صوفیہ انجم تاج
امریکہ
ای میل: s_anjumtaj@yahoo.com
زرد چمیلی کی خامشی
یہ کس کے قدموں کی چا پ آئی ۔۔۔۔۔یہ کون آیا ؟
یہ بام ودر اب جو خستہ جاں ہیں
یہ چونک اٹھے ہیں
یاس وحسرت سے شکل ہم سب کی تک رہے ہیں
جگر کا درد شدید سہہ کر دراڑ نیلے سے پڑ گئ ہیں
کسی کے ہاتھوں کے لمس کو یہ ترس رہے ہیں
نمی کو آنکھو ں میں ڈبڈبائے صحن کے رستے عبور کر کے
اسی ستوں کے شکستہ سائے میں
سر جھکائے گزشتہ یادوں میں کھو گئ ہوں
وہی ستوں جو تھکے تھکے سے۔۔۔۔ملول ہیں اور شگاف سے
جن کی سرخ اینٹیں پرانے زخموں کی طرح دن رات رس رہی ہیں
کہ ہم تمہارے دکھوں سے اتنے قریب تر ہیں کہ
اب دوئ کا نہیں ہے کوئ بھی فرق باقی
وہ پلکیں خوابوں سے الجھی الجھی
وہ سرخ جو ڑے میں سہمی سہمی
بسی حنا میں لرزتی باہیں تمہاری گردن میں تھیں حمأیل
تمہیں نے جس کو کیا تھا رخصت
وہ دور جا کر ایک ایسی بستی میں بس گئ ہے جہاں کوئ ہم زباں نہیں ہے
منڈیر پر کی نحیف بیلیں خلا میں پر سمت دیکھتی ہیں
وہ کیسے بولیں کہ ان کے لب پر سکوت کی مہر سی لگی ہے
مگر دعا ء اک فضا ء میں گونجی کہ تو جہاں ہے وہیں کھلے تو
بلا سے دامن ہے اپنا خالی
نہیں میسر جو بوند اک بھی
***



on
on

Sofia Anjam Taj sahiba ki nazam bohat khobsurat hai aur Nazam kah joh khaas lutf huta sara majood hai