Gohar Muhammad Akbar | Columns | شدید بحرانوں پر حکومتی خاموشی۔۔۔ چہ دارد؟

صدر مملکت آصف زرداری نے اپنے ہم نوا اپوزیشن لیڈر میاں نواز شریف کو مخاطب کر کے ’’کھولی‘‘ کی طرف اشارہ کیا جس کے جواب میں میاں صاحب نے کہا […]

صدر مملکت آصف زرداری نے اپنے ہم نوا اپوزیشن لیڈر میاں نواز شریف کو مخاطب کر کے ’’کھولی‘‘ کی طرف اشارہ کیا جس کے جواب میں میاں صاحب نے کہا کہ کھولیوں سے نہ ڈریں۔ جب جائیں گے تو ملاقات بھی ہو گی۔ صاحبِ درد لوگ انگشت بدنداں ہیں کہ آخر ہمارے بڑے ایسے کام کیوں کرتے ہیں جن کے نتیجے میں کھولیوں کا سامنا کرنا پڑے۔ ایسا ہی ایک چٹپٹا بیان گورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے دیا کہ شہباز شریف اگر ڈینگی پر قابو نہیں پا سکتے تو مستعفی ہو جائیں۔ کیا آج تک پاکستان میں ایسی کسی روایت کی بنیاد ڈالی گئی ہے؟ سیاست کے اسباق میں ایسی شہباز روی کا کوئی اشارہ موجود ہے؟۔۔۔ یہ تو ایک قدرتی آفت ہے۔ یہاں تو حکومتیں اپنی پیدا کردہ آفتوں کے برآمد ہونے والے سنگین نتائج پر مستعفی نہیں ہوئیں۔ چینی، کھاد، بجلی، سیمنٹ اور اشیائے روز مرہ۔۔۔ کون سی ایسی چیز ہے جو پاکستان کے گلی کوچوں سے گدھے کے سر کی طرح غائب نہیں ہوئی؟۔۔۔
جہاں ایک طرف کراچی کی گلیوں میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے وہیں اندرونِ سندھ سیلاب اور بارشوں نے لاکھوں افراد کو بے سائبان کر دیا، سیکڑوں ہلاکتیں ہو گئیں، دہشت گردی کی نام نہاد جنگ کے نتیجے میں تین ہزار کے قریب پاکستانی فوجی شہید ہو گئے، خود کش حملوں نے ہزاروں افراد کو لقمہ اجل کر دیا، ماورائے عدالت قتل کی بھیانک رسم نے سیکڑوں گھروں کو اجاڑ کر رکھ دیا مگر حکومت کی پیشانی پر بل نہیں پڑے۔ حکومتی پارٹی کے اہم عہدے دار ذوالفقار مرزا نے قرآن سر پر رکھ کر کھلے عام پریس کانفرنس کی جس میں اس نے حکومت کی اہم اتحادی پارٹی، اس پارٹی کے لیڈر الطاف حسین سمیت کئی ذمہ دار افراد کے کردار کو میڈیا اور قوم کے سامنے طشت ازبام کرتے ہوئے اہم انکشافات کیے۔ اس نے واضح الفاظ میں رحمان ملک پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی او ر یہ کہہ کر سننے والوں کو دنگ کر دیا کہ اگر عدالت ان الزامات کا ثبوت مانگے تو وہ دینے کیلئے تیار ہے۔ کیا رحمن ملک مستعفی ہو گیا؟ کیا الطاف حسین نے ان الزامات کی بنیاد پر پارٹی سے استعفا دینے کے بارے میں سوچا؟۔۔۔ کیا حکومت کے کان پر کوئی جوں رینگی باوجود کہ نہ صرف پاکستان کے اندر بلکہ پوری دنیا میں حکومتی پارٹی کا کردار بری طرح مسخ ہوا۔ نہیں۔۔۔ کیوں کہ اس ملک میں صحت مند جمہوری رویوں کی بنیاد ہی کبھی رکھی نہیں گئی۔
ریاست پر باری باری راج کرنے والی دونوں بڑی پارٹیوں کے اندر جمہوری اقدار نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی صدارت یا چیئر مین کی نشست پر امین فہیم، یوسف رضا گیلانی یا کوئی اور پارٹی کا اہم رکن فائز ہو سکے۔ اسی طرح پاکستان مسلم لیگ ن پر میاں برادران کا اجارہ قائم ہے اور کسی بھی صورت میں جاوید ہاشمی، نثار علی خان یا کسی اور اہم کارکن کے سر پر تاج کا سجنا ممکن نہیں ہے۔ جب ان پارٹیوں کے اندر جمہوری رویے پنپتے نہیں دیکھے گئے تو ان کے ہاتھوں ملک کے اندر جمہوری نظام کی عائدگی کا امکان کیسے پیدا ہو سکتا ہے۔ ذوالفقار مرزا نے کہا کہ الطاف حسین نے شرافت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے، گورنر سندھ سب سے بڑا لینڈ مافیا ہے، منظور وسان نے مظلوم سندھیوں کا خون پیا جس کا میں حساب لوں گا۔ وکی لیکس سیکڑوں انکشافات کر چکی ہے اور نام نہاد شرفا کے تن پر سجی چمکدار براقی پوشاکوں کو تار تار کر چکی ہے۔ لاہور شہر میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ سٹریٹ کرائمز کا شمار ناممکن ہو گیا ہے، کراچی جل رہا ہے، سندھ ڈوب رہا ہے، بجلی کا بحران نہ صرف معیشت کو چاٹ چکا ہے بلکہ کروڑوں لوگوں کا خون پی چکا ہے۔ غیر ملکی دوروں کے نام پر ہونے والی عیاشیوں نے ملکی اساس کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے اور مجال ہے کہ حکومتی پارٹی کا کوئی عہدے دار، کوئی عوام کا سچا خیر خواہ بات کرنا ہی گوارا کرتا ہو۔ عیش کدوں میں غفلت کی سانسیں لینے والوں نے ذوالفقار مرزا کے بیانات کو اہمیت نہیں دی، جواب نہیں دیا اور قوم کو ان شرمناک الزامات کے جواب میں ایک مضبوط جملہ تک نہیں دیا تو اس کا کیا مطلب لیا جائے گا؟ اس خاموشی کو کیا نام دیا جائے گا؟
جس کے جو جی میں آتا ہے، وہ کرتا ہے۔ پورے ملک میں کہیں بھی حکومتی رٹ دکھائی نہیں دیتی۔ اس کے باوجود اگر اقتدار کا جھولا جھولنے والے اپنے اپنے عہدوں پر ڈھٹائی سے چمٹے ہوئے ہیں تو اس کا ایک ہی مطلب سامنے آتا ہے کہ ان میں سے کسی کو بھی پاکستانی عوام کے دکھ سکھ سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ انہیں محض لوٹنا، گھسیٹنا اور بے دردی سے نوچنا ہے اور پاکستان کے گھر گھر سے ٹکے اکٹھے کر کے اپنے بیرون ملک کے اکاؤنٹس لبریز کرنا ہیں۔ سبھی اکابرین کے پاس پاکستان کے علاوہ بھی شہریتیں ہیں جو ان کی اس سوچ کا سراغ دیتی ہیں کہ یہ لوگ پاکستان کو نہایت غیر محفوظ ملک تصور کرتے ہوئے اقتدار کے ہر دن کو آخری تصور کرتے ہوئے لوٹ مار کرتے ہیں۔ عوام اس سوچ پر آرہی ہے کہ اس پر امن ملک کو غیر محفوظ سمجھنے والے ہی دراصل اسے غیر محفوظ کر رہے ہیں۔
***

Viewers: 4148
Share