Imran Shanawar | Urdu Poetry | عمران شناور

عمران شناور۔ لاہور۔پاکستان 0321-4740421 غزل انجان لگ رہا ہے مرے غم سے گھر تمام حالانکہ میرے اپنے ہیں دیوار و در تمام صیّاد سے قفس میں بھی کوئی گلہ نہیں […]

عمران شناور۔
لاہور۔پاکستان
0321-4740421

غزل
انجان لگ رہا ہے مرے غم سے گھر تمام
حالانکہ میرے اپنے ہیں دیوار و در تمام
صیّاد سے قفس میں بھی کوئی گلہ نہیں
میں نے خود اپنے ہاتھ سے کاٹے ہیں پَر تمام
کب سے بلا رہا ہوں مدد کے لیے انہیں
کس سوچ میں پڑے ہیں مرے چارہ گر تمام
جتنے بھی معتبر تھے وہ نامعتبر ہوئے
رہزن بنے ہوئے ہیں یہاں راہبر تمام
دل سے نہ جائے وہم تو کچھ فائدہ نہیں
ہوتے نہیں ہیں شکوے گلے عمر بھر تمام
غزل
ستارے سب مرے‘ مہتاب میرے
ابھی مت ٹوٹنا اے خواب! میرے
ابھی اڑنا ہے مجھ کو آسماں تک
ہوئے جاتے ہیں پَر بے تاب میرے
میں تھک کر گر گیا‘ ٹوٹا نہیں ہوں
بہت مضبوط ہیں اعصاب میرے
ترے آنے پہ بھی بادِ بہاری
گلستاں کیوں نہیں شاداب میرے
بہت ہی شاد رہتا تھا میں جن میں
وہ لمحے ہو گئے نایاب میرے
ابھی آنکھوں میں طغیانی نہیں ہے
ابھی آئے نہیں سیلاب میرے
سمندر میں ہوا طوفان برپا
سفینے آئے زیرِ آب میرے
تو اب کے بھی نہیں ڈوبا شناورؔ
بہت حیران ہیں احباب میرے
غزل
ہو رہا ہے کیا یہاں کچھ عقدۂ محشر کھلے
اب فصیلِ تیرگی میں روشنی کا در کھلے
بزمِ یاراں سج گئی ہے بس یہی ارمان ہے
کوئی تو ساحر ہو ایسا جس پہ وہ ازور کھلے
’کتنا اچھا دور تھا‘ ہم نے بزرگوں سے سنا
چھوڑ کر جاتے تھے جب ہم اپنے اپنے گھر کھلے
سوچتے تھے زندگی میں اب کوئی مشکل نہیں
ایک کا حل مل گیا تو مسئلے دیگر کھلے
تو مری شہ رگ کے اتنا پاس کیسے ہوگیا
’’سوچنے بیٹھا تجھے تو کیسے کیسے در کھلے‘‘
ڈوب کر بحرِ سخن میں جب شناور ہوگیا
ایک پل میں زندگی کے کتنے ہی جوہر کھلے
غزل
راز کی بات کوئی کیا جانے
میرے جذبات کوئی کیا جانے
میرے حصے میں ہجر آیا ہے
ہجر کی رات کوئی کیا جانے
روز ہوتی ہے گفتگو تجھ سے
یہ ملاقات کوئی کیا جانے
کس قدر ٹوٹ پھوٹ ہے مجھ میں
میرے حالات کوئی کیا جانے
بے سبب خود سے دشمنی کر لی
یہ مری مات کوئی کیا جانے
غزل
کچھ تو اے یار! علاجِ غمِ تنہائی ہو
بات اتنی بھی نہ بڑھ جائے کہ رسوائی ہو
ڈوبنے والے تو آنکھوں سے بھی کب نکلے ہیں
ڈوبنے کے لیے لازم نہیں، گہرائی ہو
جس نے بھی مجھ کو تماشا سا بنا رکھا ہے
اب ضروری ہے وہی آنکھ تماشائی ہو
میں محبت میں لٹا بیٹھا ہوں دل کی دنیا
کام یہ ایسا بھی کب ہے کہ پذیرائی ہو
کوئی انجان نہ ہو شہرِ محبت کا مکیں
کاش ہر دل کی ہر اک دل سے شناسائی ہو
آج تو بزم میں ہر آنکھ تھی پرنم جیسے
داستاں میری کسی نے یہاں دہرائی ہو
میں تجھے جیت بھی تحفے میں نہیں دے سکتا
چاہتا یہ بھی نہیں ہوں تری پسپائی ہو
یوں گزر جاتا ہے عمرانؔ ترے کوچے سے
تیرا واقف نہ ہو جیسے کوئی سودائی ہو
غزل
میں ہوں مجنوں مرا انداز زمانے والا
تیری نگری میں تو پتھر نہیں کھانے والا
تو نے دیکھا ہی نہیں ساتھ مرے چل کے کبھی
میں ہوں تنہائی کا بھی ساتھ نبھانے والا
مجھ کو تم دشتِ تحیّر میں نہ چھوڑو تنہا
خوف طاری ہے عجب دل کو ڈرانے والا
خوف آتا ہے مجھے اپنی ہی تنہائی سے
روٹھ جاتا ہے کوئی مجھ کو منانے والا
دل وہ شیشہ کہ ترا عکس لیے پھرتا ہے
روز آتا ہے کوئی اس کو مٹانے والا!
اس کی ہر بات سر آنکھوں پہ لیے پھرتا ہوں
مجھ کو اچھا بھی تو لگتا ہے رُلانے والا
اس قدر اجنبی انداز سے کیوں دیکھتا ہے
میں وہی ہوں ترا کردار فسانے والا
ہر قدم سوچ سمجھ کر ہی اٹھانا اے دل
تیرا رہبر تو نہیں، راہ بتانے والا
ہے اگر کچھ تو بتا دے گا زمانے بھر کو
وہ نہیں درد کو سینے میں چھپانے والا
چاہے جتنی بھی سفارش کرو اُس کی عمرانؔ
میں تری باتوں میں ہرگز نہیں آنے والا
غزل
پتھروں سے واسطہ ہونا ہی تھا
دل شکستہ آئنہ ہونا ہی تھا
میں بھی اس کو پوجتا تھا رات دن
آخر اس بت کو خدا ہونا ہی تھا
مسندوں پر ہو گئے قابض یزید
اس نگر کو کربلا ہونا ہی تھا
تیرا چہرہ جب نہیں تھا سامنے
آئنوں کو بے صدا ہونا ہی تھا
آج کل سنسان ہے دل کا نگر
عشق میں یہ سانحہ ہونا ہی تھا
بولتا عمران جب کوئی نہیں
خامشی کو تو صدا ہونا ہی تھا
غزل
جو تری قربتوں کو پاتا ہے
اس کو مرنے میں لطف آتا ہے
میں جسے آشنا سمجھتا ہوں
دور بیٹھا وہ مسکراتا ہے
میں تو ممنون ہوں زمانے کا
سیکھ لیتا ہوں جو سکھاتا ہے
تیرگی دربدر ہے گلیوں میں
دیکھیے کون گھر جلاتا ہے
میں ہی سنتا نہیں صدا اس کی
روز کوئی مجھے بلاتا ہے
تو نے منزل تو دیکھ لی عمران
اب تجھے راستہ بلاتا ہے
غزل
لو پہن لی پاؤں میں زنجیر اب
اور کیا دکھلائے گی تقدیر اب
خود ہی چل کر آ گیا زندان تک
کیا کرو گے خواب کی تعبیر اب
اے مسیحا جو تری باتوں میں تھی
دل تلک پہنچی ہے وہ تاثیر اب
ہائے‘ اک آہٹ نے پھر چونکا دیا
بولنے والی تھی وہ تصویر اب
سیدھا میرے دل ہی پر آ کر لگے
آخری ترکش میں ہے جو تیر اب
تیرگی تو مار ڈالے گی مجھے
ڈھونڈ کر لا دے کوئی تنویر اب
اور کچھ پانے حسرت ہی نہیں
مل گئی ہے پیار کی جاگیر اب
شناور
خلا میں غور سے دیکھوں تو اک تصویر بنتی ہے
اور اس تصویر کا چہرہ ترے چہرے سے ملتا ہے
وہی آنکھیں‘ وہی رنگت
وہی ہیں خال و خد سارے
مری آنکھوں سے دیکھے تو تجھے اس عکس کے چہرے پہ
اک تل بھی دکھائی دے
جو بالکل تیرے چہرے پر سجے اس تل کے جیسا ہے
جو گہرا ہے ‘بہت گہرا
سمندر سے بھی گہرا ہے
کہ اس گہرائی میں اکثر
شناور ڈوب جاتا ہے
غزل
بھولتا ہوں اسے یاد آئے مگر، بول میں کیا کروں
جینے دیتی نہیں اس کی پہلی نظر، بول میں کیا کروں
تیرگی خوب ہے، کوئی ہمدم نہیں، کوئی رہبر نہیں
مجھ کو درپیش ہے ایک لمبا سفر، بول میں کیا کروں
خود سے ہی بھاگ کر میں کہاں جاؤں گا یونہی مر جاؤں گا
کوئی صورت بھی آتی نہیں اب نظر، بول میں کیا کروں
میری تنہائی نے مجھ کو رسوا کیا، گھر بھی زندان ہے
مجھ پہ ہنسنے لگے اب تو دیوار و در، بول میں کیا کروں
اُڑ بھی سکتا نہیں، آگ ایسی لگی، کس کو الزام دوں
دھیرے دھیرے جلے ہیں مرے بال و پر، بول میں کیا کروں
تو مرا ہو گیا، میں ترا ہو گیا، اب کوئی غم نہیں
پھر بھی دل میں بچھڑنے کا رہتا ہے ڈر، بول میں کیا کروں
غزل
کیا محسوس کیا تھا تم نے میرے یار درختو
تنہائی جب ملنے آئی پہلی بار درختو
ہر شب تم سے ملنے آ جاتی ہے تنہا تنہا
کیا تم بھی کرتے ہو تنہائی سے پیار درختو
تنہائی میں بیٹھے بیٹھے اکثر سوچتا ہوں میں
کون تمہارا دلبر، کس کے تم دلدار درختو
لڑتے رہتے ہو تم اکثر تند و تیز ہوا سے
تم بھی تھک کر مان ہی لیتے ہو گے ہار درختو
اب کے سال بھی پت جھڑ آئے گا یہ ذہن میں رکھو
اتنا خود پہ کیا اِترانا سایہ دار درختو
میں جب اپنے حق میں بولوں تم ناراض نہ ہونا
غیروں سے ہمدردی کرنا ہے بیکار درختو

Viewers: 26008
Share