے تمہا را کردار تخلیق کیا تھا۔ تمہیں تصور سے نکال کر پیکر عطا کیا تھا۔ زندگی دی تھی تمہیں۔ آ ج بھی نا قدین تمہیں میرا زندہ جاوید کردار تسلیم کرتے ہیں۔
تم اسے زندگی کہتے ہو….اور ہاں کیوں نہ کہو گے…تمہا رے مطابق تو کہا نی ہی زندگی ہو تی ہے…تم کہانی کار ہو…تم نے اپنی ہی تخلیق کو اندھیرے کا حصہ بنا دیا۔ تخلیق کار اپنی تخلیق کو زندگی دیتا ہے۔ اُ سے کامیابی کی ہر منزل
عطا کرتا ہے۔
تم کیا کہنا چا ہتے ہو۔
میری دما غی حالت عجیب ہو گئی۔ ذہن میں مختلف قسم کے سوال اُلجھنیں اور مسائل اپنی ٹو لیوں سمیت آ گئے…میرے ہاتھوں میں قلم کانپ رہا تھا۔ کاغذ ہوا کی زد میں پھڑ پھڑ ارہا تھا۔ جانے یہ ہوا برقی پنکھے کی تھی یا خوا بیدہ خمیر کی….میں نے بیرو نی منظر کی تاب نہ لاتے ہو ئے اپنی آ نکھیں موند لیں…….‘‘
(افسانہ: ’’ تم چپ رہو بیر پال‘‘)
عرض کیا گیا تھا کہ ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری کا فن کردار کے توسط سے بیان کیے گئے قصے میں زیا دہ نکھر کر سا منے آ یا ہے یا مروجہ تنقیدی مضامین کی زبان میں یوں کہا جائے کہ موجو دہ دور میں افسا نے میں کردار کی وا پسی کے عمل میں ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری کے افسا نوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
میں اپنے اس مضمون کو ان کے افسا نے’’ تم چپ رہو بیر پال‘‘ کے اقتباس پر ختم کر نا چا ہتا ہوں:
’’قلم، کاغذ اور کہا نی کے درمیان انکھ مچو لی کا یہ دسواں دن تھا۔ قلم پر مضبوط گرفت کے ساتھ کاغذ پر لکھنا شروع کرتا ہوں۔ہل ابھی سفید زمین پر اپنا پھل گاڑنے ہی کو تھا کہ اچا نک ذہن میں روشنی کا ایک جھما کہ ہوا۔ میں سنبھل کر بیٹھ گیا۔ ذہن کے کثیف مطلع پر سات آ ٹھ اورچھ کے ہندسے وا ضح ہو ئے تو میں نے کاغذ کے ماتھے پر ان ہندسوں کا جھو مر ثبت کردیا۔ اچا نک قلم میں ایسی حر کت آ ئی کہ میں حیران رہ گیا۔ وہ قلم جو ذہن اور صفحات کے درمیان کی دوری پاٹنے میں قا صر تھا اب برق رفتاری سے چلنے لگا۔ زندگی کے وا قعات سلسلہ وار ذہن کے پر دے پر وا ہو نے لگے…‘‘
(افسانہ: ’’تم چپ رہو بیر پال‘‘)
اپنے ذہن کے پردے پر وا ہو نے وا لے زندگی کے واقعات کے سلسلے کو قا ری کے ذہن کی واردات بنا دینے کے فن سے ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری بخو بی وا قف ہیں…..ادب کی تاریخ میں تخلیقی فن کے قدموں کے نشان اسی طرح ثبت ہو تے ہیں اور ہر سچی تخلیق ایک سعادت ہے۔
***

Viewers: 585
Share