Muhammad Zamir Raza | اسلم جمشید پوری کے اعزاز میں استقبالیہ نشست

اسلم جمشید پوری کے اعزاز میں استقبالیہ نشست

پٹنہ(محمد ضمیر رضا)۱۳۔فروری ۲۰۱۲ء۔ اردو کے معروف ادیب ڈاکٹر اسلم جمشیدپور ی کی پٹنہ آمد پر ان کے اعزاز میں ایک استقبالیہ نشست کا انعقاد کیا گیا،جس میں اسلم جمشیدپوری نے ایک خوبصورت افسانہ ’’پانی اور پیاس‘‘ سنایا اور حاضرین میں موجود کئی اہم لوگوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے افسانہ اور افسانہ نگار کے امتیازات پہ روشنی ڈالا۔
سب سے پہلے ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی نے مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے مہمان خصوصی اسلم جمشیدپوری کی خدمات اور ان کی کتابوں کا تعارف پیش کیا اور ان سے افسانہ سنانے کی فرمائش کی۔افسانہ گوئی کے بعد حاضرین میں موجود ڈاکٹر جاوید حیات نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے ’’پانی اور پیاس ‘‘ کو ایک نئے طرز کا تہ دار افسانہ قراردیا ،جس میں نہ صر ف ظاہری طورپہ عہد حاضر میں پانی کی اہمیت اور کم ہوتے ہوئے پانی پہ تشویش کا اظہار ملتاہے بلکہ پانی انسانی زندگی سے تعلق رکھنے والے بہت سارے جذبات کے استعارے کے طورپہ بھی سامنے آتاہے۔ڈاکٹر قاسم خورشید نے افسانہ میں پیش کش کے نئے پن پہ زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بڑے کینوس کا افسانہ ہے ،جس میں زبان ،بیان اور اظہار کی سطح پہ ندرت اور جدت ہے،جو نئی نسل کے افسانہ نگاروں کی ایک اہم خصوصیت بھی ہے۔انہوں نے افسانہ نگار کے ٹریٹمنٹ کی بھی تعریف کی اور کربلا ،طوفان نوح اور سونامی وغیرہ کے ذکر سے جو وسعت پیدا ہوئی ہے اسے اس کہانی کا امتیاز قرار دیا۔ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی نے افسانہ ’’پانی اور پیاس ‘‘ کو اسلم جمشیدپوری کی کہانیوں میں سب سے الگ اور نئے طرز کا افسانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح انتظار حسین اپنے کہانیوں میں دیومالائی اور اساطیری واقعات،یا حسین الحق اردو کے بڑے ناولوں اور اس کے کرداروں کو اپنی کہانیوں کے پس منظر کے طور پہ استعمال کرتے ہیں اور اپنی کہانیوں کے کینوس کو وسعت بخشتے ہیں ویسے ہی اسلم جمشیدپوری نے اس کہانی میں واقعہ کربلا ،طوفان نوح ،واقعہ سونامی اور دوسرے بہت سارے پانی سے متعلق واقعات و حادثات کے ٹولس کے طورپہ استعمال کر کے اس کے کینوس کو بیحد وسیع کر دیاہے۔دوسرے یہ کہ اس میں پانی محض پانی نہیں ،استعارے کو طورپر استعمال ہوا ہے اس لیے اس کاتعلق سچائی ،حق ،عظمت رفتہ ،خلوص اور جدوجہد وغیرہ سے بھی ہو جاتاہے۔نوجوان کا پانی کی تلاش میں بھٹکنا اور پریشان ہونا عہد حاضر میں نوجوانوں کے تعلیمی اور ترقیاتی خوابوں کی راہ میں رکاوٹوں کا بھی استعارہ ہو سکتاہے۔ڈاکٹر ہمایوں اشرف نے اس افسانے کے بیانیہ پہ گفتگو کرتے ہوئے اس کی روانی اور شگفتگی کو سب سے بڑی خوبی قرار دیا اور کہا کہ زبان کا فلو ہی مطالعیت کو مہمیز کرتاہے ،اور اس کا فلو ایسا ہے کہ ایک بار کہانی شروع ہوئی تو کو ئی شخص ادھر ادھر دیکھنے کی ہمت بھی نہ کر سکا ،یعنی کہانی نے سامعین کو اپنی گرفت میں لے لیا،اور کہانی ایسی ہی ہونی چاہیے۔
آخر میں مہمان افسانہ نگار ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری نے تمام آرا کا خیر مقدم کرتے ہوئے سب کاشکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ کہانی دراصل میرے ہم عصر افسانہ نگار اختر آزاد کی کہانی ’’پانی ‘‘ پڑھ کر لکھا گیا،مگر دونوں کہانیوں میں کوئی تعلق نہیں ہے۔مجھے محسوس ہوتاہے کہ پانی پہ لکھی جانے والی کوئی کہانی واقعہ کربلا کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی ،اسی لیے میں نے پس منظر کے طور پہ واقعہ کربلا کا استعمال کیا اور جس طرح تاریخی واقعے کے بیان سے شعرکو تلمیحی بنایا جاتاہے میں نے اس افسانے کو تلمیحی بنانے کی کوشش کی ہے۔اس افسانے پہ جو رائے پیش کی گئی وہ بہت اہم ہے اور مجھے مزید بہتر افسانے لکھنے کی ترغیب دیتی ہے ،میں ایسی تمام رایوں کا خیر مقدم کرتاہوں۔ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی کے شکریے کے بعد اس نشست کا اختتام عمل میں آیا۔
***

Viewers: 104
Share