Ishaq Sajid | Article | مسعودمنور۔ان کی شاعری اور میرا تجزیہ

تحریر، اسحاق ساجد جرمنی۔ ای میل: samundargermany@hotmail.com مسعودمنور۔ان کی شاعری اور میرا تجزیہ مسعودؔ منورکا پنجابی مجموعہ کلام ھو ! کو جستہ جستہ دیکھا کیا کہنے کتنا خوبصورت مرقع ہے،...

تحریر، اسحاق ساجد
جرمنی۔ ای میل: samundargermany@hotmail.com

مسعودمنور۔ان کی شاعری اور میرا تجزیہ

مسعودؔ منورکا پنجابی مجموعہ کلام ھو ! کو جستہ جستہ دیکھا کیا کہنے کتنا خوبصورت مرقع ہے، شاعر نے ایک صناع کی حیثیت سے پورے ریاض کے ساتھ اپنے فن کی تہذیب کی ہے اور خیالات کے ایسے پیکر تراشے ہیں جو حسن بیاں اور جمالِ اظہار کے نادر نمونے ہیں ۔ایسا مرقع تیار کیا گیا ہے جو دیدہ وروں کو دعوتِ نظارہ دیتا ہے اور صاحب دلوں کو اندروں نگری کی ترغیب ۔ہر نقش پوری فنکارانہ چاہکدستی کا مظہر ہے۔
مسعودمنوراپنی سوچ اپنی جذبات نگاری اور محاکاتی اندازِ اظہار میں منفرد ہیں ان کی سوچ کا اندازتخلیقی اور جدید نوعیت کا ہے وہ فکر کو تحریک میں لانے والے شاعر ہیں ان کو پڑھنے سے پڑھنے والے کے جذبات اظہار طلب ہوتے ہیں ۔وہ نئی نسل کے سب سے ذیادہ نمائندہ شاعر ہیں۔نئی نسل کو چاہیے کہ وہ ایسے ذہین تخلیقی اور جدت نگار شاعر کا مطالعہ کریں۔
مسعودمنورایک ایسے شاعر ہیں جب وہ مشاعرہ میں پرھتے ہیں تو سننے والوں پر ایک سحر طاری ہو جاتا ہے اور وہ اس وقت سراپا عشق معلوم ہوتے ہیں ، اپنی وضع قطع میں بھی اور اپنے انداز میں بھی مسعود ؔ منور کو کہنے پر ملکہ حاصل ہے۔وہ عمدہ شعر اور اچھی نثر بھی لکھتے ہیں، مسعود ؔ منورکی شاعری کی فضا ان کے گہری عصری شعور سے مربوط ہے ۔اور ان کی شاعری محض قاری یا سامع کے ذوقِ سماعت تک محدود نہیں ہے وہ اپنے ارد گرد سانس لیتی ہوئی زندگی کے نباض بھی ہیں اس لئے اپنے ہم عصروں میں ایک ممتاز اور منفرد مقام رکھتے ہیں ۔مسعود ؔ منورصرف لفظوں کی بازی گری کرتے نظر نہیں آتے بلکہ ان کی شاعری بولتی محسوس ہوتی ہے۔
شاعری کا رگہ شیشہ گری ہے،غزل دراصل ایک شعری تہذیب ہے۔اس کے لئے ذوقِ سخن ریاضتِ بن اور فطری میدان شرطِ اولین ہے بات کرنے کا سلیقہ اور پر حسن معنوی سے مل کر شعری پیکر بن جاتا ہے۔یہ خوبیاں تو مسعود ؔ منورکی شاعری میں آسانی سے اگر دیکھنے والی آنکھ ہوتو نظر آتی ہیں اس سے بڑھ کر ایک اچھے شاعر کی کیا پہچان ہو گی شعر کا خمیر سب سے پہلے غمِ ذات سے اٹھتا ہے ہے کیوں کہ آدمی سب سے بڑا پرستار اپنی ذات کا ہوتا ہے اور جہاں جہاں اپنی ذات کا پرتو نظر آتا ہے وہاں وہاں وہ اپنی پناہ گاہیں بناتا چلا جاتا ہے اب یہ آدمی کی اپنی ہمت کہ وہ کس طرح ان سب جذبوں کو تجدید دیتا ہے اور پھر ان کو اپنی ذات کے دائرے سے نکال کر آفاقی تناظر میں پیش کرتا ہے یہی شاعری ہے اور میرے خیال میں مسعود ؔ منوراس کسوٹی پر پورے اترتے نظر آتے ہیں۔
مسعود ؔ منورکی شاعری میں ایک خاص مزہ ہے ایک لطف ہے جہاں تک ان کی شاعری اور ادب میں مسعود ؔ منورکے مقام کا تعلق ہے یہ بات تو وقت خود طے کر دے گا کہ آنے والے وقتوں میں کون کہاں کھڑا ہے اور یہ شاید میرا منصب بھی نہیں کہ میں جناب مسعود ؔ منور کی شاعری پر کوئی ایسی رائے دوں ،لیکن یہ کہنے میں حق بجانب ضرور ہوں کہ مسعود ؔ منور ہمارے عہد کی ایک اہم آواز ہیں اور انہیں شعر کہنے کا پورے سلیقے اور پورے وثوق سے کہنے کا ہنر آیا ہے۔گویا الفاظ کی نشست و برخاست اور در وا بستہ پر انہیں مکمل عبور حاصل ہے اور میرے نزدیک یہی ان کی شاعری اور پوری شخصیت کی پہچان ہے۔میری دعا ہے کہ اللّہ تعالیٰ مسعود ؔ منورکو مزید ہمت دے اور آپ ایسے ہی لکھتے رہیں۔آمین۔

Viewers: 507
Share