Hafiz Muzafar Mohsin | Column | آجاؤ ۔ آجاؤ ۔ جلدی آجاؤ۔ سارے

حافظ مظفر محسن 101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور 0300-9449527 کالم ’’آجاؤ ۔ آجاؤ ۔ جلدی آجاؤ۔ سارے آجاؤ‘‘ ہمارے نانا جا ن ہر سال قوالی کی محفل بپا کرتے۔ نانا […]

حافظ مظفر محسن
101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور
0300-9449527
کالم

’’آجاؤ ۔ آجاؤ ۔ جلدی آجاؤ۔ سارے آجاؤ‘‘


ہمارے نانا جا ن ہر سال قوالی کی محفل بپا کرتے۔ نانا جان ذرا کنجوس طبعیت کے مالک تھے۔ اِس لیے کوئی اے کلاس قوال نہ بلاتے۔ ایک دوبار تو میں نے اپنے ماموں کو ( جو تعداد میں نو عدد ہیں) مشورہ دیا۔ ماموں صاحبان اگر آپ دستِ شفقت رکھیں تو ہم یہ تکلیف کیوں کرتے ہیں۔ کراچی سے قوال منگواتے ہیں۔
ہم خود ہی قوالی گا لیا کریں۔ ماموں کو بات پسند تو آئی لیکن انہوں نے چھوٹے ماموں کی طرف اشارہ کرکے کہا ۔ کہ یہ صاحب بھول بُھلکڑ ہیں عین بیچ میں اگر قوالی بھول گئے تو گندے انڈے اور ٹماٹر تمہیں پتہ ہے ہمارے محلے میں مفت ملتے ہیں۔ اور اس طرح اکثر اوقات ہوتا رہتا ہے۔ اِس طرح کے کاموں میں چُپ کر کے قوالی سنو جھوموانجوائے کرو۔ بڑوں کے کام میں ٹانگ مت اڑاؤ۔
اِس قوالی کے لیے قلعہ گجر سنگھ کے علاقے میں صبح سے ہی صفائیاں شروع ہو جاتیں ۔پھر شام کو پر تکلف کھانا ہوتا۔ قوال عصر کے وقت آچکے ہوتے۔ وہ آرام کرتے پھر دبا کے کھاتے پھر پان وغیرہ پیش ہوتے خوشبوئیں بکھر جاتیں ۔ ماحول تیار۔ نانا جان مخصوص کپڑے پہنے ۔ سر پر کالی مخصوص ٹوپی۔ ہمارے پڑنانا سائیں شاہ دینؒ کی یاد میں کچھ مخصوص باتیں ہوتیں۔ دادا جان بھی وہاں تشریف فرما ہوتے وہ ہر سال یہ واقعہ بھی سناتے کہ جب ہم ہجرت کر کے امر تسر سے لاہور آرہے تھے۔ موسم سخت خراب جگہ جگہ سکھ مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہوتے۔ خوف کا عالم طاری تھا اور موت بانٹنے والے ہزاروں کی تعداد میں ادھر اُدھر دندناتے پھر رہے تھے۔
پڑنانا سائیں شاہ دینؒ بھی امر تسر سے روانہ ہوئے۔ شریف پورہ کے بہت سے لوگ ساتھ تھے۔ عورتیں بچے بزرگ ۔ اچانک سکھ گھڑ سوار آگئے۔ اُنہوں نے اپنے ہتھیار نکالے اور حملہ آور ہوئے کہ بادلوں میں اِک کڑک پیدا ہوگئی۔ خوفناک ماحول میںآواز آئی۔ ’’ تلواروں کے مُنہ نیچے کر لو‘‘۔ اِس آواز میں اتنا خوف تھا۔ رعب اور دبدبہ تھا کہ وہ سکھ گھڑ سوار۔ سائیں شاہ دینؒ کے پاؤں پڑ گئے اور اپنی نگرانی میں پاکستان کے قریب چھوڑ کر چلے گئے۔ یقیناًنیک لوگوں کی ہر وقت اللہ پاک مدد فرماتے ہیں۔
اللہ والوں کے سر پہ اللہ کی رحمت کا سایہ ہوتا ہے۔ پھر پاکستان بننے کی باتیں ہوتیں۔ ماحول جذباتی ہو جاتا۔
لوگ جوق و درجوق آنا شروع ہو جاتے۔ وی۔ آئی ۔پی ۔ خواتین حضرات کی آمد ہونے لگتی۔ نانا جان سب کو محبت سے خوش آمدید کہتے۔ ڈیڑھ دو سو سے زائد حاضرین ہو جاتے تو مخصوص اشارے پر بیٹھک میں بیٹھے بارہ تیرہ قوال نمودار ہوتے۔ طبلہ سارنگی۔ وائلن۔ ڈھولک ،کیا کہنے۔ سازندے اپنے اپنے ساز سیٹ کر رہے ہوتے۔ ماحول عجب رنگ دھار لیتا۔یہ وجد طاری کر دینے والا ماحول اکثر اوقات قوالی سے پہلے ہی انسان کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔
نئے نوٹ ادھر سے اُدھر آ جا رہے ہوتے۔ جنہیں قوال کن آنکھوں سے دیکھتے اور ہم مایوسی سے نئے نوٹ میں طاقت ہی بڑی ہے۔ میں تو سمجھتا تھا کہ قوال کراچی سے لاہور تک کا یہ سفر محض نئے نوٹوں کے لیے کر تے ہیں۔ بعد میں میں ہر بار قوالی سُن کے اپنے اس نیچ خیال پر دل ہی دل میں خوب شرمندہ ہوتا۔ اُس دور میں قوال بھی دل لگا کر خون پسینہ بہا کر قوالی کرتے تھے۔
اب دریاں بھر چکی ہیں۔ مخصوص (سنیئر سٹیزن) دُور دراز سے آئے لوگ سینکڑوں کی تعداد میں کھڑے ہو جاتے۔ دریوں پر جگہ ہونے کے باوجود۔ نانا جی کے خوف سے یہ لوگ دیواروں کے ساتھ کھڑے ہو کر قوالی سنتے اور چپ کھڑے رہتے۔ اِس دوران جب قوال سانس لینے لیے ۔ وقفہ کرتے تو، نانا جان بھی کمر سیدھی کرنے کے لیے۔ اُٹھ کر مجمعہ پر نظر دوڑاتے۔ جب دیواروں کے ساتھ کھڑے لوگوں پر نظر پڑتی۔ تو باری باری سب کو بیٹھنے کا کہتے۔
یہ اُن کا خاص انداز تھا وہ سب کو جانتے پہچانتے تھے۔ یہاں تک کہ اُن کے کاروبار اور پیشے بھی۔ ’’ مُنیر دے پُترا۔ آجا۔ بیٹھ ادھر آکے۔ کاکے کوبھی لے آ۔ واہ بھئی ۔ آپا کلثوم کا پوتا بھی آیا ہے۔ مُنے سنا تو کب آیا جیل سے آ جا آجا۔ تو بھی آکے بیٹھ شرما مت۔ کھانا کھایا۔ ہر بار جیب کاٹنے کے جرم میں جیل جاتے ہو ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ کبھی کوئی بڑا کام بھی کر ( اِس بات پر سب حاضرین خوب ہنستے، گویا نانا جان کو داد ملتی) ۔
محلے کا جمعدار بھی کھڑا ہے۔ ’’ سنگھاڑے مسیح تو بھی آجا‘‘۔ رنگو گُجر۔ دودھ میں پانی ملانا چھوڑ دے۔ سرکارؐ کی محفل سے تو بھی کچھ لے جا۔ دودھ میں پانی ملاناچھوڑ دے۔ نصیحت نہیں۔ درخواست کر رہا ہوں۔ اِس بار مان لے۔ او بھئی خان صاحب ۔ (ایک سنئیر بزرگ سے مخاطب ہوئے) تاؤ بھی آیا ہوا ہے۔ سنا ہے لنڈے بازار قتل کیس میں بڑی مشکل سے اب کے ضمانت ہوئی ہے۔ پاس بیٹھ کر اُن کے پاؤں دابنے لگتا۔یہ اچھے دور کے بُرے لوگ تھے روایت پسند۔
اِس دوران ہم بچے تاؤ کو غور سے دور بیٹھ کے دیکھنے لگتے کہ قاتل ایسے ہوتے ہیں۔ جب دس بارہ چرس بھنگ پینے والے رھ جاتے تو ناناجان سب کو کہتے۔ بلند آواز میں ’’ آجاؤ۔۔ آجاؤ۔۔ جلدی آجاؤ۔۔ سارے آجاؤ۔ گویا اب کے اچھے بُرے کی تمیز ختم ۔ کام تیس پر ہے ۔ ماحول بن چُکا ہے۔ قوال مجمع دیکھ کر چھا جائیں گے۔ سب آ جاتے اور قوالی کے ساتھ ساتھ اِن پیچھے آکر بیٹھ جانے والے سو پچاس لوگوں کو کھانا تقسیم ہوتا اور وہ انگلیاں چاٹ رہے ہوتے۔
شاید قوالی بھی سُن رہے ہوتے تھے؟!۔ کبھی قوالی کا مزہ کبھی کھانے کا۔ جیب کترے شاید جیب کاٹنے کے لیے آسامی بھی تاڑ رہے ہوں۔
آج کئی سال بعد نانا جان کی یاد آئی کہ وہ عین اس قوالی والے دن محفل میں بیٹھے ہی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ قوال اُس وقت ’’ رنگ ‘‘ گار ہے تھے۔ آج عمران خان کی پارٹی میں ’’ ہر طرح کے ‘‘ وہ سیاستدان بھی شامل ہو رہے ہیں۔ جو کرپشن کے ڈر سے دبئی بھاگ گئے۔ کچھ محسن کش نکلے اپنوں کو چھوڑ کر جرنل کے چرنوں میں بیٹھ گئے اور دھتکار دئیے گئے کوئی اُن کا نا م لیوا نہ تھا۔
پھر وہ سیاستدان بھی تحریک انصاف کی زینت بن رہے ہیں۔ جو کئی کئی بار ضمانتیں ضبط کرا چکے ہیں۔ اور لاہور کے ووٹروں نے کہہ رکھا ہے کہ اگر دوبارہ ووٹ مانگنے آئے تو ہم لاہور چھوڑ جائیں گے۔
یہاں تک کہ ’’ آخری فنکار‘‘ موچھوں والے بوٹ پہنے ۔ گردن ہلاتے ۔ میاں اظہر بھی تحریک انصاف کے ساتھ انصاف کرنے آپہنچے ہیں۔ میاں صاحب نے آخری الیکشن ذات برادری کی بنیاد پر لڑا کہ شاید یقینی ہار جیت میں بدل جائے۔ مگر لاہور میں صدیوں سے آرائیں ، کشمیری ، کمبوہ ، پٹھان ، مغل اور دوسری برادریاں مل جُل کر رہتی ہیں۔
اب تو یہ برادریاں آپس میں رشتہ داریاں بھی کرتی ہیں اور اِک دوجے کے غم خوشی میں شریک بھی ہوتے ہیں۔ میاں محمود الرشید تحریک انصاف کا وہ سپاہی ہے جو عمران خان کے پیچھے محبت کے ساتھ چل پڑا ہے ۔ اُسے کسی گُھس بیٹھے سے ڈر نہیں لگتا ایسے۔ دیواروں کے ساتھ کھڑے لوگ۔ جن میں سے اکثر کا کردار ’’ اپنی مثال آپ ہے‘‘۔
وہ آہستہ آہستہ عمران خان یا اُن کے ہواریوں کے اشارے پر پچھلی صفوں پر چپکے چپکے بیٹھے چلے جارہے ہیں اور عزت بھی پا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نظریاتی جماعتیں تھیں۔ پھر سُنا تھا تحریک انصاف بھی اصولوں سمیت سیاسی میدان میں اتری ہے( میرا خیال ہے اتری تھی۔ اب کیا ہے آپ غور کریں)۔
لگ بھی رہا تھا۔ اب غور کر یں تو پتہ چلتا ہے۔ کہ ہم سب کا ایک ہی نظریہ ہے۔ اور وہ ہے ’’ اقتدار ‘‘ ۔۔۔۔ میرا بھی یہی نظریہ ہے اور میری بچپن سے خواہش تھی کہ پاکستان کی سیاسی پارٹیاں اِک ہی نظر یہ یعنی ’’ اقتدار ‘‘ کے لیے کام کریں۔ شکر ہے سب پارٹیوں نے ’’ اقتدار ‘‘ کو ہی منشاء و مقصود
بنا لیا ہے۔ اُمید ہے جلد عمران خان ملکی سطح پر بڑا کنونشن بلائیں گے۔ اور وہاں ’’ عام معافی‘‘ کا اعلان کریں گے۔ اور کھلے عام کہیں گے۔ ( سب پر نظریں پھیرتے ہوئے۔ اچھے بُرے کی تمیز کے بغیر )۔ ’’ آجاؤ۔۔ آجاؤ۔۔ جلدی آجاؤ۔۔ سارے آجاؤ‘‘۔
دیکھو وہ بھی آگیا یہ بھی آگیا ، تم بھی آجاؤ۔ اور پھر قوال رنگ پڑھنا شروع کریں گے۔ یہ قوالی کا عروج ہوتا ہے۔ اور بچے حسبِ معمول رنگ میں بھنگ ڈالیں گے کہ نانا جان کے ہر قوالی پروگرام میں یہی ہوتا تھا۔ ہر سال قوالی کا اختتام بھگدڑ سے ہوتا کہ رات کے پچھلے پہر لوڈ شیدنگ کے دوران یہی ہو سکتا ہے جو کہ ساٹھ سالوں سے دیکھتے آئے ہیں وہی کریں گے۔

Viewers: 16416
Share