Sarwar Alam Raz Sarwar :کلیمِ عجم: اور سیماب ؔ اکبرآبادی کی ایک قلمی بیاض .سرور عالم راز سرورؔ

1220 Indian Run Dr. #116. Carrollton, TX, USA کلیمِ عجم: اور سیماب ؔ اکبرآبادی کی ایک قلمی بیاض سرور عالم راز سرور مولانا سیماب ؔ ا کبر آبادی (ولادت: ۱۸۸۰ء۔وفات: […]

1220 Indian Run Dr. #116. Carrollton, TX, USA

کلیمِ عجم: اور سیماب ؔ اکبرآبادی کی ایک قلمی بیاض
سرور عالم راز سرور

مولانا سیماب ؔ ا کبر آبادی (ولادت: ۱۸۸۰ء۔وفات: ۱۹۵۱ء) تلمیذِ داغؔ دہلوی کا شمار پچھلی صدی کے مستند اور مسلم الثبوت اساتذہ میں ہوتا تھا ۔ ادب و شعر سے ان کا تعلق ایک طویل مدت پر محیط تھا اور ان کی ادبی خدمات اُردو ادب کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں ۔ موصوف ایک نہایت ذہین و فطین اور طباع شاعرتھے اور مختلف اصناف سخن پر ان کو عبور حاصل تھا ۔ انہوں نے نظم و نثر دونوں میں ہی طبع آزمائی کی ہے لیکن ان کا اصل میدانِ عمل در حقیقت غزل گوئی ہی تھا ۔ وہ نہایت پُر گو اور بسیار گو شاعر تھے اور شعر کہنے میں انہیں مطلق تکلف نہیں ہوتا تھا ۔
سیمابؔ صاحب کے تلامذہ ہندو پاک کے کونے کونے میں سیکڑوں کی تعداد میں پھیلے ہوئے تھے ۔ راقم الحروف کے والد حضرت ابو الفاضل رازؔ چاندپوری بھی مولانا سیمابؔ سے شرفِ تلمذ رکھتے تھے ۔ سیما ب ؔ صاحب سے رازؔ صاحب کا تعلق محض استادی شاگردی تک محدود نہیں تھا بلکہ سیماب ؔ صاحب والد مرحوم کے خلوص اور اعلیٰ ظرفی کے اس قدر مدّاح تھے کہ اکثر اپنے ذاتی اور کاروباری معاملات میں بھی اُن سے مشورہ کیا کرتے تھے۔ اس تعلق خاطر کا سلسلہ خط وکتابت کے ذریعہ برسہا برس قائم رہا اور ایسے خطوط کا ایک ذخیرہ والد مرحوم کے پاس جمع ہو گیا تھا ۔ آخر عمر میں انہوں نے مصلحتاٌ بیشتر خطوط نذر آتش کر دئے تھے اور ان خطوط کے صرف اُن حصوں کو اپنی کتاب :داستانِ عہدِ گل:میں شامل کیا تھا جنہیں وہ ضروری اور شاید : بے ضرر: سمجھتے تھے۔ اگر وہ ذخیرہء خطوط محفوظ رہ جاتا تو ادب وشعر کی تاریخ میں ایک نمایاں باب کے اضافہ کا باعث ہو سکتا تھا۔ مجھے ان خطوط کے پڑھنے کا موقع وقتاٌ فوقتاٌ ملتا رہتا تھا۔ یہ تمہید اس لئے ضروری ہوئی کہ زیر نظر مضمون کی بعض تفصیلات میری یاد داشت پر مبنی ہیں جبکہ بد قسمتی سے ان کا دستاویزی ثبوت اب ہماری دسترس سے باہرہو چکا ہے۔
۱۹۶۸ء میں رازؔ مرحوم کی ایک کتاب :داستانے چند :شائع ہوئی تھی اس میں رازؔ صاحب نے اپنی یاد داشتوں پر مبنی سیماب ؔ صاحب کی ذات و صفات اور ادبی خدمات کا :حقیقت افروز افسانہ : بیان کیا تھا۔ اس کتاب کے :حرف آغاز : میں سیمابؔ صاحب کے قدیم رنگِ تغزل کی آئینہ دار غزلوں کے ذکر کرتے ہوئے موصوف لکھتے ہیں کہ:
’’ان غزلوں کے علاوہ میرے پاس سیمابؔ صاحب کا عطیہ ایک مختصر بیاض بھی ہے ۔ اس بیاض کی بعض غزلوں کے منتخب اشعار :کلیم عجم: میں شامل ہیں ۔ اس بیاض کا جب :کلیم عجم : سے مقابلہ کیا گیا تو بعض دلچسپ باتیں نظر آئیں ، لیکن ان پر گفتگو کسی آئندہ داستان میں کی جائے گی‘‘۔
راز ؔ صاحب نے :داستانِ عہدِ گل: کے باب :ذات ، صفات اور ادبی خدمات: میں اس تقابلہ کا نہایت مختصر ذکرکیا ہے لیکن کہنے کی طرح کوئی بات نہیں کہی ہے اور اس کو پڑھ کر ایک تشنگی کا احساس باقی رہ جاتا ہے ۔ رازؔ مرحوم ایک نہایت وضع دار اور محتاط شخص تھے اور ان کی بیشتر تحریریں ان کی مختصر نویسی کی آئینہ دار ہیں۔ اُ ن کی وفات (۱۹۶۹ء) کے بعد سیمابؔ صاحب کی مذکورہ بیاض مجھ کو ان کے ذاتی کتب خانہ میں ملی تھی اور میرے پاس آج بھی محفوظ ہے ۔ دسمبر ۲۰۰۷ء میں جب میں امریکہ سے ہندوستان گیا تو اس بیاض کو ساتھ لیتا گیا اورجب وہاں :کلیم عجم: سے اس کا مفصل مقابلہ کیا تو رازؔ صاحب کی بیان کردہ :دلچسپ باتوں : کی تصدیق ہوئی ۔ یہی باتیں اِس مضمون کا موضوع ہیں ۔ میں نے بعض تفصیلات کی بحث میں اپنی یادداشت کی بنا پر محتاط قیاس آرائی سے بھی کام لیا ہے جو یوں تو میرے ادبی خلوص پر مبنی ہے لیکن کسی اور کے نزدیک:قیاسِ محض: بھی ہو سکتی ہے! میں نے اپنے بیانات میں انتہائی ذمہ داری اور خوش نیتی برتی ہے اوراس طریقِ کار سے کسی کی دل آزاری ہر گزمقصود نہیں ہے بلکہ صرف ایک ادبی گتھی کا سلجھانا منظور ہے۔ امید ہے کہ میری یہ جسارت سعیء مشکور ثابت ہو گی :
طے کر چکا ہوں راہِ محبت کے مرحلے

اس سے زیادہ حاجت شرح وبیاں نہیں
(رازؔ چاندپوری)
*******
بیاضِ سیمابؔ اور :کلیم عجم: کا مقابلہ

مذکورہ بیاضِ سیمابؔ اور :کلیم عجم : کے مفصل مقابلہ کی اس مختصر مضمون میں گنجائش نہیں ہے۔ یہ مکمل بحث میرے :ویب سائٹ: کے حِصّہء اُردو، : بابِ مضامین: میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اس تقابلہ سے جو باتیں سامنے آتی ہیں وہ اجمالاٌ درجِ ذیل ہیں:
(۱) بیاضِ سیماب ؔ میں ۱۶ غزلیات درج ہیں۔اکثر و بیشتر اب امتداد زمانہ سے دھندلا چلی ہیں اور بعض مقامات پر پڑھنے میں دشواری ہوتی ہے۔ اکثر غزلیں خاصی طویل ہیں اوربارہ( ۱۲) سے لے کر تیس (۳۰) اشعار پر مشتمل ہیں جبکہ :کلیم عجم: میں شائع اشعار کی تعداد چار (۴) سے لے کے پندرہ (۱۵) ہے ، یعنی :کلیم عجم : میں بیاض کے صرف :منتخب اشعار: ہی لئے گئے ہیں۔ اس :انتخاب : کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
(۲) بیاض کی تقریباٌ ہر غزل کسی نہ کسی طرحی مشاعرہ کے لئے کہی گئی ہے جو اُس زمانہ کا عام دستور تھا۔ ہر غزل پر مشاعرہ کا مقام اور تاریخ تصنیف درج ہے لیکن :کلیم عجم: کے متعلقہ اندراجات جا بجا بیاض سے مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر غزل۔۱ (ع: نہ رکھنا پاؤں بھولے سے کہیں گورِ غریباں میں) پر بیاضِ سیمابؔ میں : مشاعرہء علی گڑھ، ۲۷ جولائی ۱۹۱۹ء : لکھا ہواہے جبکہ اسی غزل پر : کلیم عجم: میں :مشاعرہء علی گڑھ، ۱۹۱۵ء: درج ہے!گویادونوں تاریخوں میں چار سال کا فرق ہے۔ ہو سکتا ہے کہ :کلیم عجم: کی ترتیب کے وقت سیمابؔ صاحب نے تاریخیں اپنی یادداشت کی بنیاد پر لکھی ہوں اور یہی اس اختلاف کا باعث ہو۔ ۱۷ سال کے بعد (:کلیم عجم: ۱۹۳۶ء میں شائع ہوئی تھی)یادداشت کا دھندلا جانا غیر معمولی بات نہیں ہے۔ ویسے بھی یہ اختلافِ تاریخ دلچسپ توضرور ہے لیکن ادبی حیثیت سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا ہے۔
(۳) ہر چند کہ بظاہر :کلیم عجم : میں بیاض کی غزلیا ت کے منتخب اشعار لئے گئے ہیں لیکن بغور دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ ہی ایسا نہیں کیا گیا ہے۔ کئی غزلوں میں بیاض سے دو چار اشعار لئے گئے ہیں اور پھر بالکل نئے اشعار کہہ کر غزل مکمل کی گئی ہے۔ کتاب میں دو (۲) غزلیں ایسی ہیں جن میں صرف چار اشعار بیاض سے منتخب کئے گئے ہیں اور جو مقطع سے بھی عاری ہیں۔ نیز نَو (۹) غزلیں ایسی ہیں جن کے مقطعے بیاض کے مقطعوں سے مختلف ہیں گویا بیاض کے مقطعوں کو نظر انداز کر کے سیماب ؔ صاحب نے نئے مقطعے: کلیم عجم: میں اشاعت کے لئے کہے ہیں۔ اس طرح کئی غزلیں اپنی اولیں اصل شکلوں سے بہت مختلف ہیں ۔ یہ بھی کوئی اعتراض کی بات نہیں ہے کیونکہ اکثر شعرا نظر ثانی کے بعد اپنی پرانی غزلوں میں تبدیلی کر دیا کرتے ہیں ۔ البتہ ان غزلوں کو کتاب میں اس طرح پیش کرنا کہ وہ کسی مخصوص مشاعرہ میں پڑھی جانے والی معلوم ہوں جبکہ حقیقتاٌایسا نہیں ہے نا مناسب محسوس ہوتا ہے۔ اگرسیماب ؔ صاحب ایسی ترمیمات کی مختصر صراحت ووضاحت کر دیتے تو بہتر ہوتا۔
سیماب ؔ صاحب یقیناًجانتے تھے کہ شاعرکا نظر ثانی کے بعد اپنے بعض اشعار کو مسترد کردینا یا ان میں ترمیم کرنا کوئی غلط یا نا مناسب بات نہیں ہے بلکہ یہ اس کاحق ہے۔ وقت، زمانہ اور ذ ہنی بالیدگی کے ساتھ شاعر کا نقطہء نگاہ ، اندازِ بیان اور طرز فکر بدل سکتے ہیں اور ان کی روشنی میں وہ اپنے پرانے کلام میں ترمیم و تنسیخ کرسکتا ہے۔ خود سیماب ؔ صاحب کا اندازِ فکر وبیان بھی ان کی شاعری کے درمیانی اور آخری دور میں بدل گیا تھا۔چنانچہ اپنے اُن صدارتی خطبات میں جو انہوں نے: کلیمِ عجم : میں شامل کئے ہیں سیمابؔ صاحب نے جا بجااس جانب اشارے کئے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ خطبہ نمبر ۹ میں یوں رقم طراز ہیں:
’’اِدھر کثرت تعلیم نے عام طبائع کو زیادہ مستعد اور سنجیدہ بنا دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک مرتبہ پھرمیرؔ و غالبؔ کی سوزآہنگی کے سامنے داغؔ و امیرؔ کی معاملہ بندی پھیکی نظر آنے لگی اور وہ اقبالؔ جن کا رنگِ تغزل کبھی یہ تھا:
نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی

مگر و عدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی
بھری بزم میں اپنے عاشق کو تاڑا

تری آنکھ مستی میں ہُشیار کیا تھی
اب اس رنگ میں غزل خواں تھا:
کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں
طرب آشنائے خروش ہو تو نوا بھی محرم گوش ہو
وہ سرود کیا کہ چھپا ہوا ہو سکوتِ پردہء ساز میں
دمِ طوف کرمکِ شمع نے یہ کہا کہ وہ اثر کُہن
نہ تری حکایتِ سوز میں، نہ مری حدیثِ گداز میں
اور پھر خطبہ نمبر ۹ میں ہی آگے چل کر لکھتے ہیں کہ:
’’جو نوجوان نہایت متین غزل کہتے تھے اب ترنم کی ترویج و تشویق نے انھیں بھی مجبور کردیا ہے کہ وہ اتنی آسان زبان اور مذاقِ عوام سے ہموار و ہم سطح غزل کہیں کہ ایک جاہل بھی اس کے سمجھنے سے محروم نہ رہے ۔ مثلاٌ جگرؔ مرادآبادی کا رنگِ تغزل تعلیمی و ادبی ماحول کے اثر سے کبھی یہ تھا:
منزلِ غم میں کہا ں وقفہء راحت مجھ کو

ہر نفس تازہ ہے در پیش قیامت مجھ کو
گِر پڑی روح تعین کدہء ہستی میں

کاش ہوتا ہی نہ احساسِ محبت مجھ کو
نغمہ ہوں ، نالہ ہوں، کیفِ شوق ہوں ، فریادہوں
مختصر یہ ہے کہ اک مجموعہء اضداد ہوں
عشقِ بے پروا مرا کافی حقیقت ہے مری
کچھ سمجھ کر میں ہلاکِ حسنِ بے بنیاد ہوں
مائل فرزانگی ہے اب مرا ذوقِ جنوں
آج کل میں محوِ تعمیر خراب آباد ہوں
مگر وہ کیفِ ترنم اور دادِ عوام سے سرخوش ہو کر اب یوں کہنے لگے ہیں :
نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیا

نظر بچی تھی کہ پھر مسکر اکے لوٹ لیا
ببیں تفاوتِ رہ از کجاست تا بہ کُجا! اِن خوش نوایانِ وطن کو کون سمجھائے کہ میاں! شعر کی حقیقی داد:مشاعرے: میں نہیں :مطالعے: میں (یعنی کاغذ پر) ملتی ہے۔‘‘
ان خیالات کے پیشِ نظر سیماب ؔ صاحب کا اپنے کلام پر نظر ثانی کرنا اور اس میں کچھ نئے اشعا رکا اضافہ کرنا عین اقتضائے فطرت تھا۔ مشکل یہ ہے کہ ان غزلوں کے نئے اورپرانے شعروں کے درمیان خیال یا بیان کا کوئی نمایاں فرق نظر نہیں آتاہے بلکہ نئے اشعار بھی ان کے پچھلے زمانہ کی ہی بازگشت معلوم ہوتے ہیں ۔ چنانچہ یہ گمان اغلب ہے کہ سیماب ؔ صاحب نے ان اشعار کا اضافہ کسی اور ہی ضرورت یا مصلحت کے تحت کیا ہے! افسوس کہ اب اس گمان کو حد یقین تک پہنچانے یا مطلق ردّکردینے کا کوئی طریقہ میسر نہیں ہے۔
(۴) بیاض کی غزل ۔۶ کئی پہلوؤں سے نہایت دلچسپ ہے اور اس کے مطالعہ سے کئی سوالات ذہن میں آتے ہیں۔ اس اجمال کی تفصیل کے لئے یہ غزل بیاضِ سیمابؔ اور :کلیم عجم : سے تمام و کمال یہاں نقل کی جا رہی ہے تا کہ :سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آوے:!
غزل۔۶: بیاضِ سیمابؔ
مشاعرہء علی گڑھ ، مئی ۱۹۱۹ء
مصرعِ طرح: آنکھیں کھلی ہوئی ہیں ترے انتظار میں
قوافی ء مشروط: مطلعِ اوّل میں ’’ہار‘‘ اور ’’بہار‘‘
مطلعِ ثانی میں ’’انتظار‘‘ اور ’’مزار‘‘
مطلعِ ثالث میں ’’یار‘‘ اور ’’بیقرار‘‘

شاید جگہ نصیب ہو اُس گل کے ہار میں

میں پھول بن کے آؤں گا اب کی بہار میں
کفنائے باغباں مجھے پھولوں کے ہار میں

کچھ تو ہر ا ہو دل مرا اب کی بہار میں
گندھوا کے دل کو لائے ہیں پھولوں کے ہار میں

یہ ہار اُن کو نذر کریں گے بہار میں
نچلا رہا نہ سوزِ دروں انتظار میں

اِس آگ نے سرنگ لگادی مزار میں
خلوت خیالِ یار سے ہے انتظار میں

آئیں فرشتے لے کے اجازت مزار میں
ہم کو تو جاگنا ہے ترے انتظار میں

آئی ہو جس کو نیند وہ سوئے مزار میں
میں دل کی قدر کیوں نہ کروں ہجر یار میں

اُن کی سی شوخیاں ہیں اسی بیقرار میں
سیمابؔ ہے تڑپ سی تڑپ ہجر یار میں

کیا بجلیاں بھری ہیں دل بیقرار میں
تھی تابِ حسن شوخیء تصویرِ یار میں

بجلی چمک گئی نظر بیقرار میں
بادل کی یہ گرج نہیں ابر بہار میں

برّا رہا ہے کوئی شرابی خمار میں
عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن

دو آرزو میں کٹ گئے ، دو انتظار میں
تنہا مرے ستانے کو رہ جائے کیو ں زمیں

اے آسمان! تو بھی اُتر آ مزار میں
خود حسن، نا خدائے محبت، خدائے دل

کیا کیا لئے ہیں میں نے ترے نام پیار میں
مجھ کو مٹا گئی روشِ شرمگیں تری

میں جذب ہو گیا نگہِ شرمسار میں
اللہ رے شامِ غم مری بے اختیاریاں

اک دل ہے پاس وہ بھی نہیں اختیار میں
اے اشک گرم! ماند نہ پڑ جائے روشنی

پھر تیل ہو چکا ہے دلِ داغدار میں
یہ معجزہ ہے وحشتِ عریاں پسند کا

میں کوئے یار میں ہوں، کفن ہے مزار میں
اے درد! دل کو چھیڑ کے پھر بار بار چھیڑ

ہے چھیڑ کا مزا خلشِ بار بار میں
افراطِ معصیت سے فضیلت ملی مجھے

میں ہوں گناہ گاروں کی پہلی قطار میں
ڈرتا ہوں یہ تڑپ کے لحد کو اُلٹ نہ دے

ہاتھوں سے دل دبائے ہوئے ہوں مزار میں
تم نے تو ہاتھ جور و ستم سے اُٹھا لیا

اب کیا مز ا رہا ستمِ روزگار میں
کیا جانے رحمتوں نے لیا کس طرح حساب

دو چار بھی گناہ نہ نکلے شمار میں
او پردہ دار ! اب تو نکل آ کہ حشر ہے

دُنیا کھڑی ہوئی ہے ترے انتظارمیں
روئی ہے ساری رات اندھیر ے میں بیکسی

آنسو بھرے ہوئے ہیں چراغِ مزار میں
سیمابؔ ! پھول اُگیں لحدِ عندلیب سے
اتنی تو زندگی ہو ہوائے بہار میں!

********
غزل ۔۶: کلیم عجم
مشاعرہ ء علی گڑھ

شاید جگہ نصیب ہو اُس گل کے ہار میں

میں پھول بن کے آؤں گا اب کی بہار میں
خلوت خیال یار سے ہے انتظار میں

آئیں فرشتے لے کے اجازت مزار میں
ہم کو تو جاگنا ہے ترے انتظار میں

آئی ہو جس کو نیند وہ سوئے مزار میں
اے درد!د ل کو چھیڑکے پھر بار بار چھیڑ

ہے چھیڑ کا مزا خلشِ با ر بار میں
ڈرتا ہوں یہ تڑپ کے لحد کو اُلٹ نہ دے

ہاتھوں سے دل دبائے ہوئے ہوں مزار میں
تم نے تو ہاتھ جور و ستم سے اُٹھا لیا

اب کیا مزا رہا ستمِ روزگار میں
اے پردہ دار! اب تو نکل آ کہ حشر ہے

دُنیا کھڑی ہوئی ہے ترے انتظار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائی تھی چار دن

دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
سیمابؔ ! پھول اُگیں لحدِ عندلیب سے
اتنی تو تازگی ہو ہوائے بہار میں!
ان غزلوں کے باہمی تقابلہ سے چند باتیں سامنے آتی ہیں:
(۱) بیاض کے پچیس (۲۵) اشعار میں سے صرف نو (۹) اشعار کتاب میں شامل کئے گئے ہیں ۔ظاہر ہے کہ سیمابؔ صاحب کواس انتخاب کا مکمل حق تھا اور اس ضمن میں کسی تبصرہ کی گنجائش نہیں ہے۔
(۲) بیاض میں مشروط قوافی کے مد نظر سیمابؔ صاحب نے تین تین مطلعِ اوّل، مطلعِ ثانی اور مطلعِ ثالث کہے تھے اور:کلیم عجم : میں :یار، بیقرار: قوافی کو نظر انداز کرتے ہوئے :ہار، بہار: اور :انتظار، مزار: کے قوافی والے مطلعے شامل بھی کئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایک ہی غزل میں اتنے مطلعے اس قدر التزام سے کہنے کی کیا ضرورت تھی جبکہ قیاس اغلب یہ ہے کہ مشاعرہ میں اتنی طویل غزل نہ سنائی گئی ہو گی ؟ میں اپنے ذاتی علم سے کام لیتے ہوئے اگر اس نکتہ پر :قیاس آرائی : کروں تو کم از کم ایک دلچسپ بات تو سامنے آ ہی جائے گی!
سیمابؔ صاحب ساری عمر مالی پریشانیوں میں مبتلا رہے ۔ اس کا ذکر بہت دکھ کے ساتھ انہوں نے رازؔ صاحب کے نام اپنے متعدد خطوں میں کیا ہے جن میں سے چند :داستانِ عہد گل: میں شامل بھی ہیں۔ ملازمتوں سے وہ فطری طور پر آسودہ بھی نہیں تھے اور ایک حد تک انہوں نے شاعری اور صحافت کو اپنا ذریعہء معاش بنا لیا تھا۔ کچھ شاگردوں سے وہ اصلاحِ سخن کا معاوضہ بھی لیا کرتے تھے۔ ساغر ؔ نظامی نے رازؔ صاحب کے نام اپنے چند خطوں میں اس کا ذکر کیا تھا اور وہ میری نگاہ سے بھی گذرا تھا۔ ایک خط میں انہوں نے قدرے دل آزردگی کے ساتھ رازؔ صاحب سے کچھ یوں شکایت بھی کی تھی کہ : سیمابؔ صاحب چار آنے فی شعر اصلاح کا معاوضہ لیتے ہیں اور بعض اوقات غزل کے کسی شعر میں ایک لفظ کا ردّو بدل کر کے اس کے بھی چار آنے لے لیتے ہیں:۔ والد مرحوم کے نام آئے ہوئے خطوط سے یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ سیمابؔ صاحب مشاعروں کے لئے کہی ہوئی اپنی غزلوں کے اشعار ایک روپیہ فی شعر کے حساب سے فروخت کیا کرتے تھے۔ اپنے ایک خط میں انہوں نے رازؔ صاحب کو لکھا بھی تھا کہ :ہائے کیسے کیسے اچھے اشعار لوگ لے گئے ہیں۔ اب میرے پاس مشاعرہ میں پڑھنے کے لئے کچھ بھی نہیں رہ گیا ہے:۔
یہ عین ممکن ہے کہ سیمابؔ صاحب کا غزلوں میں اتنی کثیر تعداد میں اشعار کہنے کا ایک مقصد اشعار کی فروخت سے کچھ مالی منفعت بھی ہو۔ مذکورہ غزل میں اتنے بہت سے ہم قافیہ مطلعوں کا ہونا شاید اسی وجہ سے ہے ،یعنی کچھ مطلعے فرخت کے لئے کہے گئے ہیں۔ ان کے تقریباٌملتے جلتے مضامین سے بھی اس خیال کی تقویت ہوتی ہے۔ واللہ اعلم!
(۴) اس غزل کا مندرجہ ذیل شعر خاص توجہ کا مستحق ہے:
عمردراز مانگ کے لائی تھی چار دن

دو آرزو میں کٹ گئے ، دو انتظار میں
اس شعر سے اردو کا تقریباٌ ہر قاری اچھی طرح سے واقف ہے ۔ اگر کسی سے اس کے شاعر کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ بلا تکلف آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفرؔ کا نام لے گا۔ یہ غزل ظفرؔ کے تخلص کے ساتھ ہندوپاک کے کئی غزل نوازوں نے گائی بھی ہے اور ایک عالم اس کو ظفرؔ سے ہی وابستہ کرتا ہے۔ پھر یہ کیا بات ہے کہ یہ شعر سیماب ؔ صاحب کی بیاض اور
:کلیم عجم: دونوں میں معمولی سے لفظی تغیرات کے ساتھ ہو بہو موجود ہے؟ اس شعرکی مشہور صورت حسب ذیل ہے:
عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن

دو آرزو میں کٹ گئے ، دو انتظار میں
گویا :لائے تھے: کی جگہ سیمابؔ صاحب کے یہاں :لائی تھی: ہے ۔ باقی کوئی فرق نہیں ہے۔
باوجود تلاشِ بسیار بہادر شاہ ظفرؔ کے کسی کلیات میں بھی اس شعر کا نام و نشان نہیں ملتا ہے ۔ البتہ اس زمین میں ظفرؔ کی جو غزل اُن کے کلیات میں ملتی ہے وہ درج ذیل ہے اور اس میں یہ شعر نہیں ہے:

ٹکڑے نہیں جگر کے ہیں اشکوں کے تا ر میں

یہ لعل موتیوں کے پروئے ہیں ہار میں
قطرے نہیں پسینہ کے ہیں زلفِ یار میں

دُرّانی آگئے ہیں یہ مُلکِ تَتار میں
سُرمہ نہیں لگا ہوا مژگانِ یار میں

ہے زنگ سا لگا ہوا خنجر کی دھار میں
ساقی شتاب دے مجھے تو بھر کے جامِ مے

بیٹھا ہوں بے حواس نشہ کے اُتار میں
ہم حُسنِ گندمی پہ ترے ہو کے شیفتہ

کیا کیا ذلیل و خوار ہیں قرب و جوار میں
بعد از فنا بھی کم نہ ہوئی سوزشِ جگر

گرمی ہے اب تلک مرے خاکِ مزار میں
سایہ میں زلف کے ہے کہاں روئے تابناک

ہے چاند سا چھپا ہوا ابر بہار میں
مثلِ غبار اُٹھ کے جو تیری گلی سے جائے

طاقت کہا ں ہے اتنی ترے خاکسار میں
اُس ر شکِ گل کو اب تو دیا ہم نے دل ظفرؔ
کہہ دیں گے ہم زبان سے سو میں ہزار میں
زیر بحث شعر کچھ کتابوں میں (مثال کے طور پر خواجہ تہورؔ حسین کی تالیف :انتخاب کلام ظفرؔ 🙂 ملتا ہے لیکن اس طرح جیسے وہ ظفرؔ کے کلیات میں شامل رہا ہو اور وہیں سے اس کا انتخاب کیا گیا ہوجبکہ واقعتاٌ ایسا نہیں ہے۔ ہندوستان کے مشہور و مستند محقق و نقاد خلیل الرحمن اعظمی مرحوم کی تالیف :نوائے ظفرؔ : (انتخابِ کلامِ بہادر شاہ ظفرؔ )میں کلیات کے انتخاب میں تو اس شعر کا کوئی ذکر نہیں ہے البتہ کتاب کے آخری باب :دکھی دل کی پکار: میں اس غزل کے چار اشعار اس تمہید کے ساتھ درج ہیں:
’’ اِس ذیل میں بہادر شاہ ظفرؔ کا وہ کلام درج کیا جاتا ہے جو کلیات میں شامل نہیں ہے اور اس میں سے اکثر و بیشتر قیام رنگونؔ کی یادگار ہے ۔ یہ نغماتِ اسیری زخمِ دل سے لہولہان ہیں‘‘۔
وہ چار اشعار یوں ہیں:
لگتا نہیں ہے جی مرا اُجڑے دیار میں

کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن

دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کہہ دو اِن حسرتوں سے کہیں او ر جا بسیں

ا تنی جگہ کہا ں ہے دلِ داغدار میں
کتنا ہے بدنصیب ظفرؔ دفن کے لئے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
گویااس طرح خلیل الرحمن اعظمی کی رائے میںیہ تْصدیق ہو جاتی ہے کہ زیر بحث شعر یقیناٌ بہادر شاہ ظفرؔ کا ہی ہے!۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’’ پھر سیمابؔ صاحب نے اس کو اپنی غزل میں ہو بہو کیسے شامل کرلیا‘‘ ؟
ظاہر ہے کہ سیمابؔ صاحب ایسے نامور ، قادرالکلام اور مستند استاد پر سرقہ کے الزام کا تصور ہی ناقابل قبول ہے۔لہٰذہ اس چیستاں کاجواز کہیں اور ہی ڈھونڈنا ہو گا ۔ایسا کبھی کبھی ہوتا ہے کہ غزل کا قافیہ اپنا مضمون خود ہی شاعر کو سجھاتا ہے اوراس عمل سے زائیدہ شعر غیر شعوری طورپرکسی اور کے شعر سے خیال یا بیان میں :لڑ سکتا ہے:۔ البتہ ایسا عموماٌ چھوٹی اورآسان بحروں میں ہی ہوتا ہے اور ایسے اشعار کے مضامین اکثر:سامنے کے :ہی ہوتے ہیں یعنی وہ تقریباٌ ہر شاعرپر نازل ہوسکتے ہیں ۔ مشکل بحروں میں اشعار کا :لڑ جانا:(،اور وہ بھی ایسے بلند اور اعلیٰ مضمون کے ساتھ!) کہیں بھی نظر نہیں آتا ہے۔
یہ بھی قرینِ قیاس نہیں ہے کہ سیماب ؔ صاحب نے بہادر شاہ ظفرؔ کی یہ مشہور زمانہ غزل دیکھی یا سنی نہیں ہو گی اور اس کا یہ شعران کی نگاہوں سے نہیں گذرا ہو گا۔ بیاضِ سیمابؔ میں درج اس غزل کی تاریخِ تصنیف(۱۹۱۹ء) کے ۱۷ سال بعد :کلیم عجم: کی ترویج و تہذیب کے وقت سیماب ؔ صاحب نے بظاہر دقت نظر اور عرق ریزی سے نہ صرف بیاض کی غزلوں سے اشعا ر کا انتخاب کیا ہے بلکہ بہت سے اشعار کو تدبر و تفکر کے بعد ردّ کر کے ان کی جگہ نئے اضافی اشعار کہے ہیں۔موصوف نے اُس وقت ظفرؔ کا یہ شعر اپنی غزل میں ضرور بالضرور دیکھاہوگا اور اس کو :کلیم عجم: میں شامل کرنے کا شعوری فیصلہ بھی کیا ہوگا۔ پھر اس شعر کی سیمابؔ صاحب کے یہاں موجودگی کیا معنی رکھتی ہے؟
کیا یہ :توارد: ہے؟لیکن اس قدر صریح او رمکمل: توارد: بھی عقل قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ مصرعوں کا لڑ جانا، خیالات میں جزوی یا کلی توارد او ر زبان وبیان کی کم وبیش مماثلت کی مثالیں اساتذہ کے کلام میں جا بجا موجود ہیں ۔ دوسری زبان (مثلاٌ فارسی) کے شعر کا تقریباٌ لفظی اُردو ترجمہ بھی دیکھنے میں آ جاتا ہے۔ لیکن کسی شعر کا ہو بہو ایک ہی شکل میں دو مختلف شعرا پر مکمل نزول ایسا حادثہ ہے جو کم سے کم میری نظر سے کبھی نہیں گذرا ہے۔ :کلیم عجم: کی ترتیب و ترویج کے دوران سیمابؔ صاحب کی نظرکا ایسے عجیب الخلقت :توارد: پر نہ جانا عقل سلیم قبول نہیں کرتی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ آج تک کہیں بھی اس شعر کو سیمابؔ صاحب سے منسوب کرکے نہیں پیش کیا گیا ہے۔ لیکن یہ امر اس بات کی سند نہیں ہو سکتا کہ سیمابؔ صاحب کو اس شعر کا علم نہیں تھا۔ایسی فاش غلطی کا اُ ن کی نگاہ میں نہ آنا ایک ایسا راز ہے جو سیمابؔ صاحب اپنے ساتھ ہی لے گئے اور مستقبل کے مورخ کے لئے ایک نا قابل حل معمہ چھوڑ گئے!
*****
ماخذات:
(۱) کلیم عجم: سیماب ؔ اکبر آبادی ، دارالاشاعت قصرالادب،آگرہ، ۱۹۳۶ء
(۲) داستانے چند: ابوالفاضل رازؔ چاندپوری، نسیم بک ڈپو، لکھنؤ، ۱۹۶۸ء
(۳) داستانِ عہد گل: ابوالفاضل رازؔ چاندپوری، نسیم بک ڈپو، لکھنؤ، ۱۹۷۱ء
(۴) نوائے ظفرؔ (انتخابِ کلامِ بہادر شاہ ظفرؔ ) مرتبہء خلیل الرحمن اعظمی، انجمن ترقیء اُردو ہند، علی گڑھ،۱۹۵۸ء

Viewers: 17345
Share