Hafiz Muzaffar Mohsin | تیوریوں کی جگہ قہقہے اور ملٹی فلیورڈ آئس کریم

حافظ مظفر محسن 101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور 0300-9449527 تیوریوں کی جگہ قہقہے اور ملٹی فلیورڈ آئس کریم خشک پتوں سے ڈھکے تالاب میں ہے خزاں کا چاند دفنایا ہوا […]

حافظ مظفر محسن
101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور
0300-9449527


تیوریوں کی جگہ قہقہے اور ملٹی فلیورڈ آئس کریم


خشک پتوں سے ڈھکے تالاب میں
ہے خزاں کا چاند دفنایا ہوا


میں نے درخت لاشوں کی صورت میں پڑے دیکھے تو گھبرا سا گیا۔ میری مادرِ علمی (نیو کیمپس ) کے گرد لاشوں کے انبار ۔ مجھے یہ کب گوارہ ہوتا۔ ارے یہ کیا بڑے بڑے ٹرالے اُن ان گنت لاشوں کو اٹھانے کے لئے موجود ہیں۔ یہ دیکھئے وہ بے سدھ پڑے ان درختوں کو جو چند گھنٹے پہلے تک ہنستے مسکراتے دکھائی دیتے تھے۔ ہوا کے دوش پر لہلہاتے پتوں سمیت ۔ کہیں لے جا رہے ہیں۔ شاید اِن کو خشک ہو جانے پر آگ جلانے کے کام لے آئیں۔ اِن کی چیخیں آگ میں جھونکے جانے پر چٹخ چٹخ کی آوازوں کے ساتھ سنائی دیں گی شاید ہم سُن نہ پائیں۔ شاید جدید ترین دور کا انسان اپنے اِن سر سبز لہلہاتے دوستوں سے اُکتا چکا ہے۔ اِن کی مہک اِن سے پھوٹتی خوشبو۔ اپنے چھوٹے سے مفاد کی خاطر انسان اِن سب حسین چیزوں کو بھول جاتا ہے۔ جہاںیہ طویل قامت درخت تھے۔ چند گھنٹے پہلے وہاں بڑے بڑے بلڈوزرآچکے ہیں۔ پتوں کی سرسراہٹ کی جگہ گھن گرج ہے بڑے بڑے بلڈوزروں کے چلنے کی شاید دنیا کی خوبصورت ترین شاہراہوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس خوبرو سڑک کا۔ یہ پچاس کلومیٹر طویل سٹرک جو نہر کے دونوں کناروں کے ساتھ ساتھ بی۔آر بی نہر سے چل کر موہلنوال تک چلی جا رہی تھی۔ لمبی خوبرو سڑک ’’ لانگ ڈرائیو‘‘ کا تصور لاہوریوں کو اِس خوبصورت سڑک نے ہی تو دیا تھا۔ لاہور ی جب موسم اچھا ہوتا ، سخت گرمی میں بھی اِس نہر کنارے سڑک پر نکل پڑتے۔ یہاں کا درجہ حرارت باقی شہر کی سڑکو ں سے قدرے کم ہوتا ہے۔ اور ٹریفک کا شور بھی دوسری سڑکوں سے مختلف تھا۔ اِس وجہ سے اِس کے کئی خوبصورت نام بھی رکھے گئے۔ اِس سڑک کے سارے انداز نرالے ہیں۔ خاص طور پر نو دس انڈر پاس بن جانے سے یہ ایک تفریحی مقام کا سا نقشہ پیش کرتی ہے ۔ لوگ دوسرے شہروں سے آنے والے اپنے رشتے داروں کو چڑیا گھر، عجائب گھر، بادشاہی مسجد، شاہی قلعہ اور مینار پاکستان دکھانے کے بعد یہ سٹر ک ضرور دکھاتے ہیں۔ اِس سٹرک اور نہر کے ساتھ ساتھ سفر بلا شبہ مسحور کن ہوتا ہے اور نیا دیکھنے والا اِس کے سحر میں کھو سا جاتا ہے۔ یہ یورپ کا نقشہ پیش کرتی ہے۔ اردگرد منڈلاتے طلبہ و طالبات بھی۔ میں تقریباً روزانہ اِس خوبصورت دل لبھانے والی سڑک سے گزرتا ہوں اور یہ مسحور کن سفر میری دلی کیفیت کو یکسر بدل کر رکھ دیتا ہے۔ مجھے اکثر یوں لگا جیسے یہ لمبے خوبصورت صاف شفاف درخت مجھ سے باتیں کر رہے ہیں۔ میں نے بڑے سے بڑے بے ہودہ جاہل شخص کو بھی دیکھا جب وہ اِس نہر کنارے آیا۔ اُس نے اپنی گاڑی کے ٹیپ ریکارڈمیں پرانی غزل لگائی اور ترجیح دی کہ نور جہاں کا کوئی پرانا گیت یا غزل سُنے۔ کہ یہ سڑک اور اس پر لگے درخت نہ صرف باہر کا ٹمپریچر بدل دیتے ہیں۔ بلکہ انسان کے اندر بھی تبدیلی سی محسوس ہونے لگتی ہے۔ غم خوشی میں بدل جانے کی صلاحیت رکھتی ہے یہ نہر والی سٹرک ۔ میاں، بیوی یا دوست ناراض ہو کر جب بھی نکلیں اگر غلطی سے یا اپنے دل کے اکسانے پروہ اِس سڑک پر آجائیں تو سمجھیں کہ موڈ بدل گئے ، مزاج میں تبدیلی آگئی اور واپسی پر ماتھے پر تیوریوں کی جگہ قہقہے چھا جاتے۔ مُنہ میں بُرے بُرے فقروں کی جگہ ملٹی فلیورڈ آئس کریم ۔ یہ اِس نہر اور اِس پر ملنے والی خوبصورت ڈرائیو کا ہی تو نتیجہ ہے۔ یا پھر میٹھا پان سونف ملٹھی والا۔ اور نہر کی خوش کن ہوائیں۔
’’تو تو‘‘۔۔۔’’ میں میں‘‘۔۔۔ کی جگہ’’ آپ آپ‘‘ ہونے لگتی ہے۔ جو ان دل آہیں بھرنے لگتے ہیں کسمسانے لگتے ہیں۔ غالب کی شاعری احمد فراز کے فقرے اور امجد اسلام امجد کے ڈراموں کے کردار اردگرد منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں یا پھر Willium Wordsworth یاد آنے لگتا ہے۔ جو ماحول دل کی کیفیت بدل کر رکھ دے۔ کیا کہنے اُس ماحول کے جو جذبات میں طلاطم پیدا کردے۔ اُس جگہ پر صدقے واری جا نے کو دل چاہتا ہے اور یہی لاہور کی خوبصورت نہر ہے۔ جس میں یہ سب صلاحتیں موجود ہیں۔ اخبارات میں لکھا ہے۔ خبریں چھپی ہیں کہ عدالت نے اجازت دے دی ہے اِن بوڑھے ،محبت بھرے پانچ سو درختوں کو گرانے کی اِس حکم کے ساتھ کہ انتظامیہ اِن درختوں کے بدلے پانچ ہزار درخت لگائے گی۔ ورنہ ۔۔۔! (سودہ بہرحال گھاٹے کا نہیں ہے) ۔۔ لاہور کی مشہور ادبی بیٹھک ’’ پاک ٹی ہاؤس ‘‘ کا کیس بھی عدالت میں چلا گیا۔ کئی نسلوں پر محیط شعری رشتے اِس ’’ پاک ٹی ہاؤس‘‘ کے ساتھ دفن ہو گئے ۔ وہ بے آباد جگہ ابھی تک کھنڈر کا سا نقشہ پیش کر رہی ہے۔ نہایت بھیڑوالی سٹرک پر ’’ پاک ٹی ہاؤس‘‘ بربادی کی علامت کے طور پر موجود ہے۔ جہاں بہت بڑے بڑے لکھاریوں نے قدم رنجہ فرمایا۔ میں جب بھی وہاں سے گزرتا ہوں ۔ مُنہ دوسری طرف پھیر لیتا ہوں۔ یہاں ناصر کاظمی سے منیر نیازی ، امجد اسلام امجد ، اشفاق احمد قاسمی صاحب ، حمید کوثر ، اے حمید ، مرزا ادیب ، یونس جاوید اور اعزاز احمد آزر سینکڑوں بڑے ناموں والے لکھاری یہاں سیگریٹ،،،،،،،،،،،، چائے پیتے۔ سوچتے۔ غور کرتے اور کبھی کبھی گفتگو میں محو دکھائی دیتے۔ ہاں کبھی کبھی یہاں کرسیاں بھی چل جاتیں۔ مولانا کوثر نیازی شورش کاشمیری وغیرہ کے دور میں۔ اِس ’’ پاک ٹی ہاؤس ‘‘ کی جگہ ’’ چوپال ‘‘ نے جنم لیا۔ وہ جذباتی محبت بھری صورتحال پیدا نہ ہو سکی ’’ چوپال ‘‘ جنات کی آماجگاہ لگتی ہے۔ بھانج عورت کی گود جیسی اور ’’ ادبی بیٹھک‘‘ ہل جل نہ کر پانے والے مجاوروں کا ڈیرہ۔ عطاء الحق قاسمی صاحب۔ اِسے بہرحال زندہ رکھنے ۔ ادیبوں شاعروں کا گلدستہ بنانے کی فکر میں رہتے ہیں۔اور کوشش بھی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً ہر ہفتے دس دن بعد یہاں ۔ کوئی نہ کوئی ادبی تقریب ہونے لگی ہے جس کا محرک نامور متحرک شاعر حسن عباسی، باقی احمد پوری اور عامر بن علی یا پھر سعد اللہ شاہ بنتے ہیں۔ یہاں رفیق غوری بھی اپنے پرانے سگار کے ساتھ موجود ہو تے ہیں ہر ہستی پر تنقید کرتے ہوئے۔
پانچ سو کے بدلے پانچ ہزار درخت لگ جانے سے (اللہ کرئے ایسا ہو) اُن بزرگ درختوں کی کمی تو پوری نہ ہو سکے گی جو شہید کر دئیے گئے ہیں۔ جو سڑک کی کشادگی کے سلسلہ میں قربان ہوگئے۔ البتہ گاڑیوں کی رفتار تیز تر ہو جائے گی۔ لاکھوں روپے کا روزانہ جو پٹرول ’’ ٹریفک جام ‘‘ کے باعث ضائع ہو جاتا تھا۔ وہ اب نہیں ہوگا۔ کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ لوگ نور جہاں کی گائی غزل ؂
تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے
تلاش میں ہے سحر بار بار گزری ہے
کو بھول جائیں یا کبھی کبھی غلطی سے سی۔ڈی لگ جائے تو اِک ادھ بار سُن لیں۔ کہ نوجوان نسل کو تو یہی پسند ہے اور ہمارا سر خم ہے اُن کی پسند کے آگے کہ بہتے دریاؤں ۔تیز آندھیوں کے سامنے ادھیڑ عمر بزرگ اپنی سٹک کے ساتھ کب کھڑا ہو سکتا ہے۔
مُنی بدنام ہوئی ڈارلنگ تیرے لیے
میں جنڈو بام ہوئی ڈارلنگ تیرے لیے

Viewers: 5145
Share