اسحاق ساجد۔جرمنی
samundargermany@hotmail.com
ایک زندہ زبان کی پہچان یہی ہے کہ وہ ہر دور میں مختلف مسائل سے دو چار رہنے کے باوجود اپنی آن بان اور وقار کا سودا کرنے کی بجائے حالات سے نبرد آزما رہے۔اردو جو مغلوں کے زمانے میں ہندوستانیوں اور مغلوں کے درمیان با ہمی تعاون اور رشتے کا سبب بن کر وجود میں آئی ۔اپنی بے پناہ شیرینی اور لطافت کی وجہ سے آج پوری دنیا میں اردو جاننے والوں کی مقبول ترین زبان ہے .اس میں اردو افسانہ یا کہانی نے بڑا رول ادا کیا ہے۔اور اس زبان کو زندہ رکھنے والے بھی کم نہیں آج بھی ایسے گمنام لوگ جو صحیح اردو کی خدمت کر رہے ہیں ڈھونڈنے سے مل جاتے ہیں اور ان میں معتبر نام جیم فے غوری صاحب کا بھی ہے ان کی کہانیوں کا مجموعہ ’’ شطرنج ،لڑکی اور فالتو چیز‘‘ جو حال ہی میں منظرِ عام پر آیا ہے بہت خوبصورت سرورق کے ساتھ اس میں جو کہانیاں ہیں وہ کوئی عام کہانیاں نہیں بلکہ ہر کہانی اور کہانی کا ہر کردار زندہ محسوس ہوتا ہے ۔اردو کے صفِ اول کے افسانہ نگار جناب محمد منشا یادؔ صاحب لکھتے ہیں ۔ ’’ اردو افسانہ نازک دور سے گزر رہا ہے چند برس پہلے نوجوان نسل نے جدیدیت اور نئے پن کا نعرہ لگایا تھا وہ بذاتِ خود ذہنی اور جسمانی اضمحلال اور فرسودگی کا شکار ہو چکی ہے اور تیزی سے تبدیل ہوتی زندگی اور اس کے مسائل سے آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے بہت سے افسانہ نگار تکرار اور جمود کا شکار ہو گئے ہیں اور ان کا فن نئی سوچ دینے کی بجائے لفظوں اور استعاروں کی صنعت گری تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اور جیم فے غوری ایسا ہی با صلاحیت افسانہ نگار ہے جو جدید علامتی اور استعاراتی انداز میں کہانی لکھتے ہیں اور نہایت مؤثر طریقے سے اور سہولت کے ساتھ خارج سے داخل اور داخل سے خارج کی طرف سفر کرتے ہیں ۔ان کے ہاں معنویت کی سطح گہر ی ہوتی ہے. مجھے یقین ہے کہ اردو افسانے کے قارئین ان کہانیوں کو محبت اور قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے اور انہیں دلچسپ ،خوبصورت اور متنوع پائیں گے۔۔۔‘‘

اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والے کے لئے جیم فے غوری کا نام نیا نہیں وہ جدید افسانہ نگار ہیں ۔غمِ جاناں کو غمِ کائنات میں ڈھال کر پیش کرنے کا حد درجہ کمال رکھتے ہیں ۔ جیم فے غوری کو قدرت نے بے انتہا ذہنی ہم آہنگی سے نوازا ہے غوری صاحب جب افسانہ یا کہانی لکھتے ہیں تو اپنے موضوع پر آخری وقت تک قائم رہتے ہیں ۔انہیں خیال و فکر کا بدل جانا پسند نہیں ۔علم و معرفت کا سر چشمہ جیم فے غوری آج لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتے ہیں ۔اٹلی کی سر زمین سے علم و فن کے ایسے آفتاب و مہتاب جو تشنگانِ مے اخلاص و محبت اور ادب کی بے لوث خدمت کر رہے ہیں ۔آپ کی کہانیوں میں بہترین ترکیبیں گو ناگوں موضوعات جو اول تا آخر قاری کے ذہن کو اپنی قید میں رکھتے ہیں آپ نے اپنی کہانیوں میں حق گوئی اور بے باکی سے کام لیا ہے کہیں پر بھی مصلحت کشی سے کام نہیں لیا ایک مرد حق کی طرح جھوٹی اور تیرہ ایام میں زندگی گزارنے والوں کے سامنے حقائق کا انکشاف کیا ہے۔زندگی کا کوئی بھی موضوع ہو کوئی بھی پہلو ہو ان کے قلم سے سچائی ہمدردی اور غم گساری ٹپکتی ہے ان کے قلم سے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچتی ۔بڑے فنکارانہ انداز میں وہ ذہنوں کو اصلاحی مواد فراہم کرتے ہیں ۔ معاشی، نا برابری، سفارتکارانہ ،غیر انسانی صورتِ حال سیاسی و سماجی کشمش اور پیچیدگیاں موجودہ دور کے اہم ترین مسائل کو آپ نے اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا ہے۔ جیم فے غوری صاحب کی کہانیوں میں الفاظ و معانی کا ایک بے کراں دریا بھی رواں دواں ہے اس دریائے بیکراں میں غوطہ زنی کرنے کیلئے جراّتِ مردانگی کی اور ہمت کی ضرورت تو ہے ہی ساتھ ساتھ لمبے وقت کی بھی ضرورت ہے میں یہ بات بلا خوفِ تردید کہہ سکتا ہوں کہ جیم فے غوری عظیم افسانہ نگار تو ہیں ہی عظیم انسان بھی ہیں۔
***




on
on

Dr.Ishaq Sajid sahib ap neh Ghauri sahib keh chupye fan peh qalam utha keh humain ek Achye Fankaar se tuaraf karwahya, ap ki tehreeb bi bohat sundar hai –ap keh es Mazmmon ki wajha se humain ek Khobsurat website bi mili jis keh liye hum maskoor hain .. Aur laghta Nasar Malik sahib Udu ki khidmat main masoof hain un keh liye duaien . ( from Germany)
Ishaq Sajid sahib ap neh bohat khobsurat Andaaz main likha . website kah intehkaab bi acha kiya
Ishaq Sajid G ap acha likhna jantye hain yeh bat ap keh mazmmon pahr keh maloom ho jahti hai Ghauri sahib peh bohat koob likha
( Kiran from Germany)
Bohat umdaa or zabardast likha he sir aap ne
ج ۔ ف، غوری صاحب کے افسانوں کے مجموعے سطرنج، لڑکی اور فالتو چیز پر، اسحاق ساجد نے اختصار مگر خلوص و خوبصورتی کے ساتھ اظہار خیال کیا ہے ۔
مقصود اؒیہی شیخ
ishaq sb bahut umdah aor khoobsurat tahreer hay ,,,