Ahmed Khiyal | Ainay k par | جاگ اٹھا لاہور

جاگ اٹھا لاہور احمد خیال جنرل ضیا ء الحق نے بڑے شاطرانہ انداز کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کروایا اور اسلام کے نام پر ریفرینڈم کا ڈھونگ […]

جاگ اٹھا لاہور

احمد خیال


جنرل ضیا ء الحق نے بڑے شاطرانہ انداز کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کروایا اور اسلام کے نام پر ریفرینڈم کا ڈھونگ رچاتے ہوئے دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی نظروں میں مرد مومن کے مرتبے کا حامل ٹھہرا،جنرل ضیاء نے انتہائی چالاکی کے ساتھ علمائے وقت کی حمایت حاصل کی ،انہیں یوں لگا کہ مملکت خداداد کو ایک با کمال حکمران نصیب ہوا ہے جو ریاست کو شرعی قوانین کے تابع کردے گااور اسلامی جمہوریہ پاکستان واقعتا ایک اسلامی ریاست کا روپ دھارے گی ،لیکن جنرل ضیاء اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے مذہبی عناصر کو استعمال کرتا رہا اور جب 17اگست 1988ء کو بہاولپور کی فضا میں C-130کو حادثہ پیش آیا اور جنرل ضیا ء راہیء ملک عدم ہوئے تو مذہبی جماعتوں کو احساس ہوا کہ ہم تو اسی جگہ کھڑے ہیں جہاں سے سفر آغازکیا تھا۔بھٹو کی پھانسی کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنماوں اور کارکنوں پرایک عرصے تک قید وبند کی صعوبتوں کاسلسلہ چلتا رہا،بھٹو کے نظریات اور پارٹی کو ہوا میں تحلیل کرنے کی سعی لاحاصل کی گئی لیکن جلاوطنی کے بعد بے نظیر بھٹو کے فقیدالمثال استقبال نے یہ ثابت کر دیا کہ لوگ ایک آمر کی زیادتیوں پر نالاں ہیں اور بھٹو کی ساحرانہ شخصیت ان کے دل و دماغ کو اسیر کئے ہوئے ہے۔بے نظیر آئیں الیکشن لڑیں کامیابی سے ہمکنار ہوئیں اور2دسمبر 1988ء کو اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں،یہاں سے میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے درمیان سیاسی رسہ کشی شروع ہوئی ،ایک دوسرے کا تختہ الٹنے کے لئے کرپشن کے الزامات کا سہارا لیا گیا،یہ آنکھ مچولی جنرل پرویز مشرف کے 12اکتوبر 1999ء کو اقتدار پر قبضہ کرنے تک جاری رہی،بے نظیر بھٹو تو پہلے ہی جلا وطنی کی زندگی گزار رہی تھیں ،میاں صاحبان کو بھی ملک بدری کا ذائقہ چکھنا پڑا،مسلم لیگ توڑی گئی اور ق گروپ کے نام سے نام نہاد جمہوریت کا حصہ بنا دی گئی،جنرل مشرف نے 21نومبر 2007ء تک مسلم لیگ ق کو اپنے مقاصد کے لئے خوب خوب استعمال کیا،مشرف کے اقتدار کا خاتمہ ہوا،محترمہ بے نظیر بھٹو لیاقت باغ راولپنڈی میں خاک و خون میں نہلا دی گئیں،الیکشن ہوئے اور محترمہ کا لہو رنگ لایا اور پیپلز پارٹی سنگھاسن پر براجمان ہوئی اور اب تک حالات کی تندو تیز لہروں میں ہچکولے کھاتی جار ہی ہے،دیکھا جائے تو جنرل ضیا ء کی رخصتی کے بعد1988ء سے آج تک عوام نے مسلم لیگ(چاہے وہ ن ہو یا ق) اور پیپلز پارٹی کو ہی ووٹ دیے اور کسی تیسری قوت کو عوام نے در خور اعتنا نہیں جانا۔اور ان دونوں جماعتوں نے عوام کے حقوق کا خوب خوب استحصال کیااور حسب مقدور اپنی اپنی جھولیاں بھری گئیں۔
درج بالا صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے مینار پاکستان پرتحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے تاریخی جلسے کو دیکھا جائے تو وہاں عمران کی حمایت میں پرجوش انداز میں اٹھتے ہوئے ہاتھوں اور فضا میں گونجتے نعروں کا جواز آسانی کے ساتھ سمجھ میں آتا ہے،ایک ہی جیسا نظام ،ایک ہی جیسے سیاسی ہتھکنڈے اوراپنی اپنی باریوں کا انتظار کرتے ،کرپشن کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے وہی پرانے چہرے آخر کب تک عوام کو دھوکے میں رکھ سکتے ہیں؟بچوں سے لے کر سن رسیدہ لوگوں تک تقریبا ہر کلاس کے لوگ یک زبان ہو کر عمران کی حمایت میں آواز بلند کر رہے تھے،خصوصا ‘ نوجوان نسل اپنی پوری توانائی کے ساتھ میدان میں اتری ہوئی تھی،مینار پاکستان کے گراونڈ میں تحریک انصاف کے لہراتے ہوئے پرچم، دیکھنے والوں پر ایک عجیب سا سحر طاری کئے ہوئے تھے،ایک تاریخ رقم ہونے جا رہی تھی،مخالفین انگشت بدنداں تھے کہ یہ کیا ہو گیا،میڈیا سے وابستہ افراد کی ایک بڑی تعداد میدان میں موجودتھی ،مجیب الرحمان شامی،ڈاکٹر شاہد مسعود،سہیل وڑائچ اور دیگر با کمال تجزیہ نگاروں کی وہاں موجودگی اس جلسے کی شان اور بھی بڑھائے دے رہی تھی،خواتین کی ایک بڑی تعدا د کا وہاں موجود ہونا کسی تبدیلی کی طرف اشارہ کر رہا ، دہشت گردی کی موجودہ فضا میں اپنے پورے خاندان کے ساتھ کسی جلسہ گاہ کا رخ کرنا بڑے دل گردے کا کام ہے،اس سے ثابت ہوتا ہے کہ لوگ باشعور ہو چکے ہیں اور ان کے ضمیر انہیں ایسے جلسوں میں کھینچے ہیں جہاں نظام کی تبدیلی کا نعرہ لگا یا جا رہا ہو ،جہاں ایک نئے پاکستان کی تشکیل کا خواب دکھایا جا رہا ہو،مسلم لیگ ن کی طرف سے 28اکتوبرکو نکالی گئی ریلی کا بھر پورانداز میں جواب دیا جا رہا تھا،ن لیگ کے ریاضی دان حساب کتاب میں لگے ہوئے تھے اور انتہائی مضحکہ خیز بیانات سامنے آ رہے تھے۔جلسہ کے بعد عمران کے مخالفین اور ناقدین بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ بہت کامیاب جلسہ منعقد کیا گیا۔
عمران خان نے 1996کو سیاست کے میدان کارزار میں قدم رکھااور مستقل مزاجی کے ساتھ پاکستان کے سیاسی کلچر میں اپنا آپ منوانے کی کاوشوں میں مصروف رہا،بالآخر اس کی جدوجہد رنگ لائی اور وہ 31اکتوبر 2011ء کولاہور کے ایک تاریخی مقام پر ایک عظیم جلسہ عام سے خطاب کر رہا تھا ،لوگ کیوں عمران کی طرف اتنی تیزی سے راغب ہو رہے ہیں؟یہ کوئی اتنا پیچیدہ سوال نہیں،خلق خدا پر زندگی مشکل بنائی جا رہی ہے،وسائل کو ضائع کیا جا رہا ہے اور مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے،کرپشن،مہنگائی،توانائی کا بحران،نا انصافی اوردہشت گردی جیسے بھیانک عفریت اپنا جبڑا کھولے کھڑے ہیں ،اس صورتحال میں لوگ کسی سپر مین اور مسیحا کے انتظار میں ہیں اور جہاں کہیں انہیں ان مسائل سے نجات کی ہلکی سی بھی امید دکھائی دیتی ہے و ہ اس سمت دوڑے چلے جاتے ہیں۔
1992 ء کا ورلڈ کپ ہو یا شوکت خانم میموریل ہسپتال کی تکمیل کا خواب،عمران خان ایک عزم صمیم کے ساتھ میدان میں ڈٹا نظر آتا ہے،ایک جنون،مقصد کے ساتھ والہانہ وابستگی ہمیشہ رنگ لاتی ہے اور لائی ،عمران اپنے مقاصد میں کامیاب ہوا ،جہاں کہیں عمران نے اپنے عظیم مقصد کے لئے عوام کے سامنے ہاتھ پھیلایا،لوگوں نے اس پر اعتماد کیا اور اپنی دولت اس کے قدموں میں رکھ دی ،عمران نے بھی انہیں مایوس نہیں کیا ،کرپشن کی ایک چھینٹ بھی اپنے دامن پر نہیں پڑنے دی وگرنہ اگر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جائے اور ان کا پیسہ اپنی ذات پر خرچ کر دیا جائے تو وقت کڑا محتسب ہے،کسی نہ کسی موڑ پر کٹہرے میں لا کھڑا کرتا ہے اور تماشہ بنا دیتا ہے۔
نوجوانوں میں عمران کی مقبولیت کو سامنے رکھتے ہوئے ابرارالحق نے بھی ن لیگ کی ریلی سے ایک دو دن قبل کرپشن کے خلاف لاہور میں ایک ریلی کا انعقاد کیالیکن 1500-2000 افراد سے زیادہ لوگ اکھٹے نہیں کر پائے،یوتھ پارلیمنٹ کے قیام سے انہیں شاید یہ غلط فہمی ہوئی ہو کہ سیاست تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے،لوگ کسوٹی پر پرکھتے ہیں بار بار پرکھتے ہیں اور پھر کسی کے پیچھے چلتے ہیں ،’’بلو دے گھر ‘‘ کی مقبولیت اپنی جگہ مگر سیاست تو’’اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے‘‘ کے مصداق ہوتی ہے،عمران نے تو 15-16 سال عوامی شعور کو بیدارکرنے میں صرف کیے پھر جاکرکہیں منزل کا سراغ نظر پڑا۔
عمران کے ناقدین اور مخالفین بغلیں جھانکتے دکھائی دیتے ہیں۔پہلے تو یہ کہتے نظر آتے تھے کہ عمران بیس تیس ہزار سے زیادہ لوگ اکٹھے نہیں کر پائے گا مگر جب تین سے چار لاکھ کا مجمع نظر پڑا تو یکدم پینترا بدل یہ کہنے لگے کہ ٹھیک ہے لوگ اکٹھے کر لئے مگر انتخابات کا عمل کچھ اور ہوتا ہے، وہاں پتا چلے گا کہ خان کتنے پانی میں ہے؟کیا کہنے ایسے لوگوں کے اور کیا شان ہے ایسی تاویلات کی،الیکشن کمیشن تقریبا ساڑھے تین سے چار کروڑ بوگس ووٹوں کا لسٹوں سے اخراج کر چکا ہے،انہیں اس بات کی شاید خبر نہیں ہے کہ عمران خان اپنی جماعت کی تنظیم سازی کے ساتھ ساتھ نوجوان کارکنان کو اس حوالے سے انتہائی متحرک کئے ہوئے ہے کہ اپنے اپنے حلقوں میں نوجوانو ں کے شناختی کارڈ بنوائے جائیں اور ان کا ووٹر لسٹوں میں اندراج کروایا جائے،الیکڑانک میڈیا عمران کو غیر معمولی کوریج دے رہا ہے ،اس کے ساتھ ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں عمران کے نوجوان سپورٹر ز اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں ،فیس بک،ٹویٹر،اور بلاگز کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے عمران خان کے نظریا ت اور مشن کو برق رفتاری کے ساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
عمران خان کے اس جلسے کے بعد بڑی بڑی سیاسی شخصیات تحریک انصاف میں شمولیت کے لئے پر تولنے لگی ہیں،منظر نامہ بدلنے جا رہا ہے،زندہ دلان لاہور نے اپنے ہونے اور جاگنے کا بھر پور انداز میں احساس دلایا ہے،عمران کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے بہت سوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں،اب عمران خان پر منحصر ہے کہ وہ عوام کے بپھرتے ہوئے جذبات کو فرسودہ سیاسی کلچر کے خاتمے کے لئے کس انداز میں استعمال کرتاہے،امید کی جانی چاہیئے کہ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی کامیابی عمران کے قدم چومے گی۔

Viewers: 5849
Share