رپورٹ: آصف منیر
لاہور۔ ای میل: asifmunir2010@gmail.com
نعت فورم کے زیر اہتمام اردو کے ممتاز شاعر ،نعت نگار”منیر سیفی “کی یاد میں تعزیتی ریفرنس
نعت فورم کے زیر اہتمام اردو کے ممتاز شاعر ،نعت نگار”منیر سیفی “کی یاد میں تعزیتی ریفرنس الحمراء ادبی بیٹھک میں منعقد ہوا ۔جس میں علم و ادب سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کہ اور مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا ۔محفل کی صدارت ڈاکٹر خورشید رضوی نے کی ۔ مہمانِ خصوصی خالد اقبال یا سراورخالد احمد تھے۔نظامت کے فرائض چیئر مین نعت فورم الحاج سرور حسین نقشبندی نے ادا کیئے۔محفل کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہواجسکی سعادت حافظ محمد عمران نذیرنے حاصل کی۔نعت فورم سے منسلک نوجوانوں نے منیر سیفی صاحب کانعتیہ کلام ترنم سے پیش کر کے محفل میں سماں باندھ دیا۔ منیر سیفی مرحوم کا کلام ترنم سے پڑھنے والوں میں حافظ زین الحسن نورانی، محمد الماس بٹ ، احسن مقصود، محمد آصف منیر ، محمد حسنین ، مہتاب حسن اور سرور نقشبندی شامل تھے ۔ملک کے نامور شعراء اکرام نے اس ریفرنس میں مرحوم” منیر سیفی “کے بارے میں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
شاہد بخاری نے اظہارِخیال کرتے ہوئے کہا:
میری یہ خوش قسمتی ہے کی لاہور میں میرا گھر منیر سیفی اور آغا سہیل کے گھر کے پاس ہے۔اس وجہ سے ان سے ملنے کے مواقع ملتے رہے۔دونوں سے کبھی کسے ملنے والے کی برائی نہیں سنی ۔
ان کے کچھ اشعار پیش کرتا ہوں ۔

آپ کا حُسنِ بیاں بہت عُمدہ تھا، بحر پربھی آپ کو کافی قدرت تھی ۔حمد ،نعت ،منقبت،غزل ہر ایک میں آپکو دسترس حاصل تھی ۔
آپ کی نسبت سے ہوں
اس لیئے عزت سے ہوں
جناب ڈاکٹر اجمل نیازی نے اظہارِخیال کرتے ہوئے کہا:
منیرسیفی ایک انوکھا آدمی تھا ،درد و گُداز میں ڈوبا ہوا ، اپنے بدن کی مٹی میں اٹا ہوا ۔ان سے ملاقاتیں تو بہت کم تھی۔وہ فنافی شاعری شخص تھا ۔جب بھی ملتے تھے توصرف شعر و شاعری کی باتیں کرتے تھے۔میں انہیں جب بھی ملا ہوں تو انہوں نے مجھے کوئی نہ کوئی شعر ضرورسنایا ۔مزاج کے اعتبار سے تنہائی پسند تھے ۔اور آخری وقت میں ان کی تنہائی سے ذیادہ وابستگی ہو گئی تھی۔وہ صاحب سیف و قلم تھے ۔میرے لئے یہ عزت کی بات ہے کہ میں وہاں حاضر ہوں جہاں منیر سیفی کا ذکر ہو رہا ہے۔
ممتاز صحافی جناب سرفراز سید نے کہا کہ
میں نے ایک بار ان سے کہا کہ آپ کو منیر سیفی کی بجائے منیر صوفی کہنا چاہئے۔ کہنے لگے نعت کہنا بہت مشکل کام ہے۔میں نے ان سے کہا کہ آپ کے کام کو دیکھتے ہوئے آپ کو ادب کا سب سے بڑا انعام ملنا چاہئے تو کہنے لگے کے میرے لئے سب سے بڑا اعزاز اور انعام روضہء رسولﷺ کی حاضری ہے ۔
احمد سبحانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا :
منیر سیفی ایک عہد کا نام ہے۔ایک کڑی ہے اس سلسلے کی جو آدم ؑ سے لیکر تا حیات چلتی رہے گی ۔ میں نے آج تک زندگی میں کسی بھی شخص کے بارے میں انہیں گِلہ کرتے نہیں سنا ۔وہ بہت بڑے انسان تھے۔حمد،نعت اورغزل میں اپنی الگ شناخت اور مقام رکھتے تھے۔میں نعت فورم کا بے حد مشکور ہوں کہ انہوں نے منیر سیفی کو یاد رکھا ۔اب انشاء اﷲان کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریبات کا سلسلہ چلتا رہے گا لیکن آپ کا اس حوالے سے اولیت کا اعزازبرقرار رہے گا ۔
ممتاز شاعرجناب واجد امیر نے اظہارِخیال کرتے ہوئے کہا:
میں نعت فورم کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے منیر سیفی کے ریفرنس کے لیئے کام کیا ۔میر ا ان سے پچھلے ۱۸، ۱۹ سال سے تعلق تھا۔ان کے ساتھ لاہور سے باہر بھی مشاعروں پر جانے کا شرف حاصل ہوتا رہااور لاہور میں بھی ۔ان سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد ان کی ذات میں ایک نمایاں تبدیلی آ گئی تھی۔بہت رقیق القلب ہوگئے تھے ۔میں دعا گو ہوں کہ ربِ کریم ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
جناب پروفیسر وحید عزیز نے اظہارِخیال کرتے ہوئے کہا:
منیر سیفی نے اپنی ساری زندگی سرکار ﷺکے عشق میں گزاری ۔ ان کی شاعری میں روانی ہے ،جو پیاسے دلوں کو سیراب کرتی ہے۔انہوں نے نعت نگاری کے ساتھ ساتھ منقبت نگاری میں بھی اپنے فن کے جوہردکھائے۔
ڈائریکٹر جنرل اردو سائنس بورڈجناب خالد اقبال یاسر صاحب نے اظہارِخیال کرتے ہوئے فرمایا:
منیر سیفی کی شاعری ایک صوفیانہ شاعری ہے۔اس کی ذات اس کی شاعری سے اس کی شاعری اس کی ذات سے الگ نہیں ہے۔
اس کی زندگی بھی تصوف اس کی شاعری بھی تصوف تھی ۔اس نے سیرت، شعور،وجدان،آگہی کے کھلے سمندر پہ اپنے قدم جما رکھے تھے۔
منیر سیفی صوفی تھا اور وہ دنیا کا طلب گار نہیں تھا۔وہ خوشامد اور منافقت کے بالکل خلاف تھے۔میری دعا ہے اﷲان کے درجا ت بلند فرمائے۔
جناب صادق جمیل نے اظہارِخیال کرتے ہوئے فرمایا:
جب میری منیر سیفی صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی تو وہ مجھ سے ایسے ملے کہ جیسے صدیوں سے ہماری ملاقات ہو۔مجھے یہ محسوس ہی نہیں ہوا کہ یہ میری پہلی ملاقات ہے ۔ان کے چہرے پہ ایک نورانیت تھی ۔۱۸،۱۹سال ان سے رفاقت رہی۔ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں ،ان میں عجز کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ان کے چہرے پہ مسلسل ایک مسکراہٹ ہمیشہ رہتی تھی ۔ایک اور خاص بات تھی کہ جونیئر شعراء کرام سے خصوصی محبت کرتے تھے۔اتنا پاک صاف شخص ہم نے نہیں دیکھا ۔ان کے ساتھ جو وقت گزرا وہ ہمارے لیے اثاثہ ہے ۔ان کی یاد ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گی۔
نجیب احمد صاحب نے اظہارِخیال کرتے ہوئے فرمایا:
منیر سیفی صاحب ایک عظیم شخصیت تھی ،آپ بہت کم گو اور سادہ انسان تھے۔ میری دعا ہے کہ ا ﷲپاک آپکی بخشش فرمائے۔
ڈاکڑ شبیہ الحسن ہاشمی صاحب نے اظہارِخیال کرتے ہوئے فرمایا:
میں بھی منیر سیفی کے نیاز مندو ں میں شامل ہوں ۔ان کی شاعری چار بنیادی ستونوں پہ قائم ہے ۔
۱۔عقیدت
۲۔تفکُر
۳۔کثیر مطالعہ
۴۔موضوع کی مناسبت سے الفاظ اور زبان کا استعمال ۔
آخر میں ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب نے اظہارِخیال کرتے ہوئے کہا:
منیر سیفی اعلیٰ درجے کے فنکار تھے ۔لیکن ایسا بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ کو ئی اچھا فنکار اچھا انسان بھی ہو۔منیر سیفی ان چند لوگوں میں سے ایک تھے جن میں دونوں جوہر اپنے کمال پہ تھے۔مجھے ان سے کوئی بہت زیادہ قرب نہیں رہا لیکن ان کے بے ساختہ پن کی وجہ سے کبھی اجنبیت کا احساس بھی نہیں ہوا۔وہ محبت کرنے والے شخص تھے۔ان کی باطن کی روشنی ان کے چہرے پہ نمایاں تھی۔ان کے ہاں گہری روحانیت تھی۔کسی سے کچھ لینا ان کی طبیعت میں نہیں تھا،بلکہ ہمیشہ کسی نہ کسی کو کچھ دیتے تھے۔ اﷲان کی بخشش فرمائے۔
پروگرام کے آخر میں چئیرمین حفیظ تائب فاؤنڈیشن عبدالمجید منہاس صاحب نے مرحوم کی بلندی ءِ درجات کے لیئے دُعا فرمائی ۔
***



on
on

Allah Muneer Saifi sahab ki mughfrat kare woh aik sufi thy aor mohabat karne wali shakhsiat thy Allah un ke darjat buland kare aor janat mein aala muqam atta farmay(Ameen)