یوم جمہوریہ تقریب کے موقعے پر وائس چانسلر پٹنہ یونیورسٹی کے ہاتھوں
شعبۂ اردو کے تحقیقی مجلہ ’’اردو جرنل‘‘ (۲) کا اجرا
محمد ضمیر رضا،ریسر چ اسکالر ،شعبۂ اردو،پٹنہ یونیورسٹی)۔ ۲۶ جنوری ۲۰۱۲۔۔۔ شعبۂ اردو پٹنہ یونیور سٹی سے شایع ہونے والے تحقیقی مجلہ ’’اردو جرنل‘‘ کے دوسرے شمارے کا اجرا آج یوم جمہوریہ تقریب کے موقع پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر شمبھو ناتھ سنگھ کے ہاتھوں عمل میں آیا۔یوم جمہوریہ تقریب میں بڑی تعداد میں یونیورسٹی کے اساتذہ،ملازمین اور طلبا و طالبات شریک تھے ،جن سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر شمبھو ناتھ سنگھ نے فرمایا کہ کسی تعلیمی ادارے کی شناخت اور انفرادیت تین چیزوں سے ہوتی ہے ،تدریس،تحقیق اور تربیت ۔پٹنہ یونیورسٹی میں تعلیم و تدریس کا معیا نہ صرف بہار بلکہ ملک کی بہت سی دوسری یونیورسیٹیوں سے بہتر ہے مگر تحقیق اور تربیت کے شعبے میں ہمیں مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے۔
واضح ہو کہ شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی بار گذشتہ سال ایک تحقیقی مجلہ کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا تھا ،جس کے پہلے شمارے کی ہندستان گیر پیمانے پر پذیرائی ہوئی ۔اب دوسرا شمارہ نقش اول سے کہیں بہتر رنگ روپ لے کر سامنے آیا ہے اور صور ی و معنوی طورپر اردو جرائد کی دنیا میں اپنی نمایاں شناخت قائم کرنے کا اہل ہے۔رسم اجرا میں شریک جرنل کے مدیر اعلیٰ پروفیسر اعجاز علی ارشد نے جرنل کے متعلق بتا یا کہ دوسرا شمارہ کچھ تاخیر سے شایع ہو سکا ،اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم لوگوں نے اسے معیاری اور سودمند بنانے کیے لیے ISSN نمبر کے ساتھ شایع کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، اللہ کا شکر ہے ہماری محنتیں رنگ لائیں اور ہمیں یہ نمبر حاصل بھی ہو گیا۔اس طرح اب یہ جرنل اردو کے ان چند ایک رسائل میں شامل ہوگیا ہے جو ISSNنمبر کے حامل ہیں۔
اردو جرنل کے مدیر ڈاکٹر شہاب ظٖفر اعظمی نے جرنل کے مشمولات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ جس طرح پہلا شمارہ دبستان عظیم آباد اور اردو طنزو ظرافت کے خصوصی گوشوں پر مشتمل تھا،اسی طرح دوسرے شمارے کو بھی اساتذہ اور ریسرچ اسکالر ز کے لیے مفید بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔چونکہ ۲۰۱۱ء اردو کی تین عظیم شخصیات کی پیدائش کی صدی تقریبات کے لیے معروف رہا ،ہم نے جرنل کو انہیں تین شخصیات یعنی فیض احمد فیض ،سہیل عظیم آبادی اور اسرارالحق مجاز پر مضامین سے سجایاہے۔ساتھ میں شعبے میں مکمل ہونے والے تحقیقی کاموں کی دوسری قسط بھی دی گئی ہے ۔انہوں نے یقین کے ساتھ کہا کہ اردو ریسرچ جرنلز کی تاریخ میں یہ اپنی طرح کا نیا تجربہ ہے اور اردوکے اہل علم حضرات کو پہلے شمارے سے زیادہ پسند آئے گا۔
شعبۂ اردو کی صدر ڈاکٹر اشرف جہاں نے جرنل کی اشاعت پہ مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کے لیے سب سے زیادہ شکریے کے مستحق پروفیسر اعجاز علی ارشد اور شہاب ظفر اعظمی ہیں ،جنہوں نے اپنی انتھک کوششوں اور شب وروز کی محنتوں سے اس قدر خوبصورت رسالہ پیش کیا ہے ،میری طرف سے انہیں ہمیشہ نہ صر ف تعاون حاصل رہے گا ،بلکہ کوشش ہوگی کہ آئندہ ہر شمارہ وقت پر شایع ہوسکے۔
پٹنہ کے معروف دانشور اور فکشن نگار ڈاکٹر قاسم خورشید نے بھی نمایندے کو بتایا کہ جرنل مواد کے اعتبار سے تو وقیع ہے ہی ،ظاہری شکل و صورت کے اعتبار سے بھی بے حد دلکش ہے۔اسے دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اگر انسان کے دل میں حوصلہ اور امنگ ہو تو وہ نامساعد حالات میں بھی کارہائے نمایاں انجام دے سکتاہے۔میں اس کے لیے رسالے کے مدیران پروفیسر اعجاز علی ارشد اور ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی کو صمیم قلب سے مبارکباد پیش کرتاہوں۔
رسالے کی اشاعت پہ پروفیسر کاشی ناتھ(پرنسپل سائنس کالج) ،ڈاکٹر پی کے پوددار،ڈاکٹر اسرائیل رضا، ڈاکٹر عظیم اللہ،ڈاکٹر جاوید حیات،ڈاکٹر ابھے پرکاش،ڈاکٹر پشپ لتا ،ڈاکٹر سعید عالم، ڈاکٹر سرور عالم ،ڈاکٹر صادق حسین،ڈاکٹر دلیپ رام،ڈاکٹر شو ساگر ،ڈاکٹر لالیشور پرسا د ،ڈاکٹر اکھلیش کماراور بہت سارے اساتذہ و ریسرچ اسکالرز نے خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہوئے مدیران کو مبارکباد دی۔
***



on
on
