Farkhanda Razvi عطاء الحق کی کتاب ’’صدائے حق‘‘ پر فرخندہ رضوی کا تبصرہ

Farkhanda Razvi, Reeding (UK) E-Mail: khanda56@hotmail.com عطأ الحق کے شعری مجموعے پر تبصرہ حق کی آواز صدائے حق مبصر: فرخندہ رضوی میں نے اس شخص کو صرف ایک بار دیکھا […]

Farkhanda Razvi, Reeding (UK) E-Mail: khanda56@hotmail.com

عطأ الحق کے شعری مجموعے پر تبصرہ
حق کی آواز صدائے حق
مبصر: فرخندہ رضوی

میں نے اس شخص کو صرف ایک بار دیکھا ہے۔پچھلے سال پارلیمنٹ ہاؤس میں ریڈنگ کے ایم ۔پی نے ریڈنگ کے پاکستانی کمیونٹی سنٹر کے ممبران کو مدعو کیا ۔ میں اس دعوت خاص میں کمیونٹی سنٹر کے ممبر کی حیثیت سے وہاں موجود تھی۔وہیں میری ملاقات عطأ الحق سے ہوئی۔ایک دوسرے کے چہروں سے ہم واقف تو تھے مگر روبرو پہلی مرتبہ ہوئے۔خیرو عافیت پوچھنے سے زیادہ ہماری بات تو نہیں ہوئی مگرمیں عطأ الحق کے ویکلی پیپر یوکے ٹائم لندن ، میں باقاعدگی سے ادبی صفحے پر کچھ نہ کچھ لکھتی رہتی ہوں ۔کچھ ماہ پہلے یو کے ٹائم کی نمایاں خبروں میں ایک خبر معہ تصاویر شائع ہوئی کہ عطأ الحق صاحب کی کتا ب کی رسمِ اجرأ کی تقریب منعقد کی گئی ۔میں اس تقریب میں شامل تو نہ ہو سکی مگرآج خوب صورت سرورق میں سجی حق کی یہ آواز ’’صدائے حق‘‘ کتابی شکل میں میرے ہاتھوں میں تھی ۔ یہ میرے بہت عزیز بھائی مرزا امجد صاحب کی مہربانی سے مجھ تک پہنچی۔یہ شعری مجموعہ ان کی انتھک محنتوں کا نچوڑ ہے۔انتساب والدہ ماجد کے نام کیا ہے انہوں نے۔بڑے بڑے شعرأ کی رائے سے یہ سجا مجموعہ جس میں انور مسعود کہتے ہیں کہ اس کے اشعار میں لمحہ موجود بھرپور طور پر سانس لے رہا ہے،امجد اسلام امجد ادب میں ایک بڑا نام ان کے اظہار خیال میں عط�أ الحق زبان و بیان ،دونوں حوالوں سے سادگی پسند ہے۔فرحت عباس کو حق صاحب کے اندر ایک معصوم ،سچا اور پیار کرنے والا انسان نظر آیا اکبر حیدر آبادی صاحب کہتے ہیں کہ عطأ الحق کی شاعری کا کینوس خاصہ وسیع ہے۔اسی طرح منور احمد کنڈے صاحب نے عطأالحق کی غزل کو اگررواداری اور آشستی کے پیغام میں لپٹی ہوئی محبت و خلوص کی شاعری کا نام دیا جائے تو ہر گز غلط نہیں ہو گا ۔اسی طرح مرزا امجد جو خود بھی اچھے شاعر،مصنف نقاد ،تبصرہ نگار ،ادبی صفحے کے انچارج بھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ عطأ الحق ایک دوست نواز شخص ہے۔میں تمام مبصروں کی رائے سے اتفاق تو نہیں کر سکتی تھی جب تک خود اس شعری مجموعے کا مطالعہ نہ کر لیتی ۔
عطا الحق نے اس شعر ی مجموعے کی ابتدأ حمد بار تعالیٰ اور رسول پاک ؑ کی نعت مبارک سے کی
وہ قلم لاؤں کہاں سے جو ثنأ تیری کرے
لفظ کر مجھ کو عطاکچھ سوچ انسان سے پرے
اور نعت کے اشعار کچھ یوں ہیں ۔۔
ہے یقین حق کو کہ پہنچے گا درِ آقا پر
راہ میں گرچہ پڑیں پاؤں میں چھالے کتنے
اپنے ضمیر سے ہمکلامی اور یقین سے بلاتر اشعار ایک تصویر پیش کرتے ہیں ۔جوں جوں صفحہ پلٹتے جائیں ایک سے بڑھ کر ایک لمحہ فکریہ آنکھوں کو پُر نم کرتا ہی چلا جاتاہے۔پردیس کی گرمی ،سردی ،محنت و مشقت کا سامنا کرنے والا اپنی زمین و وطن سے اتنی ہی محبت کرتا دیکھا ئی دیتا ہے ۔اپنے وطن سے اس کی محبت کا ثبوت ایک نظم ،اے قائد اعظم،ہم ہیں شرمندہ
ہے حق بھی بہت نادم اک اہل وطن بندہ
تم کر دو معاف آقا ہر شخص ہے شرمندہ
میں نے عط�أالحق کو اس کے اشعاروں میں جانا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حق کو وسعت علم اور وسعت خیالی عطا کی ہے شعرو سخن کا فن بخشاہے۔ا س بات کی مثال ان اشعار میں ملتی ہے۔
کتنے اشعار لکھے کاغذ پہ مٹائے بھی گئے
ہم نے لفظوں کو سجانے کے لئے کیا نہ کیا
ہم کو معلوم تھاصحبت کا اثر ہوتا ہے
فاصلے تجھ سے بڑھانے کے لیے کیا نہ کیا
جس طرح دل کے اند ر کی دنیا اور باہر کی دنیا کے تضاد کو سمجھنا بہت ضروری ہے ۔اسی طرح یہ اشعار اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے ملتے ہیں ۔جس کی شخصیت تہہ در تہہ سچائی میں لپٹی ہوتی ہے وہ ہمیشہ کامیابی کے زینے بینأ سہاروں کے ہی طے کرتے جاتے ہیں ۔یہ سب خوبیاں اشعار کے ہر لفظ میں بدرجہ اُتم موجود ہیں ۔کسی کے دُکھ درد سمجھنے،ان کی پریشانیوں پر پریشان ہونا ،عقیدت مندی ،دوست نوازی،جب لفظوں میں یک جا ہونے لگیں تو لفظ شعروں میں ڈھلنے لگتے ہیں ۔شاعری اور ادبی لگاؤ حق ؔ کی زندگی میں اب لازم و ملزوم دیکھائی دے رہے ہیں گو کے سفر شاعروں کی دنیا میں اتنا پرانا نہیں جب جب لفظوں کے قطریے جذبات میں بھیگتے جائیں گے ان کی شاعری میں نکار آتا ہی جائے گا ۔ایک اچھے شاعر کی نشانی یہی ہے کہ وہ انسان کے دل میں محبت وخلوص پیدا کرے اور اچھی شاعری وہی جس کے لفظوں میں کوئی پیغام ہوجس طرح ۔۔۔
مجھے جتنا ڈبوتی ہے یہ دنیا
میں اتنا ہی ابھرتا جا رہا ہوں
عط�أالحق ہے دل میں اسمِ اعظم
اسی کا ورد کرتا جا رہا ہوں
یہاں حق ؔ اشعارکی کسوٹی پر پورا اترتے دیکھائی دے رہا ہے۔کیونکہ حمد،نعتوں اور شریں نظموں ،گیتوں ،غزلوں کا حسین امتیاز صدا ئے حق ہی تو ہے ۔اس مجموعے میں حمدیہ کلام ،نعت مقبول ؐ،غزلوں اور صنف سخن میں ادب برائے زندگی اور تعمیری پیغام کا ثبوت ملتا ہے ۔اس کتاب کی ایک نظم ۔دنیا ایک تماشہ ہے
ہم سب نے یہ دیکھا ہے،اس کے اندر بندہ ہے
مر مر کے جو زندہ ہے،رنگ برنگے پرندے ہیں
ساز لیے سارندے ہیں ۔۔۔
یہ نظم مراقبے کی اعلیٰ سطع کی کیفیت میں نظر آتی ہے۔ان کی غزلوں میں محبت کے روشن پہلو اور کچھ گردوپیش میں بکھری خرابیاں نظر بھی آتی ہیں ۔اس خوبصورت شاعر نے اپنے خیالات کی وسیع وادی میں سفر دوراں کبھی ہجر و وصال کے قصے،کبھی محبوب سے شکایت،کبھی بند آنکھوں میں بسے خوابوں میں صحراؤں کی ریت کا سفر ،آخرکار لفظوں کے سمندر کو اپنے قلم میں سمیٹ کر اشعاروں کی شکل میں ایک شعری مجموعے کی تخلیق کر ہی ڈالی ۔
عط�أ الحق ؔ کی عظیم الیشان شخصیت کے یہ خاکے مختلف شکلوں میں میرے سامنے رقصاں ہیں ۔
اس شعری مجموعے صدائے حق ؔ کے خالق عط�أالحق کو بہت بہت مبارک دیتی ہوں ۔اللہ تعالیٰ سے دعاہے انہیں ادب کے اس سفرمیں کبھی تھکاوٹ کا احساس نا ہو۔ہزاروں کامیابیاں نصیب ہوں ۔اپنے اظہار خیال کا اختتام اسی کتاب کے دو اشعار سے کرنے جا رہی ہوں ۔جو حق ؔ کی کامیابی کی اصل راہ ہیں ۔۔
دل میں جو کانٹے درد کے چھبتے تھے رات دن
آئے میری زبان پہ تواشعار ہو گئے
ماں باپ کی ملی ہے جنہیں بھی دعا ایے حقؔ
طوفان سے سفینے وہی پار ہو گے
بہت سی دعاؤں کے ساتھ اللہ کرے روز قلم اور زیادہ
***

Viewers: 5165
Share