Dr. Ghulam Shabbir Rana | Dengue Machar | ڈینگی مچھر:ایک لمحہء فکریہ

ڈاکٹر غلام شبیررانا مصطفی آباد، سرگودہا روڈ۔ جھنگ سٹی پاکستان ۔ drghulamshabbirrana@yahoo.com فون نمبر 03336732755 ڈینگی مچھر:ایک لمحہء فکریہ انشائیہ نہیں تیرا نشیمن گوبر و کچرے کے ڈھیروں پر  تو […]

ڈاکٹر غلام شبیررانا
مصطفی آباد، سرگودہا روڈ۔ جھنگ سٹی
پاکستان ۔ drghulamshabbirrana@yahoo.com
فون نمبر 03336732755


ڈینگی مچھر:ایک لمحہء فکریہ

انشائیہ
نہیں تیرا نشیمن گوبر و کچرے کے ڈھیروں پر

 تو ڈینگی ہے بسیرا کر چشموں کی ڈھلانوں میں

پاکستان کے گوشے گوشے سے ان دنوں ایک ہی صدا آرہی ہے کہ ہمیں ڈینگی کی ایذارسانی اور عقوبتی طریقوں سے بچایا جائے ۔سال 2011اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے ۔گلشن میں بندوبست بہ رنگ دگر دکھائی دیتا ہے ۔جس طرف نظر دوڑائیں ڈینگی کے چرچے اور اس کے لیے خرچے جاری ہیں ۔بعض کوتاہ اندیش لوگوں کا خیال ہے کہ ڈینگی جدید دور کا عذاب ہے ۔ڈینگی تاریخ کے ہر دور میں اپنے وجود کا اثبات کرتا چلا آیا ہے ۔زمانہ قبل از تاریخ میں بھی ڈینگی کی نیش زنی کے آثار ملتے ہیں ۔رسوائے زمانہ مطلق العنان آمر نمرود کی ناک میں گھسنے والا مچھر ڈینگی کا مورث اعلیٰ تھا۔تاریخ کا ایک مسلسل عمل ہوا کرتا ہے ۔تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ہر ظالم و سفاک ،موذی و مکار آمر کے لیے کبھی تو ابابیل کنکر لے کر آتے ہیں اور کبھی ڈینگی ان سفہا،اجلاف و ارذال اور مشکوک نسب کے درندوں کی ناک میں گھس کر ان کو ان کی اوقات یاد دلاتے ہیں ۔ایسے ننگ انسانیت بھیڑیوں کی پیشانی پر رعونت ،قہر اور جبر کے جو نقش ہیں ان کا واحد علاج کفش ہیں ۔ان کی کھوپڑی پر پے در پے جوتم پیزار ہی ان کا واحد علاج ہے ۔ان عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے حالات انھیں اس موڑ پہ لے آئیں گے کہ یہ سو پیاز بھی کھائیں گے اور ساتھ ہی سو جوتے بھی ان کی کریہہ کھوپڑی پر ر لگیں گے ۔ ہر طالع آزما اور طمع آزما مہم جو ڈینگی کے روپ میں وارد ہوتا ہے ۔سادیت پسندی (Sadism)کے اس مریض کی بے رحمانہ مشق ستم کے باعث رتیں بے ثمر ،کلیاں شرر،زندگیاں پر خطر ،آہیں بے اثر اور آبادیا ں خوں میں تر ہو جاتی ہیں ۔یہ ڈینگی اس قدر بد طینت ہیں کہ ان کی خست و خجالت ،بخل او ر رذالت ،شقاوت آمیز ناانصافیوں اور بے غیرتی و بے ضمیری کے باعث زندگی کا تمام منظر نامہ ہی گہنا گیا ہے ۔
ڈینگی کو ایک علامت کی حیثیت حاصل ہے ۔اسے ایک نفسیاتی کل سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے ۔ڈینگی کا نام سنتے ہی لاشعور کی تما م حرکت و حرارت ،خوف و اضطراب اور تحفظات اس طرح متشکل ہوتے ہیں کہ زندگی کی تلخیوں کے بارے میں کوئی ابہام نہیں رہتا۔ معاشرتی زندگی میں مجبور ،بے بس اور مظلوم انسانیت کی توہین، تذلیل تضحیک اور بے توقیری کرنے والے اور ان پر کو ہ ستم توڑنے والے گرگ در اصل ڈینگی ہی تو ہیں ۔یہ ڈینگی اپنی نوعیت کے اعتبار سے سیکڑوں بھیس بدل کر سامنے آتے ہیں ۔یہ ڈینگی رنگ بدلنے میں گرگٹ کو بھی مات دے جاتے ہیں ۔جب سے وطن عزیز میں ڈینگی کی یلغار کا غلغلہ بلند ہو ا ہے ہر سو حفظان صحت کا فراموش کردہ سبق نئے سرے سے ازبر کرنے کی سعی کا آغاز ہو گیا ہے ۔قیام پاکستان کے وقت سے وہ کوڑے کرکٹ کے ڈھیرجہاں سے خارش زدہ سگان آوارہ جاہ و منصب کی ہڈیوں کی تلاش میں دم دبائے سر جھکائے ہمہ وقت مارے مارے پھرتے تھے اب انھیں ہٹایا جا رہا ہے اس کے ساتھ ہی ان آدم خور ڈینگی صفت اور خون آشام سگان راہ کا صفایا بھی ہو سکے گا۔کاش ایسا ممکن ہو !
جیسے ہی ملک میں ڈینگی پھوٹ پڑنے کا خوف پھیلا پورا معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا ہے ۔مظلوم پھوٹ پھوٹ کر رو رہے ہیں ،سیاسی پارٹیوں میں اس موضوع پر پھوٹ پڑ گئی ہے ۔لوگ ایڑیاں رگڑ رہے ہیں مگر انسانی ہمدردی کے سوتے اس قدر خشک ہو چکے ہیں کہ علاج معالجے اور صحت کی نوید کا چشمہ کہیں سے پھوٹتا دکھائی نہیں دیتا۔ایک بات اور ہے اور وہی محل غور ہے کہ ڈینگی کا خوف لوگوں کے اعصاب پر اس قدر سوار ہوا ہے کہ اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے وہ ہر سطح پر جا پہنچے ہیں ۔ڈینگی نے عقل کے اندھوں ،چربہ ساز ،سارق ،کفن دزد اور ذہنی معذوروں کے لیے حصول رزق کے فراواں موقع پیدا کر دئیے ہیں ۔میڈیکل سٹوروں میں پڑی ناکارہ ،دیمک زدہ اور زائد المعیاد کیڑے مار ادویات کستوری کے بھاؤ بک گئی ہیں ۔ڈینگی مارنے والے سپرے کرنے والوں کی پانچوں گھی میں ہیں ۔ بزاز بھی دولت ہتھیانے کے اس چکر میں پیچھے نہیں رہے ۔مچھر دانیاں ریکارڈ تعدا میں فروخت ہو رہی ہیں ان کی مانگ اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اب مانگ میں سیندور کے بجائے ڈینگی مار لوشن لگانا حسیناؤں کا معمول بن گیا ہے ۔پرفیوم کا جسم اور لباس پر چھڑکاؤ اب قصہ ء پارینہ بن گیا ہے ،اب تو نازک اندام ،پری چہرہ محبوب معطر کرنے والے عطریات کے بجائے عفونت سے لبریز ڈینگی مار لوشن یا سپرے کا تقاضا کرتے ہیں ۔عطائیوں کی تجوریاں بھرنے میں ڈینگی نے کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔عامل ،نجومی ،رمال ،جعلی پیر اور سارے پینترے باز لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہیں اور ڈینگی سے بچاؤ کی آڑ میں ڈینگی فوبیا کے شکار سادہ لوح عوام کو بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے ۔ڈینگی کا نام سنتے ہی لو گوں کی گھگی بندھ جاتی ہے ۔اتنا خوف تو انھیں فطرت کی سخت تعزیروں کا بھی نہیں ۔
ہماری معاشرتی زندگی کا ایک المیہ یہ رہا ہے کہ ہم نعروں کے رسیا بن گئے ہیں ۔نعرے لگانے والے اس عیاری کے ساتھ نعرے لگاتے ہیں کہ سننے والے ان کے فریب میں آجاتے ہیں ۔یہ نعرے سادہ لوح لوگوں کے سر پر آرے بن کر چلتے ہیں ۔ڈینگی کی مصیبت نے نعرے بازوں ،طغریٰ سازوں ،مصوروں اور خوش نویسوں کے لیے بھی رزق کے دروازے کھول دئیے ہیں ۔ان دنوں عجب حال ہے تمام شاہراہوں پر بڑے بڑے بینر آویزاں ہیں۔ان پر ڈینگی کے بارے میں جو نعرے اور اقوال درج ہیں وہ حالات کی ستم ظریفی کو سامنے لاتے ہیں ۔یہ بھی ایک طرفہ تماشا ہے کہ کوئی ان نعروں کے مسائل و مضمرات پر غور کرنے پر سرے سے آمادہ نہیں ۔قلم فروشوں سے نعرے لکھو ا کر انھیں شاہراہوں پر آویزاں کرنے کے بعد مقتدر حلقے مردوں سے شرط باندھ کر سو جاتے ہیں ۔ادھر عوام ہیں کہ ان نعروں کو پڑھ کر وہ خوشی سے پھولے نہیں سما تے ۔اہل درد جب ان نعروں کو پڑھتے ہیں تو ان کی جان پر دوہرا عذاب ہوتا ہے ۔وہ ان مضحکہ خیز نعروں کو پڑھنے کے بعد اس قدر سوچتے ہیں کہ فرط غم سے ان کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں ۔آئیے یہ طرفہ تماشا چشم تصور سے دیکھیں جو نعرے بازوں نے سر عام لگا رکھا ہے ۔اس بو العجبی نے تو ہمیں اقوام عالم کی صف میں تماشا بنا دیا ہے ۔یہ نعرے دیکھ کر ہر با شعور قاری کو دن میں تارے دکھائی دیتے ہیں اور اسے سوائے چھٹی کے دودھ کے کچھ یاد نہیں آتا۔
ڈینگی بھگاؤ:ملک بچاؤ،ملک کا روشن نام کرو ؛ڈینگی کا کام تمام کرو ،ڈینگی ایک درندہ ہے :دشمن کا کارندہ ہے ،جب تک ڈینگی زندہ ہے :شعبہ طب شرمندہ ہے ،قدم بڑھاؤ ساتھیو:ڈینگی بھگاؤ ساتھیو، اس کے علاوہ کچھ شاعری کے نمونے اور تحریف نگاری کی مثالیں بھی سامنے آئی ہیں ۔ان سے بھی ڈینگی کے بارے میں تخلیقی فن کاروں کے احساسات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔اس طرح زندگی کے ارتعاشات،نا ہمواریوں ،بے اعتدالیوں ،تضادات ،کجیوں اور بے ہنگم کیفیات کے بارے میں ایک ہمدردانہ شعوراجاگر کرنے کی سعی کی گئی ہے ۔یہ اشعار جہاں ڈینگی کے بارے میں حقیقی آگاہی کی کوشش ہیں
وہیں ان کی حیثیت حس مزاح کو تحریک دینے والے تخلیقی عمل کی بھی ہے ۔اس نوعیت کے لا شعوری محرکات مزاح کی ترویج میں اہم کردار ادا کرتے ہی ں ان کی تخلیق کا سپرے بہ ہر حال ڈینگی کے سر ہے ۔اردو
شاعری میں ظریفانہ اسلوب کا یہ انداز ڈینگی کا مرہون منت ہے ۔سفہا ،اجلاف و ارذال ،خفاش اور مشکوک نسب کے درندوں کی شریانیں اس کے لیے ڈینگی کے نیش کے سامنے خم رہیں گی ۔فریب خیال کا یہ روپ بھی قابل دید ہے جب ڈینگی نے تخلیقی عمل کو اپنے رنگ میں رنگ لیا۔چند اشعار ملاحظہ ہوں یہ ہمارے ایک جاننے والے ناصف کھبال خان کے سہو قلم کا نتیجہ ہیں ۔
گزران ہے دونوں کی انسانوں کے خوں پر
ڈینگی کا جہاں اور ہے کیولکس کا جہاں اور
ڈینگی روح جب بیدار ہوتی ہے نادانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل قبرستانوں میں
لاہور پہ اس طرح سے کی ڈینگی نے چڑھائی
ہر شخص کی بن آئی معالج ہو یا عطائی
آتے ہیں عیب سے یہ ڈینگی وبال میں
قالب حریر جامہ بھی بردہ فروش ہے
ہزار روپ ہیں ڈینگی کے اے فریب خیال
کسی عطائی معالج کا اعتبار نہ کر
یہ سبھی ڈینگی کا جھمکا ہے
چور ہے ٹھگ ہے اچکا ہے
سارے ڈینگی ہیں مستعد کار
ان سے ہے گرم خون کا بازار
یہ ڈینگی یہ تیرے پر اسرار حشرات
کہ جن سے ہوئی فرد کی جگ ہنسائی
دو نیم ان کے ڈسنے سے انساں و حیواں سہمے ہوئے ہیں سبھی مرغ و ماہی
ڈینگی اک قہر ہے اور قہر کے آثار نہیں
ہائے اس موذی کو زنجیر بھی درکار نہیں
کہا کس قدر ہے بشر کو ثبات
ڈینگی نے یہ سن کر تبسم کیا
بخار ہو ،ہیضہ ہو ،چیچک ہو کہ خسرہ ہو
ہر روگ میں پنہاں ہے ڈینگی کی سیاہ کاری
جہاں میں سارے بھڑوے صورت ڈینگی مسلط ہیں
ایدھر ڈس کر اودھر پہنچے ،اودھر ڈس کر ایدھر پہنچے
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں کے دلوں سے خداوند کریم اور جزا سزاکاخوف عنقا ہوگیا ہے ان کے اعصاب پر اس وقت محض ڈینگی کا خوف مسلط ہے۔ فراعنہ اور بو الہوس ازل سے ڈینگی مچھروں سے لرزاں رہے ہیں ڈینگی کے بارے میں ذرائع ابلاغ نے جو مضحکہ خیز صورت حال پیدا کر دی ہے اسے دیکھ کر حیرت ،خوف ،اضطراب کے علاوہ استہزا کو تحریک ملتی ہے ۔ ذرائع ابلاغ نے خبروں کو ایک طرفہ تماشا بنادیا ہے ۔ چند شہ سرخیاں ملاحظہ فرمائیں جن میں پنہاں اندیشہ ہائے دور دراز کی غمازی ہوتی ہے ۔موری کے کیڑے کو اس قدر اہمیت دی جارہی کہ اسے شہ سرخیوں کی زینت بنایا جا رہا ہے ۔اس مبالغے کو دیکھ کر ناطقہ سر بہ گریباں ہے اور خامہ انگشت بہ دنداں ہے ۔پوری دنیا کے ذرائع ابلا غ کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ کہیں بھی حشرات کے قہر اور وباؤں کے زہر کو اس قدر اہمیت نہیں دی جاتی ۔ادھر ہمارے ہاں تو باوا آدم ہی نرالا ہے ۔صحافت کے نام پر جو گل کھلائے جارہے ہیں انھیں سونگھ کر خو ڈینگی محو حیرت ہے کہ اس کے موہوم خوف سے اولاد آدم پر جو لرزہ طاری ہے وہ اسے کیا سے کیا بنا دے گا۔اس سنتھیٹک مچھر نے تو سارے نظام فکر کا تیا پانچہ کر دیا ہے ۔اس قسم کی خبرو ں کی اشاعت نے بھلے مانس افراد کو یاس و ہراس اور حزن و غم کی جان لیوا کیفیت کا اسیر بنا دیا ہے ۔خبروں اور ان کے بین السطور خدشات کے بارے میں سنئیے اور سر دھنیئے:
نو افراد کو ڈینگی نے نگل لیا ،ملک بھر میں ڈینگی نے بے شمار افراد کو لقمہ ئتر بنا لیا،اب تمام انسانوں کی زندگی ڈینگی کے جبڑوں میں ہے ،ڈینگی ایک آدم خور درندہ ہے ،اس کی خون آشامی نے ہزاروں گھر بے چراغ کر دئیے۔ڈینگی نے ملکی معیشت ،صنعت اور زراعت کا پہیہ جام کر دیا ہے ،نظام تعلیم ،مواصلات ،توانائی اور زرمبادلہ کو ڈینگی نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔
یہ حشر سامانی جو ڈینگی نے پیدا کردی ہے وہ بلا شبہ اہل درد کے لیے لمحہء فکریہ ہے ۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم سب ایک بھیانک تیرہ تار جنگل میں پھنس گئے ہیں ،جہاں جنگل کا قانون پوری قوت اور فسطائی جبر کے ساتھ مسلط کر دیا گیا ہے ۔اس جنگل میں جس طرف آنکھ اٹھائیں ڈینگی ہی ڈینگی نظر آتے ہیں ۔ڈینگی کی یہ مطلق العنان فرمانروا ئی حد درجہ لرزہ خیز اور اعصاب شکن ثابت ہو رہی ہے۔یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ حالات نے معاشرے کو اس سمت دھکیل دیا ہے جہاں ڈینگی ہی ڈینگی ہیں اور بے بس انسانوں کے لیے نہ تو جائے رفتن ہے اور نہ ہی پائے ماندن ہے ۔ڈینگی کے بارے میں سب سے زیادہ ڈینگیں ہانکنے والے اب ناکارہ دوائیں فروخت کر کے لمبی تان کر سو چکے ہیں ۔جس سمت بھی آواز اٹھتی ہے ڈینگی کے بارے میں ان صداؤں کی باز گشت سنائی دیتی ہے ۔یہ نصیحت نیوش آوازیں جہاں معاشرتی بے حسی کا شاخسانہ ہیں وہاں انھیں عبرت کا تازیانہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے ۔
تمھارے دم سے ہیں سارے جفا کے ہنگامے
کوئی کہاں سے تمھارا عذاب لائے گا
آ ڈینگی خوب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو ہائے خوں پکار میں چلاؤں ہائے زر
ذرا وقت خرام آیا تو ڈینگی کا سلام آیا
اجل کے ہاتھ کا لکھا رحلت کا پیام آیا
ڈینگی سے اٹ گیا شہر ہے اور ڈنک ہیں دوستو
خوں میں ملا یوں زہر ہے اور ڈنک ہیں دوستو
شام الم ڈھلی تو ملی ڈینگی کی سزا
راتوں کا پچھلا پہر ہے اور ڈنک ہیں دوستو
میرے پڑوس میں آسو بلا نامی ایک نام نہاد متفنی فلسفی رہتا ہے ۔اگرچہ وہ فلسفہ کی ابجد سے بھی نا بلد ہے مگر اس کی جہالت مآبی کا یہ حال ہے کہ خود کو عقل کل سمجھتا ہے اور رواقیت کا دعی بن بیٹھا ہے ۔واقف
حال لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ذہنی مریض پیشہ ور مسخرا اور بھڑوا ہے ۔اس کی ایک آنکھ بھینگی ہے جو کہ بصار ت سے تہی ہے۔یہ سب کچھ ایک ہی آنکھ سے دیکھتا ہے اور یہ ہمیشہ تصویر کا ایک ہی رخ دیکھنے کا عادی ہے اور یہ رخ منفی ہوتا ہے ۔اس کے دماغ اور جسم کے ریشے ریشے میں ڈینگی سما گیا ہے ۔ڈینگی قماش کا یہ فاتر العقل ،مخبوط الحواس ،جنسی جنونی اور کندہء نا تراش مجبور ،مظلوم اور بے بس انسانیت پر بے رحمانہ مشق ستم
جاری رکھتا ہے اور لذت ایذا حاصل کرنا اس کا وتیرہ ہے ۔شہر کے شریر لڑکوں نے اس کا نام مسٹر ڈینگی رکھ دیا ہے کیونکہ یہ ڈینگی مار مہم کے سخت خلاف ہے اور اسے بے رحمی پر محمول کرتا ہے ۔ایک لڑکا جو اس کا پڑوسی اور بے حد شریر اور آفت کا پر کالا ہے اس نے اس جید جاہل کے مکر کا پرد فاش کیا اور اس کے گھر کی دیوار پر جلی حروف میں انمٹ سیاہی سے لکھ دیا:’’ڈینگی کا جو سینگی ہے :آنکھ اسی کی بھنگی ہے ‘‘اس کے بعد سے یہ
ڈینگی نما خبیث جس بچے کو دیکھتا ہے اسے کاٹنے اور کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچنے کو دوڑتا ہے ۔اس ڈینگی کی آنکھوں میں ہر وقت لٹی محفلوں کی دھول اڑتی رہتی ہے اور اس کے لیے عبرت سرائے دہر میں زندگی کے دن پورے کرنا کٹھن بن گیا ہے ۔
عبرت سرائے دہر سے یاد آیا کہ قصر فریدوں پر پہنچ کر ایک شخص نے بہ آواز بلند یہ کہا کہ یہاں فریدون موجود ہے یا کہ نہیں ۔اب یہ تو ظاہر ہے کہ گور سکندر اور قبر دارا کا کوئی اتا پتا نہیں ۔ڈینگی نے تو اسرار و رموز کائنات کے بارے میں عقدوں کی گرہ کشائی کر دی ہے ۔ ہر فرعون ،نمرود شمر ،ہلاکو خان ،چنگیز خان ،آسو بلا خان اور شباہت شمر کو فطرت کی تعزیروں سے غافل نہیں رہنا چاہیے۔کل ایک قوال گلا پھاڑ پھاڑ کر یہ الاپ رہا تھا ۔شاعری کے معیار اور تحریف نگاری سے قطع نظر اس کے الفاظ میں عصری آگہی کے عنصر نے اہل دررد کو متوجہ کیا ۔کیا یہ ایک تلخ و تند حقیقت نہیں کہ ہم پر ہر عہد میں کوئی نہ کوئی ڈینگی مشق ستم جاری رکھتا ہے اور ہم ہمیشہ دھوکا کھا جاتے ہیں ۔اسے ہماری سادگی ،نادانی اور بے بسی کی ایک صورت سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ڈینگی کی پکار کے نام سے اس قوال کی ہزل گوئی بہ ظاہر عامیانہ لگتی ہے مگر اس کے پس پردہ متعد د تلخ صداقتیں ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے پر مجبور کرتی ہیں ۔ہزار ڈینگی ہوں مگر زبان کو ہمیشہ دل کا رفیق رہنا چاہیے ۔قوال کی ہزل قابل غور ہے :
اے دشت کے جاہل نادانو
سارے ڈینگی تمھارے لیے ہیں
تم نے بھگتی ہے جو بھی عقوبت اس میں شامل ہے یہ وائرس بھی
اڑ کے پہنچو گے تم جس جہاں میں ساتھ جائے گا یہ وائرس بھی
لوٹوں کے اے حدی خوانو
سارے ڈینگی تمھارے لیے ہیں
کل سہ پہر ہیر رانجھے کے مقبرے سے ایک جلوس ڈینگی کے خلاف نکالا گیا ۔حسن و رومان کے پجاریوں کو ڈینگی سے یہ شکوہ ہے کہ ڈینگی نے انھیں رات گئے حسیناؤں سے پیمان وفا باندھنے سے روک دیا ہے ۔اب ان کے اور ان کے آشنا کے درمیا ن ڈینگی کی صورت میں سد سکندری حائل ہو چکی ہے ۔سر شام ہی لوگ اپنے گھروں میں دبک جاتے ہیں ۔نہ تو سوال وصل ہے نہ ہی عرض غم کا کوئی موقع تلاش کیا جا سکتا ہے ۔عشاق کا کہنا تھا کہ ڈینگی کی وجہ سے ان کے دل زار کے سبھی اختیار معدو م ہو چکے ہیں۔جلوس میں شامل چاک گریباں عشاق کفن پھاڑ پھاڑ کر اپنی محرومیوں کی داستان سنا رہے تھے اور حلقہ زن ہو کر چلا رہے تھے ۔ان کے یہ نعرے سن کر لوگوں نے دل تھام لیا ان کو گمان گزرا کہ شاید پھر کوئی مشکل مقام آنے والا ہے کیونکہ زمیں بھی دل کے مانند دھڑک رہی ہے ۔یہ نعرہ تو آرا بن گیا :
ڈینگی کی بربادی تک ،جنگ رہے گی جنگ رہے گی ہر نقش فریادی تک، جنگ رہے گی جنگ رہے گی
کل شام ناصف کھبال سے سر راہ ملاقات ہوئی ۔اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔وہ جب چلتا ہے تو دو طرفہ ندامت اور پو رے بازار کی لعنت و ملامت اس کا تعاقب کرتی ہے ۔کہنے لگا کہ اس کا ارادہ ہے کہ عالمی ڈینگی کانفرنس طلب کی جائے ۔اس نے اس بات کو زوردے کر کہا :’’ڈینگی تیسری دنیا کے غریب ممالک بالخصوص عالم اسلام کے خلاف ایک گہری سازش ہے ۔مغربی استعمار نے اپنی تجربہ گاہوں میں ڈینگی تیار کیاور اسے پرانے ٹائروں کے ذریعے ان ممالک میں برآمد کر دیا ۔ہماری صفوں میں بھی اس سازش کے آلہء کار موجود ہیں ۔‘‘
اپنی ہف وات اور ہرزہ سرائی کی وجہ سے ناصف کھبال خان کو ایک ایسے مردے سے تعبیر کیا جاتا ہے جو ہمیشہ کفن پھاڑ کر ہی بولتا ہے ۔ ناصف کھبال خان تو رفو چکر ہو گیا مگر مجھے سید ضمیر جعفری بہت یاد آئے ۔انھوں نے اس قسم کی سوچ کے حوالے سے بڑی معنی خیز بات ایک شعر میں کہی تھی :
ہم کریں ملت سے غداری قصور انگریز کا
ہم کریں خود چور بازاری قصور انگریز کا
میرا خیال ہے ڈینگی کی آماجگاہ پرانے ٹائر ہر گز نہیں ۔یہ عفریت تو ہر اس شخص کے ذہن میں پروان چڑھتا ہے جو جور و ستم کو شعار بناتا ہے ۔استحصالی عناصر کے غلیظ خون سے اس کی نسل بڑھتی ہے ۔ایسے دماغ جو عفونت اور سڑاند میں سنڈاس سے بھی بدتر ہیں ،وہ ڈینگی کی مرغوب آماجگاہ ہیں ۔جرائم پیشہ افراد ،لوٹے ،لٹیرے ،سمگلر ،اٹھائی گیرے ،رہزن ،چور اچکے ،وضیع،خفاش ،اور رجلے خجلے سب کے سب ڈینگی کی ایک شکل ہیں ۔ڈینگی ہمیشہ اپنے روپ بدلتے رہتے ہیں۔سائنس دان کتنے ڈینگی مار سکتے ہیں ہر دشت و جبل اور صحرا و دریا میں ڈینگی کی آماجگا ہ ہے ۔یہ ڈینگی اس قدر قوت مدافعت پیدا کر چکے ہیں کہ ان کا قلع قمع کرنا بہت کٹھن مرحلہ بنتا جا رہا ہے ۔جس معاشرے میں جاہل کو اس کی جہالت کا انعام مل جائے وہاں حادثات وقت کو کس نام سے تعبیر کیا جائے ۔ہر طرف بے شمار ڈینگی دندناتے پھرتے ہیں ان کے خون آشام جبڑے مظلوم انسانیت کے خون سے تر ہیں ۔رشوت کھانے والے ڈینگی ،کمیشن ،بھتہ اور گرانٹوں کو نگلنے والے ڈینگی عذاب بن گئے ہیں ۔ڈینگی کی نسل کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کا خواب تا حال شرمندہء تعبیر نہیں ہو سکا۔جب بھی اس کے انسداد کی کو ششوں کا آغاز ہوتا ہے ،ڈینگی روپ بدل کر پھر سے آدھمکتا ہے اور اہل درد کا منہ چڑا کر کہتا ہے :
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو ڈینگی ہوں رگ جاں میں اتر جاؤں گا
تصویر کا ایک ہی رخ دیکھنا مناسب نہیں ہوتا ۔جب سے ڈینگی مچھر نے آبادیوں پر دھاوا بول رکھا ہے کئی انہونی باتیں سامنے آئی ہیں ۔ممتاز شاعر سید اکبر حسین اکبر الہ آبادی کے زمانے میں بھی جدید اور فیشن ایبل خواتین کو پردے سے چڑ تھی ۔اکبر نے پردے پر بہت زور دیا مگر اس کی کوششیں بے سود ثابت ہوئی۔ڈینگی نے اصلاح معاشرہ کی تمام کوششوں کو مات کر دیا ہے ۔اب ہر شخص پوری آستین کی قمیص اور دستانے ا ور جرابیں پہن کر باہر نکلتا ہے ۔عریانی ،فحاشی ،بے پردگی اور اخلاقی بے راہ روی کو روکنے میں ڈینگی کا خوف بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ڈینگی کی اس کارکردگی کا عدم اعتراف بخیلی کے مترادف ہو گا ۔ڈینگی نے استحصالی معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔ڈینگی کا ایک فلسفہ حیات ہے ۔اس کے اہم نکات یہ ہیں کہ کار جہاں بے ثبات ہے ۔یہ مال و دولت دنیا اور یہ رشتہ و پیوند بتان وہم و گماں کے علاوہ کچھ نہیں ۔ڈینگی نے لوگوں کو موت اور زندگی کا فلسفہ یاد کر ادیا ہے ۔ڈینگی کا نام سن کر سب لوگ کمر باندھ کر راہ عدم کی جانب گامزن ہونے کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں ۔ڈینگی نے کئی بسیط حقائق کی گرہ کشائی کی ہے ۔ڈینگی کی شوخ نظر سے حالات کی کایا پلٹ گئی ہے ۔اس مچھر نے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا ہے ۔آج ہم طب ،معیشت ،زراعت ،افرادی قوت ،رہائش ،حفظان صحت اور امدادی منصوبوں کے بارے میں کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ۔ڈینگی نے ہمیں احساس دلا دیا ہے کہ کواکب جیسے نظر آتے ہیں اس طرح کے نہیں ہوتے ۔یہ بازی گر کھلا دھوکا دیتے ہیں ۔آج کا معاشرہ کئی اعتبار سے ڈینگی کا احسان مند ہے جس نے اسے اپنی اوقات کا احساس دلایا ہے ۔آج وہ تمام خواتین جو مغرب کی تقلید کرتی تھیں اور جن کا لباس محض چار گرہ کپڑے تک محدود ہو کر رہ گیا تھا اور جن کی عریانی باعث ننگ و عار بن گئی تھی اب مکمل طور پر با پردہ دکھائی دیتی ہیں ۔ڈینگی کو اس ایک اصلاحی کام پر عوامی اصلاح کا ایوارڈ ملنا چاہیے ۔وہ کام جو بڑے بڑے دبنگ مصلح نہ کر پائے ایک حقیر ڈینگی نے کر دکھایا۔اگر ڈینگی اپنی اصلاح کر لیں تو ان کی خرابی میں بھی تعمیر کی ایک صور ت مضمر ہو سکتی ہے ۔ڈینگی زبان حال سے غافل انسانوں کو متوجہ کر کے پکار تا ہے کہ اب بھی وقت ہے وہ اپنی دنیا اور آخرت کو پیش نظر رکھیں ۔گھڑیال کی منادی پر توجہ دیں ۔سیل زماں کے مہیب تھپیڑے سب کچھ بہا کر لے جائیں گے ۔ڈینگی کا کہنا ہے کہ وہ تو انسانوں کی قدم بوسی کے لیے حاضر ہوتا ہے اور اس کا مقصد یہ ہو تا ہے کہ انھیں فکر آخرت کی جانب متوجہ کیا جائے ۔اس دنیا کی ہر چیز مسافر ہے ا ور چیز راہی ہے ڈینگی کی بھی فریاد قابل توجہ ہے ۔اس کی آہ و فغاں پر ذرا کان دھریں جو بر ملا کہتا ہے ؛مری تخریب میں مضمر ہے اک صور ت بھلائی کی ہیولی ٰمرگ انساں کا ہے خون گرم ڈینگی کا ڈینگی اور ققنس میں ایک مشابہت بھی پائی جاتی ہے ۔جس طرح ققنس کا آخری وقت آتا ہے تو وہ خشک لکڑیوں کا ایک ڈھیر اکٹھا کرتا ہے اور ان پر بیٹھ کر دیپک راگ الاپتا ہے اس کے بعد آگ کے شعلے بھڑک اٹھتے ہیں اور ققنس اس میں جل کر راکھ ہو جاتا ہے ۔اس راکھ سے ایک انڈہ نکلتاہے جس میں سے ایک نیا ققنس باہر نکل آتا ہے ۔بعض ناصف کھبال قماش کے شیخ چلی یہ کہتے ہیں کہ جب ڈینگی کا آخری وقت ٓتا ہے وہ مچھلیوں کے بچوں کے ڈھیر پر بیٹھتا ہے اور راگ ملھار الاپتا ہے اور یوں وہ پانی میں تحلیل ہو جاتا ہے اس کے بعد بے شمار نئے لاروے اس دنیا میں وجود میں آجاتے ہیں ۔یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ ڈینگی نے گلشن کو ویران کر دیا ہے ۔جہاں سرو وصنوبر اگا کرتے تھے وہاں اب زقوم سر اٹھا رہے ہیں ۔عقابوں کے نشیمن اب زاغوں کے تصرف میں ہیں ۔سر و وسمن پر اب زاغ و زغن کا غاصبانہ قبضہ ہے ۔ہر پھل کا ذائقہ حنظل کی طرح کا ہو گیا ہے ۔یہ سب کچھ ڈینگی کی غاصبانہ دستبرد کا نتیجہ ہے ۔اب وقت آگیا ہے کہ گندے انڈوں ،کالی بھیڑوں ،سفید کووں،بگلا بھگت بردو فروشوں اور غلیظ مچھلیوں اور ڈینگی کو نیست و نابود کر دیا جائے ۔ان کے چہرے پر پڑے تار عنکبوت ہٹا کر ان کے کریہہ چہرے کو سامنے لایا جائے ۔ہر ڈینگی کو اب اپنی فرد عمل سنبھالنی ہو گی ۔ڈینگی جس کاخ و ایواں میں بھی پناہ گزیں ہو گا اس کے در و دیوار کو ہلا دیا جائے گا ۔ڈینگی کی سر پرستی اور نشو و نما کرنے والی قوتوں کہ منہ کی کھانا پڑے گی ۔مظلوموں کا صعوبتوں کا سفر آخر کار اپنے اختتام کو پہنچے گا ۔
زمانہ ایک ہے ،حیات بھی ایک ہی ہے اس میں وقت کی مثال ایک سیل رواں کی ہے کوئی بھی شخص گزر جانے والے وقت کے لمس سے دوسری مرتبہ فیض یاب ہر گز نہیں ہو سکتا ۔ڈینگی وقت کا ایک بہاؤ ہے ۔یہ سیل رواں بہت سرعت سے گزر رہا ہے ۔اگر ہم نے اپنے معاشرے میں کثرت سے پائے جانے والے ڈینگی کا حقیقی روپ پہچاننے میں کوتاہی کی تو ہماری داستان تک داستوں میں باقی نہ رہے گی۔ڈینگی ہر جگہ ہماری شامت اعمال کی صورت موجود ہے ۔کبھی یہ نادر شاہ کے روپ میں آتا ہے تو کبھی یہ ہلاکو خان کا سوانگ رچا لیتا ہے ۔کبھی یہ شمر بنتا ہے تو کبھی چنگیز خان کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آج کے دور میں ڈینگی نے کیا سوانگ رچا رکھا ہے اور وہ کہا ں براجما ن ہے۔اس سوال کا جواب اپنے من میں ڈوب کر حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ابھی یہ تحریر تشنہ ء تکمیل تھی کہ ایک ڈینگی کی بھنبھناہٹ سنائی دی لو ڈینگیں مارنے والا ناصف کھبال آ دھمکا۔آج اس ڈینگی کو مار بھگانا ضروری ہے ۔ایک ڈینگی تو گیا باقی آپ کے حوالے ۔
اب جس کے جی میں آئے وہی ڈینگی مار دے
ہم تو یہ راہ دکھا کے سر عام چل دئیے

Viewers: 5853
Share