Shahida Dilawar Shah شاہدہ دلاور شاہ کی باتیں۔۔۔ علی شاہ

Shahida Dilawar Shah

خوش اسلوب شاعرہ ، ادیبہ اور محقق شاہدہ دلاور شاہ کے ساتھ ایک نشست
تحریر وملاقات: علی شاہ

لاہور میں مقیم منفرد اسلوب کی شاعرہ و ادیبہ محترمہ شاہدہ دلاور شاہ کا شمار ان با صلاحیت تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں اور شبانہ روز جدو جہد کی بدولت کم عمری اور مختصر مدت میں اپنے ہونے کا بھر پور احساس دلا یا ہے۔ موصوفہ بیک وقت کہانی نویس ،کالم نگار اور شاعرہ ہیں تاہم ہر صنفِ سخن میں اپنے منفرد اور توانا اسلوب کی بدولت الگ شناخت بنانے میں کامیاب نظر آتی ہیں۔شاہدہ دلاور شاہ جہاں اردو کو قومی فریضہ سمجھ کر ذریعہ اظہار بنائے ہوئے ہیں وہاں اپنی مادری زبان پنجابی کا قرض چکانے کے لئے بھی ہر لمحہ کوشاں ہیں۔ ان کی اب تک اردو اورپنجابی میں کئی تصانیف منصۂ شہود پر آکر بھر پور پذیرائی حاصل کر چکی ہیں اور ان کی بے مثال ادبی خدمات کی بدولت انہیں متعدد ایوارڈ ز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ شاہدہ دلاور شاہ نے حال ہی میں پی ایچ ڈی کاکام مکمل کیا ہے۔ محبت کو انسانیت کی فلاح کے لیے بنیادی عنصر گردانتی ہیں اور اپنی تخلیقات کے ذریعے محبت تقسیم کر تی ہیں ۔ ان کی تخلیقات معاشرتی ہوں ،مزاحمتی ہوں یا سماجی،محبت کے رس گھولتی نظر آتی ہیں یہی وجہ ہے کہ موصوفہ تلخ سے تلخ بات بھی انتہائی دلکشی سے بیان کر جاتی ہیں۔۔۔۔۔ شاہدہ دلاور شاہ کی تخلیقی صلاحیتوں کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی کیا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر سلیم اختر ،ڈاکٹر اختر شمار،ڈاکٹر اجمل نیازی، حسین مجروح اور ڈاکٹر یونس احقر جیسے ممتاز دانشور وں نے شاہدہ دلاور کو مستقبل کا گرانقدر ادبی خزانہ اور اردو و پنجابی ادب کا درخشندہ ستارہ قراردیا ہے ۔گزشتہ دنوں لاہور جانے کا اتفاق ہو اتو شاہدہ دلاور شاہ کے ساتھ ایک تفصیلی نشست ہوئی ۔اس نشست کے دوران ہونے والی گفتگو “اردو سخن ڈاٹ کام”کے قارئین کی نذرہے۔
س۔۔۔ شاہد ہ دلاور صاحبہ! آپ نے تعلیم کہاں تک حاصل کی اور آ ج کل کیا مصروفیات ہیں؟
ج۔۔۔ میں پنجابی میں پی ایچ ڈی مکمل کر چکی ہوں اورمیں نے منیر نیازی پر P.H.D.کامقالہ لکھا۔ تعلیم کے علاوہ ادبی سرگرمیاں اور بس۔
س۔۔۔ آپ کو کب ادراک ہوا کہ آپ کے اندر ایک خوبصورت تخلیق کارہ موجود ہے نیز پہلی تحریر کون سی لکھی تھی؟نثر یا نظم وغیرہ؟
ج۔۔۔ اپنے تخلیق کارہ ہونے کا ادراک تو مجھے ابھی تک نہیں ہوا جہاں تک پہلی تحریر کا تعلق ہے تو گھر میں ایک قومی اخبار آتا تھاجو بڑے بھائی پڑھتے تھے تب میں پرائمری کی طالبہ تھی اور بچوں کا صفحہ بڑے شوق سے پڑھتی پھر کہانیاں لکھنا شروع کر دیا۔ جب مڈل کلاسز میں پہنچی تو اخبارات میں بچوں کے صفحات پر میری تحریریں چھپنا شروع ہو گئیں ۔پھربچوں کی نظمیں لکھنا شروع کر دیں اور یوں یہ سلسلہ تا حال چل رہا ہے۔
س۔۔۔ آپ کی تخلیقات کے موضوعات کیا رہے ہیں؟
ج۔۔۔ میں نے سماجی ،مذہبی ،سیاسی اور رومانوی موضوعات پر طبع آزمائی کی ہے ۔دراصل یہ تحریر پہ منحصر ہے ۔جیسے اگر غزل یانظم لکھنی ہے تو میں نے زیادہ تر رومانوی شاعری کی ہے۔ اگر افسانہ لکھنا ہو تو وہ سماجی و معاشرتی مسائل اجاگر کرتی ہوں اور اگر کالم لکھوں تو وہ سماجی و معاشرتی کے علاوہ سیاسی یا مذہبی بھی ہو سکتا ہے ۔
س۔۔۔ آپ نے کس کس صنف سخن میں طبع آزمائی کی ہے؟
ج۔۔۔ شاعری،تنقید،افسانہ،کہانی اور کالم نگاری کی ہے۔
س۔۔۔ شاعری سے افسانہ نگاری کی طرف آپ کیسے مائل ہوئیں؟
ج۔۔۔ “اکادمی ادبیات”نے اپنے پرچے کی خواتین کے حوالے سے خصوصی اشاعت کے لیے مجھے افسانہ لکھنے کو کہا۔ افسانہ تو میں نے لکھ لیا لیکن بھیجنے میں لیٹ ہو گئی۔ بعد میں وہی افسانہ جمیل پا ل کے پر چے”سویرا انٹرنیشنل” کو بھیج دیاجس پر جمیل پال نے مشورہ دیا کہ کالم لکھا کرو۔دراصل انہوں نے افسانے پر طنز کیا تھا۔ میں نے اپنی ہتک محسوس کی۔میں نے کہا پال صاحب اب میں افسانہ لکھوں گی اور آپ اپنے پرچے کے لئے مجھ سے افسانہ مانگا کریں گے۔ میں نے سخت محنت کی۔ بھر پور افسانے تخلیق کئے اور اب واقعی پال صاحب اپنے پرچے کے لئے مجھ سے افسانے مانگتے ہیں۔
س۔۔۔ کالم نگاری کی تحریک کیسے پیدا ہوئی؟ اور کس کس اخبار کے لئے کالم لکھے؟
ج۔۔۔ میں پنجا ب یونیورسٹی کی طالبہ تھی تو ضیاء شاہد صاحب کے پنجابی اخبار”خبراں”کی طرف سے کالم لکھنے کی آفر ہوئی پھر “بلیکھا”۔ کینیڈا ،برٹش کو لمبیا، انڈیا اور نیور یارک سے شائع ہونے والا کثیر الاشاعتی اخبار ہفت روزہ “چڑھدی کلاہ”۔”دنیا انٹر نیشنل “یو کے (اردو)۔”اردو ٹائمز”،”جنگ”اور “دن”کے لئے کالم لکھے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
س۔۔۔ عصر حاضر کے تخلیق کار پر معاشرتی وعوامل کے اثرات کس حد تک مرتب ہو رہے ہیں؟
ج۔۔۔ انسان جس مٹی کا خمیر ہو تا ہے اس کے اثرات جسم کے ساتھ ساتھ سوچوں اور ذہن پر بھی مرتب ہو تے ہیں۔ قلمکار تو ویسے بھی اپنی دھرتی سے جڑا ہو تا ہے اور اس پرمعاشرتی عوامل کے بہت گہرے اثرات مر تب ہو تے ہیں۔
س۔۔۔ آپ سٹوڈنٹ لائف میں کس قسم کی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہی ہیں؟
ج۔۔۔ یونیورسٹی میں کر کٹ ٹیم کی کپتان رہی ۔ بیڈ منٹن اور اتھلیٹکس مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ڈرامیٹگ سوسائٹی کی صدر تھی۔ ایجو کیشن یونیورسٹی میں “اردو ادب سوسائٹی ” کی صدر رہی ہوں۔ بیت بازی میں حصہ لیا ۔ سو اس ساری کار کردگی پر یو نیورسٹی سے رول آف آنرکا ایوارڈ ملا۔ علاوہ ازیں یونیورسٹی کے مجلہ “تعلیم و تحقیق” کی ایڈیٹر بھی رہی ہوں۔
س۔۔۔ آپ کے نزدیک موجودہ ادبی فضا میں تناؤ کے اسباب کیا ہیں؟
ج۔۔۔ اہل قلم کی گروہ بندیاں ،اجارہ داریاں ،حکومتی ادبی اداروں پر غیر ادبی لیکن با اثر افراد کا تسلط ، جو کسی محکمہ سے مدت ملازمت پوری کر کے ریٹا ئرہو تا ہے اپنے اثرو رسوخ کی وجہ سے کسی ادبی ادارے پہ مسلط ہو جا تا ہے چاہے اس کا ادب سے دور کا واسطہ بھی نہ ہو ،یہ منفی رویے نہ صرف ادبی فضا میں تناؤ کا باعث ہیں بلکہ ادب کے فروغ وترویج کی راہ میں بڑی رکاوٹ بھی ہیں۔
س۔۔۔ ادبی حوالے سے آپ کا گھر یلو ماحول کیسا رہا ہے؟
ج۔۔۔ بڑے بھائی اخبار پرھتے تھے اور پھر ہم سب روزانہ اخبار پڑھتے ۔ ماں بھی اخبار کے ساتھ ساتھ کتب کے مطالعے کا بہت شوق رکھتی ہیں یوں بچپن سے ہی کتا ب اور مطالعے سے مانوسیت ہے۔ اور اب بھی مجھے ادبی حوالے سے گھروالوں کی طرف سے بھر پور تعاون اور رہنمائی حاصل ہے۔
س۔۔۔ ادبی گروہ بندیوں نے ادب کو کس حد تک متاثر کیا ہے؟
ج۔۔۔ گروہ بندیوں کی وجہ سے نااہل لوگوں کو بلاوجہ پذیرائی ملتی ہے جبکہ حقیقی تخلیق کار کی اپنی ایک انا اور وقار ہو تا ہے اس لیے وہ کسی گروہ میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے نظر انداز ہو رہے ہیں بالخصوص مضافات کے تخلیق کار اس رویے کا زیادہ شکار ہیں ۔ ادبی گروہ بندیوں کی وجہ سے سکول آ ف تھاٹ کی جگہ روم آف تھاٹ نے لے لی ہے۔
س۔۔۔ قاری اور کتا ب کے درمیان ایک خلیج سی حائل ہو رہی ہے۔ یہ با ت کس حد تک درست ہے؟
ج۔۔۔ یہ بات درست ہے اور اس کی بڑی وجہ نئی ٹیکنالوجی ہے۔ لیکن کتاب کی اہمیت بھی اپنی جگہ ہے اور رہے گی۔میں کتاب کے مستقبل سے مایوس ہر گز نہیں ہوں ۔ کتا ب کی اہمیت کو اجاگر کر نا حکومت بھی ضروری نہیں سمجھتی ۔ اہل قلم کو چاہیے کہ وہ اس سلسلہ میں تحریک چلائیں ۔ کتاب چھا پنا ہی کافی نہیں بلکہ اصل ذمہ داری قاری تک کتاب پہنچانا ہے ۔ سکولوں میں لائبریریاں ہیں جہاں کتب کو دیمک چاٹ رہی ہے ۔ اگر لائبریری کودیہاتوں تک پھیلایا جائے۔ تمام سرکاری محکموں تک ان کا نیٹ ورک بڑھا یاجائے تو کتا ب بینی کو فروغ حاصل ہو سکتا ہے ۔
س۔۔۔ کیا آپ ادب کے فروغ کے حوالے سے میڈیا کے کردار سے مطمئن ہیں؟
ج۔۔۔ الیکٹرانک میڈیا پر بعض گروپوں کی اجارہ داری ہے ۔ سرکاری چینل پر مشاعرہ ہو یا کوئی ٹاک شو، باربار وہی منظور نظر لوگ بلائے جاتے ہیں اور ان چہروں کو دیکھ دیکھ کر ناظرین اس قدر عاجز آ چکے ہیں کوئی ادبی پر وگرام شروع ہوتے ہی لوگ ٹی وی بند کر دیتے ہیں۔ جہاں تک پرنٹ میڈیا کا تعلق ہے تو اب بڑے قومی اخبارات نے اپنے ادبی ایدیشنزبند کر دیے ہیں۔ یہ صورتحال تشویشناک ہے اور اس سنگین صورتحال میں کوئی بھی ادیب میڈیا کے کردار سے کیونکر مطمئن ہو سکتا ہے۔
س۔۔۔ اب تک منظر عام پر آنے ولای آپ کی تصانیف ۔۔۔۔۔۔؟
ج۔۔۔ “اک گواچی شام”(شاعری)،”پنجابی ادب دے اجوکے روپ”(تحقیق)،”ریت پریت “(کالم)،”تڑکے گھڑے دا پانی”(افسانے)،”مٹھی میں آگ” (افسانے)،”میں تے عشق” (شاعری)،”بلندیوں کا مسافر”(تحقیق)،”چاندی گواہ ہے(شاعری)،”باوقار آزادی”(کالم)اور “وقت کی ہتھیلی پر”(شاعری) منصہ شہود پر آچکی ہیں جبکہ کچھ کتابیں زیر طبع ہیں۔
س۔۔۔ آپ نے پنجابی میں بہت کام کیا ہے ، کیا پنجابی زبان میں بین الاقوامی معیار کا ادب تخلیق ہو رہا ہے؟
ج۔۔۔ پنجابی میں جس قدر توانا اور خوبصورت ادب تخلیق ہورہا ہے دنیا کی کسی اور زبان میں نہیں ہو رہا لیکن پنجابی ادب کو حقیقی معنوں میں پرموشن نہیں مل رہی حالانکہ پنجابی ادب ہر پہلو سے بین الاقوامی معیار کا ہے۔
س۔۔۔ آپ ادب برائے ادب یا ادب برائے زندگی میں سے کس کی قائل ہیں؟
ج۔۔۔ میں ادب برائے زندگی کی قائل ہوں کیونکہ کوئی بھی تخلیق کار اپنے ارد گرد کے ماحول سے کس طرح چشم پوشی کر سکتا ہے ۔ وہ جو کچھ دیکھتا ہے ،جو محسوس کر تا ہے اپنے فن پارے کی صورت میں ڈھا لتا ہے۔
س۔۔۔ آپ ادبی روایات میں تجربے کی کس حد تک قائل ہیں؟
ج۔۔۔ دیکھیں جی! گزرتا ہوا ہر لمحہ ایک تجربہ ہے۔ میں اپنے عہد کی قائل ہوں اگر تجربہ اچھا ہو تو کر نا چاہیے جیسے منیر نیازی مرحوم نے نظم کو نیا رنگ دیا۔ لیکن بھونڈ تجربات وقت کا ضیاع ہیں۔
س۔۔۔ آپ کی تخلیقات کس کس ادبی پر چے میں شائع ہوتی ہیں؟
ج۔۔۔ اردو اور پنجابی کے تمام قومی و بین الاقوامی پرچوں میں شائع ہو تی ہیں۔
س۔۔۔ کہا جا تا ہے کہ خواتین لکھاریوں کو بڑے تخلیق کار پروموٹ کرتے ہیں ؟
ج۔۔۔ چند ایک خواتین کی وجہ سے یہ مشہور ہوا ہے۔ جو جینؤئن نہیں ہیں وہ اِدھر اُدھر سے لکھواتی ہیں لیکن یہ کرپشن محض خواتین تک ہی محدودنہیں بلکہ بعض مرد بھی پیسے دے کر لکھواتے ہیں ۔ان کی کتابیں بھی آتی ہیں ۔ وہ بڑے بڑے مشاعرے بھی پڑھتے ہیں ۔ غیر ملکی دوروں پر بھی جا تے ہیں اور ٹی وی اور اخبارات میں ان کے انٹرویو بھی بہت ہوتے ہیں۔ویسے رشوت لینے اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔ لکھنے اور لکھوانے والابھی دونوں قصوروار ہیں۔
س۔۔۔ ادبی خدمات کے اعتراف میں اگر آپ کو کوئی سرکاری یا غیر سرکاری ایوارڈ ملا ہو تو تفصیل بتائیے؟
ج۔۔۔ سب سے بڑا ایوارڈ تو اپنی دھرتی کے لوگوں کی طرف سے ملنے والی بھر پور پذیرائی ہے تاہم کچھ ادبی تنظیموں کی طرف سے ایوارڈز بھی ملے ہیں جن میں “بیسٹ کالم رائٹر2006ء ۔شہباز سلطان حمید ایوارڈ 2006ء ۔گیسٹ آف آنر ورلڈ پنجابی فورم 2006ء۔ بیسٹ سٹوری رائٹر 2007ء۔ لاہور جمخانہ شعروسخن ایوارڈ 2007ء۔ ہیلے کالج آف بینکنگ اینڈ فنانس مینٹور2007ء۔ پنجابی ادبی مجلس کا ایوارڈ آف ایکسیلینس 2007ء ۔گل نواز بلوچ ایوارڈ 2008ء ۔ڈاکٹر طارق سلیم ایوارڈ 2009ء۔ مہکاں ادبی فورم ایوارڈ2009ء ۔آؤٹ سٹینڈنگ ٹیلنٹ ایوارڈ 2009ء اور دی ٹائمز کا لج کا گیسٹ آف آنر ایواڑڈ 2009ء نمایاں ہیں۔
س۔۔۔ شاہدہ دلاور شاہ! آپ کا خواتین لکھایوں کے نام پیغام؟
ج۔۔۔ اچھی تخلیق کے پیچھے لگن اور محنت ضروری ہے۔ اپنی تخلیق سے سچ کا ذائقہ ختم نہ ہونے دیں ۔اپنے ٹریک سے نہ ہٹیں۔ اپنی عزت وانا کا پاس رکھیں۔ سینئرز کا احترام کریں اورمطالعے کو اپنا شعار بنائیں ۔تخلیق کے لئے مقصد یت بھی ضروری ہے۔
س۔۔۔ آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے نہ صرف ہمارے لیے اپنا قیمتی وقت نکالا بلکہ ہمارے قارئین کواپنے خوبصورت خیالات سے بھی نوازا۔
ج۔۔۔ میں بھی”اردو سخن ڈاٹ کام”کی ٹیم کی شکر گزار ہوں کہ جس نے اپنی قومی اشاعت کے لیے میرے انٹر ویو کا اہتمام کیا۔
***

Viewers: 6733
Share

7 Comments

  1. Bhatti Pakistan Internet Explorer Windows

    Bay-kaar hai…

    • maummer anwar malik Pakistan Google Chrome Windows

      shut up………kisi ki tareef nahi kar sktay to usay bekar bhi mat kaho

    • Hamza Jutt Kullal Pakistan Google Chrome Windows

      you just shutt the hell up you bas****
      how dare u talk aby her in a cheap way !!!
      and never try to criticise others esp. the [eople who are higher in every rank and field of life than you… mind it !!!

    • Wasim Ahmed Pakistan Internet Explorer Windows

      Sahi kaha Bhatti sahab…. ye poets waghera sirf waqt zaya kertay hayen hamara. Meray 40 minute zaya ho gaye ye fazool battayen perrhtay huwey jo abb kabhi wapas nahi aa saktay

  2. Ammar Yasir Pakistan Mozilla Firefox Windows

    Very interesting interview with the famous and good writer of the time. She did a good work in filed of literature.

  3. HUSSAIN MIRZA Pakistan Google Chrome Windows

    very interesting she is best poet

  4. maummer anwar malik Pakistan Google Chrome Windows

    i am proud to be her student she is a really good teacher and a mother and a best friend too. i really enjoyed her company. the time i spend with her i will never forget.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>