Hajira Bano | All is well | انشائیہ

ہاجرہ بانو پلاٹ نمبر ۹۳، سیکٹر اے، سڈکو این ۱۳،حمایت باغ، اورنگ آباد۔ ۴۳۱۰۰۸۔ ریاست مہاراشٹر- موبائل: 9860733049 E-mail: hajra857@g-mail.com انشائیہ آل از ویل (All is Well) کشور کمار کا […]

ہاجرہ بانو
پلاٹ نمبر ۹۳، سیکٹر اے، سڈکو این ۱۳،حمایت باغ،
اورنگ آباد۔ ۴۳۱۰۰۸۔
ریاست مہاراشٹر-
موبائل: 9860733049
E-mail: hajra857@g-mail.com

انشائیہ

آل از ویل (All is Well)

کشور کمار کا ایک سریلا گیت ’’حال چال ٹھیک ٹھاک ہے‘‘ کسی زمانے میں دلوں کی راحت کا سامان بنتا تھا۔ دور بھی کچھ ایسا ہی تھا کہ مفلسی و ناداری کے باوجود قناعت پسندی پر کسی کا شعار تھی۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم موجودہ دور میں قناعت پسندی نہیں کرتے۔ آج بھی بدلے ہوئے الفاظ کے ساتھ خدا کا شکرانہ ادا کرتے ہوئے مخٓطب کا حال دل بتاتے ہیں۔ اب ہم فخریہ کہتے ہیں آل از ویل۔ ان تینوں لیٹرس (Letters) کے پس پردہ کتنا ہی کرب کیوں نہ ہو مغربی تلفظ کی شان کے ساتھ ایک مسکراہٹ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ انگریزی زبان بھی کیا زبان ہے۔ ساری پسماندگی کا مداوا چند ہی الفاظ میں کردیتی ہے۔ جب میں نے ان معمولی نظر آنے والے سہ لفظی دیمک کا مشاہداتی عینک سے جائزہ لیا تو مجھے اس میں سراسر فائدے ہی فائدے نظر آئے۔ اول تو اللہ رب العزت خوش کے میرا بندہ جمہوریت کے ڈیل ڈول سے بے خبر مہنگائی کے بوجھ سے خمیدہ کمر لیے مجھے ہردن پانچ بار آل از ویل کا MMS ارسال کرتا ہے۔ اس کے بدلے میں وہ اپنی بیش بہا رحمتوں کا دروازہ اس پر کشادہ کردیتا ہے۔ اس کے علاوہ بندے کے پڑوسی آل از ویل کے سحر انگیز الفاظ سنتے ہی تیوری چڑھاکر گزرجاتے ہیں۔ یہ الفاظ ان کی تشکیک کا باعث بنتے ہیں۔ جس کا پڑوسی سکھی وہ خود اور دکھی۔ اس دکھی سکھی کے چکر میں آل از ویل بڑا کام کرجاتا ہے۔
بسا اوقات عزیز و اقارب کے درمیان آل از ویل مصیبت بھی کھڑی کردیتا ہے۔ کیونکہ وہ تو پہلے ہی سے موٹے بکرے میرا مطلب ہے مالدار رشتہ دار کو حلال کرنے کی نیت سے طلائی چھری تھامے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ جیسے ہی آپ نے آل از ویل کہا وہ فوراً ضرورتوں کا پلندہ کھول کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اشد ضروری قرض کا تقاضا کردیتے ہیں۔ اب اگر آپ نے انکار کیا تو تعلقات بگڑنے کے ساتھ ساتھ آل از ویل کی ٹیل (Tail) بھی ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔آل از ویل نے اپنا جادو ہر جگہ چلایا ہے۔ کشمیر سے کنیا کماری تک! نہیں جی وہ تو کرۂ ارض کے سارے عرض البلد اور طول البلد کو نگل چکا ہے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ صرف جغرافیائی طرز پر ہی نہیں بلکہ تاریخی، ادبی، سیاسی، معاشرتی، سماجی اور جانے کیا کیا۔
انسان تو انسان، چوپائے بھی آل از ویل کہہ کر سوکھی پتیوں کے ساتھ کیری بیگس چباتے دیکھے گئے اور کسی گھوٹالے کی مخالفت نہیں کی۔ شکرانہ یہاں بھی اختتام پذیر نہیں ہوا تھا کہ شام میں مالک کی آدھی بکیٹ دودھ سے بھی بھر نہ پائے تھے جو ان کی آسانی کے لیے اس نے آدھی پانی سے پہلے ہی بھر رکھی تھی۔ پھر اپنے کان، دم اور گردن ہلاتے ہلاتے آل از ویل کا پہاڑہ پڑھتے پڑھتے کلّو کباب والے کی سیخوں پر چڑھ جاتے ہیں۔
آل از ویل ایسے ساحرانہ الفاظ ہیں جس کی ذت دار تمسک سے کوئی نکلنا ہی نہیں چاہتا۔ سلیقہ اظہار کے ساتھ تو یہ کمال کرجاتا ہے۔ زبان کو اس کی ادائیگی سے تقویت اور دل کو کھوکھلی شادابی ملتی ہے۔ ایک باشعور و معتبر انسان بھی انتہائی معنی خیز تبسم ریزی کے ساتھ اس کا بکھان کچھ اس طرح سے کرتا ہے کہ کئی لمحوں بعد آنکھوں میں نمی لانے کا سبب بنتا ہے۔ سیاست کے اکھاڑے میں آل از ویل کا زیادہ ہی چرچا ہوتا ہے۔ چاہے مخالف بارود کے ڈھیر پر ہی کیوں نہ بیٹھا ہو زبان پر آل از ویل کا ورد جاری رہتا ہے۔ اس ڈر کے ساتھ کہ کہیں یہ مالا جپتے جپتے زبان کی ذرا سی جنبش اگر لڑکھڑائی تو اپوزیشن فائدہ نہ اٹھالے۔ مد مقابل بھی ساری حقیقت جان کر اس ورد میں مخل نہیں ہوتا چاہتا کہ بہر کیف خوش فہمی وہ دیمک ہے جو ترقی کی سیڑھی کو اندر ہی اندر کھائے جاتی ہے۔چار دیواری کے اندر بھی آل از ویل کا پہیہ مسلسل گردش میں رہتا ہے۔ ساس سسر مصنوعی قہقہوں کے ساتھ بیٹے بہو کے سامنے کامیاب ازدواجی زندگی کا ناٹک کرتے رہتے ہیں اور دونوں کپکپاتے ہاتھ اٹھاکر آل از ویل کہتے ہوئے دعائیں دیتے رہتے ہیں جن میں اثر کم اور رسم زیادہ نظر آتی ہے۔ بیٹا ضعیفی میں والدین کا خوشی کا خیال کرکے اور بہو ساس کو خوشی نہ ہو اس کا خیال کرکے ہونٹوں پر آل از ویل کی مسکراہٹ قائم رکھتے ہیں۔
آل از ویل کا تلطف فلمی دنیا پر بہت دکھائی دیتا ہے۔ چاہے یکے بعد دیگرے چار چار فلمیں فلاپ ہوجائیں۔ چہرے پر آل از ویل کا مکھوٹاسجا رہتا ہے۔ صنعتی ادارے کچھ کم پیچھے نہیں ہیں۔ لاکھوں کے وارے نیارے اور دو اور دو پانچ کرنے کے بعد سرپلس اسٹاف کو نوٹس دیتے ہوئے بچے کچے منافع میں اپنا بھرم باقی رکھتے ہوئے آل از ویل کی گردان کرتے رہتے ہیں۔عامر خان نے آل از ویل فلم کیا بنائی آج کی نسل کو تو جیسے دبے کچلے جذبات کے مصنوعی اظہار کے لیے الفاظ مل گئے۔ فیشن کا فیشن ٹھہرا۔ بھرم کا بھرم قائم رہا۔ ویسے برے نہیں ہیں یہ الفاظ۔ وقتی ہی سہی چند لمحات کی مسرت بہم پہنچاتے ہیں۔ ہر انسان میں حسد کا مادہ ہوتا ہے چند ایک ہیں جن میں نہیں ہے تو وہ مریخ کی مخلوق کہلائے جانے کے مستحق ہیں۔ آتش حسد کے لیے آل از ویل سیز فائر Seas Fire کا کام دیتا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ آل از ویل کوئی جدید اصطلاح ہے۔ پہلے بھی مکتوب اور پیغامات کچھ اسی طرح کے رسماً الفاظ سے شروع کیے جاتے تھے ’’ہم سب یہاں خیریت سے ہیں…… اور آپ کی خیریت بھی ……… نیک چاہتے ہیں۔‘‘ کہتے ہیں کہ ان الفاظ و القاب میں سچائی کا نور موجود ہوتا تھا۔ اب موبائل میں میسیج کردیا جاتا ہے آل از ویل (All is Well)ادھر سے بھی چند ثانیوں میں جواب آجاتا ہے۔ ہےئر السو آل از ویل (Here is also all is well)۔ جب کہ دونوں طرفین مسائل کی آگ میں جھلس رہے ہوتے ہیں۔ طلبا نے تو اسے اتنا سینے سے لگارکھا ہے کہ کتابیں حسرت کے آنسو بہاتی رہتی ہیں کہ آخر ہمیں بوسیدہ ہونے سے پہلے کب طلباء کے سینے سے لگنا نصیب ہوگا۔ ہیرو ٹائپ طلبا کی بڑی تعداد تو ایسی ہے کہ امتحانات کا نتیجہ خواہ کیسا ہی ہو گریڈ (Grade) کا گراف (Graph)چاہے سی سا (See Saw) کھیلے، یہ آرام سے بلیو جنس Blue Jeans میں ہاتھ ڈال کر اور کندھے اچکا کر آل از ویل کہتے ہوئے ایف ایم (FM) سنتے رہتے ہیں۔
شام کی چائے پر ڈاکٹر بندرا سے میں نے ایک سوال کیا۔ ’’آج انسان اتنی بیماریوں سے مقابلہ کررہا ہے۔ آپ ڈاکٹر کے نہیں، انسانیت کے ناطے سے بتائیے کہ چند ایک بیماریوں پر تو بنا میڈیسن (Medician) کے بھی تو آسانی سے قابو پایا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے کس چیز کا پرہیز کرنا چاہیے؟‘‘ چسکی لے کر (چائے کی) مسکراتے ہوئے بولے۔ ’’آل از ویل (All is Well) کا۔‘‘
***

Viewers: 4742
Share