Rashid Ashraf | اردو زبان آتے آتے ، آتی ہے۔

راشد اشرف۔ کراچی حضرت داغ اپنے ’یاروں ‘سے کہہ گئے ہیں کہ اردو زبان آتے آتے ، آتی ہے۔ جبکہ بزرگوں کا مشورہ ہے کہ زبان و بیان کو غلطیوں […]

راشد اشرف۔ کراچی

حضرت داغ اپنے ’یاروں ‘سے کہہ گئے ہیں کہ اردو زبان آتے آتے ، آتی ہے۔ جبکہ بزرگوں کا مشورہ ہے کہ زبان و بیان کو غلطیوں سے پاک رکھنے کے لیے لازم ہے کہ زبان و بیان کے ماہرین کی تحاریر پڑھنے اور کلاسیکی شاعری کا مسلسل مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ اہل زبان کی مجلسوں میں بیٹھنے اور ان کی گفتگو سننے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ کسی اہل زبان حور خوش خصال کی صحبت نصیب ہوجائے تو کیا ہی کہنے

ردیف، قافیہ، بندش، خیال، لفظ گری
وہ حور زینہ اترتے ہوئے سکھانے لگی

یہ علاحدہ بات ہے کہ اکثر محفلوں میں بیٹھ کر جو پلے ہوتا ہے، الٹا اس کے لٹ جانے کا خوف دامن گیر رہتا ہے۔ بقول شخصے گورا شاہی اردو نے اردو کا حال ، بے حال کردیا ہے، ایسے جملے عام ہوچکے ہیں کہ ’ مجھے آفٹر نون میں بینک جانا ہے، وہاں ٹو او کلاک کو آڈٹ شروع ہوجائے گا‘ ۔ ۔ ان تمام فاسد خیالات کو ذہن سے جھٹکتے ہوئے کچھ سیکھنے کی غرض سے رخ کیا عالمی اردو کانفرنس کے رنگا رنگ میلے کا۔

روزنامہ ایکسپریس کے زیر اہتمام اردو اور عصر حاضر۔بین الا قوامی کانفرنس پر مشتمل ۳۰ ستمبر اور یکم اکتوبر کے دو روز اہلیان کراچی کے لیے تحفے سے کم نہ تھے، دنیا بھر سے مندوبین کی آمد نے اسے دونوں دن حاضرین کے لیے پرکشش بنائے رکھا۔ ہندوستان سے جیلانی بانو، زبیر رضوی، عازم کوہلی اور شمیم حنفی تشریف لائے، رضا علی عابدی نے لندن سے کراچی کا رخ کیا، کینیڈا سے اشفاق حسین اور تقی عابدی، ناروے سے فیصل ہاشمی، ترکی سے ڈاکٹر خلیل طوق آر اور چین سے تھانگ منگ شنگ نے اردو کانفرنس کو رونق بخشی، لاہور سے امجد اسلام امجد، عطاء الحق قاسمی، انتظار حسین ، ڈاکٹر سلیم اخترشریک ہوئے، کراچی سے پیر زادہ قاسم، فاطمہ حسن، زاہدہ حنا، محمد علی صدیقی شریک ہوئے۔ دیگر شرکاء میں آغا ناصر، ڈاکٹر نجیب جمال، احفاظ الرحمن، امینہ سید موجود تھے۔ مقالے پڑھے گئے اور شاعری سنائی گئی۔

شاعری کے میدان کو پر کرنے لیے کانفرنس کے دوسرے دن ظفر اقبال، سحر انصاری، ایوب خاور، سعود عثمانی،انور مسعود،اشفا ق حسین، فاطمہ حسن، پیرزادہ قاسم، عطاء الحق قاسمی، امجد اسلام امجد، عازم کوہلی، شاہدہ حسن، بشری اعجاز، زبیر رضوی، تقی عابدی، سورج نرائن، عباس تابش، سرور جاوید، حسن اکبر کمال اور جاوید صبا نے اپنے کلام سے شرکاء کو محظوظ بھی کیا اور رات تین بجے تک مبحوس بھی کیے رکھا۔ لاہور سے آئی ہوئی بشری اعجاز تو پہلے ہی کہہ چکی تھیں کہ وہ کراچی کے حالات کی وجہ سے خوفزدہ تھیں ۔

رضا علی عابدی اردو زبان کو چراغوں کا تیل قرار دے رہے تھے اور اس سے متعلق واقعہ سناتے ہوئے بیان کر رہے تھے کہ وہ بھارتی شہر کلکتہ کا ایک ایسا انوکھا مندر دیکھنے پہنچے جو مکمل طور پر سفید چمکیلے پتھروں کا بنا ہوا تھا، اس مندر کی دیوار میں ایک طاق تھا جس میں چراغ جل رہا تھا،اس چراغ کی لو کی یہ خصوصیت تھی کہ اس کے جلنے سے مندر کی دیوار سیاہ نہیں ہورہی تھی۔ یہ منظر لوگوں کے لیے حیران کن تھا۔ وہاں موجو د لوگوں سے پوچھا گیا کہ اس چراغ میں آخر کون سا تیل ہے ؟ رضا علی عابدی جھٹ بولے ’ اس میں اردو زبان کا تیل ہے، یہ زبان سیاہ نہیں کرتی‘

تقریب کے دیگر مقررین کے خطابات سے چیدہ چیدہ نکات پیش خدمت ہیں:

۔اس کانفرنس کی کامیابی نے اردو زبان کو لاحق خطرات کا خاتمہ کیا ہے (ڈاکٹر سلیم اختر)

۔جیلانی بانو نے ’اردو ادب میں خواتین کی حصہ داری‘ کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے پہلے افسانے میں عورت کا کردار اہم رہا اس کے بعد سب کچھ مرد نے لکھا۔شراب، عورت اور رات ادب کا حصہ ہے لیکن صرف خوبصورت عورت کو ہی یہاں تک رسائی حاصل ہے، جو عورت خوبصورت نہ ہو اسے اردو ادب میں چڑیل کا کردار دیا گیا ہے۔ مرد شاعر ایک طوائف کے عشوہ و غمزہ کی بنیاد پر مشاعرہ لوٹ لیتا ہے لیکن عصمت چغتائی کو لحاف کے لیے عدالت تک جانا پڑا۔

۔میٹرک کے بعد اردو زبان ہانپنے اور انٹرمیڈیٹ کے بعد ہکلانے لگتی ہے (شکیل عادل زادہ)

۔جس روز پاکستانی مائیں اپنے بچوں کو انگریزی سکھانے کی کوشش ترک کردیں گی اسی روز سے اردو کے عملی نفاذ کی راہ ہموار ہونا شروع ہوجائے گی۔افریقہ کے کئی ممالک میں جنگلوں میں بھی کالے حبشی فر فر انگریزی او فرانسیسی بولتے ہیں لیکن یہ زبانیں وہاں سڑک، صحت اور خوشحالی نہیں لے کر گئیں۔ چین اور ترکی کا کام انگریزی کے بغیر بھی بہت اچھا چل رہا ہے۔ (ڈاکٹر خلیل طوق آر۔ترکی)

کانفرنس کے دوسرے روز میں صبح صبح رضا علی عابدی صاحب کے پاس بیٹھا تھا، خوش قسمتی سے وہ جلدی پہنچ گئے تھے ، مرکزی دروازے پر میں ان کے استقبال کے لیے موجود تھا، ایک صاحب ان کی جانب لپکے اور باتیں کرنے لگے، کچھ دیر بعد عابدی صاحب میری طرف اشار ہ کرکے ان صاحب سے کہتے ہیں کہ میں ’ ان کے ساتھ ہال میں جارہاہوں، یہ میرے فیس بک کے دوست ہیں‘ ۔ ۔ وہ صاحب جھٹ جواب دیتے ہیں ’’ تو یوں کہیے کہ آپ کے فیس بک کے دوست اس وقت فیس ٹو فیس ہیں ‘‘ ۔ عابدی صاحب قہقہہ لگاتے ہوئے ہال کا رخ کرتے ہیں۔

اندر پہنچ کر ہم نے ایک گوشہ عافیت تاکا۔ عابدی صاحب سے جی بھر کے باتیں کیں۔ کتابوں کی، لوگوں کی، اردو زبان سے ان کی محبت کی۔ درمیان میں لوگ ان سے ملاقات کے لیے آتے رہے، لاہور سے آئے ہوئے اردو ڈائجسٹ کے نئے مدیر اختر عباس نے دس منٹ کا انٹرویو محفوظ کیا۔ پشتو بو لنے والا ایک نوجوان اپنی عقیدت کا مظاہرہ کرتا رہا ، وہ کراچی کے ایک اردو اخبار میں ملازم ہے، اردو میں لکھنے کا شوق ہے، عابدی صاحب اس کی باتیں نہایت غور سے سنتے رہے کہ وہ جن کی مادری زبان اردو نہیں ہوتی، عابدی صاحب نے ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کی ہے۔چلتے چلتے وہ نوجوان مجھ سے میرا تعارف پوچھتا ہے، میں اپنا نام بتاتا ہوں، وہ یک دم ٹھٹک جاتا ہے۔ ’ وہ خودُکش والے راشد اشرف‘ ؟ ۔ ۔ میں گھبرا جاتا ہوں، وہ قبائلی علاقے کا رہنے والا کہیں میری تلاش کی مہم پر مامور تو نہیں ؟
’بھائی وہ خودکش (زبرکے ساتھ) تھا‘ ۔میں اسے جواب دیتا ہوں

ایک خاتو ن رضا علی عابدی صاحب کے قدموں میں بیٹھ جاتی ہیں، اپنی دو عدد سہیلیوں کو بھی کھینچ لا ئی ہیں، عابدی صاحب کے ساتھ تصاویر کی فرمائش مجھ ہی سے کرتی ہیں اور میں دل ہی دل میں کہتا ہوں ’’ بی بی ! قدموں میں بیٹھیے ، خدا کے لیے جڑوں میں نہ بیٹھ جائیے گا کہ عا بدی صاحب کا سلسلہ تکلم ان کے چاہنے والوں کی دراندازی سے پہلے ہی ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے ۔‘‘

کچھ فرصت ہوئی تو عابدی صاحب مجھے بتانے لگے کہ انہوں نے اردو کی خاطر کھبتی ہوئی آگ ، دہکتی ہوئی زمین اور برستے شعلوں جیسی گرمی میں بہار کا سفر کیا تھا اور یہ ان دنوں کی بات ہے جب وہ بی بی سی سے وابستہ تھے اور جرنیلی سڑک جیسے پروگمرامز کا ڈنکا چہار دانگ عالم میں بج رہا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ان کی آنے والے کتابوں میں ’کتابیں اپنے آباء کی‘ اور ’ اخبار کی راتیں ‘شامل ہیں ۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ’’لوگ طویل سفر کرکے سفر نامہ لکھتے ہیں لیکن طویل قیام کرکے کوئی قیام نامہ نہیں لکھتا ، میں اپنے قاری کو ان یادوں میں حصہ دار بنا نا چاہتا ہوں لیکن ٹائپنگ کی غلطیوں اور دیگر معاملات کی وجہ سے پریشان ہوں، یہ کیا کہ ’بیت ‘صفحے کے آخر میں لکھا گیا اور ’خلا ‘اگلے صفحے کے شروع میں‘ ‘

چالیس برس سے مقیم لندن میں مقیم جناب رضا علی عابدی کے قارئین کو شنید ہو کہ عابدی صاحب کا قلم عنقریب ایک قیام نامہ تحریر کرے گا ۔

انہوں نے کہا ’’ سفر نامہ نگار منظر کو بیان کرتا ہے ، میں منظر کو دعوت دیتا ہوں کہ خود کو بیان کرے‘‘

کراچی کے اتوار بازار سے ملنے پرانی کتابوں کے احوال میں، میں عابدی صاحب کو بھی شریک کرتا رہتا ہوں، اسی کا ذکر چل نکلا ، مصنفین کے دستخط شدہ نسخوں کی فٹ پاتھ پر فروخت کی بات ہوئی تو عابدی صاحب نے یہ کہہ کر مجھے حیران کردیا کہ ایک مرتبہ انہوں نے الہ آباد کے فٹ پاتھ پر مشتاق احمد یوسفی کی کتاب فروخت ہوتے دیکھی، اس کتاب پر یوسفی صاحب کے دستخط موجود تھے۔
جواب میں ایک تگڑی مثال تو میرے پاس بھی تھی، کنور مہندر سنگھ بیدی کی یادوں کا جشن ،جس پر ان کے دستخط موجود تھے، کراچی کے فٹ پاتھ سے مجھے ملی تھی ۔

’’ ارے بھئی ایک مرتبہ تو حد ہوگئی ‘‘ رضا علی عابدی کہہ رہے تھے۔ ’’بہاولپور یونیورسٹی کے وائس چانسلر صاحب نے مجھے اپنی ایک کتاب پیش کی اور ساتھ ہی فرمانے لگے کہ عابدی صاحب، اس کتاب پر میں نے اپنا وزٹنگ کارڈ چسپاں کردیا ہے، اگر آپ اس کتاب کو کبھی کسی کو دیں تو اس کارڈ کو نوچ کر پھینک دیجیے گا،میں نے انہیں کہا کہ صاحب! اطمانچہ مارنے کو میں ہی ملا تھا آپ کو

ہال میں نصب جہازی حجم کے ٹی وی اسکرین پر ہندوستان سے تعلق رکھنے والے شاعر، افسانہ نگار، ہدایتکار، فلمی کہانی و منظر نویس سمپورن سنگھ گلزار عالمی اردو کانفرنس کے بارے میں نیک خیالات کا اظہار کررہے تھے، گلزار خود تو نہ آسکے، اپنا پیغام ریکارڈ کرکے بھجوا دیا. گلزار کا شعر ہے:

آئينہ ديکھ کے تسلی ہوئی
ہم کو اس گھر ميں جانتا ہے کوئی

گلزار صاحب کو دیکھ کر ہمیں تسلی سی ہوئی، آپ کو اردو کے اس گھر میں سبھی جانتے ہیں جناب!

اسی دوران عقیل عباس جعفری صاحب تشریف لے آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھ گئے۔ گفتگو کا سلسلہ جاری تھا کہ اچانک اسٹیج سے ڈاکٹر تقی عابدی کے گرجنے کی آواز آئی، ہم نے گھبرا کر اس طرف دیکھا، یوں لگا تھا جیسے کوئی سیاسی لیڈر اسٹیج پر چڑھنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ جلد ہی شرکاء کی توجہ ان کی جانب مکمل طور پر مبذول ہوگئی۔ وہ کہہ رہے تھے:

’’ میر انیس نے اردوکو کلمہ پڑھایا، غزل نے اردو زبان کو لالی لگائی، مرثیے نے اس کی آنکھوں میں سرمہ لگایا، قطعہ نے اسے دلہن بنایا،فارسی نے سوتن بن کر اردو زبان کو دربار میں جانے سے روکا، پھر بھی لوگ اس کی زلفوں کے اسیر ہوگئے۔اردو کا رسم الخط اس کی پہچان اور اس کے جسم کا لباس ہے، اس سے سمجھوتہ کرنا اردو سے غداری کے مترادف ہے۔‘‘

تقریب کے شرکاء تالیاں بجاتے بجاتے بے حال ہوگئے۔

اپنے ساتھ کھڑے ایکسپریس ٹی وی کے ایک اعلی عہدیدار سے میں نے درخواست کی کہ جس حساب سے یہاں بات بات پر تالیاں بجائی جارہی ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے آپ سے درخواست ہے کہ فوری طور پر اگلی تقریب ڈینگی مچھر کے حملے کی زد میں آئے ہوئے شہر لاہور میں منعقد کروائی جائے کہ اس نامعقول مچھر سے نجات کا اس سے ارزاں حل اور کوئی نہیں ہوسکتا ۔ یہ مچھر لاہور میں منہ زور ہورہا ہے۔ نوبت بہ ایں جا رسید کہ ڈینگی کے ایک مچھر نے دوسرے سے کہا کہ میں دنیا بھر میں گھوما ہوں، لاتعداد لوگوں کو کاٹا ہے لیکن ’ لاہور، لاہور ہے‘

انتظارحسین نے اپنے خطاب میں اردو افسانے سے متعلق احمد ندیم قاسمی کے جملے کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ’’ اردو افسانہ انگریزی افسانے سے آگے نکل گیا ہے۔‘‘ ، انتظار حسین کا کہنا تھا کہ وہ اپنی حد تک یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ ’میرا افسانہ انگریزی افسانے سے آگے نہیں نکلا‘ ۔

آغا ناصر نے اپنے خطاب میں ایک مکمل اردو ٹی وی چینل کے اجراء کی تجویز پیش کی۔

معراج جامی صاحب، ڈاکٹر خلیل طوق آر کو تقریب کے شروع ہوتے ہی اپنے ہمراہ کہیں لے گئے تھے، ایک گھنٹے بعد ان کی واپسی ہوئی اور معلوم ہوا کہ انہوں ڈاکٹر خلیل کو ایک قریبی دکان سے مشاعرے میں پہننے کی غرض سے ایک کڑھا ہوا کرتا دلوایا ہے

کانفرنس کے دوسرے روز سر شام مشاعرہ بپا ہوا اور نثری حملوں سے ادھ موئے شرکاء نے اسے خوش آمدید کہا۔

شرکاء نے شعرا کے کلام پر داد بھی دی اور جہاں معاملے کو زبانی داد سے بڑھ کر پایا، وہاں بے اختیار تالیاں پیٹنا شروع کردیں ، چند مثالیں پیش خدمت ہیں:

نہ جانے کون دعائوں میں یاد رکھتا ہے
میں ڈوبتا ہوں سمندر اچھال دیتا ہے (سورج نرائن)

ایک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے ( عباس تابش)

اب اسے بھول جانے کا ارادہ کرلیا ہے
بھروسہ غالبا خود پر زیادہ کرلیا ہے (عطاء الحق قاسمی)

میں نے کب دعوی کیا تھا سر بسر باقی ہوں میں
پیش خدمت ہوگیا ہوں میں، جس قدر باقی ہوں میں (ظفر اقبال)

امجد اسلام امجد نے اپنے پٹارے سے برسوں پرانی ’ تجھ سے کیا کہیں جاناں اس قدر جھمیلے میں‘ نکالی اور باوجود اس قدر جھمیلے کے، اپنی نظم پڑھ گئے۔ پیرزادہ قاسم نے بھی اپنی مشہور زمانہ غزل ’خون سے جب جلا دیا اک دیا بجھا ہوا۔پھر مجھے دے دیا گیا اک دیا بجھا ہوا ‘ دوبارہ سنائی ، شرکاء نے ان کا یہ کلام ان کی آواز سے آواز ملا کرمکمل کیا۔

یہ ممکن نہیں کہ جس محفل میں انور مسعود ہوں، وہاں قہقہے نہ گونجیں:

گویا کم کم ہے دید کا امکان
آرزو کی کلی نہیں کھلتی
گرچہ نزدیک ہے گلی تیری
پر ہمیں پارکنگ نہیں ملتی

انور مسعود اسٹیج سے جانے کے لیے اٹھتے تھے اور ادھر ہر بار مجمع سے ایک غلغلہ بلند ہوتا تھا کہ مت جائیے۔ آخر میں جاتے جاتے کہنے لگے کہ ’والدین کے اصرار پر میں نے ڈاکٹر نہ بن کر میڈیکل سائنس پر احسان کیا ہے۔‘

امن و امان کی دگرگوں صورتحال اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے بے حال اس شہر میں یہ تقریب ادبی تقریبات کا ایک روشن باب قرار پائی

Viewers: 9688
Share