Rahat Ameer Tari Khailvi راحت امیر تری خیلوی سے ملاقات۔۔۔ علی شاہ

Rahat Ameer Tari Khailvi

شاعر ،ادیب ، پبلشر اورآر۔ٹی۔پی۔کے ڈائریکٹرراحت امیر نیازی
تحریر وملاقات :علی شاہ

راحت امیر نیازی کا تعلق شعر ونغمہ کی سرزمین میانوالی کے ایک مضافاتی لیکن ادب و ثقافت کے اعتبار سے انتہائی ذرخیز گاؤں تری خیل سے ہے۔تری خیل نے جہاں خوش گلولوک فنکاروں گل تری خیلوی ،شرافت تری خیلوی،زاہد تری خیلوی اور “اج کالا جوڑا پا ساڈی فرمائش تے”جیسے شہرہ آفاق گیت کے خالق شاعرو موسیقارشوکت جیون کو جنم دیا وہاں راحت امیر جیسے کہنہ مشق شاعرو ادیب کا جائے پیدائش بھی ٹھہرا۔ راحت امیر نیازی نے اگر چہ زندگی کے اٹھا رہ قیمتی سال پاک فوج میں ایک فوجی مجاہد کی حیثیت سے گزارے اور حال ہی میں اپنی عسکر ی ملازمت کی مدت پوری کر کے ریٹائرمنٹ لی لیکن وہ پیدائشی تخلیق کار ہے اس لیے عسکری ملازمت کے باوجود اس نے اپنا تخلیقی سفر جاری رکھا۔ اس کی شاعری مجموعوں کی صورت میں منظر عام پر آئی ۔اس کے نثر پارے ملک کے صف اول کے رسائل و جرائد کے علاوہ قومی اخبارات کی زینت بنے اور بطور پبلشر اس نے ان گت نوجوان مضافاتی قلم کاروں کو متعارف کرایااور حال ہی میں راحت امیر نے “روہی تھل پروڈکشن “کے نام سے ایک ریکارڈنگ و سی ڈی ریلیزنگ کمپنی متعارف کرائی۔ راحت امیر نیازی گزشتہ کئی سال سے ملتان میں مقیم ہے اور شبانہ روز ادب کے فروغ و ترویج کے لیے کوشاں ہے ۔گزشتہ روز “اردو سخن ڈاٹ کام”کے بیورو آفس منکیرہ میں اس کے ساتھ ایک تفصیلی نشست ہوئی جو نذر قارئین ہے۔
س۔۔۔ راحت امیر! اپنے بچپن کے بارے میں کچھ بتائیے؟ کہاں اور کیسا گزرا؟
ج۔۔۔ میں میانوالی کے مشہور قبیلے تری خیل نیازی میں پیدا ہوا ۔ میرے والدین نے میرا نام امیر قلم خان رکھالیکن ادبی دنیا میں آ کر میں نے اپنا قلمی نام راحت امیر نیازی رکھ لیا۔میرا بچپن عام بچوں کی طرح گزرا۔ شرارتیں بھی کیں لیکن معقول حد تک۔ بچپن میں کرکٹ بہت کھیلی ہے بلکہ اپنے گاؤ ں کی کرکٹ ٹیم کا کپتان تھا۔ میرے گاؤں کا نام میرے قبیلے کے نام پر تری خیل ہے۔
س۔۔۔ آپ کو کب ادراک ہوا کہ آپ کے اندر ایک خوبصورت شاعر موجود ہے؟
ج۔۔۔ باقاعدہ تو یاد نہیں تاہم بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتا رہا۔
س۔۔۔ کچھ یاد ہے پہلا شعر کب اور کونسا کہا؟
ج۔۔۔ وقت تو یاد نہیں البتہ اولین شعر یاد ہے جو یوں تھا۔
مجھے کیا خبر کہاں ہیں میرے ساتھ والے پتے
میں ٹوٹ کر گر اہوں سوکھے ہوئے شجر سے
س۔۔۔ آپ کس قسم کی شاعری پسند کر تے ہیں؟
ج۔۔۔ مجھے المیہ شاعری زیادہ پسند ہے۔ ایسی شاعری جسے پڑھ کر قاری کو محسوس ہو کہ شاعری نے اس کے دکھوں کو الفاظ کا پیرہن پہنا یا ہے۔
میں راحت ؔ رات کو اٹھ کر بہت شدت سے روتا ہوں
زمانہ ساتھ گزرا جو سہانا یاد آتا ہے
س۔۔۔ آپ نے شاعری کے علاوہ کس صنف ادب میں طبع آزمائی کی ہے؟
ج۔۔۔ میں نے شاعری کے علاوہ نثر بہت لکھی ہے بلکہ یوں کہوں گا کہ میں بنیادی طور پر نثر نگار ہی ہوں اور میرے نثر پارے ادبی رسائل و جرائد میں مسلسل شائع ہو رہے ہیں جو بہت جلد کتابی صورت میں منظر عام پر لاؤں گا۔
س۔۔۔ آپ اپنا ادبی استاد کسے مانتے ہیں؟
ج۔۔۔ بابائے تھل فاروق روکھڑی مرحوم اور ملتان میں مقیم استاد الشعراء نور احمد غازی میرے اساتذہ ہیں۔ویسے ہر قلم کار اور ہر قاری میرا استاد ہے۔
س۔۔۔ آپ کی تصانیف ۔۔طبع شدہ؟۔۔۔زیر طبع؟
ج۔۔۔ اردو مجموعہ “ادھورے خواب”،نگہت اکرم کے ساتھ مشترکہ مجموعہ “خزاں کے بعد “(آزاد نظمیں)۔ مرتب شدہ مجموعے۔”آبشار”،”صدائے دل”،”دیپ سے دیپ جلے”،”اکھیاں وچ سمندر”،”عشق دیاں سوغاتاں”،”روگ ہجر دے”،”رتبہ حسینؑ کا”۔علاوہ ازیں کچھ مجموعوں میں میراکلام شامل ہے ان میں “سوچ کے دیپک”،”راہی ایک ہی منزل کے”،”چاندنی تالاب میں”،”اشک اشک زندگی”،”سارے رنگ محبت کے”اور “میں کوئی پار سا نہیں فاروقؔ “شامل ہیں جبکہ “جرم وفا”اور ہنجو اں تے ہو کے”زیر طبع ہیں۔
س۔۔۔ آپ ادبی روایات میں تجربے کے کس حد تک قائل ہیں؟
ج۔۔۔ تجربات ہر دور میں ہوتے ہیں اور ہوتے رہنے چاہئیں تاہم نثری نظم جیسے نہیں۔
س۔۔۔ قاری اور کتاب کے درمیان ایک خلیج سی حائل ہو رہی ہے ۔وجہ؟
ج۔۔۔ الیکٹرانک میڈیا نے بالخصوص نوجوان نسل کو کتاب سے اگرچہ دور کیا ہے لیکن کتاب ہمیشہ زندہ رہنے والی چیز ہے اور کتاب کی اہمیت سے انکار قطعی ممکن نہیں ہے۔
س۔۔۔ کیا آپ ادب کے حوالے سے میڈیا کے کردار سے مطمئن ہیں؟
ج۔۔۔ ہر گز نہیں۔ بالخصوص الیکٹرانک میڈیا ادب کو بالکل جگہ نہیں دے رہا۔اگر ٹی وی چینلزسنسنی پھیلانے والی متواتر رپورٹوں سے وقت نکال کر ادب کو بھی منظر عام پر لائیں تویقیناًصحت مند معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے ۔ پرنٹ میڈیا کی صورتحال کسی حد تک بہتر ہے تاہم اب بڑے اخبارات نے بھی ہفتہ وار ادبی صفحات ختم کر دیے ہیں اور یہ صورتحال خاصی تشویشناک ہے۔
س۔۔۔ آپ نے شعراء کے انتخاب پر بہت سی کتابیں شائع کیں ۔یہ ضرورت کیوں پیش آئی؟
ج۔۔۔ دراصل بہت سے شعراء اور بالخصوص خوبصورت لیکن گمنام شاعر ایسے ہیں جو اپنی کتاب نہیں چھپوا سکتے لہذا آ ٹھ دس شعراء کا مشترکہ مجموعہ شائع کرکے نہ صرف ان کا کلام محفوظ کیا جا سکتا ہے بلکہ قارئین ادب تک بھی ان کی شاعری کی خوشبو پہنچ جاتی ہے۔یہ ایک تجربہ تھا جو بے حد کا میاب رہا۔
س۔۔۔۔ اد بی حوالے سے آپ کے گھر کا ماحول کیسا رہا ؟
ج۔۔۔ میرا بڑا بھائی بہت ہی خوبصورت نثر نگار ہے اور بالخصوص کہانی نویسی میں خوب ملکہ رکھتے ہیں ان کی کہانیاں بہت سے ڈائجسٹو ں کی زینت بنتے رہی ہیں۔یوں مجھے گھر میں بھی لکھنے لکھانے کا ماحول میسر آیا۔
س۔۔۔ آپ نے ایک آدھ اپنا پرچہ بھی نکالا تھا۔ ان کا کیا ہوا؟
ج۔۔۔ میں نے ایک دوست خالد جاوید کے ساتھ مل کر “صدرنگ”کے نام سے پرچہ نکالا تھا جو آٹھ سال تک چلا لیکن خالد جاوید کی اچانک وفات کی وجہ سے ڈیکلریشن کینسل ہوگیا دوسرا فلمی پرچہ تھا وہ بھی بوجوہ بند ہو گیا۔ اب نور احمد غازی کے ساتھ مل کر اشاعتی ادارہ چلا رہا ہوں۔
س۔۔۔ روہی تھل پروڈکشن کے اجراء کی کیا کہانی ہے ؟
ج۔۔۔ نئے قلمکاروں کی طرح سرائیکی وسیب میں انگنت ایسے گلوکار،نوحہ خواں،نعت خواں اور فنکار ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے لیکن وسائل نہ ہونے کہ وجہ سے اُن فنکاروں کو اپنے فن کے اظہار کے مواقع نہیں ملتے ۔ دوسری طرف بہت سے ریکارڈنگ کمپنیاں نئے فنکاروں کو لوٹنے پر کمر بستہ ہیں ۔ اس سلگتی صورتحال میں مجھے محسوس ہوا کہ پبلشنگ ادارے کی طرح نئے فنکاروں کے لئے بھی ایک فنکاردوست پلیٹ فارم کی اشد ضرورت ہے ۔ میری اس کاوش کو میرے دوستوں نے سراہااور نوجوان فنکاروں کی حوصلہ افزائی بھی لہذا اب تک میں شرافت تری خیلوی ،رانجھا خان ارمانی،اشرف مرزا،نتھلی والی ۔معروف نعت خواں پروفیسر عبدالرؤف رؤفی اور دیگر کئی معروف اور نوآموز فنکاروں کی سی ڈیز ریلیزکر کے اپنے مقصد میں بہت حد تک کامیاب ہوا ہوں اور داور کی وساطت سے ہر اس فنکار کو اپنے پلیٹ فارم پر دعوت دے رہا ہوں جو کاروباری کمپنیوں کی طر ف سے مایوس ہے لیکن اس کے اندر خوشگلو فنکار موجود ہے ۔
س۔۔۔ نئے لکھنے والوں کے نام آپ کا پیغام؟
ج۔۔۔ نئے لکھا ریوں سے یہی کہوں گا کہ مقدار کی بجائے معیار پر توجہ دیں۔ اساتذہ سے سیکھیں ۔مطالعہ کو اپنا شعار بنائیں۔ بالخصوص کلاسیکی ادب کو پڑھیں ،تخلیقی سفر میں معنویت اور مقصد یت کو مدِنظر رکھیں۔ میں اردو ادب کے فروغ کیلئے کوشاں اردو سخن ڈاٹ کام کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے مجھے اس اعزاز کے لائق سمجھا اور مجھے اپنی محفل کے گراں قدر ادبا و شعراء سے متعارف کرایا
***

Viewers: 2845
Share