Dil Lahoo se bhar gia | Masood Tanha | دل لہو سے بھر گیا

کتاب: دل لہو سے بھر گیا
شاعر: مسعود تنہاؔ
اشاعت اول: جولائی 2009ء
قیمت: 120 روپے (15 امریکی ڈالر)
اہتمام: شہزاد ارمان(جرمنی)
تزئین سمن شاہ (فرانس) ارم بتول ( جرمنی)
ٹائٹل: عبیداللہ
کمپوزنگ: عظیم گرافک اینڈ کمپوزنگ سنٹر، لاہور
مطبوعہ: مکتبہ خلیل ،اردو بازار۔ لاہور
ناشر: فوزیہؔ مغل
مغل پبلشنگ ہاؤس لاہور
cell: 0092 3004683760
انتساب اقصیٰ کے نام ہے۔
شاعر سے رابطہ:
سرکلر روڈ، ساہیوال، ضلع سرگودھا 0092-345-6068166
E-mail:masood_tanha98@yahoo.com
کتاب میں شامل جناب شاکر کنڈان کا مضمون ملاحظہ ہو۔
مسعودتنہاؔ اور اس کی غزل
شعر کا تعلق صرف شعر کہنے والے کی ذات یا جذبات سے ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کا بہت گوڑھا تعلق شعر پڑھنے والے کے جذبات و احساسات سے بھی ہوتا ہے۔ممکن ہے ایک شعر پڑھ کر ایک شخص سر دھننے لگے جبکہ وہی شعر کوئی دوسرا شخص پڑھنے کے بعد ’’منہ مچوڑ‘‘ لے شعر تو ایک ہی ہے۔لیکن دوسو چوں اور دو محسوسات کے الگ الگ ہونے نے اس کے اثر اور اُس کی فکری اُپج کو بدل دیا۔ ہمارے پاس ایک مشہور مثال ہے کہ
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
جیسے شعر کو غالبؔ پڑھتا ہے تو بدلے میں اپنا دیوان دینے کو تیار ہو جاتا ہے۔ جبکہ اسی شعر کو سینکڑوں قارئین پڑھ کر ایک عام قسم کے شعر سے بڑھ کر اسے کوئی اہمیت نہیں دیتے۔کیونکہ اُن کے جذبات اور سوچ پر یہ شعر کوئی تاثر نہیں چھوڑتا ۔ لہٰذا کسی بھی شاعر کی شعری تخلیق پر فیصلہ صادر فرمانے سے پہلے اپنی پسند یا نا پسند پرغور کرنا اور دوسرے کی پسند نا پسند کا تصور ذہن میں قائم کرنا بھی ضروری ہے اور ایسا ہی میں نے مسعود تنہاؔ کے اشعار کا مطالعہ کرتے ہوئے ذہن میں ایک خیال بنایا اور یہی امید میں قارئین سے بھی رکھتا ہوں۔
میرا تعلق ایک عرصے سے مسعود تنہا ؔ کے ساتھ ہے۔مجھے یہ چھوٹا سا شخص اندر سے بہت بڑا لگا اتنا بڑا کہ میں خود کو اس کے مقابلے میں چھوٹا محسوس کرنے لگا ۔کئی سال پہلے جب اس شخص سے میری ملاقات ہوئی تھی اور مجھے بتایا گیا کہ یہ شخص پندرہ روزہ ’’گلِ حنا‘‘ کا ایڈیٹر ہے شعر کہتا ہے کالم لکھتا ہے نثر میں طبع آزمائی کرتا ہے تو مجھے یقین نہیں آیا بلکہ میں نے دل میں سوچا کہ یہ کسی سکول کا طالب علم اتنے سارے کام کیسے کرلیتا ہے۔لیکن یہ میری خام خیالی تھی ۔کیونکہ یہ سکول کا طالب علم نہیں تھا بلکہ کالج میں بھی چند سال گزار کر اپنی حیثیت اور استطاعت کے مطابق فارغ التحصیل ہو چکا تھا اور یہ سب کام واقعی اس کے کریڈٹ میں تھے ۔پھر جب چند مہینوں بعدہی ادبی رسالہ ’’فکر‘‘ اس کی ادارت میں شائع ہوا تو مجھے کچھ کچھ یقین آنے لگا کیونکہ مجھے علم ہے کہ ادبی رسالہ نکالنا بچوں کا کھیل نہیں فکر جاری ہی تھا کہ ہفت روزہ اخبار ’’ساہو‘‘ اس کی ادارت میں جاری ہوگیا۔یکے بعد دیگرے یہ کامیابیاں جہاں مسعود تنہاؔ کے عزم ، حوصلے اور کام سے لگن کے حوالے سے میرے ذہن پر ثبت ہو رہی تھیں وہاں میں یہ سوچنے پر بھی مجبور تھا کہ مسعود حقیقت میں تنہا نہیں بلکہ بقول شخصے:
تنہا روی پسند نہیں مجھ کو بھی مگر
تو خود بھٹک رہا ہے ترے ساتھ کیا چلوں
جیسے رویے اور فکر نے اسے تنہا رہنے پر آمادہ کر رکھا ہے اور پھر اپنے اُنھیں احساسات کو اس نے لفظ کا جامہ پہنا کر تخلص کے طور پر استعمال کر لیا ہے۔
ساہیوال ضلع سرگودھا کا باسی کھلی اور پوتّر فضاؤں میں پل کر بڑا ہونے والا، روایات کو چھاتی سے لگا کر اٹھنے والا ،گاؤں کے پُر خلوص اور محبت بھرے ماحول میں پروان چڑھنے والا مسعودتنہاؔ اپنے سے بڑی سوچوں کو پال کر اور آگے بڑھنے کے خیال میں شاید تنہا ہوکر رہ گیا ہے اور ایسے تاثرات ہی اس کے چہرے بشرے سے ظاہر ہونے لگے وہ شاید انھیں حالات کے سبب کم گو ہے۔کیونکہ وہ سامنے دور اور اوپر خلاؤں میں دیکھنے کا عادی ہے ۔اس کا اپنا نظریہ ہے کہ وہ سوچتا ضرور ہے لیکن یہ نہیں کہ وہ ہمت یا جرأت نہیں رکھتا اس میں آواز اٹھانے کی طاقت اور حوصلہ ہے ۔ممکن ہے کوئی مصلحت اس کے آڑے ہو لیکن اس کے کہنے سے ہم اس کی ہمت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
چپ جو رہتے ہیں تو یہ بات غنیمت جانو
ورنہ ہم لوگ بھی آواز اٹھا سکتے ہیں
ہم بغاوت پہ اتر آئیں جو تنہا سائیں
کج کلاہوں کے سروں کو بھی جھکا سکتے ہیں
آوازاٹھانے کی بات الگ، مگر وہ اس سے بہت آگے سوچتا ہے ۔وہ یہ بھی سوچتا ہے کہ ہم دیہاتوں کے لوگ ہی کیوں پیچھے رہ جاتے ہیں ہم محبت و یگانگت کے رشتوں میں بندھے لوگ ہی اپنے ماحول میں رہ کر کیوں وہ مقام حاصل نہیں کر سکتے ہیں جو شہروں میں رہنے والے کر لیتے ہیں۔یا شہروں کو مسکن بنانے والے پالیتے ہیں ۔آخر ہم میں کیا کمی ہے اور پھر اس کمی کو عملاًپورا کرنے اور دیکھنے کے لیے اس نے لاہور کا رخ کیا پھر تھوڑے ہی عرصے میں اس نے دیکھ لیا کہ واقعی شہروں میں آکر بسنے والے وہ سب کچھ حاصل کر لیتے ہیں ۔جسے حاصل کرنے میں دیہاتوں کے ٹیلنٹڈ لوگ ایک زندگی گزار دیتے ہیں ۔ مسعود تنہاؔ شاید ساہیوال میں رہتے ہوئے اتنا جلدی یہ سب کچھ نہ کرپاتا ۔اب وہ اپنی ہمت سے پرواز کر رہا ہے اسے پر تولنے میں واقعی اپنی سوچ سے بہت کم وقت لگا یہ الگ بات کہ اس نے شعری ضرورت کے تحت یہ لکھ دیا کہ:
اب اڑوں گا میں اپنی ہمت سے
لگ گئے ہیں مجھے زمانے، پر
مسعود تنہا دیس کو چھوڑ کر پردیسی تو ہوگیا لیکن اس کے اندر سے ساہیوال کی مٹی کا اثر نہیں گیا وہ اپنی جنم بھومی کو نہ بھولاہے نہ بھولنا چاہتا ہے اور اس کا اظہار وہ اپنے اشعار میں بھی کرتا رہتا ہے۔
جو تری ہستی ہے اس کو دیدہ ور مت بھولنا
’’اپنی مٹی، اپنے موسم، اپنا گھر مت بھولنا‘‘
ہوش اتنا چاہیے اے جذبۂ آوارگی
اپنے کوچے کے کبھی دیوار و در مت بھولنا
ہمارے ہاں غزل ایک مضبوط صنف سخن ہے۔ اس پر کئی الزامات لگائے گئے اور اسے ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہیئت کی کئی تبدیلیاں اسی غرض کے لیے گئیں کہ شاید یوں یہ صنف تنزل کا شکار ہو جائے لیکن یہ آج تک اپنے پورے قدسے کھڑی ہے۔
غزل کی بنیاد محبت کے موضوعات ہیں۔مسعود تنہا ؔ بھی غزل کا شاعر ہے اور جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ اِس صنف شاعری پر ابتدا سے ہی عشق و محبت کا موضوع غالب رہا ہے۔بقول غالبؔ :
ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
غزل اپنے اسلوب اور رعنائی میں اس وقت تک ادھوری رہتی ہے جب تک محبت اور اس کے تلازمات کو نہ برتا جائے۔ اگرچہ غزل میں تمام موضوعات کو سمونے اور سمیٹنے کی وسعت ہے لیکن بنیادی موضوع بہر حال اپنی اہمیت کاحامل ہے۔دراصل غزل کا آغاز عربی قصیدے کی تشبیب سے ہوا عربی میں چونکہ غزل کا علیحدہ وجود نہیں تھا۔قصیدہ کی ابتدا عشقیہ اشعار سے ہوتی تھی اور اسے عربی میں تشبیب کہتے ہیں تشبیب کے معانی ہیں شباب اور متعلقاتِ شباب کے بارے بات چیت۔ لہٰذا قصیدہ کے اسی حصہ کو غزل کہا جانے لگا فارسی میں تشبیب کو قصیدے سے الگ کر کے غزل کا نام دے دیا گیا ۔اس ساری بحث کا مقصد یہ ہے کہ مسعود تنہاؔ کی غزل کو پڑھتے ہوئے ہم خود کو غزل کا قاری سمجھتے ہیں وہ غزل جس میں روایات کا ساتھ دیا گیا ہے اس پورے مجموعے میں اشعار کی اکثریت شباب اور متعلقاتِ شباب، محبت اور موضوعات محبت نیز تلازمات محبت کے بارے ہے جس میں ہمیں پروفیسر ظہیر احمد صدیقی کی کہی گئی اس بات کا بھی احساس ہوتا ہے کہ:
’’ غزل محبوب کی تعریف ہوتی ہے۔اور ذکر عشق بھی ہوتا ہے لیکن شاعر یہ تعریف و توصیف اور ذکر ،عجزو انکسار کے ساتھ کرتا ہے‘‘۔
اس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے عشق و محبت اور مضامینِ شباب کے حوالے سے مسعود تنہاؔ کے چند اشعار اس کی تنہائی پر سے پردہ اٹھاسکیں ۔
نہ پوچھ ہم سے اکارت ہوئی جوانی بھی
کہ تیرے ہجر میں کاٹے ہیں رتجگے کتنے
بہانے ترکِ تعلق کے کس نے ڈھونڈے تھے
یہ سارے حلقۂ یاراں میں فیصلے ہوں گے
تمھاری بے رخی بدلے نہ بدلے
ہماری بے بسی باقی رہے گی

پھولوں کا گداز اک ترے پیکر کا حوالہ
مہتاب سے بڑھ کر تری رخشندہ جبیں ہے

کتنا دلکش ہے ترے حسنِ نظر کا منظر
دیکھنے کا تجھے انداز کہاں بھولا ہے

حسرت، فراق، رنج و الم، اشک، بے بسی
سوغات چاہتوں کی لیے جا رہا ہوں میں

مسعود تنہا ؔ کی شاعری کی بات غزل میں صرف محبت یارو مانویت کے موضوع پر آکر ختم نہیں ہوجاتی بلکہ اُس نے سماج اور معاشرے کی زبوں حالی اور دگرگوں نکات کو بھی اپنی شاعر ی میں اجاگر کیا ہے اور یوں زندگی کوقریب سے دیکھنے ،پرکھنے اور برتنے کا جو سلیقہ اسے آتا ہے اس پر صائب رائے دیتے ہوئے شعر و سخن کے بھنڈارمیں اپنی بھر پور بحث سے حصہ ڈالا ہے۔یوں اپنے ماحول اور اپنی ذات کے تعلق کو برقرار رکھنے میں اپنی حد تک کامیاب رہنے کی کوشش کی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے قلم، فکر اور فن کو مزید روانی بخشے اور اُسے خوبیوں اور رعنائیوں سے نوازے۔ آمین!

Viewers: 2454
Share