Hafiz Muzafar Mohsin | Afsana | آتشی گلابی ساڑھی سے ڈینگی بخار تک

حافظ مظفر محسن 101چراغ پارک شاد باغ لاہور افسانہ آتشی گلابی ساڑھی سے ڈینگی بخار تک میں انتظار میں تھا۔ اُس نے پہلی دفعہ آنے کا وعدہ کیا تھا۔ مجھے […]

حافظ مظفر محسن
101چراغ پارک شاد باغ لاہور

افسانہ


آتشی گلابی ساڑھی سے ڈینگی بخار تک


میں انتظار میں تھا۔
اُس نے پہلی دفعہ آنے کا وعدہ کیا تھا۔ مجھے یہ سوچنا بہت اچھا لگ رہا تھا کہ آج اُس سے پہلی مرتبہ ون ٹو ون ملاقات ہونے والی تھی۔ اُس کی مرضی کے مطابق۔۔۔ اور یہ خیال بڑا خوش آئند تھا کہ اِس ملاقات کے دوران میری سیکرٹری رخسانہ بھی مخل نہیں ہوگی جو عادتاً ہمیشہ ایسے وقت پر میرے پاس آکر بیٹھ جا تی ہے۔ ہاتھ میں کاپی اور بال پوائنٹ پکڑے۔ جب بھی کوئی ’’ ریزن ایبل‘‘ خاتون میرے پاس آجائے اور وہ بڑے بڑے دانتوں والا سلیم بھی۔ اگر وہ میرا ماتحت نہ ہو تو میں اُس کو ’’ دندلو‘‘ کہہ کر ضرور بلاؤں کہ اِس سے مجھے بھرپور قلبی تسکین تو نہیں ملے گی البتہ اُس کو کوفت ضرور ہوگی۔
دفتر میں اللہ داد کو بڑے افسروں نے نہ جانے کیوں بطور سکیورٹی گارڈ مجھ پر مسلط کر دیا ہے۔ میں نے ہمیشہ غور کیا یہ چہرے مہرے سے چوکیدار تو یکسر لگتا ہی نہیں ہے۔ پھپھے کُٹنی بوڑھی عورت کا سا رول ہے اِس کا دفتر میں ۔ اُس نے دفتر میں تین اچھے دوستوں کو آپس میں لڑوا دیا۔۔۔ اور کلثوم۔۔۔ بے چاری کا اس منحوس کی بدولت درد مند سے رشتہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ یقینی کامیابی یقینی ناکامی میں بدل گئی۔ مجھے ہزار فیصد یقین ہے کہ اگر یہ اللہ داد چوکیدار دفتر میں وارد نہ ہوتا تو چند ماہ بعد کلثوم اور درد مند کی شادی وقوع پذیر ہو جاتی۔
اب وہ اِک دوسرے کے دشمن بنے بیٹھے ہیں۔ کسی کو وجہ معلوم نہ ہوسکی اس دشمنی کی۔ میری ذاتی رائے کے مطابق اللہ داد اس نئی دشمنی سے خوش تھا۔ میں بہرحال اِسے اللہ داد کی کامیابی بھی کہہ سکتا ہوں کہ وہ اِک ’’ فنکار‘‘ تو ہے ناں۔۔۔ اور اِک کامیاب فنکار۔ یعنی اگر نفرت کا بیج بھی بوتا ہے توفصل اگا کے ہی دم لیتا ہے۔ کم بخت نے ’’ نفرت ‘‘ کی فصل کے ڈھیر لگا دئیے ہیں۔۔۔ تھوڑی سی مدت میں۔۔۔ اور سونے پر سہاگہ یہ کہ ہر دفتر میں بندہ اللہ داد کے نہایت محنتی اور فرمانبردار ہونے کا قائل بھی ہو چکا ہے۔
اُسے بندوق سے کوئی سروکار نہیں۔ شاید بندوق کے بغیر ہی وہ اپنا کام سر انجام دے ڈالتا ہے۔ اور وہ اپنی آگ لگانے اور نفرت پھیلانے کی رفتار سے مطمئن بھی دکھائی دیتا ہے۔ اس کارِ بے بدل میں نہ گولیاں ضائع ہوتی ہیں اور نہ ہی ’’ ٹھاہ ‘‘ کی بدنما آواز پیدا ہوتء ہے۔ یعنی قتل بھی کر ڈالتا ہے اور اُس پر تھانے کچہری میں کوئی پرچہ بھی درج نہیں ہوتا۔ مستزاد یہ کہ جب چاہے نفرت پھیلا کر ہمدردیاں بھی سمیٹ لے۔
ایک دن میں نے جان بوجھ کر اُسے ڈیڑھ فرلانگ دور واقع جگہ پر کوئی سولہ مرتبہ بھیجا۔ یعنی اُس نے اڑھتالیس فرلانگ کا فاصلہ طے کیا۔ کبھی فوٹو کاپی کروانے ، کبھی بوٹ کا تسمہ لینے اور کبھی محض یہ جاننے کے لیے کہ اپنے اُس فوٹو کاپی والے سے پوچھ کے آؤ کہ کل جس دو سو روپے والے انعامی بانڈ کی قرعہ اندازی صبح نو بجے ہوگی، اُس کی لِسٹ کتنے بجے تک آجائے گی؟
حالانکہ میرے پاس دو سو روپے والا کوئی بھی انعامی بانڈ نہیں تھا۔ خواہ مخواہ کی ضد ۔۔۔ وہ گیا اور پوچھ تاچھ کر کے پندرہ منٹ میں واپس آگیا۔ مجھے مزہ نہ آیا۔ میں نے پھر اُسے بھیج دیا ’’ اللہ داد! ذرا بھاگ کے جا ۔ اُس اپنے فوٹو کاپی والے سے پھر پوچھ کے آکہ کل جس دو سو روپے والے انعامی بانڈ کی قرعہ اندازی صبح نو بجے ہوگی، اُس کی لِسٹ جو تم نے بتایا کہ گیارہ بجے آجائے گی، وہ لِسٹ کتنے میں ملے گی؟‘‘
جانے لگا تو پھر تاکید کی، ’’ اور اگر دو خریدیں تو رعایت بھی ہوگی کیا؟‘‘
اس کی جگہ پر کوئی بھی شخص ہوتا، اُس کے چہرے کے تاثرات بدل جاتے، وہ وہیں کھڑا رہ کر چند الٹی سیدھی ہانکتا اور مجھے ٹرخانے کی کوشش کرتا۔ مجھے کسی ایسی ہی صورتحال کی توقع تھی۔ تبھی میں نے اُس کے منہ پر غور کیا مگر وہاں کوئی تاثر نہ تھا۔۔۔ نہ غصہ ۔۔۔ نہ پریشانی اور نہ ہی تھکاوٹ کا احساس ۔اس نے مجھے ٹرخانے کی کوشش بھی نہیں کی۔۔۔ ان ملازموں کی طرح جو موقع پر ہی کئی معاملات کی تہہ تک پہنچ کر حل بھی نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بس ایک خاموشی سے سر جھکا کر چلا گیا۔
تھوڑی دیر بعد آکر کھڑا ہوگیا ’’صاحب جی! وہ کہہ رہا ہے کہ مفت ملے گی۔‘‘
’’ہائیں! مگر کیوں؟‘‘ میں نے مصنوعی حیرت کا اظہار کیا۔
آپ پرانے کسٹمر جو ہیں۔‘‘
یہ خبر بھی اُس نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ سنائی اور اگلے حکم کا منتظر ہو گیا۔
ہاں تو میں بتا رہا تھا کہ میں اس کے انتظار میں تھا۔
مجھے یقین تھا کہ وہ آئے گی۔ اُس نے صبح بتایاتھا ’’میں اپنی بڑی مرحومہ بھابھی کی آتشی گلابی ساڑھی پہن کے آؤں گی جو میں نے اُس کے پرانے صندوق سے چوری چوری پرسوں رات نکالی تھی۔ اُس میں سے عجیب طرح کی بد بو آرہی ہے۔ میں نے جب اُس پرانی ساڑھی کو نکال کر سینے سے لگایا تو اُس میں سے اُٹھتی بدبو سے مجھے ڈیڑھ درجن کے قریب چھینکیں آئیں اور میں گھبرا گئی کہ اتنی چھینکیں؟۔۔۔ڈر گئی کہ اگر یہ لگاتار چھینکیں بند نہ ہوئیں اور گھر والے مجھے ڈاکٹر کے پاس لے گئے تو میں کیا بتاؤ ں گی ڈاکٹر کو کہ مجھے کون سا مرض لاحق ہو گیاہے۔ پتہ نہیں میڈیکل سائنس میں چھینک کو مرض مانا بھی جاتا ہے یا نہیں؟‘‘
’’کہیں ڈاکٹر ساڑھی کا لیبارٹری ٹیسٹ کروانے شوکت خانم ہسپتال نہ بھیج دیں جہاں ایک بیڈ پر میں اور ایک پہ میرے ساتھ ساڑھی لیٹی ہو۔۔۔‘‘
’’ اور ڈاکٹر کہیں’ دونوں کے بچنے کی اُمید نہیں‘ کا شوشہ نہ چھوڑ دیں۔‘‘ میں نے گرہ لگائی۔
پھر اُس نے خود ہی بتایا ’’سنو مظفر! تم ساڑھی سے مت گھبرانا۔ تم نے ایک دفعہ فون پر بتایا تھا کہ میں جب بھی چھینک مارنے کا سوچتا ہوں اور پھر چھینک مارنے لگتا ہوں تو مُنہ کھلا رہ جاتا ہے۔ چھینک نہیں آتی۔ اِک اذیت سی محسوس ہوتی ہے۔ چھینک آتے آتے رُک جانے سے مُنہ کھلا رہ جائے تو بڑا عجیب محسوس ہوتا ہے ۔ ہاں! البتہ بچے میرے اِس عمل سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں اور میں خود کو سارا دن اپنی اس ناکامی پر کوستا رہتا ہوں اور دل ہی دل میں چھینک کا منتظر بھی رہتا ہوں۔ یہ جانتے ہوئے کہ اس دھماکہ خیز کام میں دل کوئی کردار ادا نہیں کر سکتا۔‘‘
اس نے مسکرا کر کہا، ’’میں نے پہلے سوچا تھا کہ تمھیں یہ ساڑھی چھینکوں کے لیے گفٹ کر دُوں گی۔ چھینک نہ آئے تو ساڑھی کا استعمال کرو۔ مگر۔۔۔ میں جو یہ ساڑھی پہن کر تتلی لگنے لگو ں گی۔۔۔ تو تم دیکھ کر بہت خوش ہو جاؤ گے۔ میں وہ موقع بھلا کیوں ہاتھ سے گنواؤں۔ اس لیے میں نے اپنے محلے کے بازار سے اُس لڑکے سے ’’ پروفیسی‘‘ پرفیوم خالی شیشی میں بھروائی جو ’’ پھٹے‘‘ پر پمپ اور بڑی بوتلوں میں پرفیوم رکھ کے بیٹھا ہوا ہے۔۔۔ صرف ہم جیسے شوخوں کی مدد کیلئے۔۔۔ جو مرضی بھر وا لو سو روپے میں۔ چاہے اسرائیل کا قورم ہی کیوں نہ ہو، وینز ویلا کا چارلی یا فرانس کا ایسٹی۔ میں نے وہ آدھی شیشی اپنی آتشی گلابی ساڑھی پر چھڑک لی ہے۔‘‘
وہ ابھی بہت سا جنرل نالج میرے بھیجے میں انڈیلنا چاہتی تھی، ’’ اب خوشبو اور بدبو مل کے کچھ اور بن چکے ہیں۔۔۔ ایک نا قابل بیان سی چیز۔ تم سونگھ کے بتانا کہ بدبو اور خوشبو کا یہ حسین امتزاج کیسا لگا؟ بڑے استاد بنتے ہو؟‘‘
میں سوچ رہا تھا کہ وہ کیسی لگے گی آتشی گلابی ساڑھی میں؟
وہ خود کہہ رہی ہے کہ میں اسے پہن کر تتلی لگوں گی۔
تتلی؟
میرے ذہن میں پانچ فٹ چھ انچ کی تتلی کا عکس گھوم گیا۔
اب مجھے انتظار تھا رخسانہ کا۔۔۔ کہ اللہ کرے وہ روزانہ کی طرح چھٹی ہونے سے پہلے آئے اور نہایت ادب سے بولے ’’ سر! میں نے اپنی پڑ دادی اماں کا ختم دلوانا ہے۔اس لیے اگر آپ اجازت دیں تو میں چلی جاؤں چھٹی سے آدھ گھنٹہ پہلے آپ ہمیشہ شفقت فرماتے ہیں۔ آج بھی عنایت کر ہی دیں۔ شکریہ۔‘‘
میں نے غور کیا ہے کہ رخسانہ کے پاس ایسے بہت سے حیلے بہانے ہوتے ہیں۔ سُنا ہے اس نے اردو بازار سے پرانی کتابوں کی دکان سے اِک کتاب ’’ ایک ساس سو بہانے‘‘ خرید رکھی ہے۔ آج کل مارکیٹ میں مہندی لگانے کے طریقوں والی اور ’’ ایک ساس سو بہانے ‘‘ جیسی سینکڑوں کتابیں دستیاب ہیں۔
لو! خدا کا شکر ہے کہ رخسانہ آگئی ہے۔
’’ سر! آپ کو بتائے بغیر وہ جو میں نے اور کلثوم نے آج دوپہر دس دس روپے کے چنے منگوا کر نان کے ساتھ کھائے تھے ناں، وہ کام دکھا چکے ہیں ۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں آدھ گھنٹہ پہلے۔‘‘
اُس نے چھوٹی انگلی گھماتے ہوئے کچھ کہے بغیر سمجھاتے ہوئے کہا، ’’نکل جاؤں ۔ کہیں دفتر میں ہی۔ ۔۔۔۔؟‘‘
اُس نے پیٹ پر ہاتھ رکھ لیا۔
’’ ہاں ہاں!۔۔۔ رخسانہ! جاؤ ۔۔۔ جلدی جاؤ۔ اللہ تمہیں صحت دے۔ ‘‘
اور وہ تو آناً فاناً ہوا ہو گئی۔۔۔ میری دعائیں سمیٹے بغیر۔
شاید واقعی چنے اپنا کام دکھاچکے تھے۔
پھر میں نے غور کیا کہ اب سلیم کا کیا ہو؟۔۔۔ سلیم نے اک دن تین سو روپے ادھار مانگے تھے۔ اپنی سائیکل کی بریک مرمت کروانے کے لیے۔ شاید وہ بھول چکا ہے یا اب اُسے بریک لگانے میں مشکل نہیں ہوتی یا یہ صرف بہانہ تھا۔۔۔ میں نے جلدی میں سلیم کو بلایا ۔
’’ذرا سلیم لُدھڑ کو تو بلاؤ۔‘‘
میں نے نائب قاصد کو آواز دی۔ جذباتی تھا ناں۔۔۔ شاید اِسی لیے آواز خاصی بلند تھی۔۔۔ہیڈ فون کا نوں پر لگا ئے بندہ ایسا کر ہی جاتا ہے۔ سلیم خود ہی آن پہنچا۔
’’یار تم کہاں سے آ گئے سلیم؟۔۔۔ میں نے تو نائب قاصد کو بلایا تھا۔‘‘میں نے شرمندگی سے کہا۔ مجھے اپنی غلطی کا یا کہہ لیں کمینے پن کا احساس ہوا تھا۔
ارے یہ کیا؟۔۔۔ وہ دُور دُور سے ہنسنے لگا۔
’’گریٹ مین ‘‘ میں نے سلیم کے اِس رویے پر کہا۔ اپنی خفگی مٹانے کی کوشش کرتے ہوئے ’’بس یار سلیم! میرے مُنہ سے نکل گیا تھا۔۔۔ سلیم لُدھڑ۔۔۔سوری بھئی۔ لُدھڑ ایسا تو نہیں ہوتا۔ دل بُرا مت کرنا ۔ ویسے بھی یہ سب محبت میں ہوا۔’’
’’نئی صاحب جی! کوئی بات نہیں۔ میں نے صرف یہ کہنا تھا کہ ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں اور پلیز آپ آئندہ مجھے لدھڑ کہہ کر مت بلائیے گا کیو نکہ وہ تو دفتر والوں نے آپ کا نام رکھا ہوا ہے۔۔۔ پیار سے۔‘‘
’’ ایک دفتر میں دو لُدھڑ؟‘‘ میں غور کرنے لگا۔ سوچنے لگا کہ مجھے اس بات پر کیا ردعمل ظاہر کرنا چاہیے مگر پھر آتشی گلابی ساڑھی والی کی آمد کے خیال نے میرا غصہ ختم کر دیا۔ میں نے تین سو روپے اُس کے ہاتھ پر رکھے ’’جاؤ! اپنی سائیکل کی بریک ٹھیک کرا لو۔ اور یہ لدھڑ والی بات آج میں نے واپس لی۔ اور تم بھی اس برے نام کے خلاف دفتر میں تحریک چلاؤ۔ برا لگتا ہے لوگوں کو ایسے جانو رانہ قسم کے ناموں سے بلانا۔ بندہ گلاب یعنی روز کہہ لے۔ بار بار سننے سے بھی جو برا نہیں لگتا۔ ’’چن‘‘ کہہ لے۔ہیں؟‘‘
’’یس سر!‘‘
یہ مصیبت بھی ٹل گئی۔ پیسے میں طاقت ہی بڑی ہے۔ بندے کی عقل جواب دے جاتی ہے۔ میں نے بیل دی تو اللہ داد دروازے پر لگی ’’چِک ‘‘ اٹھا کر اندر آگیا۔ میں سوچنے لگا کہ اصل بات اسے کیسے سمجھاؤں پھر میں نے اپنی ساری قوت جمع کی اور مُنہ دوسری طرف کرتے ہوئے کہا ’’دیکھو اللہ داد! میں اِدھر ہی ہوں آفس میں۔‘‘
’’جی ٹھیک صاحب جی!‘‘ وہ ادب سے بولا۔
اُس کے جاتے ہی میں نے دفتر کے دروازے کی کنڈی بند کر لی ۔ گھڑی دیکھی۔ اُس کے آنے میں پچاس منٹ ابھی باقی تھے۔ میں نے جلدی جلدی قمیص بنیان اتاری۔ پرسوں جب میں نے بالوں کو کالاسیاہ کرنے کے لیے کیمیکل لگایا تھا، وہ کچھ جگہوں پر لگنے سے رہ گیا تھا۔ میں نے وہ کیمیکل تیار کیا اور ’ویکنٹ پوسٹ‘ پر کرنے کے بجائے پورے کا پورا سر کالا کر لیا۔ ترکیب استعمال پر پنتالیس منٹ لگائے رکھنے کو کہا گیا تھا۔ میں نے تیس منٹ کے بعد سر دھو لیا۔ جلدی جلدی بنیان شرٹ پہن کر دروازہ کھولا اور سر پر برش پھیرنے لگا۔ خوب کام کیا تھا اسی کیمیکل نے۔ بس ذرا ماتھے پر اپنے چند نشان چھوڑ گیا تھا۔ بیوٹی سیلون نہ جانے والے اور ایسی چھوٹی چھوٹی کنجوسیاں کرنے والے عام طور پر اپنا منہ ماتھا کالا کرہی بیٹھتے ہیں۔
’’ ٹھاہ ۔۔۔ ٹھک!‘‘ دروازہ زور سے کھلا۔
اللہ داد ہنستا ہوا کمرے میں داخل ہوا ’’صاحب جی! اچھا ہوا صبح میں نے گھڑی دس منٹ پیچھے کر دی تھی کہ دفتر کے ملازموں کو پتہ ہی نہ چلے کہ وہ دس منٹ لیٹ دفتر میں بیٹھے کام کر رہے ہیں۔ اِس کے علاوہ وہ ’’چڑیل‘‘ آئی تھی، لال گلابی رنگ کی ساڑھی پہنے۔ کہتی تھی صاحب سے ملنا ہے۔ آپ بال کالے کر رہے تھے۔ میں نے جھوٹ بول کر اُسے بھگا دیا کہ صاحب تو سو رہے ہیں اور کہتے تھے کہ کوئی ایرا غیرا نتھو خیرا آئے تو اُسے کہنا کہ دفتر ٹائم میں آیا کرو۔ ہم کسی کے باپ کے نوکر نہیں۔ تین بجے کے بعد ہمارا اپنا وقت ہوتا ہے۔۔۔ اِس میں چاہے ہم سر کالا کریں یا مُنہ۔۔۔ کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔‘‘
میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ جب دس منٹ بعد میں نے سر اوپر اٹھا یا تو دیکھا کہ سب جا چکے تھے۔ اللہ داد بھی۔ میں بہت نے غور کیا کہ اللہ داد نے یہ سب کیوں کیا؟۔۔۔ تو مجھے یاد آیا کہ اُس نے آج صبح مجھ سے دو دن کی چھٹی مانگی تھی اور میں نے اسے اچھی طرح جھاڑ دیا تھا۔ اسے چھٹی نہیں دی تھی۔ اُس ظالم کے بچے نے حساب چکا دیا تھا۔ بدلہ لے کر۔ جبھی آج پہلی دفعہ میں نے اُسے چہکتے ہوئے دیکھا تھا۔
’’ ڈرامے باز کہیں کا!۔۔۔سڑیل۔۔۔‘‘
ادھر فون پہ فون آرہا تھا۔ گھنٹی بجتی چلی جا رہی تھی۔ اُس کا فون تھا۔ تین سال پہلے بھی ہم نے ملنے کا پروگرام بنایا تھااور کسی ایمرجنسی کی وجہ سے میں نہ جا سکا تھا تو اُس نے فون پر میری وہ خبر لی تھی کہ مجھے ایک سو چار کا بخار چڑھ گیا تھا۔ خوبصورت لوگ ظالم نہ بھی ہوں، کم از کم منہ پھٹ ضرور واقع ہوتے ہیں۔ میں نے ریسور اٹھا کر سائیڈ پر رکھ دیا اور اپنا موبائل بھی آف کر دیا۔
بھلا میں سادہ سا بخار بھی آج کل افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ لوگ سمجھنے لگتے ہیں کہ اسے’’ ڈینگی ‘‘ ہو گیا ہے۔ کہاں آتشی گلابی ساڑھی اور کہاں ڈینگی بخار۔۔۔ یہ اپنی اپنی قسمت ہے۔۔۔ یا سڑیل مزاج اللہ داد کی چالاکی؟۔
میں نے جلدی میں گاڑی سٹارٹ کی اور اچھرہ والی نہر پر چڑھالی۔ سی ڈی پلئیر پر گُل بہار بانو کی گائی ہوئی یہ غزل چل رہی تھی۔
ہمیں جہاں میں کوئی صاحب نظر نہ ملا

Viewers: 14214
Share