Noor Ahmad Ghazi by Ali shah صاحب اسلوب شاعر،ادیب اور کالم نگار نور احمد غازی کے ساتھ ایک نشست۔۔۔۔از:علی شاہ

صاحب اسلوب شاعر،ادیب اور کالم نگار نور احمد غازی کے ساتھ ایک نشست

تحریرو ملاقات: علی شاہ

ملتان میں مقیم عہد ساز دانشور نور احمد غازی کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں ۔ وہ بیک وقت صاحب اسلوب شاعر،دلکش نثر نگار،ممتاز کالم نویس ،ڈرامہ رائٹر،فیچر رائٹر،مزاح نگار،افسانہ نگار،سوانح نگار،ناول نگاراور بچوں کے رائٹر ہیں ۔ حقیقت میں ہشت پہلو شخصیت کا مقولہ ان پر صادق آتا ہے ۔ نور احمد غازی کی مادری زبان اردو ہے لیکن وہ پنجابی اور سرائیکی زبان پہ بھی یکساں دسترس رکھتے ہیں ۔ اور ان تینوں زبانوں کے قادر الکلام شاعر و ادیب ہیں ۔ نور احمد غازی1937ء کو بھارت کے علاقہ ہو شیار پور کی بستی پنج بھائیاں میں پیدا ہوئے ۔ قیام پا کستان کے بعد وہ دس سال کی عمر میں اپنے والدین کے ہمراہ پا کستا ن آگئے لیکن انہوں نے کم عمر ی میں جو خونی منا ظر دیکھے وہ آج بھی ان کے ذہن پر کندہ ہیں او ر یہ سلگتی کیفیات ان کی تخلیقا ت سے بھی نمایاں ہیں ۔ انہوں نے اسلامیہ ہائی سکو ل ملتان سے میٹرک اور ایمرسن کا لج سے ایف ایس کا امتحان پا س کیا ،پھر 1958ء میں پاکستان ریلوے میں ملازمت اختیار کر لی ۔ ملازمت کے سلسلہ میں مختلف شہر وں میں تعینات رہے اورپھر 1988 ء میں بطور ٹکٹ کلکٹرملازمت سے ریٹائر ہو ئے ۔ دوران ملا زمت ادبی سر گرمیوں کے ساتھ ساتھ ریلو ے کی ٹریڈ یو ئین میں بھی بڑھ چڑ ھ کر حصہ لیتے رہے ۔ چونکہ نور احمد غازی دوران ملا زمت بھی زیادہ تر ملتان ہی تعینا ت رہے اس لئے وہ ملتان کی ادبی سر گرمیو ں کا ہمیشہ کلیدی کر دار ہے۔ با لخصو ص ملازمت سے ریٹا ئر منٹ کے بعد تو ان کی تما م تر تو جہات کا محور ومر کز ادب ہی ہے ۔ نو ر احمد غا زی نے اردو ، سرائیکی اور پنجابی ادب کی تقر یباً ہر صنف پہ بھر پو ر اور توانا ادب تخلیق کیا ۔ ملک بھر میں مشاعر ے بھی پڑ ھے ،کا لم نگاری بھی کی ، ادبی تنظیموں کے ساتھ بھی وا بستگی رہی اور گزشتہ کئی سال سے راحت امیر نیازی کے سا تھ مل کر صدق رنگ پبلی کیشنز کے پلیٹ فارم سے نو جو ان تخلیق کا روں کو متعار ف کر ا رہے ہیں ۔ نو ر احمد غازی کو عمر کے اس حصے میں بھی یہ دکھ ہے کہ جو پا کستان لا کھو ں جا نو ں کی قر بانیوں کے بدلے حاصل کیا تھا آج وہ پا کستان کہیں نظر نہیں آتا اور جس مسلم لیگ نے قائد اعظم کی قیا دت میں وطن حاصل کیا وہ بھی کہیں نظر نہیں آتی ۔گزشتہ دنو ں ملتان جا نے کا اتفاق ہو تونیو ملتان میں نو ر احمد غازی کی رہا ئش گاہ پر ان کے ساتھ ایک نشست ہوئی جس کی تفصیلا ت نذر قار ئین ہیں۔
س۔۔۔ غازی صاحب !آپ ادب کی طرف کیسے راغب ہو ئے ؟یعنی ادبی سرگرمیوں کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟
ج۔۔۔ دراصل لکھنے والے لو گ پید ائشی تخلیق کا ر ہو تے ہیں سووہ شعور سنبھالتے ہی اد ب کی طرف راغب ہو جا تے ہیں او راپنے لئے ادبی ما حول پیدا کر لیتے ہیں ۔ جہاں تک میری ادبی سر گرمیو ں کا تعلق ہے تو اس ضمن میں یہی کہو ں گا کہ میں سٹو ڈنٹ لا ئف میں سکو ل و کا لج کی ادبی سر گر میو ں میں باقاعدگی سے حصہ لیتا تھا ۔ کا لج میں مقابلہ نظم و غزل میں بھی حصہ لیتا رہا ۔
س۔۔۔ لکھنے کا باقا عدہ آغاز کب اور کس صنف سخن سے کیا ؟
ج۔۔۔ میں نے 1970ء میں ما ہنا سلام عرض میں ایک کہا نی لکھ کر اپنے ہو نے کا باقاعدہ اعلان کیا اور پھر اسی پر چے میں افسانے اور کہا نیا ں لکھیں۔
س۔۔۔ آپ نے مشاعروں میں کس حد تک حصہ لیا اور ادب کے فروغ میں مشاعر ے کا کیاکر دار رہاہے؟
ج۔۔۔ میں نے ملتان اور دیگر شہر وں میں بہت زیا دہ مشاعرے پڑھے ہیں جہا ں تک مشاعر ے کے کر دار کا تعلق ہے تو شعری ادب کو مقبول عام کر نے اور پر وان چڑھا نے میں مشاعرے کاکر دار ہردور میں نمایا ں رہاہے۔لیکن آج توانا مشاعرے کی روایت دم توڑ تی جا رہی ہے۔ دیگرشعبہ ہا ئے زند گی کی طرح مشاعرہ بھی غلط ہا تھو ں میں آ گیا ہے ۔ جو لو گ مشاعرہ کر ارہے ہیں وہ ادب کی خدمت کے بجائے اپنی پذیر ائی کو ترجیح دیتے نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ سنجیدہ لکھار یو ں کی مشاعرے میں دلچسپی ختم ہو تی جا رہی ہے ۔
س۔۔۔ ملتان کی ادبی فضاکے بارے میں کیا کہیں گے ؟
ج۔۔۔ ایک وقت تھا جب ملتان کی ادبی فضا دبستا نِ لکھنو جیسی تھی ۔ یہ وہ وقت تھا جب ملتان کے آ کا ش اد ب پہ عاصی کر نا لی،ٖحسین سحر،امید ملتانی ،اسلم انصاری ، اقبال ارشد،عرش صدیقی ،حزین صدیقی، تابش صمدانی ،ایاز صدیقی اور ممتاز العیشی جیسے درخشندہ ستارے جگمگاتے تھے لیکن اب اکثر دوست ابدی زندگی کی طرف چلے گئے ہیں۔جو ایک آدھ سینئر دانشور زندہ ہیں وہ منافقا نہ رویو ں کی بدو لت گوشہ نشین ہو گئےء ہیں ۔ اب دیگر شہر وں کی طرح ملتان کی ادبی فضا بھی منافقت سے آلو دہ ہے ۔ چمک پرست اور خود پرست لوگو ں کی اجارہ داری ہے۔
س۔۔۔ ادبی گروہ بندیاں ادب پر کس حد تک اثر اند از ہو ئی ہیں؟
ج۔۔۔ ادبی گروہ بندیوں نے ادب کو نقصا ن ہی دیا ہے ۔ ان گروہ بندیوں کی بدولت حقیقی تخلیق کا ر پس منظر میں چلے گئے ہیں جبکہ ریڈی میڈ لوگ منظر عام پر نظر آتے ہیں ۔ کئی سینیئر تخلیق کارو ں نے اپنے اپنے گروہ پا ل رکھے ہیں جو ادب کے لئے ہر اعتبار سے نقصا ن دہ ہیں۔
س۔۔۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ادب کے فروغ و ترویج کے حوالے سے میڈیا کا کیا کردار رہا ہے ؟
ج۔۔۔ اس حوالے سے میڈیا کا کردار انتہا ئی ما یو س کن ہے ۔ کسی زما نے میں ہر قومی اخبار کے لئے ہفتہ وار ادبی ایڈ یشن کی اشاعت ضروری تھی لیکن اکثر اخبارات نے یہ ادبی ایڈیشنز ختم کر دیے ہیں جبکہ الیکٹرا نک میڈیا کے پا س سنسنی پھیلانے ،من پسند لیڈروں کی تشہیر ،نا پسند یدہ پارئیوں کے خلا ف پر و پیگنڈہ کرنے اور دنیا بھر میں ارض وطن کو رسوا کر نے کے سوا کوئی کا م ہی نہیں ہے۔ البتہ پی ٹی وی پر کسی حد تک ادب کی پز یر ائی نظر آتی ہے لیکن پی ٹی وی کے ارباب اختیا ر کو بھی لاہور کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔ یعنی وہا ں بھی اجارہ داریاں قائم ہیں ۔ حلانکہ حقیقی اور توانا ادب تو چھوٹے شہروں اور مضافات میں تخلیق ہو رہا ہے۔
س۔۔۔ غازی صاحب !آپ کی اب تک منصہ شہود پر آنے والی تصا نیف ؟
ج۔۔۔ میر ی اب تک جو تصانیف منظر عام پر آ ئی ہیں ان میں درج ذیل نما یا ں ہیں ۔ رقص حیا ت ، درند ے (نا ول ) ۔را ت جگنو اور راستے (افسانے )۔آب وآ تش (تنقیدی مضامین) ہم ہیں پا کستانی بچے (بچوں کی نظمیں )۔وفا کو ہمسفر رکھنا (اردو شعری مجموعہ)۔میری کہا نی ، میری زبانی (منظوم سوانح)جبکہ کچھ انتخاب پر مشتمل شعری مجموعے ہیں جن میں اکھیا ں وچ سمندر (سرائیکی )۔عشق دیا ں سوغاتاں (سرائیکی)۔ روگ ہجر دے (سرائیکی)اور میر ا پیغام محبت (اردو ) شامل ہیں۔
س۔۔۔ اگر آ پ کو اپنے کا م کے حوالے سے کو ئی سر کا ر ی یا غیر سر کا ر ی سطح پر کو ئی ایو ا رڈ ملا ہوتو؟
ج۔۔۔ سرکا ر ی سطح پرتو ایو ارڈ صرف اپروچ والے لو گو ں کو ملتے ہیں حتی کہ ان لوگو ں کو بھی سرکا ری ایوار ڈز سے نو ازہ جا تا رہاہے جو ایوارڈ جیو لری میں بھی شامل رہے ہیں ۔ البتہ کئی غیر سرکا ری ادبی تنظمیں اپنے حصے کا کر دار ادا کر رہی ہیں ۔ کچھ تنظیموں کی طرف سے مجھے بھی یہ اعزاز ات ملے ہیں “ساغر صدیقی رائٹرز کو نسل “۔ور سٹائل آرٹ پرمو شن “حامد کر تال پو ری و یلفئر ٹرسٹ “اور یونا ئسٹڈری لیجنڈ انٹر نیشنل “جیسی تنظیموں نے اپنے ایوارڈ کے ذریعے میری ادبی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔
س۔۔۔ آپ ادب برائے ادب یا ادب برائے زند گی میں سے کس کے قائل ہیں اور آج کل کس قسم کا ادب تخلیق ہو رہاہے ؟
ج۔۔۔ میں دونو ں قسم کے ادب کو ضرور ی سمجھتا ہو ں تا ہم آج کل زیادہ تر ادب برائے شہرت تخلیق ہو رہا ہے ۔
س۔۔۔ آپ کی کس کس ادبی تنظیم سے وا بستگی رہی ہے؟
ج۔۔۔ سا غر صدیقی رائٹرز کو نسل ،غازی اینڈ نیازی فروغ ادب سو سائٹی اور دیگر کچھ تنظیمو ں کے لئے کا م کیا ہے۔
س۔۔۔ آپ نے کالم نگاری بھی کی ہے ، کس کس پر چہ میں لکھا ہے؟
ج۔۔۔ میں نے ایک عر صہ تک روزنا مہ”اوصاف ” اور روز نامہ ” سنگ میل”میں معاشرتی قطعات لکھے ہیں علاوہ ازیں”فکر وعمل”حیدر آباد “جنگ”خبریں “خبریں”اوصاف”پا کستان “سہ ما ہی”سفیر ادب”لندن”سہ ماہی”بے لاگ اور دیگر اخبارات ،رسائل وجرائد کے لئے کام کیا ہے۔
س۔۔۔ تخلیقی حوالے سے آ پ کے مو ضو عات کیا رہے ہیں؟
ج۔۔۔ میں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے ہمیشہ معا شرتی و سما جی مسا ئل اجا گر کر نے کی کو شش کی ہے ۔
س۔۔۔ آپ کو پبلشنگ ادارے اور سی ڈی ریلیزنگ کمپنی کی ضرور ت کیو ں پیش آئی ہے؟
ج۔۔۔ صدق رنگ پبلی کیشنز اور روہی تھل پن روڈ کشن کے روح رواں تو راحت امیر نیازی اور اس کے کچھ دوست ہیں تاہم میں بھی ان اداروں میں معاون و سر پر ست ہو ں ۔ پبلشنگ ادارے سے بہت ایسے نو جو ان شاعر وں ادیبوں کو متعا رف کر لیا گیا ہے جو مالی مشکلات کے باعث کتاب چھپوانے کی استطا عت نہیں رکھتے ۔علاوہ ازیں ان گنت اردو سرائیگی نو جوان شعرا کے مشترکہ شعری مجموعے بھی شائع کئے ہیں ۔ اس ادارے سے ان گنت نو جوان لکھاری سا منے آئے ہیں ۔ یہی کام ہما ری پر وڈ کشن کمپنی کا ہے۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد بھی گلو کا ر ی، اداکاری ، نعت خوانی او رنوحہ خوانی کے حوالے سے نئے ٹیلنٹ کو سا منے لانا ہے۔ الحمد اؒ للہ ہم اس مقصد میں بھی بہت کم وقت میں کامیابی کی طرف گا مز ن ہیں ۔
س۔۔۔ نو جوان لکھاریوں کے نام آپ کا پیغام؟
ج۔۔۔ نوجوانوں سے یہی کہنا ہے کہ شہرت کے پیچھے بھاگنے کے بجائے محنت کو اپنا شعار بنائیں۔اگر انہو ں اپنی تخلیقات کے ذریعے معاشرے کی اصلاح کا فریضہ ادا کرنا ہے توخود بھی اساتذہ سے اصلا ح لیں ۔ مقدار کے بجائے معیار پر توجہ دیں۔انشا ء اللہ کا میابی ان کے قدم چومے گی۔

Viewers: 2025
Share