Javed Malik | Mujhay sach hi kehna hay | فکر نواز شریف

فکر نواز شریف


اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اس وقت وفاق کی علامت بن چکے ہیں۔ حالیہ دورۂ سندھ کے موقع پر متاثرین سیلاب کے لیے 650 سے زائد سامان کے ٹرک اپنے ساتھ لے کر گئے اور سندھی متاثرین بھائیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ اُنہوں نے سندھی متاثرین کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے کی ایک نئی مثال رقم کی۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے صدرِ مملکت جناب آصف علی زرداری کی طرح صرف فضائی دورہ نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ وقت ایک دُوسرے کو گالیاں دینے کا نہیں ہے، ایک دُوسرے کو دُور کرنے کا نہیں ہے اور نہ ہی ٹی وی ٹاک شو میں بیٹھ کر ایک دُوسرے پر کیچڑ اُچھالنے کا یہ وقت ہے۔ ہمیں ایک دُوسرے کو برداشت کرنا ہو گا اور مل جل کر صرف پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کرنا ہو گا۔ اگر ہم تبدیل ہو جائیں اور صرف پاکستان کے لیے کام کرنے کا ارادہ کر لیں تو پھر ہم صرف 20 سال کے عرصے میں پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ ہمارے ملک کے نوجوان اس سلسلے میں اہم ترین کردار ادا کر سکتے ہیں۔ چونکہ آنے والے پاکستان کو نوجوانوں نے ہی سنبھالنا ہے اور نوجوانوں کا پاکستان انتہائی منفرد ہو گا اور یقیناًانقلاب بھی نوجوانوں سے ہی آیا کرتے ہیں۔ جتنا عوام کا پیسہ کرپشن میں لوٹا گیا ہے اُس کو عوام پر خرچ کرنا ہو گا اور جتنا پیسہ سوئس بینکوں میں پڑا ہوا ہے اُس کو واپس لانا ہو گا اور جس جس نے قیام پاکستان سے اب تک کرپشن کی ہے اُس کو پائی پائی کا حساب دینا ہو گا۔ ہمیں اس ملک کو کرپشن سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پاک کرنا ہو گا۔ اگر ہم نے کرپشن سے پاک پاکستان بنا لیا تو پھر دُنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ترقی سے نہیں روک سکتی۔ ایسی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں جن کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ وہ بھتہ خوری میں ملوث ہیں اور جن جن کے عسکری ونگ موجود ہیں اُن پر پابندی لگا دینی چاہیے یا پھر اُن کو سپریم کورٹ میں فیصلے کے خلاف رٹ کرنی چاہیے اور اپنے آپ کو کلیئر کرنا چاہیے اور سپریم کورٹ آف پاکستان کو اس سلسلے میں مطمئن کرنا چاہیے۔ اگر یہ جماعتیں عسکری ونگ ختم نہیں کرتیں تو پھر ان پر پابندی لگا دینا ہی بہتر ہے۔ چونکہ ایسی تمام جماعتیں لسانی، فرقہ واریت کی بنیاد پر عسکری ونگ بناتی ہیں اور یہ ٹریننگ کہیں اور سے لے کر آتے ہیں اور پھر پاکستان آکر اپنے ہی لوگوں کا خون بہا کرتے ہیں۔ اُن کو ایک ایک خون کا حساب دینا ہو گا اور ایسے لوگوں کی پاکستان میں کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ اے پی سی میں بلوچستان کی جماعتوں نے بائیکاٹ کیا، اگر میں ہوتا تو اس وقت تک اے پی سی اُس وقت تک منعقد نہ کرتا جب تک بلوچستان کی جماعتیں شرکت نہ کرتیں کیونکہ اس وقت سب سے اہم مسئلہ بلوچستان کا ہے۔ بلوچستان کے باسی ہم سب سے زیادہ پاکستان سے محبت کرنے والے لوگ ہیں، اُن کو پاکستان سے شدید محبت ہے، اُنہوں نے پاکستان کی خاطر بہت قربانیاں دی ہیں اور ہمیں اُن کو سننا چاہیے اور اُن کے مسائل حل کرنے چاہئیں۔ اُن کو نظر انداز کرنا قطعی طور پر پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ اگر مجھے 10 سال کام کرنے کا موقع دیا جاتا تو پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر ڈال سکتا تھا۔ پیپلز پارٹی کو تو یہ چوتھی بار حکمرانی کا موقع ملا ہے مگر ان کے دور میں عوام بُری طرح پس چکے ہیں، عوامی مسائل کا خیال نہیں رکھا گیا۔ اگر مجھے اقتدار سے دلچسپی ہوتی تو میں مک مکا کر کے کبھی بھی ججوں کو بحال نہ کراتا اور اُس کے لیے لانگ مارچ نہ کرتا۔ میں نے ہمیشہ عوامی مسائل کو ترجیح دی ہے۔ حال ہی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف دھرنا دینے کا مقصد بھی عوامی مسائل کو حل کرنا ہی تھا۔
آج کے کالم میں میں فکر نواز شریف پر بات ہوئی۔ یہ تمام وہ باتیں ہیں جو کہ میاں نواز شریف نے حالیہ دنوں میں کی ہیں۔ اُن کی سوچ قومی مفاد کی آئینہ دار ہے، وہ اس ملک کے مسائل پر غمزدہ ہوتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستانیوں کے مسائل ختم ہوں، وہ جمہوریت کے قائل ہیں۔ جو جماعت بھی انتخابات میں جیتے اُس کو حکمرانی کا موقع ملنا چاہیے مگر اصل مقصد صرف پاکستان کی تعمیر و ترقی ہی ہو۔ پاکستان کی سیاست میں امریکہ کی مداخلت کو وہ پسند نہیں کرتے، اگر پاکستان کو میاں نواز شریف جیسا وزیراعظم مل جائے اور اُس کو مکمل اختیارات کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی مل جائے تو یقیناًپاکستان دُنیا کے نقشے پر ایک نیا پاکستان نظر آئے گا۔ فکر نواز شریف ہر پاکستانی کی سوچ ہے۔ ہر پاکستانی اُن کی سوچ کی حمایت کر تا ہے، کیونکہ اُن کی سوچ صرف اقتدار کے اردگرد نہیں گھومتی وہ ملکی مفاد کو اہمیت دیتے ہیں، وہ اقتدار کے لیے جوڑ توڑ کے قائل نہیں ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ میاں نواز شریف ہی قومی رہنما ہیں۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔

***

Viewers: 1000
Share